چوہدری صاحب ! خدا کے لیے

تحریر:ذوالفقارعلی

جاوید چوہدری صاحب!قومیں نوحوں اور مرثیوں سے نہيں امیدوں اور خوابوں سے اٹھان پاتی ہيں۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دینے کے لیے تاریکی کے تذکرے نہيں واضح اہداف ، موثر منصوبہ بندی اور اس کے اوپر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کے خاکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 چوہدری صاحب ! آپ جیسے رائے ساز کالم نویسوں کے نوحے سن سن کر قوم تھک چکی ہے۔ خدا کے لیے موجودہ حالات میں سے انہيں کوئی خاکہ دیجیے کوئی رہنمائی کا واضح نقشہ پیش کیجیے خود نہیں دے سکتے تو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان سے بنوا کر دیجیے ۔ اگر کوئی ملک میں قوم کی مخلص قیادت کے قابل ہے تو اس کا پتہ دیجیے اور اسے سپورٹ کیجیے ، کھل کر اس کا نام لیجیے ۔نہيں ہے تو بتائیے کہ اسکریچ سے لے کر کامیابی تک کا راستہ کیا ہے ؟ تا کہ قوم میں سے کوئی امید پائے اور آگے بڑھے قوم آپ اور آپ جیسے چند دیگر قلم کاروں کو پڑھتی ہے مگر آپ کی تحریروں سے بس مایوسی،انتشار اور دکھ کشید کر کے رہ جاتی ہے۔

چوہدری صاحب بہادری اور بزدلی دونوں ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں،خدا کے لیے اس قوم میں امید اور بہادری بانٹیے ۔ چوہدری صاحب معذرت چاہتا ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے آپ اور آپ جیسے دیگر رائے ساز لوگ بغداد کے علماء معلوم ہوتے ہں وہ علماء تاتاریوں کے حملے کے وقت قوم کو کوے کی حلت و حرمت کے مسائل میں الجھائے ہوئے تھے اور آپ اس فتنے کے عہد میں "ڈوب مرنے کا مقام ہے” جیسے درس دے کر بالواسطہ مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہيں۔

 چوہدری صاحب اس قوم کے نفرت اور غصے کو اس کے اصل دشمن سے انتقام کی طرف موڑ کر قوت میں بدل ڈالنے کا نسخہ بتائیے ،اس وقت سے پہلے کہ جب انقلاب فرانس کی طرح بپھرے ہوئے لوگ ہر نرم ہاتھوں والے کو موت کے گاقٹ اتار دینے کو آمادہ ہوجائيں گے اور میں اور آپ جانتے ہيں کہ بہرحال قلم کاروں کے ہاتھ نرم ہوتے ہيں ۔چوہدری صاحب لاکھوں قاری بنا لینا،ہزاروں افراد کو فیس بک پر اپنا ہمنوا بنا کر مسرت حاصل کر لینا ،ہر کالم پر بیسیوں تعریفی ایس ایم ایس اور کالز اٹینڈ کر لینا اور اپنے سرکاری دوروں کی کہانیاں بیان کر کے دیگر بیسیوں لکھاریوں کے دلوں میں چٹکیاں کاٹ لینا محض ذاتی نفسیاتی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے، قوم کے دکھوں کا مداوا نہيں ۔منہ اور قلم کی کمائی کھانے کے بجائے عمل کی کمائی کھانا زیادہ مشکل ہے۔

چوہدری صاحب قوم کو بتائیے کہ کوئی پروفیسر نجم الدین اربکان ،شیخ احمد یاسین ، ماؤزے تنگ یا لینن اور مارکس کس طرح پیدا ہوگا ؟نہيں تو کس طرح کوئی Collective Wisdom کے ادارے اس کی جگہ لے سکیں گے ؟ کیسے کامیابی کے کوئی خاکے بن سکیں گے ۔؟ کیسے کوئی راہ نجات نظر آ سکے گی؟ کوئی اسٹریٹجک پلاننگ ہوسکے گی ؟

چوہدری صاحب کچھ تو بتائیے کہ قوم کا کوئی گروہ کیسے قوم کی کردار اور ذہن سازی کر سکتا ہے ؟کیسے اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا کام ممکن ہے؟ کیسے اس نظام خون آشام کی سیاہ رات ڈھل کر کسی امن ، آشتی اور آسودگی کی صبح بن سکتی ہے۔

 چوہدری صاحب ۔ مشرق و مغرب آپ کی عملی بیداری کو ترس رہے ہیں ، چوہدری صاحب آپ کے پاس ان کے لیے تریاق ہے اور یہ سب مارگزیدہ ، یہ اندھے اور آپ بینا ، آپ کے ہاتھوں میں چراغ ہے اور یہ اندھیروں کا شکار ۔اکر آپ جیسے لوگ علم تقویٰ اور کامیابی کا کوئی واضح منصوبہ نہيں دیں گے تو یاد رکھیں کہ پھر عزت و شرف کی ساری پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جائيں گیں۔

 چوہدری صاحب خدا کے لیے ! واضح اہداف ، مؤثر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ !

 کوئی امید !

 کوئی حوصلہ !

کوئی منصوبہ!

 کچھ تو دیجیے ؟

Advertisements

7 responses to this post.

  1. Baha’i Jan Allah app KO khush rakhy….
    appny javed chudhry sy jo khaka our naksha manga hai wo agr javeed chudhry bana kar bhe dy day to is qoom ny us per bhe aamml nhe karna hai…bat mayoosi ki nhe hai haqeeqat ki hai kia app k pass Allah ki kitab quran majeed furqan e hameed nhe hain? hai na to app our mujh samait kitny hain jo is ko appny ly rah e ammal banaty hai???? kia wo log bhe bana rahay hain bhai jan jin k sath aaj kal app apni zindagi kshab o roz guzar rahy hai? baat shayd app ko sach hi lagy pr app parshan na hoyga app ruswa nhe hongy……. q k app ny apny hsy k sawalat to javeed chudhry ki khidmat main rakh dy ab bus ye sawal appny ird grd moojood logoo sy bhi is bary maloom karlain k kia kahty ulmma bech is masly k???? igr wo daina chahy jawab to.

    جواب دیں

  2. کالم 10 منٹ کا موضوع نسبتاً مختلف۔ قارئین تصحیح فرمالیں۔

    جواب دیں

  3. ذاتی طور پر مجھے جاوید چودھری صاحب کے اکثر کالموں میں مایوسی نہیں محسوس ہوتی۔ بلکہ دیگر صحافیوں اور کالم نگاروں کے برعکس وہ نہ صرف اپنے کالموں میں دوسری شخصیات کی مثالیں پیش کرتے ہیں بلکہ دیگر قوموں کے حالت زار اور ان کی ترقی کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ مثلاً آپ ان کے حالیہ کالم یا کالم 10 منٹ پر نگاہ ڈالیں تو اس میں بھی انہوں نے امریکی سفیر پر مثال دیتے ہوئے نہ صرف حکمرانوں بلکہ عوام کو بھی اخلاقیات کا درس دیا ہے۔ غرض یہ کہ دیگر باتوں میں اختلاف اپنی جگہ لیکن مایوسی پھیلانے والوں کی فہرست میں کم از کم جاوید چودھری کا نام شامل نہیں۔

    جواب دیں

  4. او جی او شیرا

    جواب دیں

  5. Posted by abdulaziz khattak on 02/11/2010 at 10:30 صبح

    Good questions raised Mr Zulfiqar Ali.

    True most of us Pakistanis just crib about our situations and a very few give or even try to give solutions. However, in times when the voice of the poor is hardly heard in the courts of the elite, Chaudhry and his likes are doing a good job.

    I mean how many will even do that?

    I guess what he tries to do is to document every incident of injustice he can, so that when the future recites our story, it will have a lengthy prologue to start with.

    Isn’t it similar to catharsis — Chaudhyr’s I mean?

    جواب دیں

  6. Posted by Ansoo on 02/11/2010 at 6:05 صبح

    Bilkul sahee kaha hai aap nai

    جواب دیں

  7. سو فیصد متفق ھوں جی آپ کی بات سے۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: