بجلی اور تعلیم کے بجائے موت

تحریر: شاہد عباسی

گزشتہ روز پشاور میں یکے بعد دیگرے ہونے و الے دو دھماکوں میں جہاں ایک جانب اسکول کے معصوم بچوں سمیت بجلی کی لود شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے و الے چالیس کے قریب انسان موت کا شکار ہوئے ہیں،وہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنے معمول کی جانب لوٹتے شہر کی زندگی پھر سے خوف و اضطراب کا شکار ہو ئی ہے۔قصہ خوانی پشاور میں ہونےو الے دھماکے اور ببعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہونےو الے افراد کی تعداد آخری اطلاعات تک۷۲ہو گئی تھی۔ پیر کو پشاور میں ہونیوالے دھماکوں کے بعدمنگل کے روز بھی مقامی سطح پر فضا انتہائی سوگوار رہی۔ دھماکے کے فورا بعدسرحد حکومت کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیاتھا سوگ کے پہلے دن تاجر برادری غم و اندوہ کی تصویر بنی رہی،تمام کاروباری مراکز بندرہے،شہر میں بسنے والاہر چہرہ اداس اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔منگل کو پولیس نے خود کش حملہ آور کی تصویر جاری کی اور تھانہ خان رازق میں واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کیخلاف درج کر لی گئی ،اس دوران قصہ خوانی بازارخود کش حملے کا ایک اور زخمی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں دم توڑ گیا۔ دوسری طرف شہر کے مختلف مقامات پر قصہ خوانی خود کش حملے میں جانوں کی قربانی دینے والے جماعت اسلامی کے کارکنوں اور پولیس اہل کاروں کی نماز جنازہ ادا کیگئی ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ قصہ خوانی خود کش حملے سے پہلے جمرود روڈ پر پولیس پبلک اسکول کے باہر ہونے والے دھماکے میں ایک طالب علم جاں بحق اور دس افراد ذخمی ہو گئے تھے۔ ان میں سات کم عمر طالب علم بھی شامل ہیں۔ شہری دوپہر کو معصوم بچوں پر کئے جانے والے حملے کے خوف سے باہر نہیں نکلے تھے کہ پانچ گھنٹے بعد مصروف ترین اور گنجان آباد تاریخی قصہ خوانی بازار میں اس وقت خود کش حملہ کیا گیا جب جماعت اسلامی کے کارکن بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کیخلاف مظاہرکر رہے تھے۔ شہید ہونے والوں میں جماعت اسلامی پشاور کے نائب امیرحاجی دوست محمد،ڈی ایس پی گلفت حسین بھی شامل تھے۔اسی روز صبح جمرود روڈ پر پولیس پبلک اسکول کے سامنے ہونے والے دھماکے میں ایک بچہ جاں بحق جب کہ سات دیگر بچوں سمیت۲۱افراد زخمی ہوئے تھے۔قصہ خوانی بازار پشاور میں چوک شہیداں کے قریب واقع مٹھائی کی دکان کے سامنے ہونے والے دھماکے میں جماعت اسلامی کے صوبائی قیم(جنرل سیکرٹری)شبیر احمد خان،امیر جماعت اسلامی ضلع پشاورصابر حسین اعوان بھی شامل تھے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکہ خود کش تھا ،جس میں ملوث خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے،۵۱تا۶۱برس عمر بتائے جانے والے خود کش حملہ آور نے دھماکے کے لئے ۶کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جس نے چشم زدن میں دودرجن سے زائد افراد کو موت کا شکار اور ۰۴سے زائد کو زخمی کر دیا۔قبل ازیں جمرود روڈ پر ہونے والے دھماکے نتیجے میں پولیس انسپکٹر گل مست خان کا چھ سالہ بچہ آفتاب خان شہید ہوا تھا جو گھر سے حصول علم کے لئے درس گاہ آیا تھا لیکن صبح خوشی خوشی اسے اسکول بھیجنے والی ماں کوواپسی پر کم سن بچے کی میت وصول کرنا پڑی۔ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کے بقول دھماکے کے نتیجے میںاے این پی کی صوبائی اور وفاقی حکومت کی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی،جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے عوام ہر سطح کا ردعمل دینے کو تیا رہو گئے ہیں۔ پشاور دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی سپر ہائی وے، لانڈھی،لسبیلہ،بنارس،اوردیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔اس موقع پر مقررین نے پشاور دھماکے کی ذمہ داری اے این پی اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں پر ڈالتے ہوئے انہیں شہدائے پشاور کے خون کا ذمہ دار قرار دیا۔پیر کو ہونے والے دھماکے کے اگلے روز منگل کو تبت سےنٹر پر شہدائے پشاور کی غائبانی نماز جنازہ کا اجتماع ہوا جس میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور قائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کا اجتماع بعد ازاں احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کی صورت اختیار کر گیا۔ بجلی کی بدترین لوڈیشڈنگ کے خلاف ہونے والے مظاہرے اور احتجاجی ریلی میں دھماکہ کے بعد منگل کے روزملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور شہدائے پشاور کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لاہور، پشاور ، راولپنڈی ، اسلا م آباد ، ملتان ، کراچی ، حیدر آباد ، سکھر ، کوئٹہ ، سیالکوٹ او ر دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکاءنے حکومتی نااہلی اور امریکہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبات کیے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ملک کے صوبائی صدر مقامات اور تمام بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لاہور میں مسجد شہداکے باہر مال روڈ پر جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ اوربعد ازاں انہی کی اما،ت میںشہدا کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ لیاقت بلوچ کا سانحہ پشاور کے متعلق کہناتھا کہ اس وقت پاکستان چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہواہے ۔ جماعت اسلامی نے لوڈشیڈنگ ، امریکی غلامی ، مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف جو نعرہ حق بلند کیاہے وہ حکمرانوں اور امریکہ کی آنکھوں میں کھٹک رہاہے ۔ پاکستان کے اصل دشمن بھارت نے پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوریوں کی بنیاد پر پاکستان میں تخریب کاری مسلط کر رکھی ہے اور اس نعرہ حق سے پاکستان کے نااہل اور کرپٹ حکمران پریشان ہیں ۔ جماعت اسلامی عوام کے دل کی آواز ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پشاور کے واقعہ کے پیچھے وہی ہاتھ ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔حکمران پاکستانی عوام کو دوسرے مسائل میں الجھا کر ان کی توجہ ہٹاناچاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، اے این پی اور ایم کیو ایم اپنے مفادات کے لیے اور عوام پر ظلم کرنے کے لیے تو متحد ہیں لیکن عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کی طاقت استعمال نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ سے نجات پانے کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ پاکستان کے اسلامی کردار کی حفاظت کے لیے لادین قوتوں سے ہماری جنگ جاری رہے گی ۔ لیاقت بلوچ کا یہ بھی کہناتھا کہ حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو وہ بلٹ پروف گاڑیوں میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔ حکمران اپنے انجام سے ڈریں اور پاکستان کے عوام کے غیظ و غضب کو دعوت نہ دیں عوام کے مسائل حل کریں۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے کرپشن اور حکمرانوں کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیاہے ۔ امریکہ کے مظالم ، بلیک واٹر اور ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ مہنگائی ، لوڈشیڈنگ او ربجلی کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاجی تحریک شرو ع کر رکھی ہے ۔یہی ہمارا جرم ہے جس کی سزا کے تحت پشاور کا واقعہ سجایا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماحافظ محمد ادریسکا کہنا تھا کہآج ہمارے دل زخمی ہیں، ہمارے ساتھیوں نے عوام کے حقوق اور حکمرانوں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور جان کی قربانی دی ہے ۔ ہم نے ان کے خون کا مقدمہ اللہ کے ہاں درج کرادیاہے ۔ ہم عدل و انصاف کے نظام کے لیے مزید قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے انہوں نے بشیر احمد بلور کے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں اس نے کہاکہ ” لوگ مہنگائی اورلوڈ شیڈنگ کے خلاف کیوں مظاہرے کرتے ہیں ،مظاہر وں سے لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوتی“۔ان کا کہنا تھا کہ حکمران بھارت امریکہ اور یہودیوں کا نام لینے سے ہچکچاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم ان واقعات سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور ظلم کےخلاف آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے عید گاہ چار سدہ روڈ پشاور میں شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی ۔ان کا کہنا تھا کہ حاجی دوست محمد اور جماعت اسلامی کے دیگر کارکنوں کی شہادت کو مایوسی کے بجائے قوت میں بدلیں گے اور اس قوت کی بنیاد پر امریکہ کے ہاتھوں چھینی گئی خود مختاری او ر آزادی کو واپس لائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قیام امن کے لےے حکومت کو امریکی اتحاد سے نکلنا ہو گا ۔ بھیک مانگنے سے ترقی نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف نے ملکی سلامتی امریکہ کے حوالے کی تھی موجودہ حکمران مشرف کی روش پر چل رہے ہیں حالانکہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اسلام کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے ۔ قاضی حسین احمد نے کہاکہ موجودہ تمام مسائل او ر امراض کا علاج ایک ہی ہے کہ عوام کو بیدار کر کے امریکہ کے خلاف اٹھایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اپنے ساتھیوں کی شہادت پر ہم ہر گز خوف زدہ اور مایوس نہیں ہیں بلکہ اس سے ہماری تحریک مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھے گی ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر سراج الحق نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امن کی چابی اسلام آباد کے حکمرانوں کے پاس ہے ۔ وہ امریکی مفادات کے بجائے ملکی مفادات پر مبنی پالیسیاں بنائیں ۔ انہوں نے کہاکہ حاجی دوست محمد او ر ساتھیوں کی شہادت سے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو نیا حوصلہ ملاہے ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ سرحد اور ملک مقتل گاہ بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم عزم و ہمت سے اور عوام کی طاقت سے اس مقتل گاہ میں امن و سکون لائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام خرابیوں کی جڑ اور ذمہ دار حکومت ہے اور اسی نے امریکی جنگ اپنی گلی کوچوں تک پہنچائی ہے ۔ کراچی میں تبت سنٹر پر شہدائے پشاور کی غائبانہ نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ حیدر آباد پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے امیر جماعت اسلامی سندھ اور سابق ممبر قومی اسمبلی اسد اللہ بھٹو نے خطاب کیا۔ سکھر میں مکی مسجد کے باہر مظاہرہ سے ضلعی امیر علامہ حزب اللہ جکھڑونے خطاب کیا ۔ کندھ کوٹ لائبریری چوک پر احتجاجی مظاہرہ سے جماعت اسلامی کندھکوٹ کے ضلعی نائب امیر حافظ شبیر محمد نے خطاب کیا ۔ خیر پور میرس پنج ہٹی چوک میں نماز جنازہ صوبائی نائب امیرممتاز حسین سہتو نے پڑھائی اور مظاہرہ کیا گیا۔ شکار پور لکھ گیٹ میں احتجاجی مظاہرہ سے ضلعی رہنما مولانا صدر الدین مہر نے خطاب کیا ۔ ٹنڈو آدم میں کوثر مسجد کے سامنے بڑے مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ عبدالقدیر غوری ، مشتاق احمد عادل ، حاجی نور حسن اور مولانا ابرار الحسن نے خطاب کیا۔ اٹک ریلوے پارک میں غائبانہ نماز جناہ ادا کی گئی حافظ علی خان نے امامت کرائی ۔راولپنڈی میں شہدا ئے پشاور کی نماز جنازہ لیاقت باغ میں مولانا عبدالجلیل نے پڑھائی ۔ اسلام آباد میں میلوڈی چوک پر احتجاجی مظاہرہ سے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد سید محمد بلا ل ، عاشق حسین اور زریں قریشی نے خطاب کیا۔ ملتان میں جامع العلوم معصوم شاہ روڈ پر احتجاجی مظاہرہ او رغائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ مظاہرین سے راﺅ ظفر اقبال اور پروفیسر افتخار نے خطاب کیا ۔ فیصل آباد میں سرکلر روڈ سے گھنٹہ گھر چوک میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور احتجاجی جلسہ سے محبوب الزمان بٹ او ر محمد اکرم کھرل نے خطاب کیا۔ بہاولپور میں شہدا پشاور کے نماز جنازہ عبدالستار ندیم نے پڑھائی۔ امیر جماعت اسلامی ضلع بہاولپور عبدالوحید شیخ نے اس موقع پر خطاب کیا۔سیالکوٹ میں حافظ طاہر اسلم ، ارشد بگو اور شمس العارفین نے احتجاجی ریلی سے خطاب کیا۔ کوئٹہ میں فاطمہ جناح روڈ سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی سے مولاناعبدالعزیز کاکڑ نے خطاب کیا۔ لورالائی ، ڈیرہ مراد جمالی ، نصیر آباد میں بھی احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں جن سے مقامی رہنماﺅں نے خطاب کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان،مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹرعارف علوی،مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سیف اللہ نیازی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمرسرفراز چیمہ نے پشاور میں جماعت اسلامی کے جلوس پر خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں پر انتہائی رنج وغم کا اظہار کیا اور دھماکے میں زخمی ہونے والوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔تحریک انصاف کے راہنماو¿ں نے جماعت اسلامی کی قیادت سے اس سانحے پر گہری ہمدردی کابھی اظہار کیا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے معمول کی زندگی کو لوٹتے پشاور کو پھر کسی کی نظر کھا گئی ہے ،جبھی ایک ہی دن میں چھ سالہ آفتاب سے لے کر بزرگ حاجی دوست محمد جیسے درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔کیا کوئی ہے جو ان شہداءکے لہو کی پکار سن کر وطن عزیز کو امن وسکون کا گہوارہ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کر سکے؟عوام بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے لئے تن من دھن لگادینے والے سیاسی رہنما اور حکومتیں ان کے ملک کو بچانے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ،کمر توڑ مہنگائی،پانی کی قلت ،آٹے،چینی اور دیگر اجناس کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اپنا کتنا اور کیا کردار ادا کریں گی،عوامی نمائندگی کا دعوی کرنے والوں کو اپنے گروہی و سیاسی مفادات حاصل کرنے کے بعداس بات کے لئے بھی فرصت میسر آئے گی کہ وہ ان مسائل سے عوام کا پیچھا چھڑا کرعام آدمی کو سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کر سکیں،یہی چھ سالہ عابد اور ۵۶سالہ حاجی دوست محمدکے لہو کی پکار ہے،کوئی ہے اسے سننے والا؟ ہوتا کیا ہے،یہ ہم بھی دیکھتے ہیں،آپ بھی دیکھیں لیکن تبدیلی حالات کے لئے کوشش شرط ہے۔

Advertisements

One response to this post.

  1. افسوس صد افسوس۔۔۔ پتہ نہیں کیا بنے گا ہمارا

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: