اسرائیل ان پاکستان

تحریر:شاہد عباسی

Israel in Pakistanخون کی قیمت پرمحبت کے زمزمے بہانے کی ایک نئی کوشش

”جب تک اسرائیل اور پاکستان کے درمیان معمول کے ڈپلومیٹک تعلقات پیدا نہیں ہو جاتے ۔یہ آن لائن ایمبیسی اسرائیل اورپاکستان کی اقوام کے درمیان دوستی بڑھانے کا کام کرے گی۔امید ہے کہ ہم جلد ہی پاکستان اور اسرائیل میں حقیقی سفارت خانے قائم کر لیں گے،شالوم“یہ الفاظ مستقبل میںکیا منظر تشکیل دیں دے،شاید اس کے متعلق اس وقت کوئی اندازہ لگانا قنبل ازوقت ہو،لیکن جو بات طے ہے وہ یہ کہ ان لفظوں کا خالق یا اس پس پشت سرگرم گروہ آئندہ کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی رکھتا ہے۔

زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے ہر لمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے خواہاں بھارت سے دیرینہ دشمنی کی پینگیں بڑھانا اب گویا حکمرانوں اورمخصوص طبقات کا شوق سا بن گیا ہے۔لیکن یہ معاملات کبھی بھی مصنوعیت سے آگے بڑھ کر عوامی پزیرائی حاصل نہ کر پائے تھے۔متعلقہ اداروں،تنظیموں اورافراد کی جانب سے ان فالتو کی مشقوں کا خاطر خواہ نوٹس نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب معاملہ پاک،بھارت نہیں بلکہ پاک اسرائیل دوستی تک جا پہنچا ہے۔اس کے لئے مشرف دور کی طرح حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے ایک خالصتا عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہراس گروپ کو سپورٹ کی جائے یا ان کے عشق میں مبتلا رہا جائے جو ملک کی اساس کا مخالف ہو،یہ پاکستانی عوام نے تو نہیں تا ہم حکمرانوں نے اپنا نصب العین بنائے رکھاہے۔باوجودیکہ اس پالیسی نے آج تک ملک کو کوئی فائدہ نہیں دیا،ارباب اختیار اسے ہی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔1965ءمیںعین حالت جنگ میں امریکہ کی بے وفائی سامنے ہونے کے باوجود ہر ہر قدم پر اپنے دیرینہ دوست چین کو مایوس کیا گیا،دنیا کے دوتہائی وسائل کے مالک مسلم ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے روس،فرانس وغیرہ کی صورت بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔حتی کہ ایڈہاک ازم پر مبنی ا س پالیسی نے یہ دن دکھا دئے کہ سینکڑوں میل طویل مغربی سرحدی پٹی جس پر کبھی ایک سپاہی کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کا ٹھکانہ بنا دی گئی۔


حالیہ واقعہ جو ایسے ہی اقدامات کا تسلسل ہے میں اسرائیل کو پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے انٹرنیٹ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وہ اسرائیل جس نے بلوچستان کی شورش ہویامشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دلگداز سانحہ،مقبوضہ کمشیر میں بھارت کی کھلے چھپے امداد کر کے تحریک آزادی کو سبوتاژکرنے کا معاملہ ہو یاافغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش،ہر موقع پر دامے،درمے،سخنے آگے بڑھ کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بنائے گئے صفحہ کا نام”Israel in Pakistan“رکھا گیا ہے۔اس پر کچھ شرکاءنے اعتراض بھی کیا کہ اسے تبدیل کر کے ”Israel and Pakistan“رکھا جائے تا ہم منتظمین نے ضعیفی کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔مذکورہ صفحہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے عالمی توسیع کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں وہ (خام بدہن)اپنی سرحدوں کو اس حد تک پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمان کے بھی مقدس ترین مقامات ”مکہ ومدینہ“کو بھی اپنے اندر سمو لے۔

اسی نام سے ملتے جلتے صفحات ”اسرائیل ان یورپ،امریکا،ایشیا،یو این،افریقہ“کے لئے بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر چہ ان صفحات کو بنانے والوں نے خود ”اسرائیلی سفارت خانوں“سے تعبیر کیا ہے ۔تاہم سفارت کاری ہے کیا،ایک مثال اس کی بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔مذکورہ بالا صفھات میں سے اکثر پر رجسٹرڈ ہونے کے ناطے ممکنہ طور پر ان کے منتظمین میں سے ایک یا کم از کم ان کی ایماءپر ایک اسرائیلی بل بزلی ہرزہ سرائی کرتا ہے”تم (مسلمان)ذہنی طور پر پسماندہ ہو،محمد(ﷺ،نعوذباللہ)ایک صحرائی لٹیرے تھے،جس نے نہ کبھی لکھا نہ پڑھا،(قرآن کے متعلق لکھتاہے)اس کی یہودی بیوی صفیہ بنت حیان کے لئے لکحا کرتی تحی جسے وہ ایک یہودی قبیلے سے سترہ برس کی عمر میں اغواءکر کے لے آئے تھے(اگر چہ مزکورہ بالاجملے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے تا ہم اس کے بعد کی کچھ سطریں معاذاللہ رحمت للعالمینﷺ پر انتہائی گھناﺅنے الزامات پر مشتمل ہونے کے سبب نقل کرنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔حذف کر دئے گئے جملوں کے بعدآگے کی عبارت ہے)تم مسلمان اس لئے اندھیروں میں زندہ ہو کے تم ایک ایسے ان پڑھ کی پیروی کرتے ہو جو خدا کی جانب سے اس وقت رہنمائی ملنے کا دعوی کرتاتھا جب سب سو رہے ہوتے تھے“

Israels effort to friendship with PAkistan and muslim countries .but on wich cost

پاکستان اور مسلم ممالک سے اسرائیلی تعلقات کے قیم کی کوشش مگر کس قیمت پر

راقم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ”جے ٹی اے“نامی نیوز سے وابستہ ادارہ اس امیج بلڈنگ مہم کو چلانے پر مامور کیا گیا ہے۔نیویارک کے مشہور زمانہ سیونتھ ایونیوپر واقع صدر دفتر کے ساتھ مذکورہ ادارہ واشنگٹن ڈی سی کے ورمونٹ ایونیو پر بھی اعلانیہ دفتر رکھتا ہے ،جب کہ دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹرز اورنمائندوں کے نام پر اپنا خفیہ اوراعلانیہ نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔یہودیوں کے لئے عالمی نیوزسروس کی ٹیگ لائن رکھنے والے اس ادارے کے نمائندے یروشلم،ماسکوسمیت دنیا کے درجنوں بڑے شہروں میں موجود ہیں۔دنیا بھر کے 100سے زائد نمایاں اداروں یہودی اشاعتی اداروں کو اس کی نیوزسروس مہیا کی جاتی ہے۔اگر چہ جے ٹی اے اپنے آپ کو ایک Not for Profitادارے کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم وہ اپنی آمدن کے متعلق کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ماسوائے ورلڈزوئینسٹ آرگنائزیشن اور اس جیسے کچھ خالصت ایہودی اداروں کو اپنا فنڈنگ سورس ظاہر کرنے کے تاہم یہ اکلوتا ادارہ نہیں جو اس مہم کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔

اسرائیل ان پاکستان نامی گروپ کے موثر ہونے کا اندازہ ان کے ایک پوسٹ پر دئے گئے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایڈمن ایک ممبر کے پاکستانی ہو کر اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے”چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رکھا اس لئے آپ اپنے قریبی سفارت خانے(دہلی،بھارت)سے رابطہ کریں انیں درخواست دیں وہ ویزہ جاری کر دیں گے“

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جو کام حکومتوں حتی کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں سے نہ ہو سکا وہ اب نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی یہ کوشش حسب سابق انسانی حقوق اوربرابری کے نام نہاد نعروں کے گرد رہ کر کی جا رہی ہے تا ہم ایسا کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نام نہاد”ہولوکاسٹ“کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے،بچوں کو تہہ تیغ،عورتوں کی عزت لوٹنے اورمسلم بزرگوں حتہ کہ معذوروں تک کو زندہ رہنے کا حق نہ دینے والا اسرائیل اچانک سے انسانی حقوق کا اتنا بڑا علمبردار کیسے بن گیا۔

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

Advertisements

7 responses to this post.

  1. Posted by soobia blouch on 12/11/2010 at 10:04 شام

    عبداللہ شاہ غازی کے دشمن کون؟
    یہ کالم ہر باشعور کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے

    جواب دیجیے

  2. Posted by nazar haffi on 11/10/2010 at 12:22 صبح

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    عبداللہ شاہ غازی کے دشمن کون؟
    دشمنی ہو نہیں جاتی بلکہ دشمنی کی جاتی ہے
    نذر حافی
    nazarhaffi@yahoo.com
    گزشتہ دنوں میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب دو خود کش دھماکے ہوئےجن میں دس افراد جاں بحق جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ مزار کے مرکزی دروازے پر ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ مزار کے اندرونی حصے میں ہوا۔ اس موقع پرایک مرتبہ پھر لوگوں کے آنسودیکھنے کو اور حکمرانوں کے رٹے رٹائے بیانات سننے کو ملے۔جیساکہ وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذولفقار مرزا نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے کی جگہ سے دو سر ملے ہیں اور یہ دونوں دھماکے خودکش ہیں۔صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ سیکورٹی کی صرتحال کو بہتر بنائے۔پورے ملک میں جب بھی اس طرح کا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو حکمران اسی طرح کے بیانات دے کر اپنادامن چھڑالیتے ہیں،حالانکہ ہر باشعور آدمی یہ سمجھتاہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص کسی کو بلاوجہ اور دشمنی کے بغیر قتل نہیں کرتااور یہ بات بھی واضح اور روشن ہے کہ دشمنی خواہ مخواہ نہیں ہوجاتی بلکہ دشمنی کی جاتی ہے۔اگر ملک میں کبھی کبھار یا اکا دکا خود کش دھماکے ہو جاتے تو ہم مان جاتے کہ یہ دھماکے وقتی طور پر جذبات میں آنے والے چند ناسمجھ اورمٹھی بھر دہشت گردوں کی کاروائی ہیں،اگر یہ دہشت گردانہ کاروائیاں کسی ایک طبقے یا چند طبقات تک محدود ہوتیں تو ہم انہیں بعض قبائل کی باہمی چپقلش،صوبوں کے باہمی تناو ،سیاستدانوں کی ناسمجھی یا چند متعصب ملاوں کی فرقہ وارنہ مڈبھیڑ کہہ کر ٹال دیتے۔۔۔لیکن۔۔۔ پاکستان میں تو صورتحال بالکل مختلف ہے،یہاں پر ایسے لوگ سرگرم عمل ہیں،جن کی دشمنی کسی ایک مکتب فکر یا کسی ایک گروہ تک محدود نہیں،ان کے ہاتھوں جس طرح چرچ کو خطرہ ہے اسی طرح مساجد بھی غیر محفوظ ہیں،جس طرح امام بارگاہیں خاک و خون میں غلطاں ہیں اسی طرح اولیاء کرام کے مزارات بھی ،انہوں نے جس طرح افغا نستان میں وحشت و بربریت کے ساتھ تاریخ و تمدن کے آثار مٹادیے یہ آج اسی طرح پاکستان میں بھی اولیاء کرام کے مزارات مٹانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ان کے جرائم اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ کسی ایک دینی یا سیاسی گروہ کے مخالف نہیں بلکہ یہ انسانی تہذیب و تمدن اور اسلامی معاشرے کے استحکام کے دشمن ہیں اور ان کی یہ منظم مجرمانہ کاروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی یہ دہشت گردانہ کاروائیاں ،ان کی جہالت،پسماندگی اور ناخواندگی کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ بلیک واٹر،موساد اور سی آئی اے کے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق دین اسلام اور ملت پاکستان کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ان کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ جہاد کا نام لے کر اور مجاہدین کی عبااوڑھ کرپاکستان کے اندر تمام فوجی و سول مقامات ،دینی و مذہبی محافل و مجالس،سیاسی اجتماعات،مساجد و امام بارگاہوں نیز تمام شعبہ ہای زندگی کو دہشت گردانہ کاروائیوں کی زد میں لا کر پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کیا جائے اور اس طرح نہ صرف یہ کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات براہ راست امریکہ کے کنٹرول میں دیے جائیں بلکہ اسرائیل کو بھی تسلی و تشفی دی جائے۔آج ضرورت ہے کہ لوگوں کو صاف الفاظ میں کھل کر یہ بتایا جائے کہ عبداللہ شاہ غازی رح کے مزار پر حملہ کرنے والےعبداللہ شاہ غازی کے دشمن یہ وہی بے دین لوگ ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کے آثار مٹادیے اورجنہوں نے جنت البقیع کے مزارات کو منہدم کردیا،جو خود تو افغانستان میں افیون اور چرس پر پلتے تھے جبکہ لوگوں کو داڑھی نہ رکھنے پر کوڑے مارتے تھے ،صدام کی طرح ان کے عشرت کدوں میں ہر حرام حلال اور ناجائز جائز ہوتا تھا لیکن نہتے اور بے افغانیوں کی ہر روز شریعت کے نام پر کھال کھینچتے تھے،یہ نام بدل بدل کر آئے روز عراق کے گلی کوچوں میں نہتے مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگتے ہیں اور انہوں نے کاظمین و سامراء کا سکون تہہ و بالا کر رکھا ہے ۔انہوں نے کشمیر میں جہاد کے نام پر کشمیری مسلمانوں پر جومظالم ڈھائے ہیں وہ کسی طور بھی ڈوگرہ فوج کے مظالم سے کم نہیں ،انہوں نے جس طرح پاکستان میں خنجروں اور تلواروں کے ساتھ لوگوں کی گردنیں کاٹی ہیں اسی طرح کشمیر میں بھی نام نہاد عدالتیں قائم کر کےکتنے ہی بے گناہ کشمیریوں کو درختوں کے ساتھ لٹکا کر گولیاں ماری ہیں۔ یہ امریکہ کے اصلی و نسلی غلام آج پاکستان میں ایک مکمل امریکہ نواز ریاست تشکیل دینے کے لئے اپنے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کا منہ دیکھنے کے بجائے خود اپنے ملک کا محافظ اور پاسبان بن جائے اور کسی گلی، محلے یا بازار میں کسی بھی شخص کو اپنے ملک میں نفرت کے بیج نہ بونے دے۔اب ہر پاکستانی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ پاکستان میں نفرت کے بیج بونے والے خواہ مخواہ نفرت کے بیج نہیں بو رہے بلکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔یہ صرف عبداللہ شاہ غازی کے دشمن نہیں بلکہ پاکستان کی مقدس سرزمین کے دشمن ہیں۔

    جواب دیجیے

  3. Posted by Aneela Munir on 15/09/2010 at 4:18 شام

    ..We hate israel and its policies

    جواب دیجیے

    • محترمہ انیلہ منیرصاحبہ
      بلاگ پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      انسان ہو یا اقوام یہ ان کی پالیسیاں ہوتی ہیں جو انہیں دنیا اوراہل دنیا کی نظروں میں قابل نفرت بنا دیتی ہیں

      جواب دیجیے

  4. Posted by salman ali on 15/09/2010 at 11:43 صبح

    Well done, said detail and facts are also worth mentioning but Still more facts and figures are needed to strengthen the issue. This issue must be spread and the major conflict between israel and muslim ummah must be highlighted.

    جواب دیجیے

    • محترم سلمان علی صاحب
      بلاگ پسند کرنے کا شکریہ۔مجھے آپ کی رائے سے اتفاق ہے کہ یہ موضوع مزید کام کرنے کا متقاضی ہے۔۔۔۔۔توقع ہے کہ بلاگ پڑھنے والوں کے لئے رائٹرز کی جانب سے جلد اسی موضوع پر مزید مواد دستیاب ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      شاہد عباسی

      جواب دیجیے

  5. Nice and timely identification Mr.Shahid Abbasi.I think Pakistan government must stop these kind of activities. If they did not react that’s ,mean they are involved in shameful act. Israel was terrorist, Israel is Terrorist and Israel will be a Terrorist state..

    جواب دیجیے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: