مریم کی روزہ کُشائی

حامد الرحمن

 60 سال کے لگ بھگ عمر رسیدہ خاتون کمرے سے نکل کر برآمدے میں داخل ہوئیں۔ ایک بوڑھی اور مجبور ماں کے چہرے پر جدائی کے آثار نمایاں تھے لیکن ممتا کی آنکھوں میں موجود امید کی کرن دل شکستہ افراد کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔ بچے کو معمولی سی چوٹ لگ جائے تو ماں کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ اولاد کی جدائی کا غم انسان کو اندر ہی اندر گھلائے جاتا ہے۔ عمر رسیدہ خاتون صبر اور استقامت کا پہاڑ تھی۔

 نانی کے ہمراہ 10 سالہ بچی بھی موجود تھی جس کی روزہ کشائی کے لیے یہ سادہ سی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ شاید نانی کے صبر اور حوصلے نے اس معصوم سی بچی کو بھی پہاڑ جیسا حوصلہ اور عزم عطا کردیا تھا۔ روزہ کشائی کی اس سادہ سی تقریب نے ممتا کی جدائی کے زخم ایک بار پھر تازہ کردیئے۔

Maryam daughter of Dr Afia Siddiqui


 

 

 

 

 

 

 

 

 

جی ہاں! یہ وہی مریم ہے جسے 30 مارچ 2003ءکو کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے قوم کے ”محافظوں“ نے والدہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دو بھائیوں کے ہمراہ اغوا کرلیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی…. پاکستانی ضمیر پر ایک بہت بڑا سوال ہیں۔

 قوم کی عزت مآب بیٹی آج جس حال میں ہے وہ غیرت مندوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن کیا ہم غفلت کی اتنی گہری نیند سوچکے ہیں کہ بڑے سے بڑے سانحات اور حادثات بھی ہمیں بیدار نہیں کرسکتے؟ یا ذلت کی اس پستی میں پہنچ چکے ہیں جہاں غیرت اور عزت جیسے الفاظ بھی بے معنی ہوں؟ آج قوم کی بیٹی جس حال میں ہے کوئی بھی غیرت مند اپنی بیٹی اور بہن کو اس حال میں دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ آج عافیہ صدیقی ایک اور محمد بن قاسم کی منتظر ہے۔

MAryam daughter of Dr Afia siddiqui


 

 

 

 

 

 

 

 

 

مریم نے ایسے حالات میں اپنی زندگی کا پہلا روزہ رکھا ہے جب ان کی والدہ سے اسکارف اور قرآن چھین لیا گیا ہے، روزہ رکھنے اور نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، قید ِ تنہائی کے نام پر وکیل اور خاندان کے افراد سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مریم سے اس کی ماں چھین لی گئی ہے۔ مریم کی آنکھوں میں آج صرف ایک ہی سوال ہے: کیا اس کی مما واپس آئیں گی، کیا اسے ممتا کی آغوش ملے گی؟ مریم کا یہ سوال حکومت سمیت ہر پاکستانی پر قرض ہے۔

 ڈاکٹر عافیہ کے گھر سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور ابوالحسن اصفہانی روڈ موڑ کاٹتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر آگیا۔ سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں، ہر طرف رواں دواں زندگی کا شور…. آخر ہم کب بیدار ہوں گے؟ یکدم میرے ذہن میں سوال ابھرا: کیا ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ سانحات در سانحات بھی ہمیں بیدار نہیں کرسکتے؟

یونیورسٹی روڈ پر اشارے کی لال ہوتی ہوئی بتی نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا۔ کیا ہم آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں؟ میں لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم پر نظریں ڈالتے ہوئے بڑبڑایا۔ لیکن یہ لاپتا افراد کے والدین در در کی ٹھوکریں کیوں کھا رہے ہیں؟ آخر ان کے بیٹوں اور بزرگوں کو کس نے ڈالروں کے عوض بیچ ڈالا؟ شاید ہم 63 سال بعد بھی آزاد نہیں۔

  

Advertisements

2 responses to this post.

  1. اچھا لکھا ہے آپ نے ۔
    کاش ہمارے لوگوں کو سمجھ آ جائے اتنی سی بات

    جواب دیجیے

  2. hamid sahab nice article.ALLAH karey ke is mazlom buzurg khatoon ko jald uski baitee se milna naseeb ho jaey aor Maryam ko azad fazaon main apni maan ka piyra mil jaey.yeh tea hai ke is zulm main shareek logon ko yahan na sahi eik din ADALAT main zaror apne afaal ka hisaab dena ho ga

    جواب دیجیے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: