ڈیو ڈکیمرون کے پاکستان مخالف بیانات اور جناب صدر کا رویہ

ایک ایسے وقت میں جب ملک سیلاب کا سامنا کر رہا ہے،برطانوی وزیر اعظم بحارت کی ایماء پر پاکستان کے خلاف گھنائونے الزام لگا چکے ہیں صدر کو دورہ منسوخ کر دینا چاہئے،عوام کی آراء

پاکستانی عوام کی جانب سےبرطانوی وزیر اعظم کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد صدر مملکت سے دورہ برطانیہ کی منسوخی کا مطالبہ رائیگاں،برطانیہ میں رہائش پزیرپاکستانیوں کی اکثریت نے بھی صدر کے دورہ کی مخالفت کر دی۔دوسری جانب صدر آصف علی زداری کے 3 تا7 اگست برطانیہ کے سرکاری دورہ پر بھاری اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دورہ کی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے ان توہین آمیز الزامات کے باوجود کہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے صدر اُن سے ملاقات کریں گے جو چند منٹ کی ہوگی۔صدر اور اُن کے ساتھ جانے والا وفد فائیو سٹار لگژری ہوٹل حیات ریجنسی چرچل میں قیام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ہوٹل کی 9ویں منزل کو ایجنسی کلب لیول کہا جاتا ہے اس کے 18 سویٹ اور 10 ایکسکلوسیو ٹائپ لگژری کمرے بک کرائے گئے ہیں اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اس میں عام آدمی کا داخلہ ممنوع ہے۔ان میں سے تقریباً نصف تعداد میں کمرے استعمال میں ہی نہیں آئیں گے کیونکہ وفد میں شامل بعض افراد دیگر سستے کمروں میں رہائش پذیر ہوں گے، مگر ان کے نام ان کمروں میں بھی رکھے گئے ہیں جن کا کرایہ پورا ادا کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق صدر آصف زرداری رائل سویٹ کے کمروں میں سے کسی ایک میں قیام کریں گے۔ ان انتہائی مہنگے کمروں میں ایک کمرے کاایک رات کاکرایہ 7000 پونڈ کے لگ بھگ ہے۔ مہنگے ہوٹل میں قیام کے حوالے سے وہ سابق صدر پرویز مشرف سے چند قدم ہی پیچھے ہیں جو اپنے پسندیدہ ڈورچسٹر ہوٹل میں مقیم رہے جو چرچل ہوٹل سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔ ہوٹل میں سروسز اور کھانا پینا اس میں شامل نہیں ہے۔ ان دورہ میں کھانے پینے کا آرڈر ایک ایشیائی ریسٹورنٹ کو دیا گیا ہے جہاں سے فی پارسل پیک کی قیمت 18 پونڈ ادا کی جائے گی جو وفد میں شامل ارکان کے علاوہ ہائی کمیشن کے اہلکار کھائیں گے۔مگر صدر زرداری اور وفد میں شامل چند دیگر افراد کیلئے کھانے کا خصوصی انتظام ہوٹل کی طرف سے کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 10 سے 12 لگژری کاریں بھی 400 پونڈ فی کار کے حساب سے کرائے پر لی گئی ہیں۔ یہ کاریں صدر کے پورے دورے کیلئے لی گئی ہیں۔ جب صدر زرداری برمنگھم میں ریلی سے خطاب کیلئے جائیں گے تو یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ وہ برمنگھم چارٹر طیارے کے ذریعے جائیں گے۔ قبل ازیں جب انہوں نے ایڈنبرا میں اپنی بیٹیوں سے ملاقات کیلئے فارن پرو سے طیارہ چارٹر کرایا تھا تو پاکستانی قوم کے 16 ہزار پونڈ اس پر خرچ ہوئے تھے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زرداری بذریعہ سڑک برمنگھم نہیں جائیں گے حالانکہ یہ لندن سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری برمنگھم میں انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں خطاب کریں گے اس کنونشن سنٹر کے کانفرنس ہال کے کرائے کی مد میں 40 ہزار پونڈ سے کم اخراجات نہیں آئیں گے۔ صدر کے دورہ میں اہم شخصیات جن میں قمر زمان کائرہ‘ صدر کی اسسٹنٹ پولیٹیکل سیکرٹری فوزیہ حبیب‘ صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور شامل ہیں‘دورہ کے انتظامات کے سلسلے میں برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں۔ بھاری بھر کم اخراجات سے متعلق موقف جاننے کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کو درج ذیل سوالات بھیجے تھے۔ چرچل ہوٹل میں پُرتعیش کمرہ بک کرنے کی ادائیگی کون کر رہا ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جس کمرے میں صدر ٹھہریں گے اس کا ایک رات کا کرایہ7000 ہے۔ ریلی میں لوگوں کو لانے کیلئے بک کی گئی بسوں اور کوچوں کیلئے ادائیگی کون کررہا ہے کیا پاکستانی ہائی کمیشن کسی منتخب اخبارات کو اشتہارات کی قیمت دے رہا ہے۔ دورے پر بھاری اخراجات کے حوالے سے ہائی کمیشن کا کیا موقف ہے کیونکہ یہ پیسے طیارہ حادثے یا سیلاب کے متاثرین پر خرچ ہوسکتے تھے۔ صدر نے دورہ کیوں منسوخ نہیں کیا۔ دورہ کرنے والے وفد کیلئے کتنی کاریں یا گاڑیاں کرائے پر لی گئی ہیں کیا اس مکمل دورے کے اخراجات ہائی کمیشن حکومت پاکستان یا دونوں مل کر کر رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب میں ہائی کمیشن کے ترجمان نے کسی تفصیل میں جائے بغیر ایک سطری جواب دیا کہ یہ ایک سرکاری دورہ ہے اور سرکاری دوروں کے طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ عوامی ریلی کے اخراجات ہائی کمیشن اور حکومت پاکستان مل کر برداشت کررہے ہیں اور تمام بڑے شہروں سے کوچیں پہلے ہی بک کرلی گئی ہیں کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی7ہزار افراد کو جمع کرنے کا ہدف عبور کرنا چاہتی ہے جتنے حال ہی میں بیرسٹر سلطان محمود کے خطاب کو سننے کیلئے جمع ہوئے تھے۔

برنانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی رائے یہ ہے کہ صدر کو اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے۔صدر کے دورے کے حوالے سے لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ اب چونکہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے بھی صدر مملکت کے ساتھ یہ دورہ کرنے سے معذرت کر لی ہے صدر کو اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے کیونکہ یہی پاکستان کا وقار اور عزت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے اس لئے صدر کو اب ان سے ملنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت سیلاب نے تباہی پھیلا دی ہے سیکڑوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔ صدر کو پاکستان کے عوام کی فکر کرتے ہوئے یہ مشکل وقت پاکستان کے عوام کے ساتھ گزارنا چاہئے۔ برطانیہ کے پہلے مسلمان کیوسی بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے کہا ہے کہ کمیونٹی اس بات پر خوشی تھی کہ صدر مملکت پہلی مرتبہ برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملنے آ رہے ہیں تاہم وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے بعد یہ دورہ مناسب نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کو اس بیان پر احتجاج کرنا چاہئے اور اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ویسے بھی ملک میں سیلاب کی وجہ سے ان کا یہ دورہ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہو گا۔ پاکستان کمیونٹی سنٹر ولزڈن گرین کے چیئرمین طارق ڈار نے کہا کہ صدر زرداری کو احتجاجاً اس ملک میں نہیں آنا چاہئے۔ یہ احتجاج باقاعدہ طور پر ریکارڈ کرایا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون شاید ماضی قریب کی تاریخ کو بھی بھول گئے ہیں جب ٹونی بلیئر اور جارج بش نے عراق جنگ کو جائز قرار دیا تھا اب یہ دونوں اسے غلطی تصور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔ پیپلز پارٹی سندھ کی فیڈرل کونسل کے رکن حبیب جان نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں ڈیوڈ کیمرون کے ریمارکس کے بعد صدر مملکت کا برطانیہ آنا پاکستان کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صدر کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ پاکستان میں ہی رہیں۔ پیپلز پارٹی ساؤتھ ویسٹ کے صدر منظور ملک نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کو ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان کے خلاف نمبر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر احتجاجی مظاہرے کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کمیونٹی کے جذبات بہت بھڑکے ہوئے ہیں اس لئے صدر کو یہاں کا دورہ نہیں کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے لیڈر چوہدری تاج رچیال نے کہا کہ صدر زرداری کے لئے یہی بہتر ہو گا کہ وہ دورہ منسوخ کر دیں، ان کے دورے سے کمیونٹی مزید تقسیم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے نوجوانوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے جبکہ ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اس لئے صدر کو فوری طور پر یہ دورخ منسوخ کر دینا چاہئے۔ بیم لیبر کے چیئرمین احمد شہزاد او بی ای نے دورے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 1971ء میں امریکہ نے پاکستان کو دھوکہ دیا اور اس کا چھٹا بحری بیڑہ کبھی پاکستان کی مدد کو نہیں پہنچا، اب برطانوی وزیراعظم نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو برابھلا کہا اور بھارت کو خوش کیا ہے اس لئے پاکستان کو ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری اس بیان کے خلاف احتجاجاً اور پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے اس دورے کو منسوخ کر دیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: