2010 in review

Your 2010 year in blogging

Blog-Health-o-Meter Wow

 

We think you did great!

 

Crunchy numbers

Featured image

A Boeing 747-400 passenger jet can hold 416 passengers. This blog was viewed about 2,800 times in 2010. That’s about 7 full 747s.

In 2010, you wrote 53 new posts, not bad for the first year! You uploaded 96 pictures, taking up a total of 12mb. That’s about 2 pictures per week.

Your busiest day of the year was November 2nd with 166 views. The most popular post that day was چوہدری صاحب ! خدا کے لیے.

 

Where did they come from?

The top referring sites in 2010 were facebook.com, urduweb.org, mail.yahoo.com, WordPress Dashboard, and networkedblogs.com.

Some visitors came searching, mostly for jamshed dasti, pia 777, جس رزق, pia pakistan, and pia777.

Attractions in 2010

These are the posts and pages that got the most views in 2010. You can see all of the year’s most-viewed posts and pages in your Site Stats.

 

1

چوہدری صاحب ! خدا کے لیےNovember 2010
7 comments and 2 Likes on WordPress.com

 

2

اسرائیل ان پاکستانSeptember 2010
7 comments and 1 Like on WordPress.com,

 

3

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔۔۔نوجوان ہدف پرApril 2010

 

4

عائشہ،ٹائم میگزین اورنئی صف بندیAugust 2010
6 comments

چوہدری صاحب ! خدا کے لیے

تحریر:ذوالفقارعلی

جاوید چوہدری صاحب!قومیں نوحوں اور مرثیوں سے نہيں امیدوں اور خوابوں سے اٹھان پاتی ہيں۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دینے کے لیے تاریکی کے تذکرے نہيں واضح اہداف ، موثر منصوبہ بندی اور اس کے اوپر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کے خاکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 چوہدری صاحب ! آپ جیسے رائے ساز کالم نویسوں کے نوحے سن سن کر قوم تھک چکی ہے۔ خدا کے لیے موجودہ حالات میں سے انہيں کوئی خاکہ دیجیے کوئی رہنمائی کا واضح نقشہ پیش کیجیے خود نہیں دے سکتے تو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان سے بنوا کر دیجیے ۔ اگر کوئی ملک میں قوم کی مخلص قیادت کے قابل ہے تو اس کا پتہ دیجیے اور اسے سپورٹ کیجیے ، کھل کر اس کا نام لیجیے ۔نہيں ہے تو بتائیے کہ اسکریچ سے لے کر کامیابی تک کا راستہ کیا ہے ؟ تا کہ قوم میں سے کوئی امید پائے اور آگے بڑھے قوم آپ اور آپ جیسے چند دیگر قلم کاروں کو پڑھتی ہے مگر آپ کی تحریروں سے بس مایوسی،انتشار اور دکھ کشید کر کے رہ جاتی ہے۔

چوہدری صاحب بہادری اور بزدلی دونوں ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں،خدا کے لیے اس قوم میں امید اور بہادری بانٹیے ۔ چوہدری صاحب معذرت چاہتا ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے آپ اور آپ جیسے دیگر رائے ساز لوگ بغداد کے علماء معلوم ہوتے ہں وہ علماء تاتاریوں کے حملے کے وقت قوم کو کوے کی حلت و حرمت کے مسائل میں الجھائے ہوئے تھے اور آپ اس فتنے کے عہد میں “ڈوب مرنے کا مقام ہے” جیسے درس دے کر بالواسطہ مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہيں۔

 چوہدری صاحب اس قوم کے نفرت اور غصے کو اس کے اصل دشمن سے انتقام کی طرف موڑ کر قوت میں بدل ڈالنے کا نسخہ بتائیے ،اس وقت سے پہلے کہ جب انقلاب فرانس کی طرح بپھرے ہوئے لوگ ہر نرم ہاتھوں والے کو موت کے گاقٹ اتار دینے کو آمادہ ہوجائيں گے اور میں اور آپ جانتے ہيں کہ بہرحال قلم کاروں کے ہاتھ نرم ہوتے ہيں ۔چوہدری صاحب لاکھوں قاری بنا لینا،ہزاروں افراد کو فیس بک پر اپنا ہمنوا بنا کر مسرت حاصل کر لینا ،ہر کالم پر بیسیوں تعریفی ایس ایم ایس اور کالز اٹینڈ کر لینا اور اپنے سرکاری دوروں کی کہانیاں بیان کر کے دیگر بیسیوں لکھاریوں کے دلوں میں چٹکیاں کاٹ لینا محض ذاتی نفسیاتی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے، قوم کے دکھوں کا مداوا نہيں ۔منہ اور قلم کی کمائی کھانے کے بجائے عمل کی کمائی کھانا زیادہ مشکل ہے۔

چوہدری صاحب قوم کو بتائیے کہ کوئی پروفیسر نجم الدین اربکان ،شیخ احمد یاسین ، ماؤزے تنگ یا لینن اور مارکس کس طرح پیدا ہوگا ؟نہيں تو کس طرح کوئی Collective Wisdom کے ادارے اس کی جگہ لے سکیں گے ؟ کیسے کامیابی کے کوئی خاکے بن سکیں گے ۔؟ کیسے کوئی راہ نجات نظر آ سکے گی؟ کوئی اسٹریٹجک پلاننگ ہوسکے گی ؟

چوہدری صاحب کچھ تو بتائیے کہ قوم کا کوئی گروہ کیسے قوم کی کردار اور ذہن سازی کر سکتا ہے ؟کیسے اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا کام ممکن ہے؟ کیسے اس نظام خون آشام کی سیاہ رات ڈھل کر کسی امن ، آشتی اور آسودگی کی صبح بن سکتی ہے۔

 چوہدری صاحب ۔ مشرق و مغرب آپ کی عملی بیداری کو ترس رہے ہیں ، چوہدری صاحب آپ کے پاس ان کے لیے تریاق ہے اور یہ سب مارگزیدہ ، یہ اندھے اور آپ بینا ، آپ کے ہاتھوں میں چراغ ہے اور یہ اندھیروں کا شکار ۔اکر آپ جیسے لوگ علم تقویٰ اور کامیابی کا کوئی واضح منصوبہ نہيں دیں گے تو یاد رکھیں کہ پھر عزت و شرف کی ساری پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جائيں گیں۔

 چوہدری صاحب خدا کے لیے ! واضح اہداف ، مؤثر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ !

 کوئی امید !

 کوئی حوصلہ !

کوئی منصوبہ!

 کچھ تو دیجیے ؟

مشکوک پارسل اور امریکی انتخاب

امریکا میں دو نومبر کو ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخآبات سے پہلے انتیس اکتوبر کو اچانک امریکی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور اس کی وجہ لندن میں امریکا آنے والے طیارے سے مشتبہ دھماکا خیز پیکٹ کی موجودگی بتائی گئی ۔۔۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ مشتبہ پیکٹ ۔۔۔ ایسٹ مڈلینڈ ہوائی اڈے ۔۔۔ سے برآمد ہوا تھا ۔۔۔۔ دبئی پولیس نے بھی امریکا آنے والے طیارے سے مشتبہ پیکٹ برآمد کیا ۔۔۔ اور اس میں دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق کردی ۔۔۔۔ امارات ایئرلائن کے مطابق یہ پیکٹس یمن سے کارگو کئے گئے تھے ۔۔۔ اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان پر شکاگو کی یہودی عبادت خانوں کو پتا درج ہے ۔۔۔۔

اس پوری صورت حال کو امریکی اور برطانوی نشریاتی اداروں نے دکھایا ۔۔۔ اس کے ساتھ اگلے دن امریکی اور برطانوی اخبارات میں اس خبر کو شہہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا ۔۔ مغربی میڈیا کی مشترکہ سرخی یہی تھی کہ بم پھٹنے کی صورت میں طیارہ فضا میں تباہ ہوسکتا تھا ۔۔۔ اور اس کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے

امریکی صدر نے اس سازش کا الزام جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ کو قرار دیا ۔۔ اور بتایا کہ اس منصوبے کے بارے میں سعودی عرب نے امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا ۔۔۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اکتوبر میں ہی یورپی ممالک میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی اطلاع بھی سعودی انٹیلی جنس نے ہی دی تھی ۔۔۔ اس معاملے پر امریکی صدر براک اوباما نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کو ٹیلی فون کرکے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔۔۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔۔۔

مشتبہ پیکٹس کے معاملے پر یمن میں سکیورٹی کریک ڈاون شروع ہوگیا ہے اور چھبیس مشتبہ پیکٹس قبضے میں لے لئے گئے ہیں۔۔ اور ایک خاتون کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔۔۔ جبکہ فیڈیکس اور یو پی ایس نے یمن سے گارکو اٹھانا بند کر دیا ہے۔

امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس حکام اگرچہ پارسل دھماکوں کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر اور نائجیریئن شہری عبدالمطلب کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائی جیسی کوشش قرار دے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن امریکی انتخابات سے پہلے اس قسم کی کارروائیوں میں اضافے کو بعض حلقے معنی خیز تصور کرتے ہیں ۔۔ اور اسے امریکی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ جو پارسل بم برآمد ہوئے ہیں ۔۔ ان کی تصاویر تو جاری کردی گئیں ۔۔ لیکن ان پارسل پر تحریر کردہ پتے میڈیا پر کہیں نظر نہیں آئے۔۔۔۔۔

خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل

….حامد الرحمن….
”دنیا میں بہت دکھ ہیں۔ یہاں کوئی بھی اپنا نہیں بنتا۔ بچوں کی بہت ساری خواہشات ہیں جنہیں پورا کرنا مشکل ہے اور مہنگائی کے اس دور میں جب ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہو تو خواہشات کیسے پوری کی جائیں! میرے پاس ان کے معصوم سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ بس ایک ہی راستہ ہے جس پر چل کر تمام مشکلات سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے، خدا کے لیے مجھے معاف کردیا جائے۔“
یہ ایک ماں کی آخری تحریر ہے جس نے انتہائی غربت کے سبب اپنے معصوم بچوں سمیت ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی تھی۔

یہ اپریل 2008ءکا واقعہ ہے۔ لاہور کی پسماندہ بستی ملکہ کالونی کی بشریٰ نے اپنے دو بچوں چار سالہ صائمہ اور پانچ سالہ زبیر کے ہمراہ ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔
بشریٰ اپنے محنت کش شوہر کے ہمراہ ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں رہتی تھیں۔ اس کا شوہر ویلڈنگ کی دکان پر ملازم تھا۔ روزانہ 100 روپے اجرت میں وہ 8 افراد پر مشتمل کنبہ کی کفالت کررہا تھا۔ لیکن کم آمدنی اور غربت کے باعث ان کی روزمرہ کی ضروریات بمشکل پوری ہوتی تھیں۔ جبکہ بعض اوقات بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی نہیں ہوپاتا تھا۔ بشریٰ کے شوہر کے تین بہن بھائی بہنیں ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کے بعد متاثرہ خاندان کے لیے 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا اورساتھ ہی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے دور میں غربت کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔ انہوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں گے کہ لوگ غربت کی وجہ سے خودکشی پر مجبور نہ ہوں۔

اس واقعہ کے 6 ماہ بعد ہی نومبر 2008ءمیں کراچی میں غربت اور بدحالی سے تنگ آکر3 خواتین نے اپنے 8 لخت ِجگر ایدھی سینٹر کے حوالے کردیے۔ لیکن کیا وزیراعظم اپنا وعدہ بھول گئے؟ کیا غربت کے باعث خودکشیوں میں کمی واقع ہوئی۔ ہمیں وزیراعظم کے غربت مکاﺅ منصوبے کا تو نہیں معلوم، البتہ غریب مکاﺅ منصوبے کا ضرور معلوم ہے، کیونکہ موجودہ حکومت کے 2 سالہ اقتدار کے دوران مہنگائی میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 7ہزار سے زائد افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔ ٹھہریئے آپ کو دو تازہ واقعات بھی بتاتا چلوں جن کی خبریں یقینا آپ کی نظر سے گزری ہوں گی۔

17ستمبر 2010ءکو کراچی کے علاقہ لانڈھی مجید کالونی کے رہائشی محمد آصف نے اپنی بیوی اور 3 کم سن معصوم بچوں کا گلا دبا کر انہیں ہلاک کردیا۔ بعد ازاں خود پھندا لگاکر خودکشی کرلی۔ محمد آصف اپنی بیوہ ماں، دو بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں 7 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر ملازمت کرتا تھا۔ محمد آصف نے خودکشی سے قبل اپنے بچے کی ڈائری میں ماں کے نام خط لکھا تھا کہ وہ مہنگائی سے تنگ آکر بیوی اور بچوں سمیت خودکشی کررہا ہے۔

جام پور ضلع روجھان کے رہائشی محمد اکرم نے غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر ملتان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر خودسوزی کرلی۔ حکمرانوں کے سبب محمد آصف نے خودکشی کرکے حرام موت کی راہ اختیار کی، لیکن محمد اکرم کے اہل خانہ کے لیے وزیراعظم نے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہمارے چاروں طرف اداسی ہے۔ دکھ، درد، بھوک اور افلاس ہے۔ تنگ دستی، فاقہ کشی اور نفسانفسی ہے۔ جہاں غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ غربت و افلاس کے باعث مائیں اپنے لخت جگر بیچنے کو تیار ہیں۔ والدین بچوں سمیت اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہمارے حکمران اور دو فیصد امراءطبقہ ہے، عیش و طرب ہے، رنگینی اور خوبصورت مہنگے ملبوسات ہیں۔ پیزا، امریکی برگر اور بروسٹ کے علاوہ اور بہت کچھ کھا پی کر ناچتے ہیں۔ بوفے کلچر کے نام پر ہزاروں روپے ایک وقت کے کھانے پر صرف کردیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آدھی آبادی کو دن بھر میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔ جبکہ 2008ءمیں جاری ہونے والی عالمی فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران مہنگائی کے باعث پاکستان کے مزید 2 کروڑ افراد خوراک کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہوئے اور 16 کروڑ کی آبادی کے ملک میں خوراک کی کمی کا شکار ان افراد کی تعداد 7 کروڑ 70 لاکھ ہے، جو گزشتہ 2 سال میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافے کے بعد 10کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور سلیم خان کے بقول: حیرت ہے ہم لوگ زندہ کیسے ہیں! کیونکہ جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں مہنگائی میں اضافہ ہی ہوا ہے، اور موجودہ حکومت تو غریب کو ختم کرکے ہی مہنگائی ختم کرے گی۔ سلیم نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے ملک ہمارے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ یہ تو شروع سے ہی چودھریوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے ہے۔ چور اور لٹیرے حکمران ہیں۔ بیچارے عوام کا کیا ہے، خودکش حملوں سے بچ بھی گئے تو مہنگائی سے نہیں بچ سکتے۔

آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا
کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہوگا

مہنگائی میں اضافہ پاکستان کی روایت رہی ہے جو بے حس حکمرانوں کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث مستقل شکل اختیار کرچکی ہے۔ پہلے تو بجٹ اور رمضان کے موقع پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا جاتا تھا، لیکن اب ان دو مواقع کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ بدترین مہنگائی کے باعث عوام کے لیے روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور زندگی ان کے لیے ایک بوجھ اور عذاب بن چکی ہے۔ مہنگائی کا عفریت سب کچھ نگلنے کو تیار کھڑا ہے۔ ایسے میں عام آدمی جائے تو کہاں جائے! روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کا نعرہ لگانے والی حکومت اس وعدے کی تکمیل میں ناکام نظر آتی ہے اور حکومت کی ناقص اقتصادی کارکردگی کے باعث غریب عوام بچوں سمیت خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ”فافن“ نے ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھ سے سات افراد کے کنبے پر مشتمل خاندان انتہائی بنیادی ضروریات پر اوسطاً ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ خرچ کررہا ہے۔ آدھا خرچ صرف نو بنیادی اشیاءآٹا، چاول، آلو، پیاز، دودھ، چائے، چینی، گھی یا خوردنی تیل پر ہورہا ہے۔ جبکہ پچاس فیصد اخراجات مصالحوں، گوشت، مکان کے کرائے، صابن اور علاج معالجے پر ہوجاتے ہیں۔ اس فہرست میں کپڑے، ٹرانسپورٹ، گیس، بجلی، پانی کے بل اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آدھے کنبوں کی ماہانہ اوسط آمدنی پانچ ہزار روپے یا اس سے کم ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مزدور کی تنخواہ کم از کم چھ ہزار روپے سے بڑھا کر سات ہزار روپے کرنے کا اعلان تو کیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوسکا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں اوسطاً ماہانہ بنیادی اخراجات ساڑھے نو ہزار روپے ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں ایک کنبے کو بنیادی ضروریات پر اوسطاً ماہانہ نو ہزار تین سو روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ سندھ میں چھ سے سات افراد کے خاندان کا بنیادی ماہانہ خرچہ آٹھ ہزار روپے اور پنجاب میں سات ہزار نو سو پچاس روپے ہے۔ اس رپورٹ کے اعدادو شمار سے واضح ہے کہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت نے غریب کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔

کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرے اور انہیں عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے چند گز کپڑا میسر آسکے۔ ایسے افراد بھی ہیں جو تنگ دستی اور معاشی بدحالی کے باعث سردی ہو یا گرمی ایک ہی کرتے میں دو دو، تین تین سال گزار دیتے ہیں کیونکہ انہیں تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا تو کجا دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ایک طرف غربت کے مارے عوام کی درد ناک کہانیاں ہیں تو دوسری طرف عیش و طرب میں بدمست حکمران طبقہ…. پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے غریب ملک کے امیر نمائندوں کے اثاثوں کی مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے نمائندوں کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں اور غربت اور مہنگائی 30 گنا بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا غریب ترین رکن بھی کروڑپتی ہے۔ پلڈاٹ نے رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ وہ اثاثے ہیں جو ارکان اسمبلی نے خود الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے ہیں اور اس میں قیاس آرائی کا شائبہ نہیں ہے۔

ارکان اسمبلی کی اس فہرست میں پسماندہ علاقے کوہستان سے پیپلزپارٹی کے رکن محبوب اللہ جان امیر ترین شخص ہیں جو 3 ارب 28 کروڑ 80 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، دوسرے نمبر پر ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن شاہد خاقان عباسی ہیں جن کے پاس ایک ارب 62 کروڑ 70 لاکھ روپے ہیں، تیسرے نمبر پر مسلم لیگ فنکشنل کے جہانگیر ترین ہیں جو ایک ارب 95 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ سے ہٹ کر تو صدر آصف علی زرداری سرفہرست ہوں گے۔ وہ بیرون ملک محلات کے مالک ہیں اور نہ جانے ابھی ایسے کتنے محلات ظاہر ہونا باقی ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ صدر صاحب رکن اسمبلی نہیں ہیں۔خواتین میں مسلم لیگ (ن) کی نزہت صادق سرفہرست ہیں جو ایک ارب 51 کروڑ 40 لاکھ روپے کے اثاثوں کی مالکہ ہیں۔ ان کے بعد پشاور سے تعلق رکھنے والی پیپلزپارٹی کی رکن عاصمہ ارباب جہانگیر پانچ سو پندرہ اعشاریہ دو پانچ (515.25) ملین روپے اور بیگم بیلم حسین 298.50 ملین روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔امراءکی اس فہرست میں سب سے ”غریب رکن“ پیپلزپارٹی کے سعید اقبال چودھری بمشکل 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک رکن اسمبلی کے اثاثے ایک سال میں 42 گنا بڑھ گئے ہیں۔

پلڈاٹ کی رپورٹ اور مہنگائی، بے روزگاری کے اعداد و شمار سے ناواقف 55 سالہ عمر خان اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے محنت مزدوری کرتا ہے۔ عمر خان کراچی کی پسماندہ بستی قیوم آباد کا رہائشی ہے جو اپنی بیوی اور 9 بچوں کے ہمراہ 3 ہزار روپے ماہانہ پر 2 کمروں پر مشتمل کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ عمر خان کا کہنا ہے: ”میں کرائے پر رکشہ چلاتا ہوں جس سے روزانہ 400 سے 600 روپے کما لیتا ہوں، جس میں سے 50 فیصد رقم مالک کو دینی ہوتی ہے۔“ جب کہ عمر خان کا بڑا بیٹا 14 سال کا ہے جو ہوٹل میں محنت مزدوری کرکے روزانہ 50 سے 100 روپے کما لیتا ہے۔ عمر خان نے بتایا کہ ہمارے لیے تو آٹا اس طرح ناپید ہورہا ہے جیسے کربلا کے میدان میں پانی بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ غریب کے لیے ایک روٹی ہی تو ہے جسے کھا کر وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، لیکن اب یوں لگتا ہے ہمیں اس روٹی سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن دنوں کراچی میں ہنگامے ہوتے ہیں وہ دن ان کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، وہ قرض لے کر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور اکثر چٹنی کے ساتھ روٹی کھاکر ایک وقت کا فاقہ کرتے ہیں۔ اب پیاز اور ٹماٹر بھی 40 روپے فی کلو ہوگئے ہیں اور اب تو چٹنی کے ساتھ روٹی کھانا بھی ہماری استعداد سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

شاہراہ فیصل کے سگنل پر چند لمحے کھڑی ہونے والی گاڑیوں کی ونڈ اسکرین پر دوڑتے بھاگتے کپڑا مارتے سمیر اور عدنان دونوں بھائی ہیں، ان کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان ہوں گی۔ ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے جب کہ والدہ لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں۔ یہ اپنی والدہ کے ساتھ کورنگی میں ایک کمرہ کے کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان دونوں نے بتایا کہ وہ خصوصی دنوں اور عید کے تہوار پر گوشت یا اچھا کھانا کھا لیتے ہیں، کبھی کبھار محلے والے ان کے گھر کھانا بھیج دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید پر نئے کپڑے اور نئے جوتے خریدنا ان کا بھی شوق ہے لیکن گھر کے حالات کے باعث وہ عید پر بھی نئے کپڑوں اور جوتوں سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اس ملک سے غریب ختم نہ ہوجائیں۔
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواﺅں سے تو بارود کی بو آتی ہے
ان فضاﺅں میں تو مر جائیں گے سارے بچے

ملک میں جاری دہشت گردی سے خوف زدہ بچ جانے والے عوام مہنگائی کے ہاتھوں مرجائیں گے۔اگر حکومت وسیلہحق اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کرکے یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ وسیلہ حق اور بے نظیر انکم سپوٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنا تو دور کی بات، ان کو ایک سطح پر روکنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔

وزارت ِشماریات کے جاری کردہ پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برس کے دوران ہوشربا مہنگائی کے نتیجے میں ہر شہری کی زندگی 50 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی۔ ایوریج پرائس انڈیکس کے مطابق چینی 26 روپے سے بڑھ کر 80 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے‘ آٹا ساڑھے 16 روپے سے بڑھ کر 32 روپے ہوگیا ہے‘ چائے کی پتی کا 250 گرام کا پیکٹ 65 روپے سے بڑھ کر 124 روپے کا ہوگیا ہے‘ مرغی کا گوشت 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے ہوگیا ہے‘ وغیرہ ۔ روزمرہ کے استعمال کی ہر چیز سبزیاں‘ پھل‘ بجلی اور قدرتی گیس کے نرخ‘ پٹرولیم مصنوعات یعنی ہر چیز مہنگی سے مہنگی ترین ہوگئی ہے۔ غریب، جو ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرتے ہیں‘ کے لیے بجلی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ فروری 2008ءکے 2.65 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 3.91 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ 100یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے نرخوں میں عام صارف کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ گھریلو صارفین جو 101 سے 300 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 4.96 روپے فی یونٹ (علاوہ ٹیکس) ہے‘ جو 301 سے 700 یونٹ استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 8.03 روپے فی یونٹ ہے، جب کہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کے لیے نرخ 10 روپے فی یونٹ (ٹیکس کے بغیر) ہے۔ کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ فروری 2008ءمیں 9.53 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) ہوا کرتے تھے، جب کہ اب یہ قیمت 14.93 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) تک جا پہنچی ہے۔ کم سے کم صارفین کے لیے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ایل پی جی کی قیمتیں 817 روپے فی سلینڈر سے بڑھ کر 1092 روپے فی سلینڈر ہوگئیں‘ یعنی قیمت میں 270 روپے فی سلینڈر اضافہ ہوا۔ پٹرول کی قیمتیں 53.83 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر موجودہ 67 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہیں۔ ڈیزل 37.86 روپے سے 69.27 فی لیٹر اور مٹی کا تیل 42 سے 85 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ وہ غریب جو ایل پی جی نہیں خرید سکتے‘ جن کے پاس قدرتی گیس نہیں ہے اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے لکڑی کی قیمت 230 روپے فی 40 کلو گرام سے بڑھ کر 302 روپے ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ گندم کی قیمت 18 روپے سے 27 روپے فی کلو ہوگئی‘ آٹے کی قیمت 16.50روپے سے 23 روپے فی کلو‘ باسمتی چاول 36 سے 100روپے فی کلو‘ ایری 26 سے 37روپے، دال مسور دھلی ہوئی 71 روپے سے 128روپے‘ دال مونگ دھلی ہوئی 51 سے 147روپے‘ دال مونگ 42 سے 137روپے‘ گائے کا گوشت 122 سے 350 روپے‘ بکرے کا گوشت 234 سے 650 روپے فی کلو‘ انڈے 62 سے 80 روپے فی درجن‘ درمیانے سائز کی ڈبل روٹی 19 سے 29 روپے‘ چینی 26 سے 80 روپے‘ گڑ 31 سے 73روپے‘ لال مرچ پاﺅڈر 133 سے 167روپے‘ تازہ دودھ 30 سے 56روپے‘ ویجیٹیبل گھی 115 روپے فی کلو‘ لہسن 44 سے 200 روپے فی کلو‘ پکانے کے تیل کا ڈھائی کلو کا ڈبہ 318 سے 375 روپے‘ آلو 11 سے 25 روپے فی کلو‘ ٹماٹر 38 روپے فی کلو سے 56 روپے فی کلو‘ پیاز 12 سے 45 روپے فی کلو‘ کیلے فی درجن 32 سے 38 روپے‘ چائے کا ایک کپ 7 روپے سے 15 روپے‘ بڑے گوشت کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 33 سے 60 روپے‘ دال کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 20 سے 35 روپے ہوگئی ہے۔ جبکہ فارم کی مرغی کا نرخ 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گیا ہے۔ 2007-08ءمیں اقتصادی ترقی کی شرح 4.1 فیصد تھی جو گرکر 3.4 فیصد (نظرثانی شدہ اندازے) ہوگئی ہے۔

یہ اعداد و شمار تو چند جھلکیاں ہیں ورنہ پرویزمشرف سے لے کر موجودہ حکومت تک کسی نے بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ محض اپنے خزانے بھرے ہیں۔پاکستان کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بقول خودکشیاں اللہ کی مرضی ہیں، اور وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ مشورہ دیتے ہیں کہ جو غریب اپنے بچوں کو پال نہیں سکتے وہ ان بچوں کو دیکھ بھال کے لیے فلاحی اداروں کو دے دیں، جب کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ شہلا رضا کا فرمانا بجا ہے، مہنگائی ختم کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ اگر جادو کی چھڑی نہیں ہے تو ممبران اسمبلی کے پاس وہ کون سا نسخہ آگیا ہے کہ ان کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں؟

کمر توڑمہنگائی…. سیاست دان کیا کہتے ہیں؟

مہنگائی کے ذمہ دار حکمران
لیاقت بلوچ
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے گھر کے باہر خودسوزی اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات میں شرعی پہلو تو یہ ہے کہ یہ حرام ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ خودکشی نہ کریں۔ لیکن حکمرانوں کی معاشی اور استحصالی پالیسیوں کے باعث غریب آدمی کے لیے اس دور میں زندہ رہنا انتہائی مشکل اور کٹھن ہے۔ غریب آدمی کے لیے گھر چلانا ناممکن ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہارے ملک کا پورا معاشی نظام ابتری اور افراتفری کا شکار ہے جس میں امیر‘ امیر تر اور غریب‘ غریب تر ہورہا ہے۔ عام آدمی کے لیے ہر مرحلے پر مشکلات پیدا کردی گئی ہیں اور ایک خاص طبقے کو نوازا جارہا ہے اور انہیں حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

حکمران اور معاشرہ دونوں ذمہ دار
صدیق الفاروق
مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ن)
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ خودکشی کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اس حرام موت کا ذمہ دار ہے کیوں کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر 40 گھر پر دائیں بائیں پڑوس ہے۔ موجودہ حکومت نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ حکومت کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث معاشی صورت ِحال انتہائی خراب ہوچکی ہے اور اچھے بھلے لوگ بھی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
موجودہ حکومت غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے باعث صنعت کار اور سرمایہ دار بھاگ رہے ہیں۔ صنعتیں بند ہیں اور لوگوں کو روزگار میسر نہیں ہے۔ نفسانفسی ہے۔ حکومت کو عوام کی قطعاً کوئی فکر نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ کو سیاست دانوں کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی سامنے رکھ کر رپورٹ مرتب کرنی چاہیے۔

غربت پوری دنیا میں ہے
میڈیا خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے
شہلا رضا
رہنما پیپلز پارٹی /ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی
ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتی ہوں ملک میں غربت اور بے روزگاری ہے، لیکن غربت تو پوری دنیا میں ہے اور یہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے۔ امریکا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے‘ آپ یہ بھی تو دیکھیں پاکستان کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک دم سے تو غربت ختم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حکومت کی پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے۔

ماہر نفسیات کیا کہتے ہیں

مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی نے قوم کو ڈپریشن میں مبتلا کردیا
ڈاکٹر حیدر عباس رضوی
ماہر نفسیات, جامعہ کراچی
ماہر نفسیات ڈاکٹر حیدر عباس رضوی کہتے ہیں کہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی اور مالی بدحالی نے قوم کو ڈپریشن اور فرسٹریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن دو صورت میں ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں اور کسی سے شیئر نہیں کرتے، جب کہ کچھ لوگ اسے غصہ کی صورت میں باہر نکال دیتے ہیں تو ایگریشن ظاہر کرتے ہیں۔ اداسی اور غصہ دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اداس لوگ دوسروں کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں اورکچھ لوگ خود اذیت پسند ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو نہیں مار سکتے بلکہ اپنے آپ کو مار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تکلیفیں مشترک ہوتی ہیں، کوئی انہیں سہہ لیتا ہے تو کوئی برداشت نہیں کرپاتا۔ وہ کسی نے کہا تھا کہ:
دکھ سب کے مشترک ہیں مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا
ہم نے نوجوانوں سے مثبت سرگرمیاں چھین لی ہیں۔ ہم نے بیس سال قبل جو بویا آج اُسے کاٹ رہے ہیں۔ ہم آج بھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے اپنی اقدار و روایات کو کھو دیا ہے۔ میں نے پہلے بھی تجویز دی تھی اور اب بھی آپ کے اس میگزین کے توسط سے حکومت‘ موبائل کمپنیوں اور اہلِ ثروت افراد سے درخواست ہے کہ ایک ہیلپ لائن سروس شروع کی جائے جہاں سائیکالوجسٹ لوگوں کو مفت رہنمائی فراہم کریں، کیوں کہ ڈاکٹر کی فیس 600 سے 800 روپے ہے اور ادویات مہنگی ہیں۔

مہنگائی اور خودکشی…. علمائے دین کی رائے
غربت کے باعث خودکشی کرنے کا وبال حکمرانوں پر بھی آئے گا
مفتی منیب الرحمن
صدر تنظیم المدارس پاکستان /مرکزی چیئرمین رویت ہلال کمیٹی
خودکشی حرام موت ہے اور اپنے ساتھ 4 دیگر افراد کو قتل کردینا ایک سنگین جرم بھی ہے۔ لیکن میڈیا ایسے واقعات اس طرح پیش کرتا ہے جیسے یہ بہادری کا کام ہو۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ لوگوں میں شعور بیدار ہو۔کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کا اہتمام کرے۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکام ہے اور بھوک کی وجہ سے خودکشیوں اور بچوں کو فروخت کرنے کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں تو یہ حکمرانوں کے لیے بھی وبال ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی کرلینا کم ہمتی اور بزدلی کی علامت ہے۔ اگر آپ حالات کی ابتری کا شکار ہیں تو اس کا علاج خودکشی نہیں ہے۔ مہنگائی کا عفریت لوگوں کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی کشید کرنا چاہتا ہے، ایسے میں پسے ہوئے طبقات اور مہنگائی کے ستائے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ناصرف ایسے حالات کا بلند عزائم کے ساتھ مقابلہ کریں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ عوام کی خودکشیوں سے نظام نہیں بدلے گا۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں تو انہیں اس ظالمانہ نظام کے خلاف میدان عمل میں آنا ہوگا اور متحد و منظم ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔

گردوپیش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی ان خودکشیوں کا ذمہ دار ہے اور اس کی بازپرس ریاست اور پڑوسی دونوں سے ہوگی۔ اگر ریاست عوام کو تحفظ دینے اور جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوجائے تو حکومت کا آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ قائم رہے۔

ریاست اور معاشرہ دونوں ذمہ دار ہیں
مفتی محمد نعیم
مہتمم جامعہ عالمیہ بنوریہ
خودکشی کے ان واقعات کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور کسی حد تک پڑوسی بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں اور ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے روزگاری اور قتل و غارت گری عام ہے۔ لیکن حکمران اپنی عیاشیوں میں بدمست ہیں اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ مزید اقتدار میں رہے۔ اسلامی ریاست کے حکمرانوں کے لیے حضرت عمرؓ مثال ہیں۔

خودکشی حرام ہے…. ذمہ داری اسباب پیدا کرنے والی ریاست پر عائد ہوتی ہے
مولانا عطاءاللہ
ریسرچ اسکالر، عالم دین
خودکشی حرام موت ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عام ضرورت کی اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر اور دالیں آپ بازار سے خریدیں، اندازہ ہوجائے گا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ غریب چٹنی پیاز سے روٹی کھا لے گا، لیکن اب تو پیاز سے روٹی کھانا بھی ممکن نہیں، بلکہ آٹا مہنگا ہونے کے باعث روٹی ہی میسر نہیں۔ حضرت عمرؓ ایک بار مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تو دیکھا وہاں صحرا میں ایک بوڑھی عورت اپنی بکریوں کے ہمراہ موجود ہے اور کھانے کے لیے کچھ نہیں، تو حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ تُو نے خلیفہ وقت تک اپنے حالات پہنچائے؟ بوڑھی عورت بولی: یہ میری ذمہ داری نہیں، اگر خلیفہ وقت کو اپنی رعایا کے حالات کا علم نہیں تو اسے کوئی ضرورت نہیں کہ وہ خلیفہ رہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتی ہو۔ اور اس بوڑھی عورت کو بیت المال سے امداد پہنچائی جس پر اس بدو بوڑھی عورت نے دعا دی کہ اللہ تجھے خلیفہ بنادے۔ اس مثال میں ہمارے حکمرانوں کے لیے سبق پوشیدہ ہے، لیکن بدقسمتی سے حکمران تو امریکا کی طرف دیکھتے ہیں اور وہیں ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

مہنگائی…. ماہرین معاشیات کیا کہتے ہیں
موجودہ حکومت کے ڈھائی برس بدترین معاشی دور ہے
آئی ایم ایف نے زرداری سے مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار
ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا، اس میں یہ درج تھا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں گی جن سے مہنگائی میں کمی ہو۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آتے ہی پہلے بجٹ میں جنرل سیلزٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 16 فیصد کردیا۔ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے براہِ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ 2 سال میں بجلی کی قیمت میں 64 فیصد اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ کیا جبکہ روپے کی قدر میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ان ڈھائی برسوں میں قرضوں کا بوجھ 3 ہزار 200 ارب بڑھ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے صدارت کے 17 دن بعد یعنی 26 ستمبر 2008ءکو فرینڈز آف پاکستان سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اُس وقت برطانوی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ نہیں بلکہ سودا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں امریکا ہمارا تکنیکی پارٹنر ہوگا اور اس کے بدلے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان توڑنے کی سازش ہے اور ہم اس میں امریکا کی مدد کررہے ہیں۔

شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ ڈھائی برس کے دوران معیشت کو 26 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پرویزمشرف کے 7 سالہ اقتدار کے دوران معیشت کو 23 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، اور اس طرح 10 سال کے دوران معیشت کو 49 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ڈھائی سالہ اقتدار کے دوران 26 ارب ڈالر سے معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے 13.3 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی جس میں سے 8.7 ارب ڈالر حکومت کو مل گئے ہیں۔ اب آپ یہ دیکھیے کہ 1947ءسے لے کر 2008 تک 61 برس بنتے ہیں اور اس دوران امریکا نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر قرض دیا، جب کہ ان 2 سال میں 8.7 ارب ڈالر ملے۔ قرض کی شرائط میں لکھا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر شرح سود بڑھائیں، روپے کی قدر گرائیں اور مہنگائی میں اضافہ کریں۔ ایسی شرائط کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو سست ہوئی اور اس طرح امریکا نے آئی ایم ایف کے تعاون سے زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا جس کی وجہ سے اشیاءصرف کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ایک کروڑ مزید افراد غذائی قلت کا شکار ہوگئے ہیں، یعنی 9 کروڑ افراد ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوتی، اور اب پاکستان کو غریب کے بجائے بھوکا ملک قرار دیا جارہا ہے۔ اس عرصہ کے دوران ملک میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور پاکستان میں 13 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی اجازت ہے جب کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث سرمایہ کاری کا حجم گر گیا اور قرضوں کا حجم بڑھ گیا ہے جس کی شرائط پر صنعت کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ صنعتیں بند اور سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ 30 جون 2010ءکو ختم ہونے والے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی ملکی پیداوار کے تناسب سے 42 سال میں سب سے کم رہی ہے۔ جب کہ 2 برسوں میں معیشت کی سرح اوسطاً سالانہ 2.6 فیصد رہی ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت کے یہ ڈھائی برس معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے بدترین دور ہے جس میں سب سے زیادہ کم آمدنی والے افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اور اب حکومت نے سیلاب کی آڑ میں جو نئے ٹیکس لگائے ہیں اس سے مہنگائی کا ایک اور طوفان امڈ آیا ہے۔ معیشت کی شرح نمو مزید سست ہوگئی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اگر حکومت پر دباﺅ نہ ڈالا گیا تو ظلم، ناانصافی، استحصالی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی ہوگی اور عام سڑکوں پر آئیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک بار پھر ناکام مملکت قرار دیا جائے گا۔

موجودہ حکومت کے دور میں بھی طاقتور اور مالدار طبقوں کے بینکوں سے قرض معاف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ، اور قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اور اپنے قرض معاف کرائے ہیں۔ اب اگر قومی اسمبلی کی 2 مقتدر شخصیات بھی قرض معاف کرائیں گی تو اس ملک میں دوسرے طاقتور لوگ جنہوں نے قرض معاف کرائے ہیں ان سے کیونکر کہا جائے گا کہ قرض واپس کریں! پچھلے دو برس میں 200 ارب روپے سے زائد کا قرض معاف کیا گیا، اور قرضوں کا ایک بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر29 پندرہ اکتوبر 2002ءکے تحت معاف کیا گیا جو ڈاکٹر عشرت حسین کے دور میں جاری کیے گئے تھے۔ یہ سرکلر دستور پاکستان اور پارٹنرشپ ایکٹ کے منافی ہے اور اسٹیٹ بینک کو یہ سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ اسے غیر قانونی قرار دینے کے لیے میں نے فیڈرل شریعت کورٹ میں 2008ءمیں ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔ وہ اس سرکلر کو جانچیں گے کہ یہ دستور پاکستان کے خلاف ہے یا نہیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سرکلر کے بارے میں کہا تھا کہ اس سے زیادہ غیر اخلاقی حرکت کوئی نہیں۔

اسرائیل ان پاکستان

تحریر:شاہد عباسی

Israel in Pakistanخون کی قیمت پرمحبت کے زمزمے بہانے کی ایک نئی کوشش

”جب تک اسرائیل اور پاکستان کے درمیان معمول کے ڈپلومیٹک تعلقات پیدا نہیں ہو جاتے ۔یہ آن لائن ایمبیسی اسرائیل اورپاکستان کی اقوام کے درمیان دوستی بڑھانے کا کام کرے گی۔امید ہے کہ ہم جلد ہی پاکستان اور اسرائیل میں حقیقی سفارت خانے قائم کر لیں گے،شالوم“یہ الفاظ مستقبل میںکیا منظر تشکیل دیں دے،شاید اس کے متعلق اس وقت کوئی اندازہ لگانا قنبل ازوقت ہو،لیکن جو بات طے ہے وہ یہ کہ ان لفظوں کا خالق یا اس پس پشت سرگرم گروہ آئندہ کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی رکھتا ہے۔

زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے ہر لمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے خواہاں بھارت سے دیرینہ دشمنی کی پینگیں بڑھانا اب گویا حکمرانوں اورمخصوص طبقات کا شوق سا بن گیا ہے۔لیکن یہ معاملات کبھی بھی مصنوعیت سے آگے بڑھ کر عوامی پزیرائی حاصل نہ کر پائے تھے۔متعلقہ اداروں،تنظیموں اورافراد کی جانب سے ان فالتو کی مشقوں کا خاطر خواہ نوٹس نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب معاملہ پاک،بھارت نہیں بلکہ پاک اسرائیل دوستی تک جا پہنچا ہے۔اس کے لئے مشرف دور کی طرح حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے ایک خالصتا عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہراس گروپ کو سپورٹ کی جائے یا ان کے عشق میں مبتلا رہا جائے جو ملک کی اساس کا مخالف ہو،یہ پاکستانی عوام نے تو نہیں تا ہم حکمرانوں نے اپنا نصب العین بنائے رکھاہے۔باوجودیکہ اس پالیسی نے آج تک ملک کو کوئی فائدہ نہیں دیا،ارباب اختیار اسے ہی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔1965ءمیںعین حالت جنگ میں امریکہ کی بے وفائی سامنے ہونے کے باوجود ہر ہر قدم پر اپنے دیرینہ دوست چین کو مایوس کیا گیا،دنیا کے دوتہائی وسائل کے مالک مسلم ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے روس،فرانس وغیرہ کی صورت بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔حتی کہ ایڈہاک ازم پر مبنی ا س پالیسی نے یہ دن دکھا دئے کہ سینکڑوں میل طویل مغربی سرحدی پٹی جس پر کبھی ایک سپاہی کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کا ٹھکانہ بنا دی گئی۔


حالیہ واقعہ جو ایسے ہی اقدامات کا تسلسل ہے میں اسرائیل کو پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے انٹرنیٹ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وہ اسرائیل جس نے بلوچستان کی شورش ہویامشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دلگداز سانحہ،مقبوضہ کمشیر میں بھارت کی کھلے چھپے امداد کر کے تحریک آزادی کو سبوتاژکرنے کا معاملہ ہو یاافغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش،ہر موقع پر دامے،درمے،سخنے آگے بڑھ کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بنائے گئے صفحہ کا نام”Israel in Pakistan“رکھا گیا ہے۔اس پر کچھ شرکاءنے اعتراض بھی کیا کہ اسے تبدیل کر کے ”Israel and Pakistan“رکھا جائے تا ہم منتظمین نے ضعیفی کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔مذکورہ صفحہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے عالمی توسیع کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں وہ (خام بدہن)اپنی سرحدوں کو اس حد تک پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمان کے بھی مقدس ترین مقامات ”مکہ ومدینہ“کو بھی اپنے اندر سمو لے۔

اسی نام سے ملتے جلتے صفحات ”اسرائیل ان یورپ،امریکا،ایشیا،یو این،افریقہ“کے لئے بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر چہ ان صفحات کو بنانے والوں نے خود ”اسرائیلی سفارت خانوں“سے تعبیر کیا ہے ۔تاہم سفارت کاری ہے کیا،ایک مثال اس کی بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔مذکورہ بالا صفھات میں سے اکثر پر رجسٹرڈ ہونے کے ناطے ممکنہ طور پر ان کے منتظمین میں سے ایک یا کم از کم ان کی ایماءپر ایک اسرائیلی بل بزلی ہرزہ سرائی کرتا ہے”تم (مسلمان)ذہنی طور پر پسماندہ ہو،محمد(ﷺ،نعوذباللہ)ایک صحرائی لٹیرے تھے،جس نے نہ کبھی لکھا نہ پڑھا،(قرآن کے متعلق لکھتاہے)اس کی یہودی بیوی صفیہ بنت حیان کے لئے لکحا کرتی تحی جسے وہ ایک یہودی قبیلے سے سترہ برس کی عمر میں اغواءکر کے لے آئے تھے(اگر چہ مزکورہ بالاجملے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے تا ہم اس کے بعد کی کچھ سطریں معاذاللہ رحمت للعالمینﷺ پر انتہائی گھناﺅنے الزامات پر مشتمل ہونے کے سبب نقل کرنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔حذف کر دئے گئے جملوں کے بعدآگے کی عبارت ہے)تم مسلمان اس لئے اندھیروں میں زندہ ہو کے تم ایک ایسے ان پڑھ کی پیروی کرتے ہو جو خدا کی جانب سے اس وقت رہنمائی ملنے کا دعوی کرتاتھا جب سب سو رہے ہوتے تھے“

Israels effort to friendship with PAkistan and muslim countries .but on wich cost

پاکستان اور مسلم ممالک سے اسرائیلی تعلقات کے قیم کی کوشش مگر کس قیمت پر

راقم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ”جے ٹی اے“نامی نیوز سے وابستہ ادارہ اس امیج بلڈنگ مہم کو چلانے پر مامور کیا گیا ہے۔نیویارک کے مشہور زمانہ سیونتھ ایونیوپر واقع صدر دفتر کے ساتھ مذکورہ ادارہ واشنگٹن ڈی سی کے ورمونٹ ایونیو پر بھی اعلانیہ دفتر رکھتا ہے ،جب کہ دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹرز اورنمائندوں کے نام پر اپنا خفیہ اوراعلانیہ نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔یہودیوں کے لئے عالمی نیوزسروس کی ٹیگ لائن رکھنے والے اس ادارے کے نمائندے یروشلم،ماسکوسمیت دنیا کے درجنوں بڑے شہروں میں موجود ہیں۔دنیا بھر کے 100سے زائد نمایاں اداروں یہودی اشاعتی اداروں کو اس کی نیوزسروس مہیا کی جاتی ہے۔اگر چہ جے ٹی اے اپنے آپ کو ایک Not for Profitادارے کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم وہ اپنی آمدن کے متعلق کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ماسوائے ورلڈزوئینسٹ آرگنائزیشن اور اس جیسے کچھ خالصت ایہودی اداروں کو اپنا فنڈنگ سورس ظاہر کرنے کے تاہم یہ اکلوتا ادارہ نہیں جو اس مہم کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔

اسرائیل ان پاکستان نامی گروپ کے موثر ہونے کا اندازہ ان کے ایک پوسٹ پر دئے گئے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایڈمن ایک ممبر کے پاکستانی ہو کر اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے”چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رکھا اس لئے آپ اپنے قریبی سفارت خانے(دہلی،بھارت)سے رابطہ کریں انیں درخواست دیں وہ ویزہ جاری کر دیں گے“

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جو کام حکومتوں حتی کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں سے نہ ہو سکا وہ اب نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی یہ کوشش حسب سابق انسانی حقوق اوربرابری کے نام نہاد نعروں کے گرد رہ کر کی جا رہی ہے تا ہم ایسا کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نام نہاد”ہولوکاسٹ“کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے،بچوں کو تہہ تیغ،عورتوں کی عزت لوٹنے اورمسلم بزرگوں حتہ کہ معذوروں تک کو زندہ رہنے کا حق نہ دینے والا اسرائیل اچانک سے انسانی حقوق کا اتنا بڑا علمبردار کیسے بن گیا۔

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

مریم کی روزہ کُشائی

حامد الرحمن

 60 سال کے لگ بھگ عمر رسیدہ خاتون کمرے سے نکل کر برآمدے میں داخل ہوئیں۔ ایک بوڑھی اور مجبور ماں کے چہرے پر جدائی کے آثار نمایاں تھے لیکن ممتا کی آنکھوں میں موجود امید کی کرن دل شکستہ افراد کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔ بچے کو معمولی سی چوٹ لگ جائے تو ماں کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ اولاد کی جدائی کا غم انسان کو اندر ہی اندر گھلائے جاتا ہے۔ عمر رسیدہ خاتون صبر اور استقامت کا پہاڑ تھی۔

 نانی کے ہمراہ 10 سالہ بچی بھی موجود تھی جس کی روزہ کشائی کے لیے یہ سادہ سی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ شاید نانی کے صبر اور حوصلے نے اس معصوم سی بچی کو بھی پہاڑ جیسا حوصلہ اور عزم عطا کردیا تھا۔ روزہ کشائی کی اس سادہ سی تقریب نے ممتا کی جدائی کے زخم ایک بار پھر تازہ کردیئے۔

Maryam daughter of Dr Afia Siddiqui


 

 

 

 

 

 

 

 

 

جی ہاں! یہ وہی مریم ہے جسے 30 مارچ 2003ءکو کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے قوم کے ”محافظوں“ نے والدہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دو بھائیوں کے ہمراہ اغوا کرلیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی…. پاکستانی ضمیر پر ایک بہت بڑا سوال ہیں۔

 قوم کی عزت مآب بیٹی آج جس حال میں ہے وہ غیرت مندوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن کیا ہم غفلت کی اتنی گہری نیند سوچکے ہیں کہ بڑے سے بڑے سانحات اور حادثات بھی ہمیں بیدار نہیں کرسکتے؟ یا ذلت کی اس پستی میں پہنچ چکے ہیں جہاں غیرت اور عزت جیسے الفاظ بھی بے معنی ہوں؟ آج قوم کی بیٹی جس حال میں ہے کوئی بھی غیرت مند اپنی بیٹی اور بہن کو اس حال میں دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ آج عافیہ صدیقی ایک اور محمد بن قاسم کی منتظر ہے۔

MAryam daughter of Dr Afia siddiqui


 

 

 

 

 

 

 

 

 

مریم نے ایسے حالات میں اپنی زندگی کا پہلا روزہ رکھا ہے جب ان کی والدہ سے اسکارف اور قرآن چھین لیا گیا ہے، روزہ رکھنے اور نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، قید ِ تنہائی کے نام پر وکیل اور خاندان کے افراد سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مریم سے اس کی ماں چھین لی گئی ہے۔ مریم کی آنکھوں میں آج صرف ایک ہی سوال ہے: کیا اس کی مما واپس آئیں گی، کیا اسے ممتا کی آغوش ملے گی؟ مریم کا یہ سوال حکومت سمیت ہر پاکستانی پر قرض ہے۔

 ڈاکٹر عافیہ کے گھر سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور ابوالحسن اصفہانی روڈ موڑ کاٹتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر آگیا۔ سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں، ہر طرف رواں دواں زندگی کا شور…. آخر ہم کب بیدار ہوں گے؟ یکدم میرے ذہن میں سوال ابھرا: کیا ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ سانحات در سانحات بھی ہمیں بیدار نہیں کرسکتے؟

یونیورسٹی روڈ پر اشارے کی لال ہوتی ہوئی بتی نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا۔ کیا ہم آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں؟ میں لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم پر نظریں ڈالتے ہوئے بڑبڑایا۔ لیکن یہ لاپتا افراد کے والدین در در کی ٹھوکریں کیوں کھا رہے ہیں؟ آخر ان کے بیٹوں اور بزرگوں کو کس نے ڈالروں کے عوض بیچ ڈالا؟ شاید ہم 63 سال بعد بھی آزاد نہیں۔

  

حادثے سے بڑا سانحہ

تحریر : حامد الرحمٰن
(خلوت میں خیالات کی بزم سجتی ہے، فکر کا چراغ جلتا ہے ۔ بات سے بات نکلتی ہے ۔ جو ذات سے شروع ہو کر کائنات تک پھیل جاتی ہے چونکہ دل سے نکلتی ہے اس لئے دلوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ جو دور ہوتے ہیں وہ شریک محفل ہو جاتے ہیں اور جو شریک ِ محفل ہوتے ہیں وہ رونق محفل بن جاتے ہیں یہی خلوت کا حاصل ہے۔ یہی حاصل ہے بات سے بات نامی اس نئے سلسلہ کا جو ہم اپنے قارئین کے لئے لائے ہیں)
ہمارے ایک ہر دل عزیز دوست ناصر محمود نے ملک میں ایمر جنسی کے وقت کہا تھا کہ ایمرجنسی اور پی سی او کا مطلب ہے مارشل لائ…. مارشل لاءکا مفہوم ہے لاقانونیت اور جہاں لا قانونیت ہوتی ہے وہاں جنگل کا قانون رائج ہوتا ہے جس کا سیدھا سادھا مطلب ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس….لیکن مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس ملک میں اب تک لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے ، یہاں کبھی جمہویرت آئی ہی نہیں ، عوام کال انعام کو کبھی ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے باڑے میں باندھ دیا جاتا ہے تو کبھی جمہوریت کے طویلے میں ،قصائی کے بکرے کی طرح پاکستان عوام منمنا کر چپ ہو جاتے ہیں۔مارشل لائی اور جمہوری چھریاں چلتی ہیں اور چلتی چلی جاتی ہیں۔ہم نے تو یہی دیکھا ہے اور دیکھتے آرہے ہیں کہ اس ملک میں یا تو براہِ راست آمریت مسلط رہی ہے یا جمہوریت کے لبادے میں بھی آمریت اور مارشل لاءہی آیا ہے ۔اس ملک میں جنگل ہی کا قانون رائج ہے حکمران اور ایجنسیاں جب چاہیں شہریوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔یوں لگتا ہے گزشتہ 63برسوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہو بلکہ اب تو یہ ایک بین الاقوامی کھیل بن چکا ہے جس میں امریکہ سمیت عالمی طاقتیں براہِ راست شریک ہیں ۔ اس کھیل میں پاکستان ایک کھلونا بن چکا ہے اور پوری پاکستانی قوم تماشائی ….پوری دنیا منہ میں انگلیاں دبائے حیرت سے محوِ تماشا ہے ۔ عدل و انساف اور آئین و قانون سبھی بازی گروں کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے۔
15اگست کو سیالکوٹ (ڈسکہ) میں درندگی اور سفاکیت کا جواجتماعی مظاہرہ ہوا اس کے کیمروں سے فلمائے گئے ویڈیو مناظر یقیناََ آپ نے بھی دیکھیں ہونگے اور ََ کوسوں میل دور بیٹھےآپ بھی ذہنی ہیجان کا شکار ہونگے۔ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظرنے سانحہ مشرقی تیمور کی یاد تازہ کردی ۔ درجنوں افراد کے مجمع میں 8سے 12 افراد مغیث اور منیب کو ڈنڈوں اور لوہے کی راڈوں سے بہیمانہ طریقے سے 2گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔ دونوں بھائیوں کو ریسکیو آفس کے سامنے وحشیانہ اور سفاکانہ طریقے سے قتل کردیا گیاعام حادثات میں پنجاب بھر میں کسی بھی جگہ 7منٹ میں متاثرہ مقام پر پہنچے کے دعویدار اپنے دفتر کے سامنے دو بھائیوں کی جان نہ بچا سکے اُلٹا پولیس کے ساتھ اس کھیل میں باقاعدہ شریک رہے۔عوام کا جمِ غفیر محض تماشائی بنے کھڑے رہے اور بعض وہ بھی تھے جو ان مناظر کی موبائل کیمروں سے عکس بندی کرتے رہے۔

ڈسکہمیں پیش آنے والے اس واقعے کو سفاکیت کہا جائے یا وحشت و بربریت کی زندہ مثال ۔ شاید اجتماعی بے حسی کے اس واقعے پر یہ الفاظ بھی ہیچ ثابت ہوں۔ اس واقعے نے جہاں پولیس کی کارکردگی کو ایک بار پھر عیاں کیا ہے وہیں ریسکیو 1122کی کارردگی بھی سوالیہ نشان ہے ۔ قوم کے زخموں پر مرحم رکھنے والے یہ امدادی کارکن اس وحشیانہ کھیل کا کیوں کر حصہ بن گئے ۔ اس واقعے سے قوم کی اجتماعی بے حسی کی تصویر بھی سامنے آئی ہے ۔جو قوموں کے لئے زہر ہلاہل ہے۔ ایسی ہی بے حسی پر عنایت علی خاں نے بہت پہلے کہا تھا ۔
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہو ا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
اس ملک میں ہونے والے پے در پے حادثات و سانحات نے قوم کو بے حس کر دیا ہے اور یہ بے حسی انفرادی حیثیت سے بڑھ کر اجتماعی شکل اختیار کر چکی ہے۔مارشل لائ، جامعہ حفصہ و لال مسجد، 12مئی ، 9اپریل یہ ملک سانحات کا ملک لگنے لگا ہے ہر صبح ایک نیا سانحہ جنم لیتا ہے۔ شاید ایسے ہی کسی موقع کے لئے محسن بھوپالی یا محسن نقوی کہہ گئے تھے۔
تماشا تکتی رہی دنیا ہماری موت کا محسن
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
اس پورے واقعے میں پولیس کے ذمہ داران موقعہ پر موجود رہے۔ حیرت انگیز بات جوسامنے آئی ہے وہ یہ کہ واقعہ میں ملوث افراد نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے کہا تھا کہ مارو ہم اسے پولیس مقابلہ ظاہر کردیں گے۔ آخر اس ملک سے ان مبینہ پولیس مقابلوں کی ریت کب ختم ہو گی۔  ۔اس دلدوز واقعے کی جتنی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ مجمع میں کھڑے تماشا تکنے والوں پر عائد ہوتی ہے ۔

مذکورہ واقعہ کا چیف جسٹس جناب چوہدری افتخار نے از خود نوٹس لے لیا ہے لیکن کیا مجرم پکڑے جائیں گے؟ اور کیا پولیس کے ذمہ داران کو سزا مل پائی گی۔ اسلام کی رو سے تو مارنے والے اور تماشا دیکھنے والے دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور ویسے دونوںبھائیوں کے قتل کی براہِ راست ذمہ داری ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے ۔لیکن اس ملک میں مجرموں کو سزا کب ملی ہے ماضی کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس اور بااثر افراد کے خلاف کاروائی کی توقع عبث ہے۔

مجھے میرے ایک دوست نے ایس ایم ایس کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ” پاکستانی قوم میں شعور کب آئے گا کہ وہ اپنے حق کے لئے کب بیدار ہونگے اور کبھی ایسے حکمرانوں کو سر عام سنگسار کریں گے“

%d bloggers like this: