امریکہ کی تقسیم ، کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟

(Research and Developed By Aims Institute of Human Development) 

ہوسکتا ہے کہ وہ ایک معمولی سا دن ہوں لیکن پوری دنیا کیلئے وہ ایک حیرت انگیز دن سے کم نہ ہوگا اگر” امریکہ ٹوٹ کر چھ حصوں میں تقسیم ہوگیا”جیسی شہ سرخی اخبارات میں دیکھ کر آپ کو حیرت کا جھٹکا نہیں لگے گا؟ 

روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے سابق اہم تجزیہ نگار اور وزارت خارجہ کے مستقبل کے سفیروں کے اسکول کے سربراہ ایگور پینارین نے پیشنگوئی ہے کہ 2011ءتک امریکہ چھ حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے، جبکہ روس اور چین دنیا کے نئے اہم کھلاڑی ہونگے۔ماسکومیں ڈپلومیٹک اکیڈمی میں سفارتکاروں اور اساتذہ سے اپنے خطاب میں مسٹر پینارین نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر باراک اوبامہ رواں سال مارشل لاءکے نفاذ کا اعلان کرسکتے ہیں اور آئندہ سال امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائیگی۔انھوں نے کہا کہ میں نے دس سال قبل کہا تھا کہ امریکہ میں بحران آسکتا ہے جواب معاشی بحران کی شکل میں سامنے آچکا ہے۔امریکہ کی ملکی پیداوار تیزی سے کم ہورہی ہے جبکہ عالمی اقتصادی مارکیٹ پر اسکا تسلط ختم ہوتا جارہا ہے(1)۔امریکی خبررساں ادارے کی اس رپورٹ کےساتھ امریکہ کی تقسیم کا ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا تھا جوآپ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ 

 

 

مگر کیا ایسا واقعی ہوسکے گا؟ اسی بات کا جائزہ لینے کیلئے اس مضمون میں امریکہ کے معاشی، معاشرتی،عسکری، مذہبی، اخلاقی شعبوں کا انکے ذیلی حصوں کیساتھ الگ الگ جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے،تاکہ امریکہ کے ایسے پوشیدہ پہلوﺅں پر روشنی ڈالی جاسکے جس سے وہاں کی صحیح صورتحال سامنے آسکے اورذہنوں میں کسی قسم کی الجھن نہ پیداہوسکے۔اسکے علاوہ اپنی تقسیم سے بچنے کیلئے امریکہ کس طرح اپنی تباہی پاکستان کی طرف منتقل کرنیکی کوشش کررہا ہے اس حوالے رپورٹس اور ماہرین کے تجزیے بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں اس امریکی سازشوں پر روشنی ڈالی گئی ہوں۔ 

اس حوالے سے سب سے پہلے انسانی زندگی کے بنیادی جزو معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ امریکی معاشرہ میں انتشار کی کیاصوزتحال ہیں۔ 

امریکی نظام معاشرت کا زوال 

امریکہ اور یورپ وہ ترقی پذیر ممالک کیلئے ایسے تہذیب یافتہ خطے ہیں جسکے تمدن کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جہاں زندگی گزارنا کروڑوں پاکستانیوں کیلئے ایک ایسا خواب ہے جسے پورا کرنے کیلئے وہ اپنی زندگیوں کو بھی داﺅ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے، جبکہ پاکستان میں موجود مغربی ممالک کے سفارتخانوںمیں ترک وطن کیلئے طویل قطاروں کا نظرآنا ایک معمول کی بات ہے، تاہم ان "مہذب ممالک”کے باطن کی تصویر اسکے شفاف چہرے کے مقابلے میں بالکل بدصورت ہیں۔ 

مغربی دنیا بنیادی طورپر سرمایہ دارانہ نظام معاشرت پر یقین رکھتی ہے، جسے آسان لفظوں میں مادی طرززندگی بھی کہا جاسکتا ہے، یعنی دولت کا حصول وہاں وہاں بسنے والے افراد کامقصد حیات ہیں، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس سے جاری عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میںامریکہ اس وقت افراتفری کے عالم میں ہیں، جبکہ اسکے نتیجے میں پورا سرمایہ دارانہ نظام زمین بوس ہوجانیکے قریب ہےں۔ 

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سماجی ڈھانچہ پانچ طبقات میں منقسم ہیں،کل آبادی کے ایک فیصد پر مشتمل اعلیٰ یا 

Upper Classطبقہ ہے جو اثررسوخ، عزت اورملکی دولت کے ایک تہائی ملکیت رکھتا ہے، اسکے بعد اعلیٰ متوسط طبقہ یا Upper middle classہے،آبادی کا 15فیصدہونیکے ساتھ تمام اعلیٰ پیشہ وارانہ ملازمتوں پر کام کرنیوالا یہ طبقہ ماہانہ لاکھوں ڈالر کمالیتا ہے۔اسکے بعدنچلامتوسط طبقہ ہے، جوآبادی کا بیس فیصد طبقہ ہونیکے ساتھ بنیادی طور پر دکاندار اور درمیانے درجے کی ملازمتوں پر قابض ±رہتا ہے۔پھر 45فیصد مزدور یا ملازمت پیشہ افراد ہے جو کم تعلیم یافتہ ہونیکے باعث بمشکل زندگی کی گاڑی کھینچنے پر مجبور ہیں۔سب سے آخر میں نچلا طبقہ یا غریب افراد جو حکومتی امداد کے بغیرخودکشیوں پر مجبور ہوجائے(2)۔1974 

ءمیں اسٹین فورڈ ریسرچ انسٹیوٹ اور چارلس ایف کیٹرنگ فاﺅنڈیشن کے تعلیمی ادارے نے امریکی معاشرے پر ایک تحقیق "انسان کے بدلتے رخ” کے معروضات کے تناظر میں امریکی معاشرے کا جائزہ لیا تھا(3)۔تحقیق میں امریکہ میں بسنے والے افراد کی بنیادی فطرت میں تبدیلی کا جائزہ لیا گیا تھا، جس سے امریکہ میں جاری موجودہ بحران کے بارے میں جاننے میں کافی مدد ملتی ہے۔تحقیق میں امریکہ کے مستقبل کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے متعدد بحرانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ گلوبلائزیشن(عالمگیریت) اور سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط سے امریکی نظام معاشرت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیگا، جسکے نتیجے میں معاشی اور سیاست کا بنیادی نظام اتنا غیرمنصفانہ ہوکر سماجی بدامنی کا باعث بن جائیگا۔ تحقیق میں واضح طور پر پیشنگوئی کی گئی تھی امریکی معشیت اپنے وزن تلے دب کر خودکشی کی طرف مائل ہیں، جسکے نتیجے میں ہولناک سماجی بحران پیداہوگا جو فسادات اور انقلابات کی شکل میں ڈھل کر ریاست کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیگا(واضح رہے کہ اس وقت امریکہ میں موجودہ معاشی بحران کا تصور تک موجود نہیں تھا)۔  

اسی طرح اگست 2008ءمیں ایک سروے جسکا عنوان تھا”امرےکہ کا سیاسی اور معاشرتی نظام کے زوال کا آغاز”جسکے مطابق 70فیصد امریکی عوام کا ماننا ہے کہ امریکہ دنیا میں اپنی عزت اور اہمیت کھو رہا ہے، جبکہ ہر 10میں سے 8امریکیوں (یعنی 80فیصد)کا خیال ہے کہ امریکہ کا نظام تعلیم غیرمعیاری ہوچکا ہے اور نوجوان تعلیم میں دلچسپی سے کترانے لگے ہیں ۔سروے کے مطابق امریکہ میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دنیا میں سب سے زیادہ مایوسی کا شکار ہیں، جس سے نجات کیلئے غلط راہوں کا انتخاب امریکی معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے(4)۔اب چند ایسے شعبوں کا جائزہ لیتے ہیں جو معاشرتی زوال کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ 

تحقیق میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ امریکی معشیت طفیلی سرمایہ دارانہ نظام ہے جس میں مختصر سا طبقہ عام انسانوں کے خون چوس کر اپنی طاقت کو بڑھارہا ہے۔یہ اس مضمون کا مختصر سا حصہ ہے،جس سے امریکہ میں موجودہ سماجی بحران کا تھوڑا سا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔(i) 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ ظلم کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر بے انصافی کی نہیں،تو یہی صورتحال اب امریکی کے نظام انصاف میں بھی نظرآنے لگی ہے، جس میں بدعنوانی کی عنصرسرایت کرتا جارہا ہے۔27فروری 2009ءکو ایک ویب سائٹ 

اسی طرح امریکہ کی جیلوں میں دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ قیدی موجود ہیں، جنکی تعداد بائیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، جن میں پچاس ہزار غیرامریکی ہیں، جو دہشتگردی کے شبہے میں بناکسی عدالتی احکامات کے جیلوں میں قید ہیںاور انھیں کسی قسم کے حقوق بھی حاصل نہیں۔(واضح رہے کہ افراد کو قید کرنے کے حوالے سے امریکہ چین کو ہدف تنقید بناتا رہا ہے)۔رپورٹ کے مطابق امریکی جیلوں میں قید ایک لاکھ افراد بے گناہ ہیں، جبکہ ایسے بے گناہ افراد کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہیں جنھیں حالیہ برسوں کے دوران سزائے موت دی جاچکی ہیں۔ 

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گونتاموبے یا عراق کی ابوغریب جیل کی طرح امریکہ کی اپنی جیلوں میں بھی تشدد عام ہیں، اور اس سے بڑھکر وکلاءاور یہاں کے جج بھی عوام کو غیرقانونی طور پر جیل بھیجنے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔(اس رپورٹ کوامریکہ میں بین کردیا گیا ہے 

نظام انصاف http://www.globleresearch.caمیں شائع ہونیوالے ایک کالم کے مطابق امریکہ کا نظام عدالت دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں سب غیرمنصفانہ، خطرناک اور بددیانت ہیں، قانونی بدعنوانی نے امریکہ کو کمبل کی ڈھانپ لیا ہے۔ویب سائٹ کے مطابق امریکہ کے نظام قانون میں بدعنوانی ایک مصدقہ حقیقت ہے جسے امریکہ کے میڈیا نے اچھی طرح چھپاکررکھا ہوا ہے۔)اسی حوالے سے نیویارک ٹائمز میں دسمبر2007ءمیں رالف نیڈار نے اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ امریکی آئین کے مطابق ہزاروں افراد کو قانونی چارہ جوئی کے بغیرقید رکھنا اور انھیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ناقابل معافی جرم ہے، تاہم اس وقت امریکہ میں جاسوس اور اس جسیے دیگر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر بہت سے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، مگرابھی تک اسکے خلاف کہیں سے بھی کوئی مﺅثر آواز سامنے نہیں آئی۔گنتی کے چند وکلاءاور اساتذہ کو نکال کر آٹھ لاکھ سے زائد وکلاءاپنے کاموں میں یوں مصروف ہیں، جیسے یہ معمولی سی بات ہوں۔ امریکی حکومت کی جانب سے امریکی آئین کی کھلی خلاف ورزی کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔انھوں نے امریکی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ دس فیصد طبقے کے مفادات پر بنائے گئے قوانین نے نوے فیصد عوام کی آزادی اور حقوق چھین لئے ہیں۔ 

(ii) 

اگر آپ امریکہ کے دورے پر جائے اور وہاں کے شہریوں سے گفتگو کریں تو آپ پر تھوڑی دیر میں ایک انکشاف ہوجائیگا کہ امریکی شہری اپنے گھروں سے باہر چہل قدمی یہاں تک کے اپنے گھر کے باہر بھی اکیلے گھومنے سے خوفزدہ ہیں۔انکے اس خوف کی وجہ گلیوں میں لوٹ مار اور قتل و غارت کا طوفان ہیں جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق امریکہ کے شہروں میں اوسطاً ہر بائیس منٹ میں کسی فرد کا قتل ہوجاتا ہے، ہر پانچ منٹ میں ایک آبروریزی کی واردات ہوتی ہے تو ایک ڈکیتی 49سیکنڈ بعد رپورٹ ہوتی ہیں، جبکہ چوریوں کی شرح تو ہر دس سکینڈ کی ہے۔محکمہ انصاف کے ہی مطابق ہر برس جرائم کے باعث امریکہ کو 675ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے،جس میں جانی نقصان یا ذہنی صدمے کا کوئی حساب شامل نہیں۔ 

فیڈرل انویسٹی گیشن بیورو 

انکے مطابق ماہانہ پانچ لاکھ ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی ہیں، جن میں سے ڈھائی لاکھ کی رپورٹ پولیس کے درج کرائی جاتی ہے، جس میں سے صرف 30ہزار مجرم پکڑے جاتے ہیں،تاہم عدالتی کارروائیوں کے دوران 24ہزار رہا ہوجاتے ہیں اور صرف چھ ہزار کو سزا دیکر جیل بھیجا جاتا ہے، جنکو زیادہ سے زیادہ تیرہ ماہ کی سزا ہوتی ہیں۔ تو اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مجرموں کو جب سزا کا ڈر ہی نہیں تو معاشرے میں جرائم کی شرح اور سماجی ابتری میں اضافہ تو ہونا ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی شہری اپنے گھر سے باہر نکلنے سے خوفزدہ ہے۔ 

جرائم (F.B.I) کے مطابق 2007ءمیں 16929قتل کی وارداتیں ہوئی جبکہ ہر قسم کی جرائم کی وارداتوں کو ملا کر ایک کروڑ پچیس لاکھ کیسوں کا اندراج پولیس نے کیا(واضح رہے کہ ہزاروں کیس ایسے ہوتے ہیں جنکے متاثرین پولیس کے پاس جاتے بھی نہیں)۔ اس میں زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بے گناہوں سے تو امریکی جیلیں بھری ہوئی ہیں لیکن مجرم آزاد گھوم رہے ہیں، اگر پکڑے بھی جاتے ہیں تو ناقص عدالتی نظام کے باعث بہت کم تعداد میں مجرموں کو سزا ملتی ہیں۔مثلاً ٹیکساس یونیورسٹی کے پروفیسر مورگن رینالڈ نے ڈکیتی کے ملزمان کو دی جانیوالی سزاﺅں کے اعدادوشمار کا ایک چارٹ مرتب کیا جو کہ کچھ اس طرح کا ہے۔(iii) 

تعلیمی میدان امریکہ کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں لاکھ جانبداری کے باوجود یہ ماننا پڑتا ہے کہ امریکہ کودنیا کی واحد سپرپاور بننے کی سب سے بڑی وجہ اسکا بہترین تعلیمی نظام خاص طور پر سائنس میں تحقیق کے اعتبار سے امریکہ اس وقت دنیا میں سب سے آگے ہیں، لیکن گزشتہ چالیس کے دوران امریکہ کا نظام تعلیم تیزی سے تنزلی کا شکار ہوا ہے جسکی وجہ تعلیمی اداروں کی جانب سے سرکاری فنڈز کے حصول کیلئے بچوں پر نصاب کا بوجھ بڑھانا ہے جس سے طالبعلموں کے خیالات میں جو تبدیلی آئی ہے اسکی ایک جھلک آپ اس جملے میں دیکھ سکتے ہیں”اسکول ایک بیزارکن مقام ہے، ماسوائے کسی دوست سے ملنا ہوں یا کسی کھیل میں حصہ لینا ہوں”۔ 

ایک غیرسرکاری تنظیم 

تعلیم و صحت NHSDAکی 2003ءمیں جاری ہونیوالی رپورٹ کے مطابق 12سے 17کی عمر 18فیصد طلبہ و طالبات منشیات کے استعمال کی وجہ سے اپنے تعلیمی اداروں میں جانا پسند کرتے ہیں، 32فیصد کو اسکول جانے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں جبکہ 47فیصد طالبعلموں کے منفی رویے کی شکایات انکے والدین کے پاس بھیجی گئی۔امریکہ کے محکمہ تعلیم کے مطابق 2002-03کے دوران 15سے 17سال کی عمر کے چالیس فیصد طالبعلم اپنی تعلیم مکمل کئے بغیرہی تعلیمی اداروں کو چھوڑ کرچلے گئے تھے۔ امریکی والدین کو ایک شکایت یہ بھی ہیں کہ تعلیمی اداروں کو سالانہ 25ہزار ڈالر ادا کرنے کے باوجود انکے بچے تعلیمی لحاظ سے کمزور ہیں، جبکہ وہ تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال کرنے کیساتھ ساتھ غیرقانونی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ 

  

یہاں یہ واضح رہے کہ دنیا میں کسی بھی قوم کی ترقی اسکی نوجوان نسل کی بہترین تعلیم و تریبت پر ہی انحصار کرتی ہے، لہذا تعلیم سے عدم دلچسپی کی بناءباآسانی پیشنگوئی کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں امریکہ کیلئے اپنی سپرپاور کی حیثیت برقرار رکھنا ناممکن ہوجائیگا، جسکے بعد قدرت کے اصول کے مطابق کوئی اور تعلیمی اعتبار سے مضبوط ملک اس کی جگہ لے لیں گا۔ 

نومنتخب پہلے سیاہ فام امریکی صدر باراک حسین اوبامہ نے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران امریکی عوام کو صحت عامہ کے شعبے میں نئی اصلاحات کرنیکا وعدہ کیا تھا، جسکے تحت ساڑھے چار کروڑصحت کی بنیادی سہولیات اور ہیلتھ انشورنس سے محروم شہریوں تک طبی سہولیات پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ 

امریکی روزنامے نیویارکر کے مطابق امریکہ کے حالیہ معاشی بحران کے نتیجے میں دیوالیہ ہوجانیوالے افراد کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہیں جو صحت عامہ کے بہت مہنگے مگر غیرمﺅثر نظام کے ہونیکے باعث ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں رکھتے ،اسی باعث وہ اپنے طبی معائنے کے مہنگے بل ادا نہ کرپانے پر دیوالیہ ہوگئے ہیں(5)۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ جن افراد کے پاس ہیلتھ انشورنس موجود نہیں ہسپتالوں یا طبی مراکز میں انکے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ نیویارکر کے مطابق بغیربیمہ شدہ افراد کو سرجری، ایکس رے یا طبی مشاورت کی سہولت بہت مشکل سے فراہم کی جاتی ہے،اور ایسے افراد میں شرح اموات بیمہ شدہ افراد کے مقابلے میں پچیس فیصد زیادہ ہیں۔اخبار بتاتا ہے کہ اوسطاً ہر امریکی حکومت عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنیکی مد میں سالانہ چارسو ارب ڈالر صرف کرتی ہیں، لیکن اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود امریکی علاج سے محروم کیوں؟ اخبار کے مطابق امریکہ میں یورپی ممالک کے مقابلے میں کم ڈاکٹر ہیں،جبکہ اہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی شرح بھی مغربی ممالک کے مقابلے میں کم ہیں اسکے باوجود امریکی عوام طبی سہولیات سے مطمئن نہیں۔اخبار بتاتا ہے کہ امریکہ میں بچوں کی شرح اموات دیگر صنعتی ممالک کے مقابلے میں 19فیصد زیادہ ہیں،جسکی وجہ اخبار ہرشہری کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کرنا 

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی یونیورسٹیوں میں پچاس فیصد سے زائد تعداد غیرملکی طلبہ کی ہے جو فارغ التحصیل ہوکر اپنے اپنے ممالک چلے جاتے ہیں،جبکہ ایک طرف جہاں امریکی نوجوان نسل کی تعلیم سے دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے وہی تعلیمی اخراجات میں اضافہ ہونہارطلباءکیلئے سب سے بڑا مسئلہ بناہوا ہے۔امریکی تعلیمی میں تعلیم کا خرچہ زیادہ تر ٹیکسوں سے اور بقیہ حکومتی خزانے سے ادا کیا جاتا ہے، اسی لئے امیر علاقوں اور غیریب علاقوں کی تعلیم میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔سابقہ فیڈرل ریزرو بورڈ کے چیئرمین ایلن گرین سپین کے مطابق یہ فرقی بالآخر پورے نظام تعلیم کو زمین بوس کردیگا۔  

امریکی ٹی وی چینیل سی این این نے اکیس اکتوبر 2008ءکواپنے سروے میں انکشاف کیا تھا کہ اقتصادی بحران اور دوسرے ممالک پر جنگیں مسلط کرنے کے نتیجے میں 75فیصد امریکی شہریوں کوذہنی دباﺅاور اشتعال کا شکار کردیا ہے۔سی این این کے ماہرین کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد کا خوف میں مبتلا ہونیکا اعتراف انتہائی خطرناک علامت ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ ملکی معاملات کس قدر خراب ہوچکے ہیں۔ 

عسکری شعبے و یبرون ملک جارحیت اور سازشیں 

سوویت یونین(روس) دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی دوسب سے بڑی عالمی طاقتوں میں سے ایک جواب درس عبرت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ سوویت یونین جب تک جارحیت سے گریز کرتا رہا تومعاشی لحاظ سے مضبوط رہا جب اس نے افغانستان میں توسیع پسندانہ پالیسیوں کی راہ اپنائی توپھر معاشی اور فوجی لحاظ سے دنیا کی دوسری سپرپاور کا شیرازہ بکھر گیا۔اب امریکہ کی افغانستان اور عراق پر جارحیت سے نہ صرف اسکی معشیت تباہی کی طرف گامزن ہوچکی ہیں بلکہ اسکے اثرات چاردرجن سے زائد امریکی ریاستوں پر بھی مرتب ہونگے اور اسکے بھی ٹوٹنے کا آثار پیدا ہوچکے ہیں، یہ میری اپنی آراءنہیں بلکہ امریکی دانشوروں کا ماننا ہے جسکی تفصیلات دیکھ کر آپ صورتحال کا بخوبی اندازہ لگاسکے گے۔ 

امریکہ کے ممتاز مورخ ہاور ڈڈزئن نے الجزیرہ ٹی وی کو2006ءمیں دیئے گئے انٹرویومیں اس سچائی کوتسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکمرانوں نے ملک کوناقص پالیسیوں کی راہ پر ڈال دیا ہے جسکا نتیجہ صرف تباہی کی شکل میں نکلے گا۔ انکا کہنا تھا کہ امریکی جارحیت کے نتیجے میں ملکی عزت ووقار خاک میں مل چکا ہے۔ انسانی وسائل کی زبردست قلت پیداہوگئی ہے جبکہ امریکی نوجوانوں کوزبردستی فوجی محاذوں پر بھیجا ہے جس سے عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ تباہی ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے،اگر امریکی حکومت نے اپنا جنگی جنون ختم نہ کیا توہمارا وجود برقرار نہ رہ سکے گا۔ 

یہ توخیر تمہید تھی اب پہلے جائزہ لیتے ہیں امریکہ کی فوجی طاقت کا اور عراق وافغانستان پر اسکی جارحی سے فوج پر پڑنے والے اثرات کاجسکے بعد پھر چند دانشوروں اور دیگر ممالک کے ماہرین کی آراءکا جائزہ لیں گے۔امریکی مسلح افواج کومحکمہ دفاع پینٹاگون سنبھالتا ہے جوکہ بری، بحری،فضائی اور میرین کارپس پر مشتمل ہے۔امریکی فوج میں مجموعی طور پر 14لاکھ افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ کئی لاکھ افراد ریزرواور نیشنل گارڈز کی صورت میں موجود ہیں۔ امریکہ کی افواج دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج ہے جسکا بجٹ بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔واضح رہے کہ 2008ءمیں امریکہ کا فوجی بجٹ پوری دنیا کے 14بڑے ممالک کے فوجی بجٹ سے بھی زیادہ تھا،جبکہ مجموعی طور پر دنیا بھر کے ممالک کا فوجی بجٹ 1400ارب ڈالر کے قریب تھا جس میں امریکہ کا حصہ 710ارب ڈالر تھا یعنی پچاس فیصد سے بھی زائد، دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی کل ملکی آمدنی کا چار فیصد فوجی اخراجات پر صرف کیا جاتا ہے۔ 

انٹارکٹیکا کے سوا دنیا کے ہر براعظم میں اسکے فوجی مراکز موجود ہیں۔جس طرح ہر طاقتور ملک کویقین ہوتاہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر دیگرممالک کواپنا مطیع بناسکتا ہے اسی طرح امریکہ کو بھی یہ زعم ہے اور آج کل اس نے جنگ کے دوباقاعدہ محاذ جبکہ متعدد ممالک میں بے ضابطہ محاذ جنگ کھول رکھے ہیں، جسکے باعث اسکی افواج کومتعدد مسائل کا سامنا ہے۔مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق اور افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ وہ نشہ آور ادویات کے بھی تیزی سے عادی ہوتے جارہے ہیں۔وہ اپنے ملک کی جنگ کوحق کی جنگ نہیں سمجھتے اور اسی وجہ سے تفسیاتی مسائل کے شکار ہیں۔انکے ہاتھوں معصوم بچوں اور خواتین کی مسلسل ہلاکتوں نے انکا ذہنی سکون چھین کررکھ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج کی ذہنی صحت پر تحقیق کرنیوالی ٹیم کے اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں کہ عراق میں متعین فوجی دستوں میں 27فیصد اور افغانستان میں 17فیصد فوجی خواب آور ادویات کے عادی ہوگئے ہیں۔خاص طور پر امریکی بری فوج کے 20ہزار دستے سکون آور ادویات پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ 

پینٹاگون کے ایک سروے کے مطابق جنگی علاقوں میں موجود تقریباً تمام فوجی ذہنی کھنچاﺅ کا شکار ہوجاتے ہیں، جن میں سے 20فیصد ایک بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں جسے فوجی اصطلاح میں عارضی تناﺅکے زخم 

خودکشیوں سے ہٹ کر بھی عراق وافغانستان میں جاری جنگ کے دوران اب تک 4917امریکی مارے جاچکے ہیں(6)۔ 

اسی طرح عراق وافغانستان میں تعینات کم از کم 15فیصدامریکی فوجی خواتین بڑی تعداد میں جنسی تشدد کا شکار ہونیکے باعث شدید ڈپریشن سمیت دیگر سنگین جنسی وذہنی بیماریوں اور اعصابی معذریوں کا شکار ہوجاتی ہے۔یہ انکشاف 31اکتوبر 2008ءکوامریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم امریکہ کے قومی ادارے برائے پوسٹ ٹراما اسٹریس ڈس آرڈر کی ماہر ڈاکٹر ریچل کیمرلنگ کے تھے۔ادارے میںکام کرنیوالے ماہرین کے مطابق عراق وافغانستان میں خدمات انجام دیکر واپس آنیوالی خواتین اپنے ساتھی مرد ساتھیوں کے بدترین جنسی تشددکا نشانہ بنی ہیں،انکا کہنا تا کہ اگر ان خواتین نے اپنا علاج معالجہ نہ کروایا تووہ عبرتناک طریقے سے موت کا شکار ہوجائیں گی۔ 

عراق پر حملہ امریکہ نے مبینہ مہلک ہتھیاروں کی تیاری کا بہانہ بناکر کیا جو2003ءمیں امریکی قبضے کے باوجود اب تک برآمد نہیں کئے جاسکے،اپنی اس غلط بیانی پر جودس لاکھ سے زائد عراقی شہریوں کی ہلاکت اور لاکھوں کے معذور ہونیکا سبب بن گئی اس پرسابق صدر جارج بش اور انکی انتظامیہ شرمندہ تک نہیں، کیونکہ انکا اصل ہدف توعراقی تیل پر قبضہ کرنا تھا،اسی طرح افغانستان پر حملے کا اصل ہدف وہاں اپنے فوجی ٹھکانے قائم کرکے چین اور روس کی نگرانی ہے۔ 

بتاتا ہے، جسکے باعث امریکی عوام مہنگا علاج نہ کروانے کو ترجیح دیتے ہوتے ہوئے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔نیویارکر کے مطابق امریکی حکومت کی صحت پالیسی بنیادی طور پر اعلیٰ ترین طبقے اور ہسپتالوں کے مالکان کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے، جنکے منافع کو غریب یا متوسط طبقے کی زندگیوں کے مقابلے میں اولین ترجیح دی گئی ہے۔ (Temporary Stress Injries) کا جاتا ہے، جن میں سے دس فیصدفوجی کبھی اپنی معمول کی زندگی کی حالت میں نہیں آسکے گے۔عراق اور افغانستان میں جنگوں کے آغاز سے 2007ءتک 164فوجی خودکشی کرچکے تھے، جبکہ گزشتہ سال اس شرح میں دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس دوران کم از کم 120فوجیوں نے خود اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیا یہ وہ تعداد ہے جوریکارڈ میں آگئی امکانات اس بات کے بھی ہے کہ بہت بڑی تعداد میں خودکشیوں کی اطلاعات کوفوج نے باہر ہی نہ جانے دیا ہوں۔ عراق وافغانستان کی جنگوں میں امریکہ کی ہار یا جیت کا فیصلہ تووقت کریں گا تاہم امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی اب اعتراف کرلیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے اور افغانستان کے حالات عراق سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ایک انٹرویومیں باراک اوبامہ نے امکان ظاہر کیا تھا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل کے تحت طالبان کے معتدل عناصر سے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔جبکہ اس سے قبل انھوں نے عراق سے بھی فوجی انخلاءکا اعلان کرتے ہوئے 2011ءتک عراق سے امریکی افواج کوواپس بلانے کا اعلان کیا تھاتاکہ مزید فوجی افغانستان بھیجے جاسکے جوکہ انکے منشور میں سرفہرست ترجیح ہیں(7)۔ 

اسکے علاوہ امریکی فوج کی حوصلہ شکنی میں اہم ترین کردار نجی فوج یا پرائیویٹ ملٹری کے تصور نے بھی کیا ہے، جسکے تحت عراق وافغانستان میں امریکی حکومت نے مہنگے ترین داموں میں اپنے اعلیٰ عہدیداروں کی حفاظت کیلئے بلیک واٹرورلڈ وائیڈ نامی نجی فوج کی خدمات حاصل کررکھی ہے،جسے دنیا کی سب سے بڑی نجی فوجی کمپنی ہے کی 90فیصد آمدنی امریکی حکومت سے کئے گئے سکیورٹی معاہدوں کی بدولت ہورہی ہے، 2001ءکے بعد سے اب تک اس کمپنی کوبش انتظامیہ کی جانب سے ایک کھرب ڈالر سے بھی زائد کے معاہدے مل چکے ہیں، جبکہ اسکا ایک گارڈ امریکی حکومت کوساڑھے چار لاکھ ڈالر سالانہ کا پڑتا ہے جوکہ ایک امریکی فوجی کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔ جسکے باعث عام فوجیوں میں بددلی کی کیفیت کے باعث اقدام خودکشی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے(8)۔ 

غرض امریکی حکومت کے جنگی جنون نے اسے دنیا کی ناپسندیدہ قوم بنادیا ہے جبکہ امریکی افواج کوناپسندیدہ فوج،یہی وجہ ہے کہ فوجیوں میں بے چینی اضافہ ہوا ہے۔ان ہی مسائل کی وجہ سے امریکی نوجوانوں میں فوج میں نہ جانے کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان میں فوج کا حصہ نہ بننے کی خواہش بہت زیادہ ہے لہذا اسکا نتیجہ آنیوالے وقت میں فوجی نفری میں کمی کی صورت میں نکلے گا اور ملکی طاقت میں کمی واقع ہوگی،جس سے جکارکردگی متاثر ہونیکے ساتھ ساتھ ملک بھی متاثر ہوگا اور مملکت کی ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہوگا۔ 

معاشی نظام ومتعلقہ شعبے 

فوجی قوت کیساتھ ساتھ اقتصادی ومعاشی حالت بھی قوموں کے عروج وزوال کا سبب بنتی ہے، اگر امریکہ تقسیم ہوکر مختلف ریاستوں میں بٹ جاتا ہے تواسکی سب سے بڑی وجہ وہاں جاری بدترین معاشی بحران ہی ثابت ہوگا جس سے بچنے کیلئے عوام دیگر ممالک کی نوآبادیاں بننا بڑے شوق سے پسند کرینگے۔ 

امریکہ وہ ملک ہے، جس نے آزاد منڈی کی تجارت کو فروغ دیا ، جسے اب مارکیٹ اکانومی یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کی معشیت بھی کہا جاسکتا ہے، موجودہ عہد کی واحد”سپرپاور”کی معشیت فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی معشیت ہے، جسکی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار 

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے بعد 2002ءسے 2006ءتک 99فیصد امریکیوں کی سالانہ آمدنی میں ایک فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سارا فائدہ ملک کی مجموعی آبادی کے ایک فیصد حصے خاص طور پر اسلحہ ساز اداروں اور دفاعی امور سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کو ہواہے ،جن کی سالانہ آمدن میں گیارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

اسی طرح 2002ءکے بعد سے امریکہ میں بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو جولائی فروری 2009ءمیں 8.1 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی ادارے برائے محنت کے مطابق صرف فروری میں 60ہزارسے زائد امریکیوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں(9)۔ 

عراق اور افغانستان میں جاری کارروائیوں اور وہاں تعینات امریکی افواج کے علاوہ ملکی طور پر صحت اور فلاح کے کاموں پر ہونیوالے روزانہ کی بنیادوں پر اربوں ڈالر کے ماہانہ اخراجات نے امریکی معشیت کو ہلا کررکھ دیا ہے۔جبکہ مجموعی طور پر ان جنگوں میں 30کھرب ڈالرکے اخراجات کئے جاچکے ہیں، دیگر اخراجات کا تو کوئی حساب نہیں ہے، ان اخراجات کے باعث امریکی حکومت کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور "عظیم امریکہ”اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے،جہاںامریکی وزارت خزانہ کے مطابق جنگی ودیگراخراجات پورا کرنے کیلئے روزانہ دوارب ڈالر مختلف عالمی اداروں سے بطورقرض حاصل کئے جارہے ہیں۔صرف2008ءکے دوران ہی 10کھرب ڈالر سے زائد کے قرضے لئے گئے تھے(10)۔ 

(G.D.P) امریکی حکومت کے مطابق سالانہ 14کھرب ڈالر سے زائد ہے۔لیکن اس عالمی طاقت کا معاشی جہاز تیزی سے ڈوبتا چلاجارہا ہے۔اورامریکی معشیت موجودہ دہائی کی بدترین مندی میں مبتلاہے، صرف 2008ءمیں ہی 484ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہوا،جسکی وجوہات میں افراط زر، ہاﺅسنگ قرضوں کی مارکیٹ میں شدید بحران، تیل کی بلند قیمتیں اور سرمایہ کاروں کا متزلزل اعتماد ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی معشیت کے کساد بازا ری میں چلے جانے کا خدشہ موجود ہے۔2008 

اسی طرح تیل یا ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار خود امریکہ کی طرف سے عراق و افغانستان پر حملہ ہے، افغانستان 2002ءاور 

ءمیں پہلی بار امریکہ میں افراط زریا مہنگائی کی شرح 5فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے، جسکے باعث امریکی شہریوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے ، جس پر سارا امریکہ چیخ رہاہے، اس میں امیر اور غریب دونوں شامل ہیں۔  

اسکے علاوہ جوچیز امریکی معشیت کوتباہی کی طرف لیکر جارہی ہے وہ بدعنوانی اور اقربا پروری ہے۔دسمبر 2008ءمیں امریکی جریدے ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کھل کر بتایا گیا تھا کہ جارج بش انتظامیہ نے صرف 2008ءکے دوران عراق کی تعمیر نوکیلئے مختص کئے گئے 170ارب ڈالر سے بدعنوانی، اقربا پروری، نااہلی اور کھلے عام چوری کے ذریعے امریکی عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی کوخرچ کیا ہے۔ 

عراق 2003-04ءپر حملے کے وقت تیل بیس سے تیس ڈالرفی بیرل کے قریب تھا، جسکی قیمتوں میں جب سے جو اضافہ ہوا وہ پھر کم نہیں ہوسکا۔ اندرونی طور پر امریکی معشیت کو چین کی ابھرتی ہوئی معشیت سے بھی خطرہ لاحق ہوچکاہے، جو آہستہ آہستہ امریکی برآمدی منڈیوں پر قبضہ کرتا چلاجارہا ہے،جبکہ امریکہ کی معشیت کا انحصار چین کی سرمایہ کاری پر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اشتراکی نظام کو چھوڑ کر سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھ رہاہے، اور اس نظام کے خالق کی معشیت کو خود اپنی تخلیق کی وجہ سے زوال کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت امریکی معشیت دباﺅ کا شکار ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہاںطبقاتی تقسیم کا فرق واضح نظرآنے لگا ہے،بیروزگاری میں اضافے کے نتیجے میںجرائم کی شرح میں سوفیصداضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

اس وقت ہر پچاس میں سے ایک امریکی بچہ بے گھر ہیں(11)۔ایسوسی ایٹیڈ پریس کی یہ رپورٹ امریکہ کے قومی مرکزبرائے بے گھرافراد کے اعدادوشمار پر مرتب کی گئی ہے،جس میں 2005-06کے دیئے گئے اعدادوشمارکے مطابق پندرہ لاکھ بچے بے گھر ہیں،اور اب اس مسئلے میں بیروزگاری میں اضافے اور معاشی بحران میں شدت کی وجہ سے مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ 

اب یہ توواضح ہے کہ جب بڑی تعداد میں بچے بے گھر ہوگے تومستقبل میں جرائم کی شرح میں کتنا اضافہ ہوسکتا ہے؟یہ وہ معاشی منظرنامہ ہے جسکے باعث یہ امر یقینی ہے کہ جلد ہی امریکی عوام اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ عوامی حقوق کی یہ جنگ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرکے امریکہ کوکئی ٹکڑوں میں تقسیم کرسکتی ہے۔امریکی حکمران بھی اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں۔غیرتصدیق شدہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2008ءکے دوران امریکی حکومت کی جانب سے بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل ایسا دستہ بنایا گیا ہے جنھیں شہریوں کی جانب سے ممکنہ خانہ جنگی سے نمٹنے کیلئے آئندہ تین سال تک تربیت دی جائیگی۔ 

مذہبی واخلاقی نظام 

امریکہ ایک کثیرالنسلی ملک ہے جہاں کی تیس کروڑ کی مجموعی آبادی میں سے 78.5فیصدعیسائی مذہب کے دوبڑے فرقوں میں تقسیم ہیں، یعنی51فیصد سے زائد پروٹیسٹنٹ اور 24فیصد کے قریب رومن کیتھولک ہیں،جبکہ دیگر مسلم، یہودی ،بدھ،ہندﺅبرادریوں کیساتھ پندرہ فیصد آبادی لامذہب افراد پر مشتمل ہیں(12)۔ 

یہ توایک بنیادی معلومات تھی تاہم مذہبی اعتبار سے امریکی عوام خاص طور پر عیسائی المذہب دنیا میں سب سے کم معلومات رکھنے والے افراد ہیں۔موقر امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دوتہائی عوام یا 75فیصد بالغ افراد کومذہب کی ابتدائی معلومات تک حاصل نہیں۔روزنامے کے مطابق زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ عیسائی اکثریت اپنے مذہب کے مقابلے میں اسلام، بدھ مت یا ہندﺅمت کی تعلیمات سے زیادہ آگاہی رکھتے ہیں،یہاں تک کہ حکمران جماعتیں بھی مذہبی اقدار کے فروغ میں دلچسپی نہیں لیتے کیونکہ انکے خیال میں مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے جوشہریوں کی اپنی پسند سے تعلق رکھتا ہے(13)۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ادارہ مردم شماری کے مطابق 1991ءسے 2001ءکے دوران مجموعی عیسائی آبادی 88فیصد سے کم ہوکر 78فیصد تک آگئی ہے، جبکہ دومذاہب میں تیزترین اضافہ دیکھنے میں آیا، جسکے مطابق بدھ افراد 0.2سے بڑھکر 0.5جبکہ مسلمان 0.3 سے بڑھکر 0.6تک جاپہنچے ہیں(واضح رہے کہ یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں) مختلف غیرسرکاری تنظیموں کے مطابق اسلام امریکہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے جسکی آبادی 2001ءمیں صرف گیارہ لاکھ افراد پر مشتمل تھی مگر امریکی جریدے نیوزویک کے مطابق صرف سات سال کے مختصر عرصے میں مسلمانوں کی تعداد 70سے 80لاکھ تک جاپہنچی ہے،(ان میں عراق یا افغانستان سے نقل مکانی کرکے آنیوالے افراد شامل نہیںجن کوملاکر مجموعی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہوجاتی ہے)۔اقوام متحدہ کے مطابق امریکہ میں اسلام کرنیوالوں کی تعداد میں سالانہ 25فیصد اضافہ ہورہا ہے اور اگر یہی رفتار جاری رہی تو2025ءتک اسلام امریکہ کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر 2011ءکے واقعے کے بعد امریکی حکمرانوں کی جانب سے اسلام کیخلاف پروپگینڈے کے نتیجے میں امریکی عوام کی زیادہ بڑی تعداد اسلام کے بارے میں جاننے کیلئے کوشاں ہوئی اور نامعلوم تعداد میں امریکی مسلمان ہوئے ہیں۔ 

اخلاقی نظام 

2007 

بنیادی طور پر یہ کتاب کاروباری اداروں کی ذہنیت پر لکھی گئی تھی لیکن اسکا اطلاق معاشرے پر بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ مادہ پرست معاشرہ ہونیکے باعث حالیہ معاشی بحران کے نتیجے میں امریکی معاشرے میں موجود تمام خامیاں کھول کر سامنے آگئی۔ معاشی بحران کے باعث امریکہ میں لاکھوں افراد بیروزگار ہوچکے ہیں اور انکی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،جسکے نتیجے میں ذہنی صحت سے متعلق تنظیموں کا کہنا ہے کہ بیروزگاری سے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور خودکشیوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے(14)۔ 

ءمیں Marianne Jenningنامی مصنف کی ایک کتاب شائع ہوئی جس میں امریکی معاشرے میں ایسی سات نشانیاں بتائی گئی جوانکے اخلاقی زوال کا سبب بن رہی تھی، جن میں نمبر ایک اپنی پوزیشن کوبرقرار رکھنے کا دباﺅ(مالی یا کسی بھی طرح کی)، نمبر دوخوف اورخاموشی،نمبر تین ہر وقت نمایاں رہنے کی خواہش، نمبرچار کمزور تعلیمی نظام، نمبر پانچ ہر قیمت پر اپنے مفادات کا تحفظ یا خودغرضی، نمبر چھ دوسروں سے منفرد نظر آنے کیلئے جائز وناجائز ہر اقدام کیلئے تیار رہنا اور کسی پر بھی اعتبار نہ ہونا۔ اسی طرح معاشی بحران کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اسکا آغاز گھروں پر قرضے فراہم کرنے پر ہوا اورگزشتہ دس بارہ سال کے دوران مکانوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی تھی ۔اس دوران ایسے افراد کوبھی قرضے فراہم کئے گئے جوقسطیں باقاعدگی سے بھرنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے،اب بحران کے بعد ایسے افراد اور دیگر لاکھوں افراد کے گھر بینک نیلام کررہے ہیں، جس سے بے گھر افراد کی تعداد کیساتھ ساتھ معاشی عدم تحفظ کے احساس سے جرائم خاص طور پرمایوسی کی حالت میں بالغ افراد سے لیکر نوعمر طالبعلم تک بلا وجہ قتل وغارت اور جرائم پیشہ گروہوں سے ناتہ جوڑ رہے ہیں جبکہ دھوکہ دہی کی وارداتوں میں کئی گنااضافہ ہوا ہے(تاہم سرکاری طور پر ابھی تک اس سے متعلق اعدادوشمار نہیں دیئے گئے)۔ 

اسی طرح 80 سے زائد امریکی شہری روزانہ فائرنگ کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں،جنکی مجموعی تعداد کوجمع کیا جائے تویہ سالانہ 29200بنتی ہے(اوریہ صرف وہ لوگ ہے جو چھوٹے ہتھیاروں کا نشانہ بن جاتے ہیں) جس میں 5سے 19سال کے طالبعلموں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار کے لگ بھگ ہوتی ہیں، یعنی انکے مطابق قتل ہونیوالا ہر چوتھا فرد ایک بچہ یا نوجوان ہوتا ہے(15)۔جبکہ متعدد ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں بلاوجہ امریکی شہری اپنے ساتھیوں یا اجنبیوں کوفائرنگ کرکے ہلاک کرکے خودکشی کرلیتے ہیں۔ 

زنا کی مکمل آزادی اور ذہنی سکون کیلئے منشیات کے اضافے کے نتیجے میں جہاں امریکہ کا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہا ہے وہی ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا افراد کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔اس وقت امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد سرکاری اعدادوشمارکے مطابق بیس لاکھ کے لگ بھگ ہیں جس میںسے ہرسال پندرہ سے بیس ہزار افراد ہلاک ہوجاتے ہیںجبکہ سالانہ تیس سے چالیس ہزار نئے مریضوںکاالگ ہورہاہے۔ 

اخلاقی زوال کا ایک اور ثبوت نوعمر لڑکیوں میں اولاد ہونیکی شرح میںگزشتہ دوسال کے دوران ہونیوالا اضافہ ہے۔ 2005ءسے 2008ءکے دوران 15سے 19سال کی ہرایک ہزار لڑکیوں میں سے 43کے ہاںایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے جبکہ کسی بھی عمر کی غیرشادی شدہ خواتین میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں 2007ءکے دوران 39.7فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جومجموعی طور پر17لاکھ سے زائدبچوں کی پیدائش بنتاہے(16)۔واضح رہے کہ یہ تعداداسقاط حمل کرانیوالی 15سے 44سال کی ساڑھے بارہ لاکھ خواتین کی تعداد سے ہٹ کر ہے(اسقاط حمل کے اعدادوشمار 2005ءکے ہے جنکے مطابق 82فیصد غیرشادی شدہ خواتین اسقاط کے عمل سے گزر چکی ہےں)۔ 

یہ بات توواضح ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مذہبی واخلاقی قدروں کومضبوط کرکے ہی ایک متحد وطاقتور قوم کی شکل میں ڈھل سکتا ہے مگر امریکہ جس تیزی سے اخلاقی ومذہبی اعتباز سے زوال آرہا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ انتشار کی راہ بھی تیزی سے دوڑرہا ہے۔ 

نسلی تعصب (سیاہ وسفیدفام 

)امریکہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے جہاں سفیدفام اور سیاہ فام افراد کی تفریق بھی دلوں میں بڑی گہری ہے اور ہر ریاست میں میں گورے اور کالے افراد کے گروپس میں تضادات بڑھتے جارہے ہیں۔یہاں یہ واضح رہے کہ سیاہ فام افراد کوبرطانوی راج میں غلامی کیلئے افریقہ سے امریکہ لایا گیا تھا۔1860ءسے 1864ءکے دوران صدر ابراہم لنکن کے دور میں غلامی کیخلاف قانون تومنظور ہوگیا تاہم 1960ءتک دونوں گروہوں کے اسکول، بسیں یہاں تک کے ہسپتال تک الگ الگ تھے اب کچھ بہتری توآئی ہیں مگر دلوں کی گرہیں اب تک نہیں کھل سکی ہیں۔ 

20 

جنوری 2009ءکو امریکہ کے پہلے سیاہ فام شخص نے عہدہ صدارت سنبھالا تاہم اس سے صرف دوروز قبل یعنی 18جنوری کوخبررساں ادارے رائٹرزکے چشم کشا اعدادوشمار سے ثابت ہوجاتا ہے کہ امریکہ میں نسلی امتیاز ابھی تک اپنی جڑیں مضبوط کئے ہوئے ہیں۔  

ڈاکٹروں کی عدم توجہ کے باعث سیاہ فام افراد کی شرح عمر اوسطاًسفیدفام افراد کے مقابلے میں پانچ سال ایک ماہ کم ہے،جبکہ ذہنی امراض کا خطرہ گوروں کی بہ نسبت سیاہ فام افراد کو3.3فیصد زیادہ ہے۔ 

معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو2008ءمیں مجموعی شرح بیروزگاری 6.1فیصد تھی تاہم سفید فام افراد کے مقابلے میں 11.4فیصد زیادہ سیاہ فام افرادبیروزگار تھے، جبکہ سالانہ آمدنی کے لحاظ سے بھی گوری جلد والے افراد آگے ہیں جنکی سالانہ آمدنی اوسطاً 64ہزار ڈالر سے زائد ہے جبکہ سیاہ فام افراد صرف 40ہزار ڈالرہی کماپاتے ہیں۔کالے افراد میں غربت کی شرح اگر 24.4فیصد ہے توسفیدفام میں یہ صرف 10.6فیصد ہی ہے۔ 

رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ہر ایک لاکھ میں تقریباً 15سوسیاہ فام افراد کسی جرم میں جیل بھیج دیئے جاتے ہیں جبکہ سفیدفام افراد کی تعداد اسی تناسب میں بمشکل700تک ہوتی ہے۔ 

تعلیمی میدان میں تونسل پرستی زیادہ بدترین شکل میں نظرآتے ہیں جہاں 43فیصدسیاہ فام بچوںکومخصوص اسکولوں میں جانا پڑتا ہے کیونکہ انھیں سفیدفام بچوں کے اسکول میں داخلہ نہیں ملتا، جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی کے باعث زیادہ تربچے اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کرپاتے اور جلد ہی اسکولوں کوچھوڑ کر کسی جرائم پیشہ گروہ یا چوریوں پر لگ جاتے ہیں۔ 

یہ توچند معمولی سے اعدادوشمار تھے جوامریکی معاشرے کی تقسیم کی نشاندہی کررہے ہیں اگر ان میں مسلم، ہسپانوی اور دیگر اقلیتوں کیساتھ کئے جانیوالے رویے کوشامل کرلیا جائے توحیرت ہوگی کہ یہ ملک ابھی تک ٹوٹ کیوں نہیں گیاجہاں نسلی تعصب اس "سیکولرمعاشرے”کوگھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔ 

پاکستان اور امریکی عزائم 

گیارہ ستمبر 2001ءکو امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے بلندوبالاٹوئن ٹاورز پر ہونیوالے دھماکوں کے بعد سے شروع ہونیوالی "دہشتگردی کیخلاف جنگ” کابدقسمتی سے سب سے بڑا ہدف پاکستان ہی بناہے، جسکے شہری علاقے ہوں یا افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے ،ہرجگہ ایک ابتری نے ہمارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اب یہ ابتری امن و امان کی شکل میں ہوں یا معشیت کے یا عام معمول کی زندگی سب بری طرح متاثر نظر آتی ہے۔مبینہ عسکریت پسندوں پر امریکی حملے ہو ، پاک فوج کاشرپسندوںخلاف قبائلی علاقہ جات میںآپریشن یا مبینہ عسکریت پسند یا غیرملکی عناصر کے خودکش حملے، متاثرین کی بڑی اکثریت عام افراد ہی پرمشتمل ہیں۔ 9/11کے بعد امریکی حکام کے ایک فون پر انھیں افغانستان پر حملے کےلئے پاکستان کی ہر طرح کی حمایت حاصل ہوگئی تھی اور حکومت پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت(جسے پاکستان نے قانونی حکومت تسلیم کیا ہوا تھا) کی حمایت اور مدد سے ہاتھ اٹھا تے ہوئے امریکہ سے تعاون کا معاہدہ کرلیا، تاہم یہ کوئی باضابطہ معاہدہ تھایا زبانی وعدے اس بارے میں کچھ کہنا اس لئے ناممکن ہے کہ اسکی تفصیلات "باخبرحلقوں”کے سواکسی کے سامنے نہیں، بہرحال سابق چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز جو 2003ءتک پاک فوج کے ہیڈکوارٹر کے اہم ترین عہدے پر فائز رہے ہیں()نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ سے کوئی باضابطہ معاہدہ تو نہیں ہوا، لیکن امریکی افواج کو پاکستان نے اہم ترین سہولیات ضرور فراہم کیں تھیں۔انکے مطابق پاکستان میں امریکی انٹیلیجنس کو کام کرنے کی اجازت دی گئی، اور بعض ہوائی اڈے جن میں جیکب آباد ایئربیس بھی شامل ہیں امریکی فوج کے زیراستعمال رہے(کچھ غیرتصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق ابھی تک ہے)۔اسکے علاوہ پاکستان نے امریکی و اتحادی افواج کو لاجسٹک اسپورٹ بھی فراہم کی( جسکا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، اور حکومتی حلقوںکے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کے تحت ہم اسکو روکنے کے بھی مجاز نہیں)سب سے اہم مدد جو تھی وہ پاکستان میں القاعدہ کے رہنماﺅں کی تلاش کیلئے جاسوس طیارے استعمال کرنیکی اجازت تھی۔ 

یہ تو ایک اہم ترین فوجی عہدے پر تعینات رہنے والے عہدیدار کا بیان تھااس بارے میں امریکی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کی آرا اور رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ درحقیقت امریکہ کے پاکستان کے بارے میں اصل عزائم ہے کیا؟۔ 

پس منظر 

یہ توسب کومعلوم ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر حملہ گیارہ ستمبر 2011ءکوورلڈ ٹریڈ ٹاورز پر حملے کے بعد اسکا الزام افغانستان میں مقیم اسامہ بن لادن پر الزام لگاتے ہوئے 7اکتوبر 2001ءکوکیا تھا جوتاحال جاری ہیں، جبکہ اسکی شدت میں دن بدن تیزی آتی جارہی ہے اور تقریباً آٹھ سال بعد بھی 2001ءمیں حملے کے وقت افغانستان میں حکمران تحریک طالبان ملک کے کافی بڑے رقبے پر حکمران تصور کئے جاتے ہیں۔ 

لیکن ایک رپورٹ کے مطابق(17)امریکہ 9/11کے واقعے سے چھ ماہ قبل یعنی مارچ میں ہی طالبان کیخلاف حملے کی منصوبہ بندی کرچکا تھا جسکے لئے لاجسٹک اسپورٹ روس، ایران اور بھارت نے فراہم کرنی تھی جبکہ تاجکستان اور ازبکستان کی سرزمین کوفوجی ٹھکانے کے طور پر استعمال کئے جانیکا منصوبہ تھا۔ایک اور مضمون کے مطابق 2001ءکی پہلی سہ ماہی سے ہی امریکہ شمالی علاقے(تاجکستان) سے افغانستان پر حملے کیلئے افواج کوجمع کررہا تھا(18)۔اسی طرح بی بی سی نیوز(برطانوی ریڈیواورٹی وی چینیل) نے اٹھارہ ستمبر2001ءکوپاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ نیاز نائیک کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستان کوجولائی 2001ءمیں ہی بتادیا گیا تھا کہ امریکہ اکتوبر میں طالبان حکومت کیخلاف جنگی کارروئی کرنیوالا ہے۔ 

لیکن کیا وجہ صرف یہی تھی ؟ کیا امریکہ طالبان حکومت کونام نہاد "دہشتگردی کیخلاف جنگ”کی وجہ سے ختم کرنیکا خواہشمند تھا؟ نہیں دراصل بنیادی وجہ امریکہ کے حکام طبقے کا معاشی مفاد تھا جوافغانستان اور پھر عراق کی بربادی کا سبب بنا۔اس بارے میں متعدد حوالے دیئے جاسکتے ہیں تاہم صرف دوحوالے درج ذیل ہیں۔ 

امریکہ کے 2001ءمیں نائب صدر ڈک چینی نے 1998ءمیں جب وہ ایک بڑی آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹوتھے نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ” بحیرہ کیپسئین (وسط ایشیائ) کا خام تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر سے مالامال خطے کوہم کیسے نظر انداز کرسکتے ہیںلیکن یہ ذخائر اس وقت تک بیکار ہے جب تک انھیں دریافت نہیں کرلیا جاتا اور انکی دریافت کے بعد اسے وہاں سے برآمد کرنیکا اقتصادی طور پر فائدہ منداور قابل عمل راستہ صرف افغانستان ہی ہے جہاں امریکی مخالف طالبان حکومت ہمارے مفادات کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے”۔(18 

رائٹرزکے مطابق سیاہ فام خواتین کے ہاں زچگی کے دوران بچوں کی شرح اموات سفید فام خواتین کے مقابلے میں 2.4فیصد زیادہ ہے،اسی طرح خواتین کے چھاتی کے کینسر کی ابتدائی اسٹیج پرسرجری کے بعد ڈاکٹر ریڈی ایشن طریقہ علاج کیلئے سفیدفام خواتین کوزیادہ ترجیح دیتے ہیں جبکہ سیاہ فام خواتین کوتکلیف دہ مراحل سے گزارا جاتا ہے۔) یہی بات 12فروری 2008ءکوامریکی ایوان نمائندگان کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس (19)میں بھی کہی گئی تھی(تفصیل حوالے میں درج ویب سائٹ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے 

)یعنی یہ بات توواضح ہوگئی کہ القاعدہ کی سرکوبی اولین ترجیح نہیں بلکہ خام تیل اور گیس کے ذخائر کا حصول بنیادی مقصد تھا۔ لیکن اسکے درمیان پاکستان کومیدان جنگ کی کیاوجوہات تھی اب اسکا جائزہ لیتے ہیں۔ 

پاکستان کوجغرافیائی لحاظ سے اہم ترین خطہ ارض تسلیم کیا جاسکتا ہے جسکی سرحدیںدنیا کے دوبڑے ممالک چین اور بھارت،ایٹمی طاقت کے حصول کیلئے جدوجہد کرتا "اسلامی”ملک ایران،امریکی جارحیت سے تباہ حال افغانستان سے براہ راست جبکہ روس ووسط ایشیائی ریاستیںسے بالواسطہ طور پر ملحق ہیں،جبکہ مختصر سمندری علاقہ عبور کرکے مشرق وسطی تک بھی رسائی باآسانی کی جاسکتی ہے۔ان سب باتوں کے پیش نظر امریکہ کیلئے اپنے علاقائی مفادات اور وسط ایشیاءاور مشرق وسطیٰ کے خام تیل وقدرتی گیس کے ذخائر کے حصول کیلئے پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اب اسی تناظر سے جائزہ لیں توواضح ہے کہ افغانستان پر حملے کے بعدکسی بھی ملک کیلئے شورش زدہ سرزمین پر اپنا قبضہ مستحکم رکھنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پاکستان کی امدادوحمایت (چاہے فوجی ہوں یا لاجسٹک سمیت کسی بھی نوعیت کی) نہ حاصل ہوں۔کیونکہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے یا المعروف صوبہ سرحداور نیم خودمختار قبائلی علاقوں یعنی فاٹا میں بسنے والے قبائل اور افغان عوام صدیوں پرانے رشتے میں بندھے ہیں، اور روس کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد قبائلی عوام کی بڑی اکثریت نے روسی جارحیت کیخلاف عملاً افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ ملکر سفیدریچھ کوشکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا،جسکا خدشہ امریکہ کو2001ءسے لیکر اب تک لاحق ہیں اور وہ قبائلی علاقوں القاعدہ کی جنت تصور کرتا ہے۔ 

پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اسکے خاتمے کیلئے ماضی میں بھی سازشیں کرتا رہا ہے اور اب بھی وہ اسکے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں،جسکے لئے وہ پاکستان کو اتنا کمزور کردینا چاہتا ہے کہ وہ باآسانی اقوام متحدہ کی مدد سے یا براہ راست خود پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا کنٹرول سنبھال لیں۔ 

اسکے علاوہ اگر امریکہ وسط ایشیاءکے خام تیل کے ذخائر کوافغانستان کے راستے استعمال کرنا چاہے گا تواسکے لئے پاکستانی سرزمین کے راستے سے سپلائی لائن لیکر جانا ایران، یا روس کے راستے سے لیکر جانے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور کم قیمت پر پڑیگا، جبکہ سیاسی طور پر بھی ایران اور روس فی الوقت امریکہ کے حریف سمجھے جاتے ہیں،جنکی سرزمین سے تیل وگیس کی پائپ لائنز گزارنا امریکہ کیلئے مستقبل میں ایک سردرد سے کم نہ ہوگا،اسکے مقابلے میں آزادی کے بعد سے پاکستانی حکومتوں کا جھکاﺅہمیشہ امریکہ کی طرف ہی رہا ہے اور اب تومغربی دنیا پاکستانی سیاستدانوں کی بڑی اکثریت کوامریکی باج گزار ہی تصور کرتی ہے ۔ان سب وجوہات کی بناءپر امریکہ پاکستان کواپنے مفادات کے استعمال کیلئے بہترین انتخاب تصورکرتاہے اور کسی رکاوٹ سے بچنے کیلئے اب جنگ کا دائرہ پاکستان تک پھیلانے کیلئے پر تول رہا ہے۔جسکے جواز وقتاً فوقتاً مختلف امریکی تھنک ٹینکس اور مغربی میڈیا پیش کرتا رہتا ہے،جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 

اس بارے میں بات شروع کرتے ہیں ماضی سے نہیں بلکہ ماضی قریب سے بیس جنوری 2009ءکو امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے پہلے سیاہ فام صدر باراک حسین اوبامہ انتخابات سے قبل اپنی صدارتی مہم کے دوران خبردار کرتے تھے کہ امریکہ کو عراق کی بجائے افغانستان سے براہ راست خطرہ لاحق ہے لہذا وہ صدر منتخب ہونیکے بعد عراق سے افواج نکال کر افغان مسئلے کے حل پر بھرپور توجہ دینگے، تاہم صدر منتخب ہونیکے بعد آہستہ آہستہ صدر اوبامہ کی ترجیحات میں فرق آتا گیا اور اب انکی نظر میں حقیقی خطرہ افغانستان نہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقے(فی الحال انکی زبان پر اسی کا ذکرہے)ہے۔اب اگر آپ انکی کوئی تقریر دھیان سے سنے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انکے منہ سے افغانستان کا نام نکلنے سے پہلے پاکستان کا نام آتا ہے اور انکے خیال میں افغانستان میں امن کیلئے "مستحکم پاکستان”ضروری ہے اور اسکے لئے "دنیا کے خطرناک ترین علاقے”یعنی پاکستان کے قبائلی علاقے میں موجود القاعدہ پر قابو پانا ضروری ہے۔ 

27 

امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے جریدے آرمڈ فورسز جرنل کی ایک رپورٹ(21)میں امریکی صحافی رالف پیٹر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ "پینٹاگون دہشتگردی اور منشیات پر قابو پانے کیلئے مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کو دوبارہ ترتیب دینے پر غور کررہی ہے سے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے "غیرمنصفانہ”طور پر مختلف ممالک کے درمیان تقسیم کردیا تھا۔جسکی وجہ سے دنیا کو آج مذہبی انتہاپسندی اور دیگرمسائل کا سامنا ہے۔جبکہ مشرق وسطیٰ کی تقسیم کے دوران جہاں کرد، بلوچ اور عرب شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے گروہوں کیساتھ دھوکہ کیا گیا وہی وہاں مقیم اقلیتوں جن میں عیسائی، بہائی، اسمعیلیٰ اور دیگر شامل ہے انکو بھی نظرانداز کردیا گیا۔لہذا مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ممالک کی تقسیم سے دنیاکا امن یقینی بنایا جاسکتا ہے”۔(مصنف کا تجویز کردہ نقشہ ملاحطہ کیا جاسکتا ہے 

مارچ 2009ءکو افغانستان پر نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے باراک اوبامہ نے جہاں بھی القاعدہ کا نام لیا تو پاکستان کا نام انکی زبان سے ضرور نکلا یہاں تک کہ انھوں نے کہہ دیا کہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظوہری پاکستانی علاقے میں ہیں اور امریکہ میں مستقبل میں حملے ہوئے تو یہ پاکستان سے ہونگے۔اگر امریکہ کے عزائم کو جاننا ہوں تو صرف اس حکمت عملی کی زبان پر ہی توجہ دی جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اب پاکستان کوصرف افغانستان میں امریکی کارروائی کیلئے ایک اتحادی کی حیثیت سے اہمیت نہیں حاصل بلکہ پاک سرزمین اب امریکہ کی بھرپور توجہ کا مرکز بن چکی ہے جبکہ افغانستان کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے۔اب اس حکمت عملی کے جائزے کو کچھ دیر کیلئے التواءمیں رکھ کر امریکی تھنک ٹینکس اورمیڈیاکی پاکستان کے متعلق کچھ رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں۔)مصنف کہتے ہیں یہی صورتحال پاکستان کی بھی ہے جسکی مختلف حصوں میں تقسیم سے افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انکے مطابق صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات کو افغانستان کےساتھ اتحاد کرسکتا ہے جبکہ بلوچستان ایک الگ آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر گہ بناسکتا ہے(انکا تیارکردہ نقشہ کچھ اسطرح ہے 

)یہ اس رپورٹ کے چند مندرجات ہے جس سے صدر جارج بش کے دورحکومت میںامریکہ کی سوچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 

تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی اس سوچ میں کوئی خاص فرق نہیں آیا بلکہ صرف چہرے ہی تبدیل ہوئے ہیں۔اس بات کا اندازہ افغانستان اور عراق کیلئے امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹراس کے مشیرڈیوڈ کیلسیولن 

(David Kilcullen)کے 22مارچ 2009ءکو دیئے جانیوالے ایک انٹرویو سے لگایا جاسکتاہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر پاکستان نے اپنے ملک میں موجود ابترصورتحال پر قابو نہ پایا توآئندہ چھ ماہ میں پاکستانی ریاست کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔انکے مطابق دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان اب "سینٹرل فرنٹ”یعنی مرکزی مقام کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، جسکی تقسیم کا مطلب پوری دنیا کی تباہی بھی ہوسکتا ہے(22)یہی بات ذرا مختلف پیرائے میںانکے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹراس نے یکم اپریل 2009ءکو امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان کو واحد خطرے کے طور پر دیکھتا ہے اورعسکریت پسندی کی وجہ سے لاحق خطرات کی وہ سے پاکستان جلد ہی تقسیم ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں "روپوش”القاعدہ کے جنگجوﺅں کے خاتمے کیلئے کئے جانیوالے آپریشنز میںامریکہ کو پاکستان کی براہ راست معاونت کرنی چاہئے، کیونکہ وہ پاکستان کی سالمیت کیلئے براہ راست خطرہ ہے۔ 

  

کچھ اسی طرح کی پیشنگوئی بااثر امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل نے فروری 2009ءمیں جاری ایک رپورٹ میں کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ہاتھ سے پاکستان کی مدد کا وقت نکلتا چلا جارہا ہے اورپاکستان تیزی سے سیاسی و اقتصادی عدم استحکام کا شکارہوتا چلاجارہا ہے جسکا نتیجہ ناکامی اور پھر تقسیم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت نے چھ سے بارہ ماہ میں حالات پر قابو نہ پایا تو بدتر سے سنگین ترین صورت اختیار کرلیں گے(23)۔ اب دوبارہ نئی امریکی حکمت عملی کی طرف لوٹتے ہیں 27مارچ 2009ءکو "نئی جامع حکمت عملی” کے خدوخال کا اعلان کرتے ہوئے صدر اوبامہ نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے دنیا کا خطرناک ترین زون بن چکے ہیں جہاں سے القاعدہ حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔انھوں نے پاکستان کو آئندہ پانچ برس تک سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی "مشروط امداد”دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسکے بدلے پاکستان کو القاعدہ کیخلاف اپنے عزم کا مظاہرہ کرنا 

  

اب آتے ہیں پاکستان کیلئے سوہان روح بنے ڈرون حملے یا بغیرپائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں سے داغے جانیوالے میزائل حملوں پر جس نے پاکستانی معاشرے کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے۔ 

ہوگا۔نئی حکمت عملی میں ڈرون حملوں کے بارے میں بظاہر اس حکمت عملی میں کچھ نہیں کہا گیا تاہم بلاواسطہ طورپر خبردار کردیا گیا ہے کہ پاکستان پر عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کیلئے دباﺅ بڑھایا جائیگا جبکہ عام طالبان عسکریت پسندوں کیخلاف امریکی فوجیوں کی جانیں گنوانے کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ کرکے عسکریت پسندوں کی قیادت کے خاتمے پر توجہ دی جائیگی۔9/11 

کے واقعے کے سات سال بعد امریکہ نے افغانستان میں جاری دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنی ممکنہ شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنیکا باضابطہ اعلان کیا تھا، اور دس ستمبر 2008ءکو امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مائیک مولن نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے، جس وجہ سے اب طالبان سے متعلق حمکمت عملی تبدیل کی جارہی ہے، جسکے تحت اب سرحد پار کرکے پاکستانی علاقے میں طالبان پر حملے کئے جاسکتے ہیں، اب یہ تو صاف ظاہر ہے کہ حکمت عملی میں جو تبدیلی کی گئی تھی وہ جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافے سے متعلق تھی، جسکی منظوری سابق صدر بش جولائی 2008ءمیں ہی دے چکے تھے۔اسی حکمت عملی کے باعث گزشتہ برس پاکستان کے قبائلی و نیم علاقوں پرریکارڈ 34حملے کئے گئے، جسکے نتیجے میں چارسو سے زائد افراد جاں بحق جبکہ پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے۔2009 

اس سے ہٹ کر بھی ڈرون حملوں کا معاملہ صرف طالبان و القاعدہ سے نمٹنا نہیں بلکہ یہ امریکی معشیت کی بحالی کی منصوبہ بندی ہے۔ ہانگ کانگ کے مہشور جریدے کے مطابق عراق سے امریکی فوج کے انخلاءسے امریکی فوجی انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، اسی لئے اب جنگ کا دائرہ بلوچستان تک پھیلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ فوجی صنعتوں کو نقصان سے بچایا جاسکے(25) ۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کا یہ سلسلہ صرف کوئٹہ تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ کراچی جیسے بڑے شہروں جہاں "طالبان”فرار ہوکرچھپے ہوئے ہیں وہاں بھی انھیں نشانہ بنانیکی تیاریاں ہیں۔اسی جریدے کی ایک اور رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں امریکی حملوں کا ایک مقصد وہاں سے چین کی جانب سے کی گئی کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا سلسلہ روک کر امریکی اداروں کو معدنیات سے مالامال صوبے کے وسائل سے مستفید ہونیکا موقع فراہم کرنا بھی ہے، جبکہ گوادر جیسی اسٹرٹیجک بندرگاہ کو چین کے ہاتھوں میں جانے دینا بھی امریکہ کو منطور نہیں۔ 

غرض امریکہ ہرطرح سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ پاکستان کو اپنے عزائم کے مطابق استعمال کرسکے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوں تو اسکو اس طرح تقسیم کردیں کہ اسے اپنے مفادات کے حصول میں آسانی ہوسکے، جبکہ ہمارے حکمران قاتل کو ہی اپنا مسیحا سمجھے ہوئے ہیں، جبھی ملک و قوم کو لاحق امراض میں دن بدن اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے، ایک طرف خودکش بمبارہے، جنھیں بناءشواہد طالبان قراردیدیا جاتا ہے جبکہ بھارت جیسا دشمن ہمارے برابر میں موجود ہیں جسکے ساتھ اسرائیل بھی پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں،وہی ہمارے حکمران آپسی ناچاقیوں میں مصروف رہ کر ملک کو مزید مشکلات میں دھکیلتے جارہے ہیں۔یہی وقت ہے کہ افغانستان کیلئے امریکی حمایت سے ہاتھ کھینچ کر اسکے مخالف نہیں تو کم از کم غیرجانبدار فریق بن کر پہلے ملک کے ابترحالات کو 

ءکا تو آغاز ہی امریکہ کے میزائل حملے سے ہوا تھا،جسکا نشانہ جنوبی وزیرستان کا علاقہ بناتھا، جبکہ اب تک 15کے قریب حملے ہوچکے ہیںجس میں کم سے کم بھی ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔یعنی موجودہ سال ان حملوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ تیزی آئی ہے،جبکہ نئی امریکی حکمت عملی کے مطابق امریکہ اب ڈرون طیاروں کا دائرہ بلوچستان تک پھیلانے پر غور کررہا ہے(24)۔ جہاں امریکی صدر کے پاکستان و افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کے مطابق کوئٹہ طالبان اور دنیا کے بدترین لوگوں کا ہیڈکوارتر ہے، جس میں امریکہ اور مغرب پر حملے کرنیکی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ یعنی امریکی اپنی اسی سوچ کوعملی جامہ پہنانے کیلئے اب بھی کوشاں ہیں جسکے مطابق صوبہ سرحد افغانستان کا حصہ جبکہ بلوچستان کو ایک آزاد مملکت کا روپ دینا ہے ۔  

سنبھالے اور پھر مسلم امہ کے اتحاد سے افغانستان و عراق سمیت دیگر ممالک کو امریکہ کے غاضابہ قبضے سے نکالے، ورنہ امریکہ تو تقسیم ہوہی جائیگا کہیں اس پر انحصار کرتے کرتے ہمارا حشر بھی اس سے ملتا جلتا نہ ہوجائے۔حوالہ جات 

___________________________________________________________________________________________________________________________________ 

-1 Associated Press 

-2 Social class – Wikipedia, the free encyclopedia 

-3 Online Journal 

Daily Telegraph-4 

The New Yorker -5 

http://www.icasualties.org -6 

Newyork Times -7 

http://en.wikipedia.org/w/index.php?title=Private_military_contractor&redirect=no -8 

AFP -9 

-10 

، March 03, 2009،Dec 7, 2007،August 2008، August 29, 2005 ،March 08, 2009بی بی سی اردوAssociated Press-11 

http://en.wikipedia.org/wiki/Religion_in_the_United_States -12 

http://www.washingtontimes.com/news/2008/sep/21/muslim-outreach-minimal-in-us-13 

http://www.voanews.com/urdu/2009-03-18-voa2.cfm-14 

Reuters-16 

http://en.wikipedia.org/wiki/War_in_Afghanistan -17 

The Guardian -18 

http://www.guardian.co.uk/Columnists/Column/0,5673,579174,00.html -19 

http://commdocs.house.gov/committees/intlrel/hfa48119.000/hfa48119_0.HTM -20 

http://www.armedforcesjournal.com/debate/2006/06/1833899 -21 

http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2009/03/19/AR2009031903038.html -22 

http://www.acus.org/publication/pakistan-report -23 

New York Times-24 

Asia Times-25 

،March 10, 2009غیرسرکاری تنظیم Coalition to Stop Gun Violence، Mar 18, 2009 ، September 26, 2001،23 October 2001 ، June,2006، March 18, 2009، March 24, 2009 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: