فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان

تحریر:فیاض احمدصدیقی

انٹرنیٹ دورِ جدید کی ایک بہت مفید اور کارآمد ایجاد ہے ۔ یہ نہ صرف معلومات کا ایک خزانہ ہے بلکہ مواصلات کے شعبے میں بھی اس نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے ۔انٹرنیٹ پر ہر طرح کی معلومات بہت آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہیں ۔اس کے ذریعے سے لوگ اپنے دور دراز عزیزوں سے باآسانی رابطہ کرسکتے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس نے بڑ ی حد تک لائبریری اور ڈاک کے نظام کی جگہ لے لی ہے ۔

پاکستان میں انٹرنیٹ دس سال قبل متعارف ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑ ھتی چلی گئی ۔ ملک میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم ’اسپاک‘ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی کل تعداد چوبیس لاکھ سے زائد ہو چکی ہے ۔امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد کئی گنا بڑ ھ جائے گی۔

اس حوالے سے یہ امر بے حد تشویشناک ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے بیشتر صارفینِ اسے فحش اور عریاں ویب سائٹس تک رسائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ محض اندازہ نہیں ، مذکورہ بالا تنظیم ’اسپاک‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بیشتر لوگوں کا پسندیدہ شغل، فحش اور عریاں ویب سائٹ دیکھنا ہے ۔

یہ صورتحال ہر باشعور شخص کے لیے باعث تشویش ہے۔ باخبر لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ یہ تنہا پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا اس مسئلے سے پریشان ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فحش ویب سائٹس ہی دیکھی جاتی ہیں۔ ان سائٹس پربا قاعدگی سے جانے والے لوگ ، دنیا کی نظر سے چھپ کر، انٹرنیٹ کی تاریک گلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں ۔یہ آوارگی ان کی عادت بن کر قلب و نظر کوناپاک کر دیتی ہے۔ اس کے بعد زندگی دو میں سے کسی ایک راستے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یاتو انسان حلال و حرام کی ہر تمیز کو فراموش کر کے زناکی وادی قدم رکھ دیتا ہے یا پھر شادی کا جائز راستہ کھلنے کے بعد بھی تاعمر پورنوگرافی کے نشہ کا عادی بنا رہتا ہے ۔

ہماری سوسائٹی کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے غلط رویوں ، نظریات اور بعض حالات کی بنا پر شادی کی بنیادی ضرورت کو، نوجوانوں کے لیے ناقابلِ رسائی بنادیا ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں یا تو مناسب عمرمیں نوجوانوں کی شادی ہوجاتی ہے یا پھر شادی کیے بغیر نوجوان لڑ کے لڑ کیوں کو ساتھ رہنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے ۔ ’اسپاک‘ کی اس رپورٹ کے ذریعے سے پوری سوسائٹی کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ یا تو لوگوں کے لیے نکاح کے جائز راستے کو کھول دیا جائے یا پھر سوسائٹی کی تباہی کے لیے تیار ہوجانا چاہیے ۔

اس پیغام کا پس منظر یہ ہے کہ جن مغربی ممالک میں نکاح کے بغیر مرد و زن کا تعلق عام بات ہے ، ان کے ہاں یہ کوئی اخلاقی خرابی نہیں ہے ۔ان کے ہاں کی فلمیں ہوں یا فحش ویب سائٹس، اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو ان سے دور رکھا جائے باقی لوگ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں ۔ مگر ہمارے ہاں ، حیا اور عفت بنیادی اقدار ہیں ۔اسی طرح اخلاقی بحران کے اِس دور میں خاندان کا ادارہ ہماری واحد معاشرتی ڈھال ہے۔ زنا اور بے حیائی کے فروغ سے یہ اقدار اور یہ ادارہ ختم ہوجائے گا۔

انٹر نیٹ پورنوگرافی کا کوئی حل ابھی تک جدید دنیا دریافت نہیں کرسکی ہے ۔ سعودی عرب اور سنگاپور جیسے ممالک نے سنسرشپ کے ذریعے سے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔مگر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس طرح کا حل بہت زیادہ مؤثر نہیں ہو سکا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی سنسر شپ کی کوشش کی گئی مگر اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔ بلکہ جیسا کہ رپورٹ سے ظاہر ہے کہ جتنے زیادہ انٹرنیٹ کو استعمال کرنے والے بڑ ھیں گے اتنے ہی زیادہ فحش سائٹس پر وزٹ کرنے والوں کی تعداد بڑ ھتی چلی جائے گی۔

اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ والدین اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں ۔ وہ بچوں کی تربیت کو اپنا مسئلہ بنائیں ۔ ان کو وقت کی رفتار کے حوالے نہ کریں بلکہ زندگی کے ہر سرد و گرم میں ان کی رہنمائی کریں ۔ بچوں کے شعور میں حیا اور عفت کی اہمیت واضح کریں ۔ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ۔ کسی غلطی کی صورت میں نرمی اور محبت سے ان پر یہ واضح کریں کہ یہ چیزیں ہماری اقدار کے خلاف ہیں ۔جب بچے بڑ ے ہوجائیں تو ایک مناسب عمر میں ان کی شادی کو اپنی ترجیحات میں بہت اوپر رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں ۔

جہاں رہیے اللہ کے بندوں کے لیے باعثِ آزار نہیں، باعثِ رحمت بن کر رہیے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: