جئے بھٹو ،،،،،،؟ پاکستان کھپئے،،،،؟

تحریر:اسامہ فاروق

استاد، شاگرد سے ۔ بیٹا یہ بتائو،

دنیا میں پہلا انسان کون آیا تھا

شاگرد : آدم

استاد، شاباش بیٹا یہ بتاو ان کی قومیت کیا تھی۔۔۔؟

شاگرد : پاکستانی

استاد، وہ کیسے،،،،،؟

شاگرد : انکے پاس گھر نہیں تھا،کپڑے نہیں تھے،چینی نہیں تھی ، آٹا نہیں تھا،بجلی نہیں تھی، گیس نہیں تھی ،پانی نہیں تھا مگر وہ پھر بھی زندہ تھے،،،،

بظاہر تو یہ لطیفہ ہے،،،ویسا ہی جس طرح کے اور بہت سارے پڑھ کر بے ساختہ مسکراہٹ لبوں پر آجاتی ہے،،،،مگر اسکے ساتھ ساتھ یہ درون خانہ بہت کچھ کہہ بھی جاتے ہیں جسے سمجھنے کو ذیادہ عقل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بچے تو معصوم ہوتے ہیں انہیں کیا معلوم ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں ملک کیلئے کتنا درد ہے عوام کے حالات بدلنے کی کتنی تڑپ ہے وزیر داخلہ جناب عزت ماب ،،،،،،،،، رحمان ملک تو ہر فن مولا ہیں ملکی مفاد میں انہوں نے تو ان کی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے مثالی دوستی ہے ۔ جبھی توٹیلی فونک گفتگو اور رابط کمیٹی سے ملاقات کے بعد ٹارگٹ کلنگ پر قابو پا لیا جاتا ہے کتنے ہی سمجھ دار اور عقل مند ہے ہماری کابینہ کے لوگ دو سال سے زائد عرصہ بیت گیا ،،،،، حکومت کو میگا سٹی سے ٹارگٹ کلنگ کا جن نہیں ملا،،،،، مذاکرات کے ذریعے جنات سے بارگینگ کرلی جاتی ہے جسکا فائدہ بھی ہوتا ہے اور ایک ماہ کیلئے امن کی آشا بھی رقص کرتی ہے ،،،،،،،،،، باتوں میں بات کہاں نکل گئی ہم تو روٹی کپڑا اور مکان پر لکھنا چارہے تھے لیکن کیا لکھیں پلاٹ ملتا ہے غریب کو لیکن وہ غریب عام عادمی نہیں ہوتا بلکہ پارٹی میں موجود طاقت ور ورکر ہوتا ہے جو خود قبضہ کرلے سرکار کی جگہ ہویا عوام کی،،،،، داد ہے ان حکمرانوں کی ہمت کو جنہوں نے مکان نہ سہی سرکاری جگہ پر قبضہ کرنے کا موقع تو دیا ،،،،،،،،،،، کپڑے کا مسئلہ تو حکومت کو حل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی امیروں نے یورپ کی نقل کرنا شروع کردی کم کپڑے میں ہی سوٹ بن جاتا ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،، غریبوں کیلئے شہر کراچی میں لائیٹ ہائوس تو موجود ہی ہے جہاں سب کچھ پہنے کو ملتا ہے ،،،،،،، چاہے تو یورپی انداز اپنا لو ،،،،، یا دیسی،،،، وہاں تو سب ملتا ہے سستے میں،،، ٓجناب ،،،،، آٹے کا تو نام بھی نہ لو اس بار تو سرکار کے پاس فاضل گندم موجود ہے سرکار کے پاس تو ہے ہی سہی کسانوں کے گھروں میں بھی ڈھیر لگے ہیں ،،،،،کیوں کہ سرکار نے خریدی ہی نہیں سرکار تو سمجھ دار ہے نا فاضل گندم کا کیا کرے گی کسان نے گندم بوئی تھی اب سنبھالے بھی،،،،یا کم قیمت میں ذخیرہ اندوزوں کو فروخت کردے،،،،،،، چینی تو صحت کیلئے ویسے بھی اچھی نہیں ہوتی، اس بات کا قائل ہپو کر ہی تو انڈیا نے اپنا مشہور گانا تشکیل دیا۔۔۔۔۔ چینی کم ،چینی کم ، تھوڑی تھوڑی کم،،، تو حکومت کیا کرے جب کم ہی ہے تو کم کھاو¿ چینی ،،،،،،، بھائی حلوے مت کھاو¿ ہم تو حالت جنگ میں ہیں ۔۔۔؟ بیچاری پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کہ جسکو سب سے زیاد ہ تو تنگ لوڈ شیڈنگ کے جن نے کیا ہوا ہے ایک ایسی مصیبت کہ جو دوسری مصیبتوں کی طرح گزشتہ حکومت نے دی،،،،،بھلا اس حکومت کو تو ابھی اڑھائی سال ہوئے ہیں اتنے کم عرصے میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا بہت مشکل کام ہے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے تو لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا کئی بار وعدہ کیا لیکن وہ بھی کیا کریں یہ انکے بس کی بات ہی نہیں اپوزیش اس مسلئے کو حل ہوتا دیکھ ہی نہیں سکتی حکومت تو رینٹل پاور کے زریعے لوڈ شئڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلانے کی پوری کوشش کررہی ہے لیکن اب دیکھو یہ بھی کوئی بات ہوئی ،،،مہنگی سہی لیکن بجلی تو ملے گی نا،،،،،،،،، اب ایسا تو ہونہیں سکتا کہ حکومت ملنے کے بعد بندہ فی سبیل اللہ کا م کرے توبہ توبہ پاکستان میں ایسی تو کوئی روایت نہیں ہے تو آخر کچھ تو فائدہ ہونا چاہئے نا حکومت میں ہونے کا بھی،،،،،،،، گیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے سرتوڑ کوششں کی کابینہ کے پے در پے اجلاس بلائے گئے چائے اور کھانے کی نشستیں بھی ہوئی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تاجروں سے ملاقاتیں ،صنعت کاروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانوں کو اہتمام سب کچھ تو کیا حکومت نے لیکن گیس کی لوڈ شیڈنگ ،،،،،،،، اب بچوں کا کون سمجھائے کہ بیٹا پاکستان میں تو حکومت اقدامات کررہی ہے سارے مسائل حل ہوجائیں گے حکومت کو کام تو کرنے دو ابھی تو بہت منصوبے (ٹوپیاں) عوام کو پہنانی ہیں ابھی تو وقت باقی ہے ابھی سے تبصرے ابھی سے نقطہ چینی یہ اچھا نہیں،،،،،اتنے مسائل تو اڑھائی سال میں حل نہیں ہوتے نہ کابینہ کے ارکان سر جوڑ کر اجلاس کرتے رہتے ہیں ان مسائل کو حل کرنے کیلئے اب کیا کریں ،،،،،،،،ہاں مگر ایک کام کیا جا ستا ہے اور وہ یہ کہ اس سب کے باوجو بلند آواز میں صدا لگائی جائے،،،،،جئے بھٹو،،،،،،،،،،،،،،پاکستان کھپئے،،،،،،اور اگر اس سے کام نہ بنے تو پھر یہ چلے گا”جو۔۔۔کا غدار ہے،وہ ۔۔۔۔کا حقدار ہے۔۔۔۔

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Nicr article with interesting start. please keep it up Mr. Usama Farooq. i want your more articles on blog

    جواب دیجیے

  2. Posted by Kamran Lashari on 19/06/2010 at 6:33 شام

    Kia baat hay

    جواب دیجیے

  3. پاکستان کھپے (چاہیئے( اس لئے کہ سارے عیش و آرام نام نہاد شان و شوکت اس ہی ملک سے تو ہیں ۔۔یہ نہیں ہوگا تو کون پوچھے گا ان لوگوں کو ۔۔

    جواب دیجیے

  4. واہ کیا بات ہے جناب مگر کب تک ھم لوگ یہ نئے منصوبوں کی ٹوپیاں پہنیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیجیے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: