کچھوے اور وزیر اعلی سندھ

تحریر:شاہد عباسی

وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے نادر کچھوﺅں کے گوشت کی اسمگلنگ اور سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اس کی چوری کی رپورٹ پر کئی ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جا سکی، واضح رہے کہ کچھوﺅں کی چوری کے متعلق مذکورہ رپورٹ چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے چھ ماہ قبل وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس جمع کروا دی گئی تھی۔


ماضی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ برس جولائی کے مہینہ میںمیں محکمہ جنگلی حیاتیات سندھ(وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ)کے گیم وارڈن برفت نے ریلوے پولیس کی مدد سے کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب چھاپہ مار کر محکمے ہی کے دو ملازمین کو کچھوﺅں کا دس من سے زائد(چار سو بیس کلو) چوری شدہ گوشت اسمگل کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا تھا۔ بشیر شیخ اور غلام نبی نامی ملازمین کے بارے میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ انہیں محکمہ جنگلی حیاتیات کے کنزرویٹر حسین بخش بھگت کی سرکاری گاڑی میں کچھوﺅں کے گوشت کو محکمہ کے دفتر سے کینٹ اسٹیشن لاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ پندرہ جولائی 2009ء کو ہونے والی چوری کی اس واردات کے موقع پر کنزرویٹر حسین بخش بھگت کے متعلق یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب میں موجود تھے۔ مذکورہ گوشت کے متعلق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسے دو برس قبل کسٹم حکام نے مچھلی کے نام پر بیرون ملک بھیجے جانے والی کنسائنمنٹ کی آڑ میں اسمگلنگ کرتے ہوئے پکڑا تھا جو بعد ازاں محکمہ جنگلی حیاتیات کے دفتر میں جمع کروا دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے جب محکمہ جنگلی حیات سندھ کے کنزرویٹر حسین بخش بھگت سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ، کسٹم آفیسرز نے دو سال پہلے مچھلی کے نام پر کچھوؤں کے خشک گوشت کو بیرون ملک بھجوائی جانے والی کنسائنمنٹ کو پکڑا اور اسے محکمہ کے دفتر میں جمع کرادیا تھا اس واقعہ کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ ڈرائیور غلام نبی اور کلرک بشیر شیخ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں پکڑے جانے والے کچھوؤں کے گوشت کو دفتر سے بغیر اجازت ریلوے اسٹیشن لے گئے جہاں کراچی گیم وارڈن شہاب الدین برفت نے ریلوے پولیس کے ڈی ایس پی شفیع محمد مغل کی مدد سے چھاپہ مار کر دونوں کو کچھوﺅں کے گوشت سمیت گرفتار کرلیا تھا۔ چونکہ کنزرویٹر خود بیرون ملک تھے اس لئے ان کی غیر موجودگی میں ڈپٹی کنزرویٹر ڈاکٹر فہمیدہ انتظامی امور کی دیکھ بھال کی ذمہ دار تھیں۔ مذکورہ چوری کے ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد چیف سیکریٹری سندھ فضل الرحمن نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا اور سیکریٹری اوقاف یونس ڈھاگہ کو تحقیقاتی افسر نامزد کیا تھا۔

محکمہ جنگلی حیاتیات کے سیکریٹری مشتاق میمن نے چوری کی واردات میں وائلڈ لائف کنزرویٹر حسین بخش بھگت کو بھی نامزد کیا تھا۔ جب کہ چوری کی واردات میں ملوث ڈرائیور اور دوسرے ملازم کو ملازمت سے عارضی طور معطل کر دیا گیا تھا۔ طے شدہ وقت کے اندر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چیف سیکریٹری سندھ فضل الرحمن کے ذریعے رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو بھجوا دی گئی تھی۔ مذکورہ رپورٹ کے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں دونوں ملازمین کو جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے جنگلی حیاتیات کے محکمہ کے کنزرویٹر حسین بخش کو بے قصور قرار دیا گیا تھا۔ تاہم کئی ماہ گزر جانے کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے متعلقہ رپورٹ پر کسی بھی قسم کی باقاعدہ کاروائی نہیں کی گئی۔ جس سے ممنوعہ وغیر ممنوعہ جانوروں کی اسمگلنگ اور ان سے وابستہ دیگر کاموں میں مجرمانہ طور پر ملوث افراد کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

محکمانہ ذرائع نے شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر اپنی گفتگو میں ادارے کی ناقص انتظامی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 1972 میں محکمہ جنگلی حیاتیات سندھ کے آرڈیننس میں تبدیلی کر کے اعزازی ڈسٹرکٹ گیم وارڈن کی آسامی پیدا کی گئی تھی، اس عہدے پر تقرری براہ راست وزیر اعلیٰ سندھ جو بر بنائے عہدہ چیف گیم وارڈن بھی ہیں بذات خود کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ عہدے پر تعینات گیم وارڈن کی کوئی تنخواہ نہیں ہوتی، جبکہ ذمہ داریوں میں غیر قانونی شکار کو روکنا پکڑنا اور ملوث افراد پر اپنی مرضی سے جرمانہ کرنا ہے۔ جب کہ فیلڈ اسٹاف گیم وارڈن کے ماتحت کام کرنے کا پابند ہوتا ہے، اس دوران کسی بھی قسم کی غیر قانونی کاروائی کو پکڑے جانے کے بعد ضبط کیا گیا مال محکمہ جنگلی حیاتیات کے پاس جمع کرایا جاتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری گیم وارڈن پر عائد ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ انتظامی سربراہ کنزرویٹر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود عملاً انتظامی امور کے متعلق تمام اختیارات گیم وارڈن کے پاس ہوتے ہیں جو ہر آنے والی حکومت اپنی پسند و ناپسند کو مدنظر رکھ کر نامزد کرتی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا بغیر تنخواہی کے خدمات سرنجام دینے والا گیم وارڈن اور اس کا عملہ ضبط کیے گئے مال میں خورد برد، مجرموں کو چھوڑنے کے لئے رشوت طلب کرنے اور قیمتی و ممنوعہ جانوروں اور پرندوں کی شوقین اشرافیہ کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ جانوروں کی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ حسین کٹھ پتلی کی مانند ادارے کی سربراہی پر فائز کنزرویٹر کے سامنے گیم وارڈن اور اس کی ٹیم جواب دہ نہیں ہوتی جو خرابی کی اصل بنیاد بنتی ہے۔ اہم ترین ادارتی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود کنزرویٹر ادارے کا انچارج تو ہوتا ہے لیکن گیم وارڈن کی موجودگی میں اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ چوری کی ان وارداتوں میں براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ طور پر بڑی برے حکومتی و سیاسی نام شامل ہوتے ہیں جو اپنے شوق کی تکمیل کے خاطر قیمتی و ممنوعہ جانوروں کی چوری اور ان کی اسمگلنگ کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن چونکہ وہ اعلیٰ مناصب پر یا با اثر افراد سے متعلق ہوتے ہیں اس لئے انہیں کسی بھی سطح پر پوچھ گچھ کے عمل سے نہیں گزرنا پڑتا۔ ذرائع نے اسی سبب کو تاحال وزیراعلیٰ کے پاس موجود رپورٹ پر کوئی کاروائی نہ کئے جانے کا مضبوط جواز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ جنگلی حیاتیات میں انتظامی ڈھانچہ کی نقائص بھی خرابیوں کی موجودگی کا بڑا اور اہم ترین سبب ہیں جو بااثر افراد کو ہر قانون سے بالاتر ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ذرائع نے تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس جمع کروائی جانے والی رپورٹ میں محکمہ جنگلی حیاتیات کے چوکیدار زرک امین، جونئر کلرک بشیر احمد شیخ (جو چوری کی واردات کا مبینہ ماسٹر مائنڈ تھا ) اور ڈرائیور غلام نبی کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ افراد کے متعلق یہ بات بھی رپورٹ کا حصہ ہے کہ وہ کچھوؤں کا خشک گوشت محکممے کی گاڑی نمبر GS4126 میں منتقل کر کے ریلوے اسٹیشن لے جا رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق چوری کے دوران پکڑا جانے والا جانوروں کا گوشت وغیرہ(قیمتی ممنوعہ جانور، پرندے، کچھوے اور انکا گوشت) کسٹم حکام کی جانب سے ادارے کو جمع کروایا گیا تھا۔ ذرائع نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا کہ کورٹ یا کسٹم حکام کی جانب سے ضبط کر کے محکمے کو کو جمع کرائے گئے مال مسروقہ کو کسی بھی سطح پر رجسٹر نہیں کیا جاتا جو معنی خیز ہے، ذرائع کے مطابق ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جس چوری شدہ سامان کی عدالتی کاروائی چل رہی ہو اس کا بھی کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔ مال کو کب، کون، کہاں اور کیوں منتقل کر رہا ہے یا کرے گا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ ذرائع نے انتظامی امور کی ابتری اور ان میں خرابی کا براہ راست ذمہ دارصوبائی کنزرویٹر کو قرار دیتے ہوئے مذکورہ عہدے سے وابستہ نااہلی کو اہم خرابی قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلی حیاتیات موجودہ بدنظمیوں اور چیف کنزرویٹر(وزیر اعلیٰ سندھ)کی عدم توجہی کی وجہ سے سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی ذاتی جاگیر بن چکا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کو بھجوائی جانے والی رپورٹ کے متعلق ذرائع نے مزید بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ مکمل کئے جانے کے بعد 16 ستمبر 2009ء کو وزیر اعلیٰ سندھ کو بھجوا دی گئی تھی۔ جس پر چھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی احکامات کسی بھی سطح پر موصول نہیں ہوئے اور نہ ہی سفارشات پر کوئی عمل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ نمائندہ کو موصولہ اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں یہ تجاویز دی گئی تھیں کہ محکمہ جنگلی حیات کا مؤثر انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، گیم وارڈن اور فیلڈ آفیسرز کا روزنامچہ بنایا جائے جس میں ان کے دوروں کی جگہ اور اسباب ذکر کئے گئے ہوں، اگر کسی جگہ سے کوئی ممنوعہ جانور یا اس سے متعلقہ دیگر اشیاء پکڑی گئی ہوں تووہ کہاں سے، کتنی اور کب پکڑی گئی ہیں جیسی تفصیلات درج کی جائیں۔ سفارشات کے مطابق اس عمل کے لئے برارہ راست ڈپٹی کنزرویٹر کو انچارج مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ جب کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی دوسرے ادارے یا کورٹ سے بھیجے جانے والے مال یا خود ضبط کیے گئے اجزاء کو خصوصی سیل میں جمع کرنے کے احکامات دئے جائیں اور اس سیل کے لئے باقاعدہ انچارج مقرر کیا جائے جو تمام تر حفاظتی امور کا ذمہ دار ہو۔ جب کہ ڈپٹی کنزرویٹر کے تحریری اجازت نامے کے بغیر مال کو نکالنے کی ممانعت لازم کی جائے اور تینوں ملزمان کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے دو ہزار فی کلو گرام کے حساب سے 9لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے۔ واضح رہے کہ چوری کیے گئے گوشت کی مقدار چار سو پچاس کلو تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شفافیت اور ملکی استحکام کے تمام تر دعوؤں کے باوجود مسئلہ کی نشاندہی کے بعد اس کو حل کرنے کے بجائے پہلے تو اسے میڈیا سے چھپانے کی کوشش کی گئی، لیکن جب یہ کسی طرح سامنے آگیا تو اس پر کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے کے بجائے رپورٹ موصول ہو جانے کے بعد بھی معاملے سے سرد مہری برتی جا رہی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پکڑی جانے والی کنسائنمنٹ اور بعد ازاں چوری کے واقعے میں سندھ اسمبلی کے سینئر ارکان بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ اس واقعے کے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ چوری کی یہ واردات نئی بات نہیں ہے۔ یہ اور اس طرح کے متعدد واقعات محکمہ جنگلی حیاتیات سندھ میں عام ہیں جب پکڑے جانے والے نادر پرندے اور جانور کسٹم حکام محکمے کو جمع کراتے ہیں تو انہیں وہاں سے چوری کرلیا جاتا ہے۔ جس کا ایک سبب وہاں معقول حفاظتی انتظامات نہ ہونا اور ادارے سے برتی جانے والی لاپرواہی بھی ہے۔ جس کا ایک بڑا ثبوت محکمہ کی خستہ حال عمارت کے احاطے میں کھڑی بظاہر بد حال لیکن نئی نویلی گاڑیاں ہیں جنہیں غور سے دیکھنے پر صاف محسوس ہوتا ہے کہ انہیں معمولی خرابی کے بعد صحیح کرنے کے بجائے کبھی کھڑا کیا گیا ہوگا لیکن فنڈز کی کمی یا کرپشن اور بد دیانتی کے باعث ان کی مرمت نہیں کروائی گئی۔ دوسری جانب یہ بات بھی قابل غور ہے کہ محکمہ کو موجودہ عمارت خالی کرنے کا کہا گیا ہے جس کے بعد سے موجود سامان کو ڈبوں میں بند کر کے رکھ چھوڑا گیا ہے تاہم نئی جگہ کے متعلق کوئی احکامات ہی نہیں دئے گئے۔

اس تمام تر کہانی کو ایک جانب رکھ کر یہ جائزہ لیا جائے کہ جنہیں ملزم قرار دیا گیا وہ کیا کہتے ہیں تو مزید حیرتیں سامنے آتی ہیں۔ پکڑے جانے والے ملزمان کا کہنا تھا کہ کچھوؤں کا گوشت وزن کرانے کے لیے انہیں اوپر سے احکامات ملے تھے۔ اس حکم کی تعمیل کے لئے وہ راستے میں ہی تھے کہ اچانک انہیں پکڑ لیا گیا۔ مذکورہ ملازمین رپورٹ کی حد تک جرم ثابت ہونے کے باوجود محکمے سے معطل تو ہیں لیکن تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سفارش کردہ کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ مذکورہ رپورٹ کے حوالے سے مؤقف جاننے کے لئے گیم وارڈن شہاب الدین برفت، ڈی ایس پی ریلوے پولیس شفیع محمد اور سندھ جنگلی حیاتیات کے سیکریٹری مشتاق میمن سمیت محکمہ کے دیگر اہلکاروں سے رابطہ کیا گیا تاہم وہ کسی قسم کا کوئی مؤقف دینے کو تیار نہیں ہوئے۔

صوبائی کنزرویٹر حسین بخش بھگت کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کوئی احکامات جاری نہیں کیے چونکہ وہ بھی ملزم قرار دئے گئے تھے اس لیے تحقیقاتی عمل میں انہیں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اعلیٰ حکام اور وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے ملزمان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کی ہدایات انہیں موصول نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کچھوؤں اور انکے گوشت کی بین الاقوامی اہمیت اور بھاری مالیت کو اسمگلنگ کی وجہ قرار دیا۔

محکمہ جنگلی حیات وہ اکلوتا ادارہ نہیں جو کرپشن، بااثر افراد کی ناجائز فرمائشوں اور اقرباء پروری کی وجہ سے بدحالی اور تباہی کا شکار ہے۔ صوبے کے سب سے اعلیٰ انتظامی عہدے کی جانب سے برتی جانے والی غفلت ذیلی سطحوں پر موجود وزراء مشیروں اور نیچے کے افسران پر کیا اثرات مرتب کرے گی؟اکثر بلکہ متعدد حوالوں سے ہر حکومتی ادارہ ہی اس مشکل کا شکار ہے جس کا سبب خود اس کے نگہبان اور نگران ہیں۔ پہلے سے موجود اداروں کے سنبھالنے سے معذور نظر آنے والی حکومت کیوں کر نئے اداروں کو سنبھال سکے گی یا عوام کو دی جانے والی طفل تسلیوں کو پورا کر سکے گی؟

ہم بھی دیکھتے ہیں، آپ بھی دیکھیں، لیکن تبدیلی حالات کے لئے کوشش شرط ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: