پانی کی قلت کا عالمی مسئلہ اور سنگین خدشات

تحریر:محمد ہارون عباس قمر

ہوا اور پانی قدرت کے ایسے عطیات ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ آج بیسویں صدی کا انسان جو ستاروں پر کمندیں پھینک رہا ہے ان دو عطیات سے محروم ہونے کے خدشے سے دو چار ہے۔ یہ نہیں کہ کرہ ارض پر سے ہوا اور پانی ناپید ہوتے جا رہے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر سائنس اور صنعت کی ترقی کی یہی رفتار رہی جو آج ہے تو مستقبل قریب میں انسان کو نہ تو خالص ہوا ملے گی اور نہ خالص پانی۔ ہوا میں ملاوٹ کا مسئلہ ابھی اتنا سنگین نہہں ہوا کہ انسان کو پریشان کر دے۔ لہکن خالص اور مصفا پانی کی قلت نے مفکرین اور ماہرین سائنس دانوں کی راتوں کی نیند حرام کی دی ہے۔ پانی کی قلت کا مسئلہ نیا نہیں لاکھوں برس پرانا ہے۔ اس مسئلہ کی تاریخ انسانی تہذیب کی تاریخ سے بھی پرانی ہے۔ ڈارون کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کی معدنیات نے نباتات کی شکل اختیار کی، پودوں میں سے کیڑوں مکوڑوں نے جنم لیا۔ کیڑوں مکوڑوں نے مختلف شکلیں اور مختلف حجم اختیار کیے ۔ اس طرح پیدا ہونے والے جانوروں میں سے ایک نسل بندروں کی تھی انہی بندروں یا بن مانسوں کی اولاد انسان ہے۔ حال ہی یورپ کے محققین نے اس سلسلے مےں ایک اور کڑی کا اضافہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آج سے لاکھوں برس قبل کرہ ارض زبردست خشک سالی کا شکار ہوئی تھی۔ جوں جوں پانی کم ہوتا گیا جانور اس کی تلاش میں ندی نالوں کے ساتھ ساتھ چلتے زیریں علاقوں کی طرف بڑھتے چلے گئے اور بالآخر سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ پیٹ کے دوزخ نے یہاں بندروں کو سمندر میں اترنے پر مجبور کیا اور وہ مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ اس طرح اےک نئی نسل ”سی ایپ“ (Sea ape) یا سمندری بندر کا وجود ظاہر ہوا۔ بندر کی کھال اور دُم اسی دور میں پانی میں رہتے ہوئے غائب ہوئی اور بعد ازاں وہ انسان کی موجودہ شکل میں سمندر سے باہر نکلا۔ مختلف مذاہب میں پیدائش آدم کے جو تذکرے ہیں ان سے اس تھیوری کے ٹکراﺅ سے قطع نظر اگر ارتقا کے ان سلسلوں کو درست مان لیا جائے تو موجودہ انسان کی پیدائش بھی دراصل پانی کی قلت کی مرہون منت ہے۔ پانی کے مسئلے پر لڑائی جھگڑے ہزاروں برس پہلے بھی اسی طرح ہوتے تھے جس طرح آج۔ ماضی میں پانی کے سوال پر کئی جنگیں لڑی گئیں اور آج بھی اردن اور اسرائیل کے دستے پانی کی تقسیم کے سوال پر ایک دوسرے پر گولیاں برساتے ہیں۔ انگریزی زبان میں حریف یا دشمن کے لئے رائیول(Rival) کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ لفظ دراصل رومن لفظ راﺅس سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ندی یا نالہ ہے۔ گویا رائیول وہ ہیں جو کسی ندی یا نالے کی ملکیت میں شریک ہوں اور پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر ان میں چپقلش ہو۔ رومن پاشندوں کی طرح آج بھی انسان پانی کے مسئلے پر خون بہانے سے دریغ نہیں کرتا۔ آج بھی شہروں میں بلدیات کے نلکوں پر ایک بالٹی ایک گھڑا بھرنے پر سر پھٹتے ہیں اور دیہات میں کھیت کو پانی لگانے کے سوال پر گردنیں کٹتی ہےں۔ پاکستان ان علاقوں میں شامل نہےں جو شدید خشک سالی کا شکار ہیں تاہم نہروں کے عظیم سلسلے کے باوجود اس کے وسیع رقبے پر کاشت کا دارو مدار بارانِ رحمت پر ہے۔ دنیا میں جو علاقے خشک سالی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ان میں افریقہ کے صحرائے اعظم اور مشرقِ وسطیٰ کے ریگستانی علاقوں کے علاوہ کوریا، بچوانا لینڈ، آسٹریلیااور امریکہ کے شمالی حصے شامل ہیں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ بیس سال میں پانی کی عالمی مانگ دُگنی ہو جائے گی۔ انسان یہ پانی کہاں سے حاصل کرے گا؟ کرہ ارض کا ستر فی صد رقبہ زیر آب ہے اور زمین پر ۲۳ کروڑ ۰۶ لاکھ ۱۷ ہزار تین سو مکعب میل پانی کے ذخائر موجود ہیں۔ ایک مکعب میل میں ۰۰۰۳۴۱۷۱۱۱۰۱۱ گیلن پانی ہوتا ہے۔ ان اعداد کی روشنی میں پانی کی کمی کا خدشہ مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی کی متذکرہ مقدار مین سے ۲۱. ۹۷فی صد سمندروں میں ہے۔ سمندر کا پانی نہ تو پینے کے قابل ہوتا ہے۔ اور نہ اس سے آب پاشی ممکن ہے۔ دو فی صد برف کی شکل میں منجمد ہے اور باقی ماندہ صرف ۸۱ فی صد دنیا والوں کے استعمال کے قابل ہے۔ لیکن انسان اس قلیل سی مقدار کے صحیح استعمال پر قادر نہیں۔ اور سیوریج اور صنعتی ضیاع کے باعث اس کے بڑے حصے کو ناقابل استعمال بناتا جا رہا ہے۔ روزانہ ۰۸۲ مکعب میل پانی کے بادل بنتے میں ان میں سے ۰۳۲ مکعب میل پانی خشکی سے بخارات میں تبدےل ہوتا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو ۰۱۲ مکعب میل پانی پھر سمندر میں جا گرتا ہے اور ستر مکعب میل بارش اولوں یا برف کی شکل میں زمین کے خشک حصوں پر گرتا ہے۔ اس میں سے ۰۲ مکعب میل دریاﺅں کے راستے دوبارہ سمندر میں شامل ہو جاتا ہے باقی ماندہ میں سے کچھ جذب ہو کر زیر زمین ذخائر میں شامل ہو جاتا ہے جو کنوﺅں وغیرہ کے باعث پھر سطح زمین پر لایا جاتا ہے۔ کچھ بادل بن کر اُڑ جاتا ہے اور کچھ پودوں کے عمل کی بدولت بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ (مثال کے طور پر مکئی کا ایک ایکڑ کا کھیت ہر روز چار ہزار گیلن پانی کو بخارات میں تبدیل کرتا ہے)۔ یہ چکر اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ اور پانی کی مقدار میں لاکھوں کروڑوں برس سے کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ تاہم پانی کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے نہ صرف یہ کہ دنیا کی آبادی بے تحاشا بڑھ گئی ہے بلکہ انسان نے رہن سہن کے طریقے بھی بدل لیے ہیں۔ اب گھر گھر میں باتھ ٹب، فلشڈش واشر اور واشنگ مشینیں اپنی جگہ پیدا کر رہی ہیں۔ پھر چونکہ پانی کے حصول میں ہر فرد کو محنت نہیں کرنا پڑتی اس لیے اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ نہیں رہا۔ آج کی ایک ماں اپنے بچے کی دودھ کی بوتل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جتنا پانی استعمال کرتی ہے دو سو سال قبل کی کوئی خاتون جو کوس بھر دور کنوئیں سے پانی بھر کر لاتی تھی اتنی مقدار پورے ہفتے میں بھی صرف نہیں کرتی تھی۔ان تمام تر فضول خرچیوں کے باوجود گھریلو استعمال میں آنے والے پانی کی مقدار کل کا صرف دس فی صد ہے پچاس فی صد زراعت پر خرچ ہوتا ہے اور چالیس فی صد صنعت پر۔ عام شہریوں کو غالباً علم نہیں کہ پٹرول کے ایک ڈرم کی تیار ی میں۰۷۷ گیلن ایک ٹن فولاد کی پیداوار میں ۵۶ ہزار گیلن اور ایک ٹن مصنوعی ربڑ تیار کرنے پر ۶ لاکھ گیلن پانی صرف ہوتا ہے۔ جوں جوں نئے صنعتی ادارے قائم ہوتے جا رہے ہیں پانی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے ۔

ہم کل پانی کا نصف حصہ زراعت پر خرچ کرتے ہیں لیکن اس میں سے بہت سی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ ایک تو اس لیے کہ ہماری نہریں اور ”کھالے“ وغیرہ کچے ہیں اور بہت سا پانی زمین میں جذب ہوتا رہتا ہے۔ پھر ہم بہت سی فصلوں کو ضرورت سے زیادہ پانی دیتے ہیں پانی کھیتوں میں کھڑا رہتا ہے، کچھ زیر زمین چلا جاتا ہے کچھ بخارات بن کر اڑ جاتا ہے، اور بہت کم پودوں کو ملتا ہے۔ تجربات شاہد ہیں کہ کھیت میں جتنا زیادہ پانی کھڑا رہے گا فصل کی نشوونما اتنی ہی سست ہو گی۔ لیکن چونکہ پانی کی ”باری“ عموماً ہفتے میں ایک یا دو بار ہی آتی ہے۔ اس لیے کاشت کار کھیتوں کو بہت سا پانی دیتے ہیں تاکہ اگلی باری آنے تک مٹی میں نمی رہے ۔ نمی تو واقعی برقرار رہتی ہے لیکن ایک تو فصل کی نشوونما سست پڑ جاتی ہے اور دوسرے بہت سا قیمتی پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس خرابی کا بہترین طریقہ فصلوں پر پانی کا چھڑکاﺅ ہے۔ یہ طریقہ اتنا مہنگا ہے کہ فی الحال عام کسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بعض ممالک نے پانی کی نالیوں میں پٹروکیمیکلز کی تہ چڑھانے کا تجربہ کیا ہے۔ اس کی بدولت پانی کی وافر مقدار زمین میں جذب ہو کر ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ بسا اوقات پانی کی زیادتی بھی پانی کے ضیاع کا باعث بنتی ہے، اس کی مثال عام طور پر ان علاقوں میں ملتی ہے۔ جہاں نہروں کے جال بچھا دئیے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی رہتی ہے۔ یہ پانی اپنے ساتھ زمین کی نمکیات کو اوپر لے آتا ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ اس علاقے کا پانی پینے یا آبپاشی کے قابل نہیں رہتا بلکہ وسیع رقبہ بھی سیم اور تھور کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف نئی نہریں کھود کر بنجر علاقوں کو زیر کاشت لایا جا رہا ہے۔ وہیں پاکستان کے دشمن نمبر ایک یعنی سیم اور تھور کے خلاف بھی جہاد جاری ہے۔ برسات کے دنوں میں جب کہ فصلوں کو پانی کی ضرورت نہیں ہوتی بارش کا بہت سا پانی دریاﺅں کے راستے سمندر میں جا گرتا ہے اگر اس پانی کو بند باندھ کر جمع کر لیا جائے تو یہی پانی خشک سالی کے دنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے تمام تر زرعی ممالک آج سیلابوں پر قابو پانے میں کوشاں ہیں۔ پانی کی قلت اب کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری دنیا اور انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی آج پانی کی قلت سے اتنا ہی پریشان ہے جتنا مشرق وسطیٰ کا کوئی پسماندہ ملک۔ اس وقت انسان کو جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ ان میں پانی کے ضیاع کو روکنا بھی شامل ہے کیونکہ اگر صاف پانی کی موجودہ رسد کو آئندہ بیس برس میں دُگنا نہ کیا گیا تو انسان خالص پانی کو ترستا پھرے گا۔ پانی قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے اور اس تحفے کو انسان کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی ہر کوشش میں تمام انسانوں کا تعاون و اشتراک ضروری ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: