ایک اور مردِ مومن رخصت ہوا

سروش اختر

15 اپریل کی صبح جب میں دفتر پہنچا تو سب سے پہلی خبر جو مجھے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے ملی وہ ایک عظیم مفسرِ قرآن کی اس جہانِ فانی سے کوچ کر نے کی تھی۔ میں کرسی پر بیٹھ ہی نہ سکا اور آنسووئوں کو چھپاتے ہوئے دفتر سے باہر نکل گیا۔ سارا دن ایک بوجھ کی سی کیفییت رہی، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ مجھ سے کسی نے بہت ہی قیمتی شے اچانک چھین لی ہے۔اور فی الواقع ایسی ہی صورتحال ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے تمام عقیدت مند یقینا میری اس بات سے اتفاق کریں گے۔ کاش آج کی اس مادہ پرست دنیا کو بھی یہ احساس ہو سکتا کہ وہ کتنی عظیم شخصیت کے سایہ سے محروم ہو گئی ہے۔ افسوس اس امر پر ہے اِس مردِ قلندر کے جانے پر نہ کسی چینل نے کوئی رپورٹ دکھائی اور نہ ہی کسی اخبار نے کوئی خصوصی اشاعت کی ۔ ہاں اگر شعیب ملک یا محمد آصف کے کسی پالتو کتے کو بھی بخار ہوجاتا، تو وہ بھی یقینا ٹی وی پر کئی کئی گھنٹے کا وقت حاصل کرپاتا۔ یا کسی موبائل کمپنی کا اشتہار لگانا ہوتا تو وہ بھی اخبار کا پورا صفحہ حاصل کر لیتے مگر ڈاکٹر صاحب او ر ان کے پیغام سے آج کی اس دنیا کو  بھلا کیاغرض ۔

ڈاکٹر اسرار احمد بلا مبالغہ ایک عظیم مفسرِ قرآن ، پوری دنیا میں اردو زبان کے بہترین مدرسِ قرآن، ایک بے مثال داعی، کلمہء حق ببانگِ دہل کہنے والے ، ایک محقق، لا جواب مصنف ، اقبال شناس، مغربی تہذیب کی شازشوں پر گہری نگاہ رکھنے والے ، دور اندیش ، در ویش صفت اور سب سے بڑھ کر للٰہیت اور خلوص کے ساتھ اسلام کے آفاقی نظام کو نافظ کرنے کی سعی کرنے والے تھے ۔ آپ اسم ِ با مسمَّہ کے مصداق تھے ۔ چونکہ آپ تمام تر تہذیبوں کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی کے ۸۷ برسوں کے ایک ایک لمحے کا حق ادا کیا۔ یہاں تک کے انتقال سے قبل رات بھر وہ مطالعہ میں مصروف تھے ۔ اور اللہ نے ایسی آسانی سے اپنے اس بندے کو اُٹھا لیا کہ وہ وفات سے قبل بھی اسلام ، پاکستان اور لوگوں کی خدمت کرتا ہوا گیا ۔ نہ جانے کتنے لوگوں نے آپ سے فیض پایا ، نہ معلوم کتنے انسانوں نے آپ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور نہ جانے متاعِ علم کے کتنے نلکے آپ نے لگا دیے جو یقینا آ پ کی رحلت کے بعد بھی آپ کے لئے صدقہ جاریہ رہیں گے۔

ڈاکٹر صاحب سے میری آخری ملاقات تقریبا20 روز قبل کراچی میں ہوئی۔ آپ اپنے معمول کے مطابق قرآن مرکز واقع ڈیفنس میں خطاب اور دیگر تنظیمی امور کی نگرانی کے لئے تشریف لائے تھے۔ خطاب کا وقت صبح 10 بجے کا تھا۔ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ مسجد کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ باہر صحن میں لوگ پروجیکٹر کے زریعے آپ کو دیکھ رہے تھے۔ خطاب شروع ہوا اور پونے ۳ گھنٹے تک جاری رہا ۔ اور ۳ گھنٹے بعد بھی اذان کا وقت ہو گیا تھا ورنہ نہ سننے والے اِسے روکنا چاہتے تھے اور نہ ڈاکٹر صاحب کے علم کا سمندر تھمنے کا نام لے رہا تھا۔ اُس روز آپ کا موضوع ”دجال اور فتنہء دجالیت تھا“۔ دعا کے بعد میں بڑی کوشش کے بعد آپ کے قریب پہنچا، آپ سے مصافحہ کیا اور وہیں بیٹھ کر آ پ کے روحانی چہرے کو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ دیگر علمائے کرام بھی تشریف فرما تھے۔ آ پ اُ س روز بھی وہیل چیئر پر بیٹھے تھے ۔ کافی عرصے سے آپ چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۵۱ اپریل کو اللہ نے آپ کو تمام تر جسمانی تکالیف سے آزاد کرکے اپنے پاس بلا لیا۔

انتقال کے روز سارا دن آپ کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے ۔ اور یہ الفاظ وہی تھے جو میں نے مذکورہ خطاب میں سنے تھے کہ ” شاید میں تو وہ دن نہ دیکھ سکوں لیکن آپ کو ضرور خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط ہونے کے آثار بہت واظح نظر آرہے ہیں ۔ اور یہی وہ جنگیں ہیں جن کے بعد حضرتِ عیسی ؑ کا ظہور ہوگا۔ اس لیے اپنا ایمان اتنا پختہ کرلیں کے آپ حق و باطل کی پہچان کرنے میں غلطی نہ کریں۔“

اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند فرمائے ۔آپ کی لغزشیں اور کوتاہیاں معاف فرمائے۔ اور قرآنِ مجید کا جو آفاقی پیغام پھیلانے میں آپ نے اپنی پوری زندگی صرف کی ، وہ پیغام ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آ مین

Advertisements

4 responses to this post.

  1. Posted by فرحان ظفر on 19/04/2010 at 3:05 شام

    اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو اپنے پسندیدہ بندوں کی طرح دوسری دنیا کی راحت فراہم کرے۔۔آمین

    جواب دیجیے

  2. ڈاکٹر صاحب اگرچہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے لیکن دیگر علماء کے برعکس آپ کا انداز شریفانہ تھا۔ ان کے علم القران میں احمدی عقلی اور منطقی افکار کی جھلک نظر آتی تھی۔ میں ان کی تقاریر سن کر بعض اوقات سوچتا تھا کہ صرف اختلاف کی وجہ سے وہ جماعت کے عقائد سے اتفاق کرنے سے کنی کترا جاتے ہیں۔
    خیر ان کی قرآن فہمی ان کے ہم عصر سنی اور اہلحدیث علماء سے بہت آگے تھی۔ اور اسلام کی محبت اور احیاے دین کی تڑپ بھی صاف نظر آتی تھی۔ اللہ ان سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرماے۔ آمین۔

    جواب دیجیے

  3. محتم سروش اختر صاحب ، آپ کی تحریر اپ لوڈ کر دی گئی ہے، امیدہےسحر نو کے قارئین کے لئے آئندہ بھی نگارشات بھیجتے رہیں گے۔

    جواب دیجیے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: