جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔۔۔نوجوان ہدف پر

تحریر:فرحان ظفر

بی بی سی نے چند برس قبل رواں صدی کو "ذات کی صدی ” “The Century of The Self” قرار دیا تھا،معاملہ یہیں پر بس نہیں ہوا بلکہ اس تصورکو فروغ دینےکے لئے مسلم ممالک سمیت پوری دنیا میں منظم طریقے سے کام کیا جا رہا ہے۔ان تمام کوششوں کاسمجھ آنے والا ہدف ان  معاشروں میں کسی اجتماعی ، منظم اور مثبت تبدیلی کو روکنا ہے، اس سلسلے میں اصل ہدف نوجوان ہیں جو کسی بھی تبدیلی کا سب سے بڑا عنصر یا Factor ہوتے ہیں، اور اس منصوبہ بندی کے پیچھے یہودی وامریکی ملٹی نیشنل کمپنیاں، میڈیا کے ادارے خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ بنائے گئے اشتہارات کو استعمال کر ر ہے ہیں۔

ہمیں اسی تناظر میں اس پوری صورتحال کو دیکھنا ہو گا تاکہ ہم پر یہ بات واضح ہو جائے کہ موجودہ دور میں وہ کون کون سے "رزق "ہیں جو نوجوانوں کی پرواز میں کوتاہی کا باعث بن رہے ہیں۔

اس کےکئی پہلو ہو سکتے ہیں جن سے بچ کر ہم اپنی منزل کی جانب پرواز ۔۔۔اونچی پرواز۔۔۔کو جاری رکھ سکیں۔ چند اہم پہلو جو سمجھ میں آتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:-

1۔ نوجوانوں کو ذاتی ایڈونچر کے نام پر ایسا رزق فراہم کیا جارہا اور نوجوان اس کو برضا و رغبت  قبول کر رہے ہیں کہ وہ معاشرے کو درپیش اہم مسائل کو بھول کر ذاتی ایڈونچرز میں الجھے رہیں اور بظاہر ان میں کوئی اخلاقی خرابی بھی نہ ہو۔۔۔یہ ماہرانہ نقطہ نظر تقریبا90 سال پہلے معروف ماہر نفسیات سیگمنڈ فرائیڈ کے بھتیجے ایڈورڈ برنے نے پیش کیا تھا جو بذات خود بھی ایک اچھا ماہر نفسیات اور فرائیڈ کا خصوصی شاگرد تھا  ۔

اس کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ اجتماعی طور پر آتی ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں نوجوان ، چنانچہ اگر ہمیں مستقبل میں کسی ایسے انقلاب سے بچنا ہے جو ہمارے مفادات کو نقصان پہنچائے تو ہمیں لوگوں کو اپنی ذات کا پجاری بنانا ہو گااور ذاتی سطح پر ہی لوگوں کو ایسے کام اور مواقع فراہم کرنے ہوں گے جو ان کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کی نظروں میں ہیرو بنا دیں  اور وہ اپنے آپ کو منفرد ثابت کرنے کے چکر میں اتنے زیادہ مصروف ہو جائیں کہ کسی اجتماعی کام یا مثبت تبدیلی جو بڑی بڑی کارپوریشنوں کے لئے نقصان دہ ہو  کا وقت ہی میسر نہ ہو۔

2۔دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ رومانس یا پیار محبت کے عنصر کو میڈیا و دیگر ذرائع کی مدد سے مخصوص اجزاءسے "پکا”کر ایسا رزق مسلسل فراہم کیا جائے کہ نوجوانوں کے لئے اس سے بڑا مسئلہ اور کوئی رہے ہی نا!

3۔ پاکستانی نوجوان طبقے کے ذہنی سانچے یا مائنڈسیٹ کوایسا رزق مسلسل ہمارے تعلیمی نظام، میڈیا کے ذرائع اور ہماری نام نہاد معاشرتی روایات کے ذریعے  فراہم کیا جارہا ہے کہ اب کیرئیر بنانا اور پیسہ کمانا ہی کامیابی کی علامت بن چکی ہے ، نتیجہ یہ کہ اقبال کے شاہینوں کی پرواز بھی چٹانوں جیسے بلند مقاصد کو چھوڑ کرمارکیٹ پر منڈلاتے کووں کی سی پرواز تک محدود ہو گئی ہے جن کا مقصد کیرئیر اور پیسے کی ہڈیاں چونچ میں دبا کر اپنے گھونسلے میں دبک جانا ہی رہ گیاہے۔

کیا ہم بھی کہیں اسی فریب کا شکار ہو کر دجال کے فتنے میں تو مبتلا نہیں ہو چکے، اپنا جائزہ تو لیجئےاور اللہ سے اس فتنے کی پنا ہ مانگئے جو کو رسول اکرم ﷺنے تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ کہا ہے اور جس کے انتظار میں یہودی دنیا بھر میں تیاریاں کر رہے ہیں کیونکہ یہودی ہی موجودہ دور کو "ذات کا دور” بنانے میں سب سے آگے ہیں!

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: