ایڈجسٹ؟

                                                               تحریر:عاقب علی عاقب

 

میں کالم رائیٹنگ کے موضوع پر ہونے والی ایک کلاس میں شریک تھا ،ہال شرکائے کورس سے بھرا ہوا تھا۔اس دوران میرے موبائل کی بیل بجی،کلاس کے دوران بیل بجنے پر شرمندہ سا ہو کرنمبر دیکھنے کے بعدمیں نے کال منقطع کر دی،موبائل کو سائیلنٹ کرنے سے قبل ہی دوبارہ بیل بج اٹھے،میں نے ایک با رپھر شرمندگی کے ساتھ ےہی عمل دوبارہ دوہرایا۔تا ہم جلد ہی کلاس کے ماحول ،موضوع اور ٹیچر کے دلکش انداز نے میری خجالت غائب کر دی ، باقی شرکاءبھی ٹرینر ہی کی جانب متوجہ تھے۔کلاس ایک بوجھ نہیںپکنک پوائنٹ لگ رہی تھی۔اس طرح کا ماحول کلاس میں میسر آنا"قابل حیرت "تھا کہ ساڑھے تین گھنٹے میں کوئی بھی بور نہیں ہو ۔۔ ! ایمز انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ کی جانب سے "کالم کیسے لکھیں؟… "کے موضوع پر ہونے والی اس ورکشاپ میں ہی میرا تعارف جلال صاحب سے ہواجو پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں۔مگراپنے اندر موجود صحافی کم کالم نگار کو دبا نہ سکنے کی وجہ سے وہ دن بھر کی تھکا دینے والی ذہنی و جسمانی مصروفیت کے باوجود طویل سفرکر کے بھی یہاں موجود تھے، کلاس میں آنے والی کال پر میں تھوڑا پریشان تھا۔ کال سرمد کی تھی جو ےونیورسٹی کے دور سے میرے دوستوں میں شامل ہے۔اتنا مجھے علم تھا کہ وہ صبح ایک جاب کیلئے انٹر ویو دینے گےا تھا۔یقینا اس کی کال کا سبب یہی ہو گا کہ وہ جلد از جلد مجھے انٹرویو کی روداد سناسکے،سرمد فنانس میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکا تھا۔ 

میں نے باہر نکلتے ہی اسے کال کی ، ملاقات کی جگہ لیاقت آباد کا ایک ہوٹل طے پاےا۔میں کلاس سے نکلنے کے بعدسیدھا بس اسٹاپ پہنچا، جلال صاحب جووہاں پہلے سے موجود تھے میری طرف بڑھے اور حیرانی سے پوچھا” ابھی آپ ہی کلاس میں موجود تھے ؟ میںنے اثبات میں سر ہلاکر جواب دیا۔انھوں نے فورا پوچھا تم نے ایم بی اے کہاں سے کیا ہے ؟اور آج کل کیا کر رہے ہو ؟میں نے اپنے تعلیمی سفر اور موجودہ سرگرمیوں کی مختصر سی کہانی بتائی جسے وہ بڑی تو جہ سے سنتے اور تائیدی انداز میں اسکا اظہار بھی کرتے رہے ابھی بات جاری تھی کے کہ میرے روٹ کی بس آگئی۔میں اس میں سوار ہو گیا اتفاق سے جلال صاحب بھی اسی بس میں سوار ہوئے مگر کیونکہ سیٹس الگ الگ ملیں اس لئے دوبارہ بات نہ ہوسکی۔کالم نگاری سے ان کی دلچسپی اورموتیوں کے سے طرز گفتگوکو دیکھ کر میں یہ سوچنے پرمجبور ہوا کہ مستقبل کا کالم نویس خود کو اکاونٹس کی کرسی پر کےسے ایڈجسٹ کر یگا؟ 

میں بس میں سوار ہونے کے بعد جگہ خالی دیکھ کر ایک سیٹ پر بیٹھا،دو افراد کی گنجائش والی اس سیٹ پر پہلے سے ہی ایک نوجوان موجود تھا۔گاڑی چلنے پر سفر کاٹنے کی نیت سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے میں نے اپنا تعارف کروایااور ساتھ ہی بھی بتادیا کہ میں کراچی میں نیا ہوں،اگر ٓپ کو برا نہ لگے تو بس جہاں جہاں سے گزرے مجھے جگہوں کے بارے میں بتاتے رہنا،میں ہر تھوڑی دیر بعد اس سے علاقے ،جگہ، اسٹاپ اور بس کے روٹ پر بات کرتا رہا وہ انتہائی صبرکے ساتھ ہر جگہ کی بارے میں تھوڑی تھوڑی معلومات بڑی دل چسپی سے بتارہا تھا۔اپنے متعلق اس نے یہی بتایا کہ وہ بنگلورٹاﺅن کے پاس کسی دفتر میں کام کر تا ہے۔مجھے اس کی باتو ں اور انداز سے محسوس ہواکہ وہ ایک اچھاٹورسٹ گائیڈ بن سکتا ہے۔معلوم نہیں وہ اپنی اس صلاحیت سے آگاہ تھا یا نہیں ،یاکب تک اسے یہ آگاہی ہو پائے گی ؟اس قدرتی اور اہم صلاحیت کے باوجود وہ کیسے ایک اجنبی کام کرتے ہوئے خود کو کب تک دفتر میں ایڈجسٹ رکھ سکے گا؟ 

اس دوران گاڑی لیاقت آباد دس نمبر کے اسٹاپ پر پہنچ گئی اس نوجوان نے شاید آگے جانا تھا ،میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نیچے اتر گیا۔میرا دوست سرمد پہلے سے یہاںموجود تھا گفتگو میں انٹرویو کے دو ران ہونے والی باتوں کو وہ جس طرح بتا رہا تھا اس سے یہ واضح تھا کہ وہ مارکیٹننگ کی جاب کے لئے تےار ۔تھا میں نے مذاقا پوچھا ، تم نے ایم بی اے فنانس میں کیوں کیا تھا؟اس کا جواب تھا کہ” عاقب میں نے جن سے بھی مشورہ لیا انھوں نے ےہی کہا کہ فنانس اچھا ہے مگر اب مجھے ےہ محسوس ہو رہا ہے کہ میں سوشل انسان ہوں ایک جگہ بیٹھ کر کام میرے بس کا نہیں ہے“ ۔اس کی جانب سے دئے گئے جواب کو سننے کے بعد ایک ہفتہ گزرچکامگرمیں اب بھی میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ فنانس کا ماہر فرد خود کو کسی دوسری فیلڈ میں کس طرح اٰیڈجسٹ کر سکے گا؟ 

درحقیقت یہ ہمارا المیہ ہے! ہمیں وکیل ،سیاست دان،صحافی،بزنس مین،کھلاڑی ،ڈاکٹر،انجیئینر غرض ہر شعبے میںایسے افراد سے سابقہ پڑتا ہے جوبننا کچھ چاہتے تھے مگر بن کچھ اور گئے،یقینا ہمیں ان شعبوںسمیت زندگی کے ہر شعبے میں تربیت ےافتہ افراد کی ضرورت ہے ۔ایسے افراد کی تیاری میںوالدین،معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے خاص طور پراساتذہ کی زمہ داری بڑھ جاتی ہے لیکن کیا استاد کو دی جانے والی تنخواہ اور تربیت اس قابل ہے کہ وہ خود کو اس محاذ پر ایڈجسٹ کر سکے ؟کہ ایک ہی وقت میں وہ اپنے طالب علم کو نصاب پڑھانے کے ساتھ اسے کیرئیر کے متعلق رہنمائی بھی مہیا کر رہا ہو،والدین اور معاشرے کے دیگر طبقات اپنی موجودہ صلاحیتوںمیںاس ذمہ داری کوپورا کر سکیںگے؟ہمیں پورے شعور کے ساتھ غور کر تے ہوئے ایک لائحہ عمل پیش کرنا اور اسے طے کر کے سب کو عمل میں لانا ہوگا۔اپنے بچوں کو ان کے پسندیدہ شعبہ جات میں تعلیم کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنا ہونگے ورنہ! ہمیںہرمرحلے پر جلال صاحب،سرمد اوربس والے اس نوجوان کی طرح ایڈجسٹ ہی کرنا ہو گا۔۔سوری موبائل پھر بج رہا ہے۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: