عائشہ،ٹائم میگزین اورنئی صف بندی

تحریر:شاہد عباسی

"وہ بہت سی دیگر راتوں کی طرح ایک تاریک رات تھی ،حالات کی خرابی اور آدھی رات گزر جانے کے باعث پوراگائوں سوچکا تا  لیکن ارژگان صوبے کی اس بستی کے ایک گھر میں ابھی تک روشنی نظر آ رہی تھی۔اہلخانہ کے جذبات دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ غصے میں ہیں یا جھنجھلاہٹ کے مارے ان کی یہ حالت غیرہو رہی ہے۔یہ کیفیت خاصی دیر سےبرقرار تھی کہ اچانک دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز آئی ،جس نے سب کو مزید پریشان کر دیا مگر کوئی گنجائش نہ پاتے ہوئے اہلخانہ کی جانب سے دروازہ کھولا گیا توآنے والوںنے حکم جاری کیا "عائشہ”کے سسرالی اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر آئے ہیں۔اسے بلایا جائے،یہ اعلان نشر کر کے انتظار کرنے کے بجائے بے وقت آنے والے اس وفد کے سربراہ نے وہاں کھڑے کھڑے اپنا فیصلہ سنایاکہ "عائشہ اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر آئی ہے ،اس کا یہ اقدام قابل سزا ہے لہذااسے سامنے لایا جائے”۔یہ کہہ کر وہ گھر کے اندرداخل ہوئے ،عائشہ کو دبوچا اور اس حالت میں کہ اس کے بازو اسی کے دیور نے پکڑ رکھے تھے،منصف کی موجودگی میںاس کے شوہر نے پہلے کان اور پھر اس کی ناک کان ڈالی۔اس گھنائونی کارروائی میں ملوث افراد کے گروہ کی قیادت کرنے والے منصف کو مقامی طالبان لیڈر کے طور پر شناخت کیا گیا۔”


گزشتہ برس کی جانے والی یہ مبینہ کارروائی امریکی جریدہ ٹائم کی نو اگست کی اشاعت میں شائع ہونے والے شمارے کی کور اسٹوری ہے جس کے ساتھ [عائشہ]نامی ایک لڑکی کی تصویر بھی دی گئی ہے۔ٹائم کے رائٹر آریان بیکرکے بقول [عائشہ]اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر بوجوہ اپنے والدین کے پاس آ گئی تیہ لیکن اسے وہآں بھی امن سے رہنے نہیں دیاگیا ۔اسٹوری کی ہائی لائٹس کے ساتھ ہی ٹائم کے مینیجنگ ایڈیٹررچرڈ اسٹینگلز کا قارئین کے نام یہ پیغام موجود ہے کہ ‘یہ واقعہ دس برس قبل طالبان کے دور حکومت میں پیش نہیں آیا بلکہ ایک برس قبل پیش آیا ہے’،ظلم کا شکار عائشہ ان کے بقول اس وقت کابل کے ایک خفیہ خواتین مرکز میں رہائش پزیرہے’۔

رچرڈنے اتنا لکھنے کے بعد براہ راست کرزئی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘گزشتہ مہینے ہی مصالحتی کونسل بنانے اورطالبان سے مفاہمت کے لئے نئے سرے سے تیاریاں کرنے والی کرزئی انتظامیہ کو یہ بات یاد کیوں نہیہں رہتی کہ

What Happens If We Leave Afghanistan’

اور یہی جملہ "عائشہ "نامی نوجوان لڑکی کی تصویرکے ہمراہ آئندہ ہفتے[8اگست کو]شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے سرورق کی زینت بھی بنایا گیا ہے۔” مصنف کو یہ شکایت بھی ہے کہ”اگر امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں افغانستان سے نکلنے کے لئے پلنے والے منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہاں سے فوج کو واپس بلا لیا جاتا ہے تو افغان خواتین سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔ان میں سے بدکاری میں ملوث عورتوں کو پھر سنگسار کیاجائے گااوربغیر پردہ کے باہر نکلنے والیوں کو پردہ کی پابندی کروائی جائے گی”۔

عائشہ کے ساتھ بیتنے والا واقعہ اگر سچا ہے اور اس میں سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو جیسا کوئی پھندا موجود نہیں تو یقینا یہ ایک گھنائونا کام ہے،خواہ سے انجام دینے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو۔لیکن ٹائم جیسے میگزین کی جانب سے جسے مشہور زمانہ صیہونی ملکیتی ادارے سی این این کی پشت پناہی بھی حاصل ہےموجود وقت میں یہ اسٹوری سامنے لانا اور اس انداز میں واضح پیغام دینا کچھ اور ہی جتلا رہا ہے۔

مغربی میڈیا باالخصوص بلاگز اور ویب سائٹس پربرملا یہ تبصرے کئے جا رہے ہیں کہ ٹائم نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے منصوبے اور طالبان سے مفاہمت کے متعلق جاری بحث کو منطقی انجام تک پنچا دیا ہے۔جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ کو طالبان سے مذاکرات اور افغانستان سے فوج نکالنے کی "حماقت”کرنے کے بجائے پہلے سے ذیادہ سنگین قدم اٹھانا چاہئے۔

معاملہ محض ٹائم کی اسٹوری تک رہتا تو شایداتنا گھمبیر نہ ہوتا مگرچند روز قبل وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے خفیہ کاغذات،دو روز قبل پوسٹ کی گئی پراسرار انشورنس فائل اور اس تمام واقعے میں پاکستان اور خاص طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کرنا اس امر کی نا ندہی کرتا ہے کہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں جسے عورتوں کے حقوق کی حفاظت قرار دے کر ہضم کر لیا جائے[اگر یہ حقیقت میں عورت کے حق کی حفاظت ہوتی تو بھی گورا ہو سکتا تھا،لیکن یہ ہاتھی دانت دکھ رہے ہیں،جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں]۔

برطانیہ کی جانب سے حال ہی میںمسئلہ کشمیر کو اپنا پیدا کردہ مسئلہ تسلیم کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے بھارت کی زبان بولتے ہوئے افغان حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا،دہشت گردی کو ہماری ریاستی پالیسی قرار دے کر امورٹ بند کرنے کا مشورہ،چند ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور خصوصی ایلچی رچرڈ ہارلبروک کی موجودگی میں بھارت کو تجارتی راہداری مہیا کرنے کا ہنگامی معاہدہ کروانا،امریکہ کی جانب سے بھارت کو نیو کلئیر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے چھ معاہدے ایک ہی روز طے پانا،تمام تر احتجاج کے باوجود آئی ایس آئی کے اعلی سطحی وفد کی جانب سےڈیوڈکیمرون کے روئے پر برطانیہ جانے سے انکارمگر صدرمملکت کی جانب سے اقرار،جولائی کے مہینے میں افغانستان میںبڑھتی مزاحمت کے نتیجے میں66امریکی فوجیوں کی ہلاکت،شمالی علاقوں میں اچانک بڑھ جانے والے ڈرون حملوں ،اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے متعلق امریکی حکام کے بیانات،بلوچستان کی شورش میں اضافے،قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے پیدا ہونے والے ردعمل کو پاکستان کی ایٹمی قوت عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی دھمکی قرار دینے،اوباما کی جانب سے الیکشن میں افغان جنگ ختم کرنے کے وعدے سے لے کر سترہ ہزار اور بائیس ہزار مزید فوجی یہاں بھیجنے کے اعلان کے بعد اس جنگ کو اوباما کی جنگ قرار دینے کی قلابازی،کینیڈا کے افغانستان میں سابق سفیر اور اقوام متدرہ مشن کے ڈپٹی کرس الیگزینڈر کی جانب سے جنرل کیانی کی سربراہی میں پاکتاینی فوج کو بلوچستان کی شورش پر قابو پانے،انڈیا کو افغانستان سے نکالنے اور قبائیلیوں کو رام کرنے کے لئے گوریلا جنگجوئوں کی حمایت اورانہیں اسپانسر کرنے کے پرانے دعوے کے ازسرنو دہرائے جانے،فروری میں ملابرادر وغیرہ کی گرفتاری کو ان کے امریکہ کی جانب جھکائو اور پاکستانی فوج کے اثر سے آذاد ہو جانے سے تعبیر کرنے،بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی ایماء پر آپریشن سے پاکستان فوج کے انکارکو امارت اسلامی افغانستان کا بچائو قرار دینے،اور ان تمام واقعات کے نتیجے کے طور پر اتحادیوں کی جانب سے "سنجیدہ کارروائی”کا مطالبہ اپنے اندر اتنی کچھ معنویت ضرور رکھتا ہے جو سرسری نظر ڈالنے والے کو بھی بہت کچھ سمجھا جائے۔


ٹائم میگزین کی جانب سے اٹھارہ سالہ عائشہ کو اپنے سرورق کی زینت بنانا اور اس پر بیتنے والے المیہ لمحات کا ذکر افسوسناک ہی نہیں اپنے اندر بہت سارے سوال بھی رکھتا ہے۔جن کا جواب آج نہیں تو کل ان سب کو دینا ہو گا جو اپنے اپنے مفاد کے لئے ایک کام کو جائزیانارروا قرار دیتے ہیں مگر جب اس سے ان کے کسی مخالف کو فائدہ پہنچے تو اسے یکلخت حرام یاپھرقابل قبول قرار دے ڈالتے ہیں۔اور اس سارے مرحلے میں دلچسپ ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ہر لمحہ دو انتہائوں پررہنے والے انتہاپسندی کاالزام بھی اپنے مخالفین یعنی مسلمانوں پر لگاتے ہیں

عورت ہی نہیںدنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والی کوئی بھی ذی روح مخلوق یقینا اس لائق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے،ادب واحترام روا رکھا جائے،جسمانی تشدد دور کی بات اس کے متعلق نازیبا کلمات تک کہنے سے قبل ہی اپنی زبانوں اور سوچوں پر پہرے بٹھالئے جائیں۔ خرابی پید اہو جانے کے بعد مرض کی روک تھام کے نام پر خرابہ پیدا کرنے کے بجائے تعلقات پہلے ہی فطری حدوں میں رکھے جائیں۔لیکن نہ جانے کیوں یہاں آ کر ذہن امریکی پالیسی سازوں کی منطق پر حیران ہوتا ہے جو میڈیا کے زور پر مہم چلا کر "عائشہ”کے نام پر افغانستان میں جاری بونا اپارٹازم[سفاکیت کے لئے استعمال ہونے والی مغربی اصطلاح} کو تو جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر اسی کی ہم مذہب”عافیہ”کے ساتھ خود اس سے بھی ذیادہ "سلوک” روا رکھتے ہیں۔ افغانستان میں مبینہ طالبان کی جانب سے کئے گئے”کارنامے”کی نشاندہی تو ٹائم نے کردی،جس کی تردید یا تائید میںفریق مخالف کی کوئی رائے موجو دہی نہیں جو ان پر فرد جرم عائد کر سکے۔مگر سب کے سامنے کئے گئے اس کارنامے کے متعلق کیا کہاجائے جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ سے اغواء کے بعد،بگرام ائیر بیس،قندھار جیل،امریکی عدالت اورزنداںنمانفسیاتی مرکز میں عافیہ پر روا رکھا گیا،وہ جرم پس پردہ سہی مگر یہ تو سردیوارہوا ہے ۔

اس پر کیا ٹائم اپنے آقائوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ جب تک امریکی عدالتوں سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی،عام امریکی نفسیاتی امراض سے جان نہیں چھڑاتا،ملک پر عائد قرض،لاقانونیت،ہر بارہویں منٹ میں ہونے والی ڈکیتی،ہر نصف گھنٹے  میں لٹنے والی کسی عورت کی عزت،بغیر شادی کے ماں بننے والی18برس سے کم عمر لڑکیو ں کا تناسب کم نہیں ہو جاتا ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔یقینا ایسا ہونا مشکل ہے تا ہم پھر بھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سب کو نظر آنے والی وہ تصویر جس میں امریکا خود مجرم نظر آتا ہے جب تک دھندلاہٹ سے پاک نہیں کر لی جاتی اس تصویر کے کسی ایک رنگ کی موجودگی پر دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بعید نہیں کہ عالمی اداروں اور امریکی تھنک ٹینکس کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق امریکی معاشرے میں پنپنے والے قبیح جرائم پر جس روز وہاں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دنیا کے تمام ممالک کی عوام اپنے لئے انصاف ڈھونڈنے کو خود ہی اٹھ کھڑے ہوں۔

یا پھراسے روسی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار اورماسکو کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ماہر کی پیشنگوئی کے مطابق آئندہ برس امریکے کے ٹکڑے ہونے سے تعبیر کر کے خاموشی سے دیکھا جاتا رہے۔

معاملہ جس کروٹ بھی بیٹھےکے یہ طے ہے کہ فیصلہ کرنا ہی ہو گا ،ورنہ آج اگر اسے ٹالا گیا تو کل شاید یہ زبردستی کرنا پڑے ،مگر اس وقت اختیار نہیں مجبوری سے کیا جائے گا۔فیصلہ اب ان کے ہاتھوں میں ہے،اختیار یا مجبوری۔۔۔۔؟؟؟

Advertisements

6 responses to this post.

  1. سيارہ پر ايسے قلمکار کی اشد ضرورت تھی کيونکہ ميں اب بوڑھا ہو چکا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ميرا کام دو چار جوان سنبھال ليں ۔ ليکن يہ کام بہت کٹھن ہے ۔ ہمارے بھائی مدہوش پڑے ہيں ۔ انہيں مشرق کی بجائے مغرب ميں سورج نکلتا نظر آتا ہے

    گرچہ بُت ہيں جماعت کی آستينوں ميں
    مجھے ہے حُکمِ اذاں لا الہ الاللہ

    جواب دیں

    • محترم افتخار اجمل صاحب
      عزت افزائی کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے حصے کی شمع جلانے کا کام جاری رکھے ہوئی ہیں توقع ہے کہ بہتری اور امید کی کرن یہیں سے طلوع ہو گی۔بس۔آپ جیسے فکر رکھنے والےسینئیرز کی رہنمائی درکار ہوگی۔

      جواب دیں

  2. Posted by sagar suhindero on 03/08/2010 at 10:24 صبح

    zabardast shahid bahai… aap ka tajziya or tasweer ke doosre rukh dikhane wali koshash jhutlane wali nahin hai.is bat se har giz inkar nahin kiya jata kai 10 saloo se aafia pe zulm karne wala amrica ab Afghanstan, PAksitan ya ksi or islamic mulk me aurto k 7 mubina tashadud ko jawaz bana kar islam or ,muslmano ko badnam kar raha hai..
    aap ke blog me russian egacny ka hawal diya gaya jo yaqeenan ab haqeeqat me tabdeel hne ki taraf barh raha hai
    aap ke mazid blogs ka intzar rahega…………..jazak allah

    جواب دیں

    • محترم ساگر صاحب
      کمنٹس کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بطور قلم کار اپنا فرض نبھایا ہے،توقع ہے کہ اندھیرا پھیلانے کی کوشش ناکام کرنے کی یہ سعی وہاں کام آئے گی جہاں کوئِ اورکام نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      امریکا اوراس کی زیرسرپرستی خون مسلم کی ارزانی اب الزام نہیں ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے،جو مغرب کے سوال باقی تمام اقوام کو نظر آ رہی ہے

      جواب دیں

  3. nice article Mr .kash hamari qoam ke tarah hamarey hukmaran bhi samagh jaen ke ham apni hahoan apna nuqsan kar rahey hain.
    is bat ka kitna imkan hai ke amrica pakistan par direct hamla kar daey ga.

    جواب دیں

    • محترم علی ستار عباسی صاحب
      کمنٹس کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      سمجھ آ تو جائے گی لیکن شاید اس وقت فیصلہ کا وقت گزر چکا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      امریکا پاکستان پر ڈائریکٹ حملہ کرے گا نہیں کر چکا ہے یہ بات حملہ کرنے والاجانتا ہے اسے بھگتبے والے بھی ،ہاں اگر نہیں جانتے تو ہمارے وزیرداخلہ مسٹر رحمان ملک یا ان کے دیگر دوست ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      حالیہ واقعات کے بعد یہ خدشہ ہے امریکی کارروائی کا دائرہ کار پھیل کر ملک کے دیگر علاقے کو اپنی لپیت میں لے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ طے ہونا باقی ہے کہ کارروائی کرنے والے پاکستانی ہوں گے یا امریکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس دن معاملات طے پا گئے اس روز منظر مزید واضح ہو جائے گا۔

      جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: