نبی مہربان ﷺکی تصاویر کے بعد "قرآن جلانے” کا اعلان

تحریر:شاہد عباسی

آج کی دنیا کو اپنے مہذب ہونے پر فخر ہے جس کا ثبوت وہ سب کے لئے برابری،برداشت اور حقوق کی فراہمی کو قرار دیتی ہے۔اس دعوے پر عمل میں اہل دنیا اتنے آگے بڑھ گئے کہ مغربی ممالک نے اپنے ہاں کتوں ،بلیوں سمیت پالتو وغیر پالتو جانوروں تک کے حقوق کی حفاظت اوران کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد تنظیمیں قائم کر لیں،زمین پر کٹنے والا ہر درخت انہیں کرہ ارض کی تباہی لگتا ہے،عورتوں کی آزادی خواہ وہ اخلاقیات سے عاری کیوں نہ ہو،مزدوروں کے حقوق خواہ وہ آجر کی جیب پر ڈاکہ کیوں نہ ہوں،آزادی اظہار اوراطلاعات تک رسائی کا حق خواہ وہ کسی کی جان جانے کا سبب ہی کیوں نہ بنے،یہ اور اس جیسے بے شمار ”حقوق و فرائض“ ہیں جن کے حصول کی خاطر مغرب اور اہل مغرب ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔وہ اس بات کا اتنا ڈھول پیٹتے ہیں کہ ناواقفان حال انہیں فرشتہ صفت سمجھنا شروع کر دیں،لیکن یہ شرافت، دیانت،قانون پر عملدرآمد،مہذب پن،حقوق کی طلب ، فرائض کی ادائیگی،برداشت،تعلیم دوستی،انسانی ترقی کا جنون وغیرہ اس وقت کہاں کھو جاتے ہیں جب معاملہ اسلام اورمسلمانوں کا آ جائے۔

اس مرحلے پر پہنچتے ہی ان کے منہ میں موجود دانت گویاکسی خون آشام درندے اورزبانیں کسی گنوار جاہل اوروحشی کی مانند ہو جاتی ہیں جبھی وہ ہر کس و ناکس کا نرخرہ چبانے اور خون چاٹنے کو تیار رہتے ہیں۔

بدکاری میں ملوث مردوعورتوں کو بیماریوں سے بچاﺅ اورمزدور حقوق کے نام پر کروڑوں ڈالر کے فنڈ مہیا کرنے والا مغرب سویٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کا اعلان کر دیتا ہے،عورتوں کی آزادی کو ہر سانس سے بھی ذیادہ جپنے والا معاشرہ فرانس میں حجاب جیسے فرض پر پابندی کا قانون منظور کر لیتا ہے، پاکستان، ایران یا کسی بھی مسلم ملک کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش پر آسمان سر پر اٹھا لینے اوروجود ہی نہ رکھنے والے ہتھیاروں کے بہانے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا نظام جرمنی کی بھری عدالت میں حجاب کرنے پر مسلم خاتون کو خنجر گھونپ کر شہید کر وادیتا ہے،افغانستان کے دوردراز علاقے میں مرتد ہونے والے”عبدالرحمن“کو راتوں رات خصوصی جہاز سے زندگی محفوظ بنانے کی آڑ میں یورپ منتقل کرنے والے انسانی حقوق کے چیمپئن دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی پر کیچر اچھالنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔اپنی قوم کے افراد کے ہاتھوں لکھی گئی آئینہ دکھاتی کتابوں، بنائی گئی فلموں پر پابندی لگانے والا مغرب مسلمانوں کی جان سے بھی ذیادہ عزیزترین کتاب قرآن مقدس کی کھلے عام ”نعوزباللہ“تذلیل کرتا اور کرواتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اسے کوئی حق یا حقوق یاد نہیں آتے۔

اس طویل تمہید کا سبب در اصل وہ پس منظر واضح کرنا تھا جس کی عدم موجودگی میں آگے بیان کی جانے والی بات یا اس کی سنگینی کا اندازہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

دوماہ قبل ہی توہین رسالت کی کوشش کے سبب لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پاکستان میں بند کی جانے والی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”فیس بک“پر ایک بار پھر مسلمانوں کو نیا چرکہ لگانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔حالیہ سانحے میں سترہ ستمبر کو مذکورہ ویب سائٹ پر Everybody Burn Quraan Day کے نام سے دن منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ مہینے بھر سے فیس بک کے گروپ پیجز میں موجود یہ صفحہ مذکورہ گروپ کی اکلوتی گستاخی نہیں بلکہ مذکورہ مردوخواتین جہاد،حجاب اور دیگر اسلامی شعائروفرائض کے بارے میں بھی گستاخ آمیز پیجز بنا کر اپنا کریہیہ منصوبہ سرانجام دے رہے ہیں۔مذکورہ گروپ کی جانب سے کی گئی گستاخی کے ساتھ ہی اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ (نعوذ باللہ)اس وقت تک قرآن مقدس جلایا جاتا رہے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو تے ۔اور یہ وہی مطالبات ہیں جن کی آڑ میں صلیبیءاوفاج افغانستان میں آتش و آہن کی بارش کر رہی ہیں،عراق کو تاراج کر رہی ہیں اور اب خاکم بدہن پاکستان پر نظریں گاڑنے کے بعد اپنے پیادوں کو حرکت میں لا چکی ہیں۔

Everybody Burn Quraan Dayکا ایونٹ منعقد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ”اسلام کو امن اورآزادی کا دین قرار دینا ایک غلط فہمی ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا ہر فرد کو چاہئے کہ وہ گروپ جوائین کرے اور (نعوذباللہ)قرآن کو اس وقت تک جلاتارہے جب تک یہ ہیپوکریسی واپس نہیں لے لی جاتی“۔مذکورہ گروپ کی جانب سے اس پیج پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سینکڑوں گستاخ آمیز تصاویر بھی اپ لوڈ کی گئی ہیں۔

اس دوران فیس بک استعمال کرنے والے متعدد مسلم یوزرز کی جانب سے ویب سائٹ کی انتظامیہ کو شکایتی ای میلز کی گئیں جن میں ان گروپس کی اطلاع دے کر انہیں بلاک کر نے کا بھی کہا گیا تا ہم اس پر کوئی عمل نہیں ہو سکا۔وہ تو غیر ہیں انہیں شاید قرآن،جہاد اورحجاب کے متعلق مسلمانوں کے جذبات و عقائد کا اندازہ نہ ہو یا پھر مادیت کو اہی اول و آخر سمجھنے والا مغرب ان امورکی اہمیت کو سمجھنے کا اہل ہی نہ ہو ،افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کیمونیکیشن کی نگرانی اور اس سے وابستہ دیگر امور کا ذمہ دار ادارہ پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی باوجود رابطے اورنشاندہی کے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہا ہے۔حالانکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اسی ادارے کی جانب سے فیس بک پر لگائی جانے والی پابندی نے ویب سائٹ کی انتظامیہ کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ کارروائی کے دوروز کے اندراندر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش پر معافی مانگے ۔حالیہ مقابلے کی اطلاع دینے اور ویب کی انتظامیہ پر اپنی حیثیت استعمال کرتے ہوئے اس مذموم کوشش کو روکے جانے کے لئے کردار ادا کرنے کے بجائے جب میڈیا کی جانب سے رابطہ کر کے ان سے وضاحت چاہی گئی تو سربراہ ادارہ کی میٹنگ میں مصروفیت کا جواز پیش کرنے والوں نے محض رابطہ کرنے والے صحافیوں کوتحریر ی شکایت کرنے کی تجویز دینے کو کافی سمجھا۔

واضح رہے کہ فیس بک کے استعمال کنندگان کی تعداد ۰۵لاکھ سے ذیادہ ہے،مذکورہ ویب سائٹ پر۵لاکھ سے زائد ایپلیکیشنز موجود ہیں،۰۲لاکھ سے زائد ممبرز اسے روزانہ استعمال کرتے ہیں،رواں برس کے ابتدائی تین ماہ میں ایک ارب سے زائد اشتہارات اپ لوڈ کئے گئے،اس وقت ایک ویب سائٹ ہونے کے باوجود اس کی مالیت ساڑھے نو ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔مختلف اوقات میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئے اے اور دیگر امریکی تحقیقاتی ادارے مذکورہ ویب کے ذریعے میسر آنے والی معلومات کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں،جب کہ امریکی پالیسی ساز ویب صارفین کے نفسیاتی تجزئے کے نتیجے میں ملنے والی معلومات کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا اعدادوشمار کے تناظر میں یہ بات زیادہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا پلیٹ فارم جسے چین وبھارت کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک کی آبادی سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں،اس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے اور دوسروں کی جانب سے دی جانے والی رائے ےا کی جانے والی سرگرمی کا اثر قبول کرتے ہوں۔یکے بعد دیگرے مسلم مخالف اقدامات کے لئے استعمال کرنا ،اللہ رب العزت کی جانب سے قیامت تک کے انسانوں کے لئے قابل تقلیدقرار دی جانے والی محترم ترین ہستی محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی اور اب جہاد جیسے فرض کی توہین اور قرآن مقدس جیسے الوہی کتاب کو جلانے کا دن منانے کی مذموم کوشش یہ ثابت کرتی ہے کہ میدان جنگ میں ناکامی کا مزہ چکھنے کے بعد چھیڑی گئی اعصابی جنگ میں کامیابی کے حصول کا خواہاں مغرب اب اوچھی ترین حرکتوں کے زریعے کسی بھی قیمت پر میدان مارنا چاہتا ہے۔اوراس پوری کارروائی میں اسے شاہ سے ذیادہ شاہ کے وفادار ان افراد و اداروں کی مدد میسر ہے جو اپنی سادہ لوحی،لاعلمی یا سطحیت کی وجہ سے چاروناچار اس کے چمکیلے نعروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس کا ثبوت مئی میں فیس بک پر لگائی جانے والی پابندی کے دوران نام نہاد بلاگرز اور انسانی حقوق کے چیمپئنز کی جانب سے پابندی کی مخالفت میں دئے گئے بے بنیاد دلائل تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے مسلمان رمضان جیسے بابرکت مہینے کا اختتام کر کے عید کی خوشیاں منا رہے ہوں گے ،عین اسی وقت ان کی خوشیوں کو گہنانے کے لئے نعوذباللہ قرآن کو جلانے کا دن منانے کا اعلان کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ رہا ہے ،وہ سوئے ہوئے کو جاگنے،جاگتے ہوﺅں کو کچھ کر گزرنے اور کچھ کرنے والوں کو اپنی رفتار پہلے سے تیز کرنے کا پیغام دے رہاہے،کوئی ہے جو اس پکار پر لبیک کہہ کر اس روز سرخرو ہو سکے جس روز سبھی اس سرخروئی کے منتظر ہوں گے۔کسی کو اس کی جاہ و حشمت،قوت و اختیار کام نہ آسکیں گے ماسوائے ان کے جو رب عظیم کے عرش کے سائے میں ہوں گے اور جنہیں ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دئے جائیں گے۔یہ سرخروئی حاصل کرنے کے لئے کسی میدان جنگ میں اترنے کو کمر کسنے کی ضرورت نہیں نہ ہی تلوار اٹھا کر صفیں الٹنا مقصود ہے ،ضرورت ہے تو صرف اس امر کی کہ تدبیر کے مقابل تدبیر اپنائی جائے،طعن وتشنیع کے مقابل کردار پیش کئے جائیں،پرفریب چمکیلے نعروں کے مقابل عمل کی قوت لائی جائے۔کامیابی یقینا راہ تک رہی ہے ہر اس فرداورقوم کے لئے جو اس منزل تک رسائی کے طبعی قوانین پورا کرنے کو تیار ہو۔

Advertisements

2 responses to this post.

  1. mujhe os society ka hisa hone par sharm aa rahi hai jo huqooq ke naam pr quamon ko mazlom banati aor phir onka khoon nichorti hai. is mazlomiat se bachne ka hal yahi hai ke ham Iqbal ke tasawor e khudi ke mutabiq apni infaradi aor ijtamai zindagion ko tameer karen.

    جواب دیجیے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: