خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل

….حامد الرحمن….
”دنیا میں بہت دکھ ہیں۔ یہاں کوئی بھی اپنا نہیں بنتا۔ بچوں کی بہت ساری خواہشات ہیں جنہیں پورا کرنا مشکل ہے اور مہنگائی کے اس دور میں جب ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہو تو خواہشات کیسے پوری کی جائیں! میرے پاس ان کے معصوم سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ بس ایک ہی راستہ ہے جس پر چل کر تمام مشکلات سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے، خدا کے لیے مجھے معاف کردیا جائے۔“
یہ ایک ماں کی آخری تحریر ہے جس نے انتہائی غربت کے سبب اپنے معصوم بچوں سمیت ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی تھی۔

یہ اپریل 2008ءکا واقعہ ہے۔ لاہور کی پسماندہ بستی ملکہ کالونی کی بشریٰ نے اپنے دو بچوں چار سالہ صائمہ اور پانچ سالہ زبیر کے ہمراہ ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔
بشریٰ اپنے محنت کش شوہر کے ہمراہ ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں رہتی تھیں۔ اس کا شوہر ویلڈنگ کی دکان پر ملازم تھا۔ روزانہ 100 روپے اجرت میں وہ 8 افراد پر مشتمل کنبہ کی کفالت کررہا تھا۔ لیکن کم آمدنی اور غربت کے باعث ان کی روزمرہ کی ضروریات بمشکل پوری ہوتی تھیں۔ جبکہ بعض اوقات بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی نہیں ہوپاتا تھا۔ بشریٰ کے شوہر کے تین بہن بھائی بہنیں ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کے بعد متاثرہ خاندان کے لیے 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا اورساتھ ہی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے دور میں غربت کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔ انہوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں گے کہ لوگ غربت کی وجہ سے خودکشی پر مجبور نہ ہوں۔

اس واقعہ کے 6 ماہ بعد ہی نومبر 2008ءمیں کراچی میں غربت اور بدحالی سے تنگ آکر3 خواتین نے اپنے 8 لخت ِجگر ایدھی سینٹر کے حوالے کردیے۔ لیکن کیا وزیراعظم اپنا وعدہ بھول گئے؟ کیا غربت کے باعث خودکشیوں میں کمی واقع ہوئی۔ ہمیں وزیراعظم کے غربت مکاﺅ منصوبے کا تو نہیں معلوم، البتہ غریب مکاﺅ منصوبے کا ضرور معلوم ہے، کیونکہ موجودہ حکومت کے 2 سالہ اقتدار کے دوران مہنگائی میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 7ہزار سے زائد افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔ ٹھہریئے آپ کو دو تازہ واقعات بھی بتاتا چلوں جن کی خبریں یقینا آپ کی نظر سے گزری ہوں گی۔

17ستمبر 2010ءکو کراچی کے علاقہ لانڈھی مجید کالونی کے رہائشی محمد آصف نے اپنی بیوی اور 3 کم سن معصوم بچوں کا گلا دبا کر انہیں ہلاک کردیا۔ بعد ازاں خود پھندا لگاکر خودکشی کرلی۔ محمد آصف اپنی بیوہ ماں، دو بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں 7 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر ملازمت کرتا تھا۔ محمد آصف نے خودکشی سے قبل اپنے بچے کی ڈائری میں ماں کے نام خط لکھا تھا کہ وہ مہنگائی سے تنگ آکر بیوی اور بچوں سمیت خودکشی کررہا ہے۔

جام پور ضلع روجھان کے رہائشی محمد اکرم نے غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر ملتان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر خودسوزی کرلی۔ حکمرانوں کے سبب محمد آصف نے خودکشی کرکے حرام موت کی راہ اختیار کی، لیکن محمد اکرم کے اہل خانہ کے لیے وزیراعظم نے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہمارے چاروں طرف اداسی ہے۔ دکھ، درد، بھوک اور افلاس ہے۔ تنگ دستی، فاقہ کشی اور نفسانفسی ہے۔ جہاں غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ غربت و افلاس کے باعث مائیں اپنے لخت جگر بیچنے کو تیار ہیں۔ والدین بچوں سمیت اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہمارے حکمران اور دو فیصد امراءطبقہ ہے، عیش و طرب ہے، رنگینی اور خوبصورت مہنگے ملبوسات ہیں۔ پیزا، امریکی برگر اور بروسٹ کے علاوہ اور بہت کچھ کھا پی کر ناچتے ہیں۔ بوفے کلچر کے نام پر ہزاروں روپے ایک وقت کے کھانے پر صرف کردیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آدھی آبادی کو دن بھر میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔ جبکہ 2008ءمیں جاری ہونے والی عالمی فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران مہنگائی کے باعث پاکستان کے مزید 2 کروڑ افراد خوراک کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہوئے اور 16 کروڑ کی آبادی کے ملک میں خوراک کی کمی کا شکار ان افراد کی تعداد 7 کروڑ 70 لاکھ ہے، جو گزشتہ 2 سال میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافے کے بعد 10کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور سلیم خان کے بقول: حیرت ہے ہم لوگ زندہ کیسے ہیں! کیونکہ جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں مہنگائی میں اضافہ ہی ہوا ہے، اور موجودہ حکومت تو غریب کو ختم کرکے ہی مہنگائی ختم کرے گی۔ سلیم نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے ملک ہمارے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ یہ تو شروع سے ہی چودھریوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے ہے۔ چور اور لٹیرے حکمران ہیں۔ بیچارے عوام کا کیا ہے، خودکش حملوں سے بچ بھی گئے تو مہنگائی سے نہیں بچ سکتے۔

آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا
کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہوگا

مہنگائی میں اضافہ پاکستان کی روایت رہی ہے جو بے حس حکمرانوں کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث مستقل شکل اختیار کرچکی ہے۔ پہلے تو بجٹ اور رمضان کے موقع پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا جاتا تھا، لیکن اب ان دو مواقع کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ بدترین مہنگائی کے باعث عوام کے لیے روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور زندگی ان کے لیے ایک بوجھ اور عذاب بن چکی ہے۔ مہنگائی کا عفریت سب کچھ نگلنے کو تیار کھڑا ہے۔ ایسے میں عام آدمی جائے تو کہاں جائے! روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کا نعرہ لگانے والی حکومت اس وعدے کی تکمیل میں ناکام نظر آتی ہے اور حکومت کی ناقص اقتصادی کارکردگی کے باعث غریب عوام بچوں سمیت خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ”فافن“ نے ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھ سے سات افراد کے کنبے پر مشتمل خاندان انتہائی بنیادی ضروریات پر اوسطاً ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ خرچ کررہا ہے۔ آدھا خرچ صرف نو بنیادی اشیاءآٹا، چاول، آلو، پیاز، دودھ، چائے، چینی، گھی یا خوردنی تیل پر ہورہا ہے۔ جبکہ پچاس فیصد اخراجات مصالحوں، گوشت، مکان کے کرائے، صابن اور علاج معالجے پر ہوجاتے ہیں۔ اس فہرست میں کپڑے، ٹرانسپورٹ، گیس، بجلی، پانی کے بل اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آدھے کنبوں کی ماہانہ اوسط آمدنی پانچ ہزار روپے یا اس سے کم ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مزدور کی تنخواہ کم از کم چھ ہزار روپے سے بڑھا کر سات ہزار روپے کرنے کا اعلان تو کیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوسکا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں اوسطاً ماہانہ بنیادی اخراجات ساڑھے نو ہزار روپے ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں ایک کنبے کو بنیادی ضروریات پر اوسطاً ماہانہ نو ہزار تین سو روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ سندھ میں چھ سے سات افراد کے خاندان کا بنیادی ماہانہ خرچہ آٹھ ہزار روپے اور پنجاب میں سات ہزار نو سو پچاس روپے ہے۔ اس رپورٹ کے اعدادو شمار سے واضح ہے کہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت نے غریب کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔

کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرے اور انہیں عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے چند گز کپڑا میسر آسکے۔ ایسے افراد بھی ہیں جو تنگ دستی اور معاشی بدحالی کے باعث سردی ہو یا گرمی ایک ہی کرتے میں دو دو، تین تین سال گزار دیتے ہیں کیونکہ انہیں تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا تو کجا دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ایک طرف غربت کے مارے عوام کی درد ناک کہانیاں ہیں تو دوسری طرف عیش و طرب میں بدمست حکمران طبقہ…. پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے غریب ملک کے امیر نمائندوں کے اثاثوں کی مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے نمائندوں کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں اور غربت اور مہنگائی 30 گنا بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا غریب ترین رکن بھی کروڑپتی ہے۔ پلڈاٹ نے رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ وہ اثاثے ہیں جو ارکان اسمبلی نے خود الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے ہیں اور اس میں قیاس آرائی کا شائبہ نہیں ہے۔

ارکان اسمبلی کی اس فہرست میں پسماندہ علاقے کوہستان سے پیپلزپارٹی کے رکن محبوب اللہ جان امیر ترین شخص ہیں جو 3 ارب 28 کروڑ 80 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، دوسرے نمبر پر ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن شاہد خاقان عباسی ہیں جن کے پاس ایک ارب 62 کروڑ 70 لاکھ روپے ہیں، تیسرے نمبر پر مسلم لیگ فنکشنل کے جہانگیر ترین ہیں جو ایک ارب 95 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ سے ہٹ کر تو صدر آصف علی زرداری سرفہرست ہوں گے۔ وہ بیرون ملک محلات کے مالک ہیں اور نہ جانے ابھی ایسے کتنے محلات ظاہر ہونا باقی ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ صدر صاحب رکن اسمبلی نہیں ہیں۔خواتین میں مسلم لیگ (ن) کی نزہت صادق سرفہرست ہیں جو ایک ارب 51 کروڑ 40 لاکھ روپے کے اثاثوں کی مالکہ ہیں۔ ان کے بعد پشاور سے تعلق رکھنے والی پیپلزپارٹی کی رکن عاصمہ ارباب جہانگیر پانچ سو پندرہ اعشاریہ دو پانچ (515.25) ملین روپے اور بیگم بیلم حسین 298.50 ملین روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔امراءکی اس فہرست میں سب سے ”غریب رکن“ پیپلزپارٹی کے سعید اقبال چودھری بمشکل 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک رکن اسمبلی کے اثاثے ایک سال میں 42 گنا بڑھ گئے ہیں۔

پلڈاٹ کی رپورٹ اور مہنگائی، بے روزگاری کے اعداد و شمار سے ناواقف 55 سالہ عمر خان اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے محنت مزدوری کرتا ہے۔ عمر خان کراچی کی پسماندہ بستی قیوم آباد کا رہائشی ہے جو اپنی بیوی اور 9 بچوں کے ہمراہ 3 ہزار روپے ماہانہ پر 2 کمروں پر مشتمل کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ عمر خان کا کہنا ہے: ”میں کرائے پر رکشہ چلاتا ہوں جس سے روزانہ 400 سے 600 روپے کما لیتا ہوں، جس میں سے 50 فیصد رقم مالک کو دینی ہوتی ہے۔“ جب کہ عمر خان کا بڑا بیٹا 14 سال کا ہے جو ہوٹل میں محنت مزدوری کرکے روزانہ 50 سے 100 روپے کما لیتا ہے۔ عمر خان نے بتایا کہ ہمارے لیے تو آٹا اس طرح ناپید ہورہا ہے جیسے کربلا کے میدان میں پانی بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ غریب کے لیے ایک روٹی ہی تو ہے جسے کھا کر وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، لیکن اب یوں لگتا ہے ہمیں اس روٹی سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن دنوں کراچی میں ہنگامے ہوتے ہیں وہ دن ان کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، وہ قرض لے کر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور اکثر چٹنی کے ساتھ روٹی کھاکر ایک وقت کا فاقہ کرتے ہیں۔ اب پیاز اور ٹماٹر بھی 40 روپے فی کلو ہوگئے ہیں اور اب تو چٹنی کے ساتھ روٹی کھانا بھی ہماری استعداد سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

شاہراہ فیصل کے سگنل پر چند لمحے کھڑی ہونے والی گاڑیوں کی ونڈ اسکرین پر دوڑتے بھاگتے کپڑا مارتے سمیر اور عدنان دونوں بھائی ہیں، ان کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان ہوں گی۔ ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے جب کہ والدہ لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں۔ یہ اپنی والدہ کے ساتھ کورنگی میں ایک کمرہ کے کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان دونوں نے بتایا کہ وہ خصوصی دنوں اور عید کے تہوار پر گوشت یا اچھا کھانا کھا لیتے ہیں، کبھی کبھار محلے والے ان کے گھر کھانا بھیج دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید پر نئے کپڑے اور نئے جوتے خریدنا ان کا بھی شوق ہے لیکن گھر کے حالات کے باعث وہ عید پر بھی نئے کپڑوں اور جوتوں سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اس ملک سے غریب ختم نہ ہوجائیں۔
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواﺅں سے تو بارود کی بو آتی ہے
ان فضاﺅں میں تو مر جائیں گے سارے بچے

ملک میں جاری دہشت گردی سے خوف زدہ بچ جانے والے عوام مہنگائی کے ہاتھوں مرجائیں گے۔اگر حکومت وسیلہحق اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کرکے یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ وسیلہ حق اور بے نظیر انکم سپوٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنا تو دور کی بات، ان کو ایک سطح پر روکنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔

وزارت ِشماریات کے جاری کردہ پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برس کے دوران ہوشربا مہنگائی کے نتیجے میں ہر شہری کی زندگی 50 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی۔ ایوریج پرائس انڈیکس کے مطابق چینی 26 روپے سے بڑھ کر 80 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے‘ آٹا ساڑھے 16 روپے سے بڑھ کر 32 روپے ہوگیا ہے‘ چائے کی پتی کا 250 گرام کا پیکٹ 65 روپے سے بڑھ کر 124 روپے کا ہوگیا ہے‘ مرغی کا گوشت 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے ہوگیا ہے‘ وغیرہ ۔ روزمرہ کے استعمال کی ہر چیز سبزیاں‘ پھل‘ بجلی اور قدرتی گیس کے نرخ‘ پٹرولیم مصنوعات یعنی ہر چیز مہنگی سے مہنگی ترین ہوگئی ہے۔ غریب، جو ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرتے ہیں‘ کے لیے بجلی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ فروری 2008ءکے 2.65 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 3.91 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ 100یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے نرخوں میں عام صارف کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ گھریلو صارفین جو 101 سے 300 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 4.96 روپے فی یونٹ (علاوہ ٹیکس) ہے‘ جو 301 سے 700 یونٹ استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 8.03 روپے فی یونٹ ہے، جب کہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کے لیے نرخ 10 روپے فی یونٹ (ٹیکس کے بغیر) ہے۔ کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ فروری 2008ءمیں 9.53 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) ہوا کرتے تھے، جب کہ اب یہ قیمت 14.93 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) تک جا پہنچی ہے۔ کم سے کم صارفین کے لیے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ایل پی جی کی قیمتیں 817 روپے فی سلینڈر سے بڑھ کر 1092 روپے فی سلینڈر ہوگئیں‘ یعنی قیمت میں 270 روپے فی سلینڈر اضافہ ہوا۔ پٹرول کی قیمتیں 53.83 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر موجودہ 67 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہیں۔ ڈیزل 37.86 روپے سے 69.27 فی لیٹر اور مٹی کا تیل 42 سے 85 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ وہ غریب جو ایل پی جی نہیں خرید سکتے‘ جن کے پاس قدرتی گیس نہیں ہے اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے لکڑی کی قیمت 230 روپے فی 40 کلو گرام سے بڑھ کر 302 روپے ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ گندم کی قیمت 18 روپے سے 27 روپے فی کلو ہوگئی‘ آٹے کی قیمت 16.50روپے سے 23 روپے فی کلو‘ باسمتی چاول 36 سے 100روپے فی کلو‘ ایری 26 سے 37روپے، دال مسور دھلی ہوئی 71 روپے سے 128روپے‘ دال مونگ دھلی ہوئی 51 سے 147روپے‘ دال مونگ 42 سے 137روپے‘ گائے کا گوشت 122 سے 350 روپے‘ بکرے کا گوشت 234 سے 650 روپے فی کلو‘ انڈے 62 سے 80 روپے فی درجن‘ درمیانے سائز کی ڈبل روٹی 19 سے 29 روپے‘ چینی 26 سے 80 روپے‘ گڑ 31 سے 73روپے‘ لال مرچ پاﺅڈر 133 سے 167روپے‘ تازہ دودھ 30 سے 56روپے‘ ویجیٹیبل گھی 115 روپے فی کلو‘ لہسن 44 سے 200 روپے فی کلو‘ پکانے کے تیل کا ڈھائی کلو کا ڈبہ 318 سے 375 روپے‘ آلو 11 سے 25 روپے فی کلو‘ ٹماٹر 38 روپے فی کلو سے 56 روپے فی کلو‘ پیاز 12 سے 45 روپے فی کلو‘ کیلے فی درجن 32 سے 38 روپے‘ چائے کا ایک کپ 7 روپے سے 15 روپے‘ بڑے گوشت کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 33 سے 60 روپے‘ دال کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 20 سے 35 روپے ہوگئی ہے۔ جبکہ فارم کی مرغی کا نرخ 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گیا ہے۔ 2007-08ءمیں اقتصادی ترقی کی شرح 4.1 فیصد تھی جو گرکر 3.4 فیصد (نظرثانی شدہ اندازے) ہوگئی ہے۔

یہ اعداد و شمار تو چند جھلکیاں ہیں ورنہ پرویزمشرف سے لے کر موجودہ حکومت تک کسی نے بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ محض اپنے خزانے بھرے ہیں۔پاکستان کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بقول خودکشیاں اللہ کی مرضی ہیں، اور وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ مشورہ دیتے ہیں کہ جو غریب اپنے بچوں کو پال نہیں سکتے وہ ان بچوں کو دیکھ بھال کے لیے فلاحی اداروں کو دے دیں، جب کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ شہلا رضا کا فرمانا بجا ہے، مہنگائی ختم کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ اگر جادو کی چھڑی نہیں ہے تو ممبران اسمبلی کے پاس وہ کون سا نسخہ آگیا ہے کہ ان کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں؟

کمر توڑمہنگائی…. سیاست دان کیا کہتے ہیں؟

مہنگائی کے ذمہ دار حکمران
لیاقت بلوچ
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے گھر کے باہر خودسوزی اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات میں شرعی پہلو تو یہ ہے کہ یہ حرام ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ خودکشی نہ کریں۔ لیکن حکمرانوں کی معاشی اور استحصالی پالیسیوں کے باعث غریب آدمی کے لیے اس دور میں زندہ رہنا انتہائی مشکل اور کٹھن ہے۔ غریب آدمی کے لیے گھر چلانا ناممکن ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہارے ملک کا پورا معاشی نظام ابتری اور افراتفری کا شکار ہے جس میں امیر‘ امیر تر اور غریب‘ غریب تر ہورہا ہے۔ عام آدمی کے لیے ہر مرحلے پر مشکلات پیدا کردی گئی ہیں اور ایک خاص طبقے کو نوازا جارہا ہے اور انہیں حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

حکمران اور معاشرہ دونوں ذمہ دار
صدیق الفاروق
مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ن)
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ خودکشی کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اس حرام موت کا ذمہ دار ہے کیوں کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر 40 گھر پر دائیں بائیں پڑوس ہے۔ موجودہ حکومت نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ حکومت کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث معاشی صورت ِحال انتہائی خراب ہوچکی ہے اور اچھے بھلے لوگ بھی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
موجودہ حکومت غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے باعث صنعت کار اور سرمایہ دار بھاگ رہے ہیں۔ صنعتیں بند ہیں اور لوگوں کو روزگار میسر نہیں ہے۔ نفسانفسی ہے۔ حکومت کو عوام کی قطعاً کوئی فکر نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ کو سیاست دانوں کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی سامنے رکھ کر رپورٹ مرتب کرنی چاہیے۔

غربت پوری دنیا میں ہے
میڈیا خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے
شہلا رضا
رہنما پیپلز پارٹی /ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی
ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتی ہوں ملک میں غربت اور بے روزگاری ہے، لیکن غربت تو پوری دنیا میں ہے اور یہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے۔ امریکا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے‘ آپ یہ بھی تو دیکھیں پاکستان کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک دم سے تو غربت ختم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حکومت کی پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے۔

ماہر نفسیات کیا کہتے ہیں

مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی نے قوم کو ڈپریشن میں مبتلا کردیا
ڈاکٹر حیدر عباس رضوی
ماہر نفسیات, جامعہ کراچی
ماہر نفسیات ڈاکٹر حیدر عباس رضوی کہتے ہیں کہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی اور مالی بدحالی نے قوم کو ڈپریشن اور فرسٹریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن دو صورت میں ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں اور کسی سے شیئر نہیں کرتے، جب کہ کچھ لوگ اسے غصہ کی صورت میں باہر نکال دیتے ہیں تو ایگریشن ظاہر کرتے ہیں۔ اداسی اور غصہ دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اداس لوگ دوسروں کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں اورکچھ لوگ خود اذیت پسند ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو نہیں مار سکتے بلکہ اپنے آپ کو مار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تکلیفیں مشترک ہوتی ہیں، کوئی انہیں سہہ لیتا ہے تو کوئی برداشت نہیں کرپاتا۔ وہ کسی نے کہا تھا کہ:
دکھ سب کے مشترک ہیں مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا
ہم نے نوجوانوں سے مثبت سرگرمیاں چھین لی ہیں۔ ہم نے بیس سال قبل جو بویا آج اُسے کاٹ رہے ہیں۔ ہم آج بھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے اپنی اقدار و روایات کو کھو دیا ہے۔ میں نے پہلے بھی تجویز دی تھی اور اب بھی آپ کے اس میگزین کے توسط سے حکومت‘ موبائل کمپنیوں اور اہلِ ثروت افراد سے درخواست ہے کہ ایک ہیلپ لائن سروس شروع کی جائے جہاں سائیکالوجسٹ لوگوں کو مفت رہنمائی فراہم کریں، کیوں کہ ڈاکٹر کی فیس 600 سے 800 روپے ہے اور ادویات مہنگی ہیں۔

مہنگائی اور خودکشی…. علمائے دین کی رائے
غربت کے باعث خودکشی کرنے کا وبال حکمرانوں پر بھی آئے گا
مفتی منیب الرحمن
صدر تنظیم المدارس پاکستان /مرکزی چیئرمین رویت ہلال کمیٹی
خودکشی حرام موت ہے اور اپنے ساتھ 4 دیگر افراد کو قتل کردینا ایک سنگین جرم بھی ہے۔ لیکن میڈیا ایسے واقعات اس طرح پیش کرتا ہے جیسے یہ بہادری کا کام ہو۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ لوگوں میں شعور بیدار ہو۔کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کا اہتمام کرے۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکام ہے اور بھوک کی وجہ سے خودکشیوں اور بچوں کو فروخت کرنے کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں تو یہ حکمرانوں کے لیے بھی وبال ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی کرلینا کم ہمتی اور بزدلی کی علامت ہے۔ اگر آپ حالات کی ابتری کا شکار ہیں تو اس کا علاج خودکشی نہیں ہے۔ مہنگائی کا عفریت لوگوں کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی کشید کرنا چاہتا ہے، ایسے میں پسے ہوئے طبقات اور مہنگائی کے ستائے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ناصرف ایسے حالات کا بلند عزائم کے ساتھ مقابلہ کریں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ عوام کی خودکشیوں سے نظام نہیں بدلے گا۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں تو انہیں اس ظالمانہ نظام کے خلاف میدان عمل میں آنا ہوگا اور متحد و منظم ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔

گردوپیش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی ان خودکشیوں کا ذمہ دار ہے اور اس کی بازپرس ریاست اور پڑوسی دونوں سے ہوگی۔ اگر ریاست عوام کو تحفظ دینے اور جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوجائے تو حکومت کا آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ قائم رہے۔

ریاست اور معاشرہ دونوں ذمہ دار ہیں
مفتی محمد نعیم
مہتمم جامعہ عالمیہ بنوریہ
خودکشی کے ان واقعات کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور کسی حد تک پڑوسی بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں اور ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے روزگاری اور قتل و غارت گری عام ہے۔ لیکن حکمران اپنی عیاشیوں میں بدمست ہیں اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ مزید اقتدار میں رہے۔ اسلامی ریاست کے حکمرانوں کے لیے حضرت عمرؓ مثال ہیں۔

خودکشی حرام ہے…. ذمہ داری اسباب پیدا کرنے والی ریاست پر عائد ہوتی ہے
مولانا عطاءاللہ
ریسرچ اسکالر، عالم دین
خودکشی حرام موت ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عام ضرورت کی اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر اور دالیں آپ بازار سے خریدیں، اندازہ ہوجائے گا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ غریب چٹنی پیاز سے روٹی کھا لے گا، لیکن اب تو پیاز سے روٹی کھانا بھی ممکن نہیں، بلکہ آٹا مہنگا ہونے کے باعث روٹی ہی میسر نہیں۔ حضرت عمرؓ ایک بار مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تو دیکھا وہاں صحرا میں ایک بوڑھی عورت اپنی بکریوں کے ہمراہ موجود ہے اور کھانے کے لیے کچھ نہیں، تو حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ تُو نے خلیفہ وقت تک اپنے حالات پہنچائے؟ بوڑھی عورت بولی: یہ میری ذمہ داری نہیں، اگر خلیفہ وقت کو اپنی رعایا کے حالات کا علم نہیں تو اسے کوئی ضرورت نہیں کہ وہ خلیفہ رہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتی ہو۔ اور اس بوڑھی عورت کو بیت المال سے امداد پہنچائی جس پر اس بدو بوڑھی عورت نے دعا دی کہ اللہ تجھے خلیفہ بنادے۔ اس مثال میں ہمارے حکمرانوں کے لیے سبق پوشیدہ ہے، لیکن بدقسمتی سے حکمران تو امریکا کی طرف دیکھتے ہیں اور وہیں ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

مہنگائی…. ماہرین معاشیات کیا کہتے ہیں
موجودہ حکومت کے ڈھائی برس بدترین معاشی دور ہے
آئی ایم ایف نے زرداری سے مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار
ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا، اس میں یہ درج تھا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں گی جن سے مہنگائی میں کمی ہو۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آتے ہی پہلے بجٹ میں جنرل سیلزٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 16 فیصد کردیا۔ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے براہِ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ 2 سال میں بجلی کی قیمت میں 64 فیصد اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ کیا جبکہ روپے کی قدر میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ان ڈھائی برسوں میں قرضوں کا بوجھ 3 ہزار 200 ارب بڑھ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے صدارت کے 17 دن بعد یعنی 26 ستمبر 2008ءکو فرینڈز آف پاکستان سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اُس وقت برطانوی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ نہیں بلکہ سودا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں امریکا ہمارا تکنیکی پارٹنر ہوگا اور اس کے بدلے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان توڑنے کی سازش ہے اور ہم اس میں امریکا کی مدد کررہے ہیں۔

شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ ڈھائی برس کے دوران معیشت کو 26 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پرویزمشرف کے 7 سالہ اقتدار کے دوران معیشت کو 23 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، اور اس طرح 10 سال کے دوران معیشت کو 49 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ڈھائی سالہ اقتدار کے دوران 26 ارب ڈالر سے معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے 13.3 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی جس میں سے 8.7 ارب ڈالر حکومت کو مل گئے ہیں۔ اب آپ یہ دیکھیے کہ 1947ءسے لے کر 2008 تک 61 برس بنتے ہیں اور اس دوران امریکا نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر قرض دیا، جب کہ ان 2 سال میں 8.7 ارب ڈالر ملے۔ قرض کی شرائط میں لکھا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر شرح سود بڑھائیں، روپے کی قدر گرائیں اور مہنگائی میں اضافہ کریں۔ ایسی شرائط کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو سست ہوئی اور اس طرح امریکا نے آئی ایم ایف کے تعاون سے زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا جس کی وجہ سے اشیاءصرف کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ایک کروڑ مزید افراد غذائی قلت کا شکار ہوگئے ہیں، یعنی 9 کروڑ افراد ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوتی، اور اب پاکستان کو غریب کے بجائے بھوکا ملک قرار دیا جارہا ہے۔ اس عرصہ کے دوران ملک میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور پاکستان میں 13 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی اجازت ہے جب کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث سرمایہ کاری کا حجم گر گیا اور قرضوں کا حجم بڑھ گیا ہے جس کی شرائط پر صنعت کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ صنعتیں بند اور سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ 30 جون 2010ءکو ختم ہونے والے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی ملکی پیداوار کے تناسب سے 42 سال میں سب سے کم رہی ہے۔ جب کہ 2 برسوں میں معیشت کی سرح اوسطاً سالانہ 2.6 فیصد رہی ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت کے یہ ڈھائی برس معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے بدترین دور ہے جس میں سب سے زیادہ کم آمدنی والے افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اور اب حکومت نے سیلاب کی آڑ میں جو نئے ٹیکس لگائے ہیں اس سے مہنگائی کا ایک اور طوفان امڈ آیا ہے۔ معیشت کی شرح نمو مزید سست ہوگئی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اگر حکومت پر دباﺅ نہ ڈالا گیا تو ظلم، ناانصافی، استحصالی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی ہوگی اور عام سڑکوں پر آئیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک بار پھر ناکام مملکت قرار دیا جائے گا۔

موجودہ حکومت کے دور میں بھی طاقتور اور مالدار طبقوں کے بینکوں سے قرض معاف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ، اور قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اور اپنے قرض معاف کرائے ہیں۔ اب اگر قومی اسمبلی کی 2 مقتدر شخصیات بھی قرض معاف کرائیں گی تو اس ملک میں دوسرے طاقتور لوگ جنہوں نے قرض معاف کرائے ہیں ان سے کیونکر کہا جائے گا کہ قرض واپس کریں! پچھلے دو برس میں 200 ارب روپے سے زائد کا قرض معاف کیا گیا، اور قرضوں کا ایک بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر29 پندرہ اکتوبر 2002ءکے تحت معاف کیا گیا جو ڈاکٹر عشرت حسین کے دور میں جاری کیے گئے تھے۔ یہ سرکلر دستور پاکستان اور پارٹنرشپ ایکٹ کے منافی ہے اور اسٹیٹ بینک کو یہ سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ اسے غیر قانونی قرار دینے کے لیے میں نے فیڈرل شریعت کورٹ میں 2008ءمیں ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔ وہ اس سرکلر کو جانچیں گے کہ یہ دستور پاکستان کے خلاف ہے یا نہیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سرکلر کے بارے میں کہا تھا کہ اس سے زیادہ غیر اخلاقی حرکت کوئی نہیں۔

Advertisements

One response to this post.

  1. [آئی ایم ایف نے زرداری سے مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے]

    آج ہی وکی لیکس کے نئے انکشافاتی دستاویز میں ایک یہ بھی خبر آئی ہے کہ

    شاہ عبداللہ صدر زرداری کو پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ سمجتھے ہيں۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: