Author Archive

اربوں روپے کمانے کے باوجود پاکستان ریلوے ایک سفید ہاتھی

تحریر:حامد الرحمٰن
خستہ حال ریلوے ٹریک، ناکارہ انجن، بوسیدہ سگنل نظام اور سہولیات سے عاری غیر محفوظ ریل گاڑیاں…. یہ ہے پاکستان ریلوے۔ سابق وفاقی وزیر مملکت برائے ریلوے جادم منگریو نے کہا تھا: ”مسافر ریل گاڑیوں میں سفر کے دوران درود شریف کا ورد کیا کریں“۔یہ بیان حقیقت کی بالکل درست عکاسی کرتا ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ اثاثہ جات اور املاک کا حامل ادارہ تباہی کے راستے پر گامزن ہے…. ارباب ِاختیار ریلوے کو بھی کنگال ظاہر کرکے اس کی نجکاری کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ کرپشن، بدعنوانی اور حقائق سے چشم پوشی…. پے درپے حادثات اور سانحات کا روپ دھارتے رہتے ہیں مگر ارباب ِاختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بدعنوانی رگوں میں خون کی طرح سرایت کرچکی ہے۔ ناکافی سہولتیں اور کرایوں میں متواتر اضافہ…. اس پر مستزاد اعلیٰ حکام کی سودے بازیاں زبان زدعام ہیں۔ خلق خدا سے کسے سروکار ہے! جو بھی نیا وزیر اور چیئرمین آتا ہے، مال بناکر، مفادات سمیٹ کر اپنے پیچھے کرپشن کی لاتعداد کہانیاں چھوڑ جاتا ہے۔ ”کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں“ کے مصداق عوام سوالیہ نشان ہیں۔
کسی زمانے میں ریل کا سفر غریب اور متوسط طبقے کے لیے سب سے سستا اور بہترین ذریعہ سفر رہا ہے۔ یہ سفر ہماری روایات میں رچ بس گیا تھا اور لوگ مع اہلِ خانہ ریل کے سفر کو ترجیح دیتے تھے، کیونکہ دورانِ سفر تلخیوں و تکالیف کے باوجود مسافر ریل کے سفر سے محظوظ ہوتے تھے۔ امتداد ِزمانہ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج وہی ذریعہ سفر سب سے زیادہ غیر مقبول اور غیر محفوظ بن چکا ہے…. ارباب اختیار میں سے کوئی نہیں جو اس کی وجوہات تلاش کرے۔
گرچہ پاکستان ریلویز کا موجودہ حال اتنا اچھا نہیں ہے، گو کہ سفری سہولیات اور جدید نظام نے مسافروں کو سہولیات بھی فراہم کی ہیں، لیکن اس کا ماضی ضرور شکستہ مگر روشن رہا ہے۔ ماضی میں اگر ریلوے منافع بخش ادارہ نہیں تھا تو کم از کم خسارے کے نتیجے میں سفید ہاتھی بھی نہیں بنا تھا۔
پاکستان کے کونے کونے تک پھیلا ریلوے نظام مواصلات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کاروبار، سیاحت اور تعلیم لوگوں کے آپس کے روابط بڑھاتے اور انہیں قریب لاتے ہیں۔ مواصلات کا نظام ملکی سالمیت کو قائم رکھنے کا اہم محرک ہے۔ یہ نظام لوگوں اور سامان کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ملک کی لائف لائن کو قائم رکھتا ہے۔
ریلوے واحد ذریعہ ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد اندرون ملک سفر کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں مصنوعات اور گڈز کی ترسیل کا ذریعہ بھی۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 28 ریل گاڑیاں اندرون ملک چلتی ہیں جن میں کراچی سے 45 ہزار سے زائد افراد روزانہ سفر کرتے ہیں، جبکہ یومیہ ایک لاکھ سے زائد افراد ملک بھر میں سفر کرتے ہیں اور سالانہ سفر کرنے والوں کی تعداد 6 کروڑ سے زائد ہے۔ 9 مال بردار گاڑیاں روزانہ ملک بھر میں سامان کی ترسیل کے لیے چلائی جاتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق کراچی ڈویژن مسافر ٹرینوں سے 30 کروڑ روپے ماہانہ کماتا ہے جبکہ گڈز ٹرین یعنی مال بردار ریل گاڑیوں سے روزانہ تقریباً2 کروڑ 40 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ مسافر اور مال بردار ریل گاڑیوں سے ریلوے کو سالانہ تقریباً 2 ارب روپے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اربوں روپے ماہانہ منافع حاصل ہونے کے باوجود پاکستان ریلوے ایک اندازے کے مطابق اسٹیٹ بینک کے 40 ارب روپے کا مقروض ہے اور اوور ڈرافٹ کے باعث اسٹیٹ بینک وزارت ریلوے کو مزید رقوم دینے میں پس و پیش سے کام لیتا ہے۔ اربوں روپے ماہانہ کمانے والا یہ ادارہ سفید ہاتھی کیوں بنتا جارہا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت ِوقت اور وزارت ِریلوے اس جانب توجہ نہیں دیتے؟ فور ڈی ایس ریلوے آفتاب میمن خسارے کی وجہ اضافی اخراجات اور محکمہ میں موجود کرپشن کو قرار دے چکے ہیں۔ محکمہ کے موجودہ چیئرمین سمیت دیگر افسران کی شاہ خرچیوں کے باعث آج قومی اثاثہ اپاہج بنادیا گیا ہے۔ چیئرمین ریلوے نے ذاتی تعلقات کی بنا پر صرف 8 افسران کے گھروں کی تزئین وآرائش پر کروڑوں روپے خرچ کرڈالے۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین ریلوے کے پی اے بلاول سرور نے اسلام آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر 35 لاکھ، کراچی سرکلر ریلوے کے ڈائریکٹر اعجاز خلجی نے کراچی کینٹ میں واقع اپنی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر 55 لاکھ، جبکہ ممبر فنانس جہانگیر عزیز نے اسلام آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ کی تزئین وآرائش پر 85 لاکھ روپے خرچ کیے۔ ذریعے نے بتایا کہ ممبر فنانس جہانگیر عزیز چیئرمین ریلوے سمیع اللہ خلجی کے خاص دوستوں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ اعجاز خلجی چیئرمین کے قریبی عزیز ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ چیئرمین ریلوے سمیع اللہ خلجی پر کرپشن کے کئی الزامات سامنے آئے اور انہیں وفاقی وزیر برائے ریلوے بشیر احمد بلور کی سرپرستی حاصل ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سمیع اللہ نے چیئرمین ریلوے کا چارج سنبھالتے ہی نئی لگژری سیلون کوچ خریدی ہے جو ہر طرح کی لگژری سہولیات سے آراستہ ہے۔ چیئرمین ریلوے نے بیشتر مواقع پر ایک کے بجائے 2 لگژری سیلون کوچز بھی استعمال کیں جن میں ان کے عزیزوں نے سفر کیا۔ ذریعے نے بتایا کہ چیئرمین ریلوے کی عیاشیوں سے محکمہ کو کروڑوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ ذریعے نے بتایا کہ چیئرمین ریلوے نے ہاکس بے میں ساحلِ سمندر پر ایک ہٹ بھی خرید رکھا ہے جس کے لیے سرکاری خرچ سے سامان کی خریداری شروع کردی گئی ہے۔ یہ ہٹ چیئرمین ریلوے اپنے دورہ¿ کراچی کے دوران عیاشی کے لیے استعمال کریں گے۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ ریلوے سے اسکریپ کی چوری روز کا معمول بن چکی ہے اور ان وارداتوں میں براہِ راست پولیس اہلکار یا پولیس کی سرپرستی ہوتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ ریلوے کی جانب سے دیے جانے والے ٹھیکوں میں بھی کروڑوں روپے کی کرپشن کے واقعات سامنے آئے ہیں، ایسے ہی ایک واقعے میں ریلوے افسران نے ملی بھگت سے ماضی میں بلیک لسٹ قرار دی گئی مقامی کمپنی ہاشمی کیبل کو اسٹیل وائر کا ٹھیکہ دلوایا۔ معاہدے کے مطابق لاہور کی ہاشمی کیبل کمپنی نے آرمیچر وائنڈنگ کے لیے کینیڈا سے اسٹیل وائر منگوانی تھی، کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسٹیل وائر کے بدلے سستے اور غیر معیاری کاپر وائر کے 4535 کلو گرام کے 2 کنسائنمنٹ منگوالیے جن کی مالیت کاغذات میں 3 کروڑ روپے ظاہر کی گئی، تاہم ریلوے کے ورکس منیجر راولپنڈی نے کاپر وائر کو غیر معیاری قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے افسران نے جلد بازی میں بغیر لیبارٹری ٹیسٹ کروائے کیبل کے نمونوں کو کلیئر قرار دے کر کمپنی کو کیبل کی رقم ادا کردی اور کمپنی سے بیعانہ کی مد میں رقم بھی نہیں لی گئی۔
اس کے علاوہ حال ہی میں پاکستان ریلوے کو ساﺅتھ کورین کمپنی لی چنگ نے فراڈ کے ذریعے 58 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں بچھائے جانے والے نئے ریلوے ٹریک کے لیے ٹرن آﺅٹ کا ٹھیکہ ساﺅتھ کورین کمپنی کو دیا گیا تھا، تاہم کمپنی نے ریلوے کی جانب سے مسترد شدہ سامان کراچی بھیج دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے کمپنی کو ٹرن آﺅٹ کی مد میں 44کروڑ 20 لاکھ 99 ہزار 175 روپے کی ادائیگی کی تھی۔ پریکیورمنٹ ڈپارٹمنٹ نے سامان مسترد کردیا تھا جس کی وجہ سے 50 دن تک سامان کراچی پورٹ پر کلیئرنس کا منتظر رہا۔ محکمہ ریلوے کو ڈیمرج کی مد میں ایک کروڑ 14 لاکھ روپے اضافی ادا کرنے پڑے جبکہ کسٹم ڈیوٹی اور سیلزٹیکس کی مد میں 13 کروڑ روپے ادا کرنے سے 44 کروڑ روپے میں خریدا گیا سامان محکمہ ریلوے کو 57 کروڑ روپے کا پڑگیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پریکیورمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سامان مسترد کیے جانے کے باوجود چیئرمین کے دباﺅ پر سامان کلیئر کروالیا گیا جو کراچی جنرل اسٹور میں ڈمپ کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے کو 57 کروڑ روپے نقصان کے باوجود وزارت ریلوے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں بذریعہ ریل ایک لاکھ سے زیادہ افراد روزانہ سفر کرتے ہیں جبکہ صرف کراچی سے اندرون ملک سفر کرنے والوں کی تعداد 45 ہزار سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں جاری حالیہ دہشت گردی کی لہر کے باوجود سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے کوئی بہتر انتظامات نہیں کیے گئے۔ محکمہ ریلوے انتہائی حساس ہونے کے باوجود جدید آلات سے محروم ہے جس کے باعث دہشت گردی کی کسی بڑی کارروائی کا خدشہ ہے۔ کراچی ڈویژن میں آدھا سندھ شامل ہے جس میں سٹی اسٹیشن سے ٹنڈوآدم تک، دادو سے کوٹری اور میرپورخاص سے پروپوائنٹ کھوکھرا پار اور بدین جبکہ دوسری طرف کوئٹہ تک کی حدود شامل ہیں، اس کے علاوہ لوپ لائنس بھی شامل ہیں۔ ریلوے پولیس کراچی ڈویژن کی حدود میں 8 تھانے اور 12 چوکیاں ہیں جن کے لیے 1350 افسران اور سپاہی ہیں۔ اسی طرح کراچی ڈویژن کے پاس اس وقت ایکسپلوزوڈی ٹیکٹر، 5 میٹل ڈی ٹیکٹر اور صرف ایک سی سی کیمرہ شامل ہے، جبکہ پورے پاکستان میں محکمہ ریلوے کے پاس ایک بھی اسکینر مشین موجود نہیں ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کو حال ہی میں ایک ادارے کی جانب سے 2 اسکینر مشینیں عطیہ کی گئی ہیں جنہیں کراچی اور لاہور میں نصب کیا جانا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کے پاس فنڈز نہ ہونے کے باعث خیراتی اسکینر مشینوں کی تنصیب کا کام تاخیر کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے حکام نے یومیہ چلنے والی 28 مسافر اور 9 مال بردار ریل گاڑیوں میں ناقص اور استعمال شدہ بریک بلاک لگانا شروع کردیے ہیں، جس کی وجہ سے یومیہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی جانیں داﺅ پر لگ گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مسافر اور مال بردار ریل گاڑیوں میں فی ٹرپ کے بعد بریک بلاک تبدیل کیے جاتے تھے جس کے باعث حادثات میں کمی واقع ہوئی تھی، جبکہ ریلوے حکام کراچی سے اندرون ملک چلائی جانے والی ریل گاڑیوں میں فی ٹرپ کے بجائے 4 ٹرپ مکمل ہونے پر بریک بلاکس تبدیل کررہے ہیں، جبکہ مسافر ٹرینوں کے تبدیل کیے جانے والے گھسے ہوئے بریک بلاکس کو مال بردار ریل گاڑیوں میں لگادیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مسافر ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 110 میل فی گھنٹہ اور مال گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 80 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اگر بریک بہتر حالت میں ہوں تو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بریک لگانے پر ٹرین 1200 میٹر کا فاصلہ طے کرنے پر رک سکتی ہے، بصورت ِدیگر کسی بھی وقت حادثے یا ٹرینوں کے تصادم کا خدشہ ہوگا۔ فرسودہ سگنل سسٹم، غیر محفوظ اور بجھے ہوئے گیٹ سگنل اور ناقص بریک کے استعمال پر لوکورتنگ (ٹرین ڈرائیورز) ایسوسی ایشن نے ہفتہ سیاہ بھی منایا تھا۔
چند ماہ قبل جمعہ گوٹھ جنکشن لانڈھی کے مقام پر علامہ اقبال ایکسپریس دوسری سمت سے اَپ ٹریک پر جانے والی سپر پارسل مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہوئے تھے۔ حادثے کے فوراً بعد ریلوے حکام نے کسی بھی قسم کی تحقیقات کے بغیر مسافر ٹرین کے ڈرائیور کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا۔ ریلوے پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کرکے اس کی گرفتاری کو خفیہ رکھا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ڈرائیور پر دباﺅ ڈال رہی ہے کہ وہ واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلے۔ کیا صرف ڈرائیور ہی سانحہ¿ جمعہ گوٹھ کا ذمہ دار ہے؟ کیا کنٹرول روم اور ریلوے کے دیگر حکام اس سے مستثنیٰ ہیں….؟ لیکن یہ ریلوے کے اعلیٰ حکام بھی وفاقی وزیر داخلہ کی طرح بیانات کیوں دے رہے ہیں؟ بھلا ہو وزیر داخلہ کا کہ انہوں نے اس موقع پر کوئی بیان نہیں دیا ورنہ وہ ضرور اسے خودکش حملہ قرار دے کر ڈرائیور کو خودکش حملہ آور قرار دے دیتے۔ واقعہ کے فوراً بعد چیئرمین ریلوے سمیع اللہ خلجی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیور نے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے۔ جنرل منیجر ریلوے سعید اختر نے واقعہ کے فوراً بعد کہا کہ ڈرائیور زخمی ہے اور اس نے ذمہ داری قبول کرلی ہے، لیکن ڈی ایس ریلوے کراچی ڈویژن آفتاب میمن کا کہنا تھا کہ واقعہ کے فوراً بعد ڈرائیور ”سایکڈ“ سے فرار ہوگیا اور واقعہ کا ذمہ دار صرف ڈرائیور ہے، جبکہ ریلوے پولیس نے ڈرائیور کی گرفتاری کو خفیہ رکھا اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس مظفر شیخ نے بتایا کہ ڈرائیور کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں تاہم گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ ریلوے کے اعلیٰ حکام کے بیانات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا آپس میں رابطہ کتنا غیر مستحکم ہے۔ شاید چیئرمین ریلوے نے اپنے ماتحتوں کو موبائل پر ایک ایس ایم ایس جاری کیا ہو کہ واقعہ کی ذمہ داری ڈرائیور پر ڈال دو، باقی بعد میں دیکھی جائے گی، وہ شاید تفصیلی پیغام نہیں پہنچا سکے اسی لیے حکام کے بیانات میں تضاد ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سانحہ¿ 27 دسمبر2007ءکے بعد ریلوے تنصیبات خصوصاً سگنل سسٹم بری طرح متاثر ہوا تھا جس کی وجہ سے جمعہ گوٹھ، بار شلنگ یارڈ، پیپری اور دھابے جی کے مقامات پر سگنل سسٹم تاحال بحال نہیں ہوسکا جبکہ جمعہ گوٹھ کے قریب کراچی آنے والا ٹریک مرمت کی وجہ سے بند تھا، اس لیے ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے سنگل ٹریک استعمال ہورہا ہے، جبکہ جمعہ گوٹھ کے قریب سگنل سسٹم درست نہ ہونے کی وجہ سے مینوئل طریقے سے ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جمعہ گوٹھ کے قریب گھگھر پھاٹک لوپ پر سپر پارسل مال گاڑی کو کنٹرول روم نے مینوئل طریقے سے اَپ ٹریک پر جانے کا اشارہ دیا جبکہ دوسری طرف مسافر ٹرین علامہ اقبال کے ڈرائیور نے بن قاسم پر رکنے کے لیے کوئی اشارہ نہ ملنے اور سنگل ٹریک ہونے کی وجہ سے راستہ کلیئر سمجھا۔ تاہم سنگل ٹریک پر لوپ سے آنے والی ٹرین مال بردار گاڑی سے ٹکرا گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹریک کلیئر نہیں تھا توکنٹرول روم نے مسافر ٹرین کو بن قاسم پر کیوں رکنے کا اشارہ نہیں دیا اور جمعہ گوٹھ کے قریب رکنے کا اشارہ کیوں دیا؟ ذرائع نے بتایا کہ اگر ڈرائیور واقعہ کا ذمہ دار ہے توکنٹرول روم سمیت ریلوے کے اعلیٰ حکام بھی اس کے ذمہ دار ہیں جن کی غفلت کے باعث یہ سانحہ پیش آیا اور 20 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی ریلوے کے ساتھ محیرالعقول اور عجیب و غریب واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ آپ نے یہ تو ضرور سنا ہوگا کہ 2 ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں لیکن ہمارے ہاں 3 ٹرینیں آپس میں ٹکرانے کا شرمناک واقعہ بھی ہوچکا ہے۔ 2005ءمیں گھوٹکی کے قریب 3 مسافر ٹرینیں ٹکرانے سے 150 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ یہاں سے کچھ ہی دور سانگی ریلوے اسٹیشن پر 1989ءمیں 2 مسافر ٹرینوں کے حادثے میں 400 سے زائد مسافر جاں بحق ہوئے تھے اور یہ حادثہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریل حادثہ ہے۔ زیادہ تر حادثات کے اسباب میں سگنلنگ کا فرسودہ نظام، ریلوے ٹریک کی خستہ حالی اور انسانی غفلت شامل ہے۔
ٹرین حادثے کی تحقیقات کو بالآخر ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد سرد خانے کی نذر کردیا گیا۔ تاہم یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں تھا، اس سے قبل بھی حادثات کی رپورٹس کو خفیہ ہی رکھا گیا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور جام رسول بخش پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ حادثے کی ذمہ داری قبول کرلے تو معاملات حل ہوسکتے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی میں ایف جی آئی آر کے ڈائریکٹر، جنرل منیجر سعید اختر، چیف انجینئر انجم پرویز اور چیف میکینکل انجینئر شامل تھے۔ تحقیقات کے دوران اسٹیشن ماسٹر جمعہ گوٹھ، اسٹیشن ماسٹر بن قاسم، علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور جام رسول بخش، فائرمین عبدالوحید، ڈویژنل ٹرانسپورٹ افسر، میکینکل آفیسر، اسسٹنٹ ڈویژنل میکینکل آفیسر، مسافر ٹرین میں موجود پولیس کمانڈوز اور حادثے کے زخمیوں نے بیان قلمبند کروائے۔ بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے اور دونوں ملکوں کو ریل نظام بھی انگریز سے ورثے میں ملا۔ آج بھارت ہم سے ہر شعبے کی طرح ریل کے شعبے میں بھی آگے ہے۔ بھارت نے سیاسی اور معاشی نظام میں ترقی کرکے پاکستان کو مات دے دی ہے۔ آج بھارت ریل کے ذریعے اربوں روپے کما رہا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان میں قومی اثاثوں کی لوٹ سیل جاری ہے۔ پی ٹی سی ایل اونے پونے داموں بیچ کر یوفون ساتھ میں مفت دے دیا گیا۔ اسٹیل مل بیچنے کی کوشش چیف جسٹس آف پاکستان نے ناکام بنادی اور موجودہ حکومت ریل کو سفید ہاتھی ظاہر کرکے نج کاری کے لیے پرتول رہی ہے، آخر ہمارا ریلوے نظام بھارت کے مقابلے میں سڑک پر کیوں آگیا ہے؟
nn

نفری اور حفاظتی آلات کی ضرورت ہے، مظفر شیخ

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کراچی ڈویژن مظفر شیخ نے بتایا کہ کراچی ڈویژن میں 8 تھانے اور 12 چوکیوں کے لیے 1350 اہلکاروں کی نفری ہے جبکہ ہماری حدود میں تقریباً آدھا سندھ شامل ہے۔ اس کے علاوہ 28 مسافر اور 9 مال بردار ریل گاڑیوں میں بھی 200 سے زائد اہلکار ڈیوٹی دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت محکمہ کو 2 اسکینر مشینیں عطیہ کی گئی ہیں جن کی تنصیب محکمہ کے پاس فنڈز نہ ہونے کے باعث نہیں ہوسکی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کراچی ڈویژن کے پاس ایک ایکسپلوزو ڈی ٹیکٹر، 5 میٹل ڈی ٹیکٹر اور ایک سی سی ٹی وی کیمرہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ 2003ءسے نفری میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے کم از کم 3 اسکینر مشینیں، 6 سی سی ٹی وی کیمرے، الیکٹرانک گیٹ اور 500 اضافی پولیس اہلکار درکار ہیں، تاہم ہم اب بھی کم وسائل میں سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنارہے ہیں۔

خسارے کی وجہ نچلی سطح تک پھیلی کرپشن اور اضافی اخراجات ہیں،
آفتاب میمن

ڈی ایس کراچی ریلوے آفتاب میمن نے بتایا کہ ریلوے عوامی سفر ہے جس سے روزانہ 45 ہزار سے زائد مسافر کراچی سے ملک بھر میں سفر کرتے ہیں۔ ہماری حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں۔ ہم نے اسٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ لینا بند کردیا ہے اور محکمہ کو اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں تاکہ ریلوے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کراچی سے روزانہ ریلوے میں خسارے کی بنیادی وجوہات میں ادارے میں نچلی سطح پر موجود کرپشن اور اضافی اخراجات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی دور میں ریلوے دینے کی پوزیشن میں تھا، آج لینے والی حیثیت ہے، لیکن اس کے باوجود ریلوے سے کرپشن کے خاتمے کی کوشش کررہے ہیں۔ ریلوے کے حالیہ خسارے کو بنیاد بناکر نج کاری کرنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ سرکلر ریلوے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سرکلر ریلوے پر جاپان کے تعاون سے تیزی سے کام شروع کردیا گیا ہے، یہ منصوبہ 3 سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ اس میگا پروجیکٹ پر 28 بلین روپے خرچ ہوں گے۔ منصوبے کے تحت روزانہ 290 ٹرین چلائی جائیں گی اور ہر 6 منٹ بعد ایک ٹرین روانہ ہوگی، جبکہ اس منصوبے میں زیر زمین ریلوے نظام بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے لیے ریلوے کی اراضی پر قائم کچی آبادیوں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔ اراضی کو واگزار کرانے کے لیے ریلوے کی زمین پر قائم تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی تجاوزات کے خاتمہ کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین ریلوے سمیع اللہ خلجی سے ان کے موبائل اور گھر کے ٹیلی فون نمبر پر رابطے کی بارہا کوشش کی گئی تاکہ ان پر لگائے گئے الزامات پر ان کا مو¿قف لیا جاسکے، مگر وہ کسی نمبر پر رابطے میں نہیں آسکے۔

تاریخ پاکستان ریلوے

پاکستان ریلوے ایک ریاستی مواصلاتی سروس ہے جو ملک بھر میں مواصلات کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ محکمہ ریلوے کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور اس محکمہ کو وزارت ریلوے کے تحت چلایا جاتا ہے، اور شاید ہی ریلوے کی وزارت کا قلمدان کسی اہل اور مناسب فرد کو سونپا گیا ہو۔ آج کل بشیر احمد بلور وفاقی وزیر برائے ریلوے کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
1847ءمیں پہلی بار کراچی کو بڑی ساحلی بندرگاہ بنانے کے امکانات کے ساتھ ساتھ ریلوے ٹریک بچھانے پر بھی غور شروع کیا گیا اور اُس وقت کے سندھ کے کمشنر سرہنری ایڈورڈ فریری نے 1858ءمیں کراچی بندرگاہ اور ریلوے لائن کے سروے کے لیے لارڈ ڈال ہاﺅس سے اجازت طلب کی۔ اس متوقع منصوبے کے تحت کراچی سے کوٹری تک ریلوے ٹریک بچھایا جانا تھا جس میں دریائے سندھ اور چناب کو اسٹیم بوٹ کے ذریعے کوٹری اور ملتان سے جوڑا جانا تھا، اور یہاں سے ریلوے ٹریک کو لاہور سے ملانا تھا۔ 13 مئی 1861ءکو پہلی بار کراچی سے کوٹری تک 169 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھایا گیا اور 1886ءتک چار ریلوے کمپنیاں کام کرتی رہیں، جہاں آج پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ بعدازاں سندھ ریلویز، انڈین فلوٹیلا کمپنی، پنجاب ریلوے اور دہلی ریلویز کو ضم کرکے سندھ، پنجاب اور دہلی ریلویز قائم کی گئی جسے 1885ءمیں ہندوستان میں برطانوی وزیر خارجہ نے خرید لیا۔ 1886ءمیں اس کا نام شمال مغربی اسٹیٹ ریلویز رکھ دیا گیا جو آخرکار قیام پاکستان کے بعد پاکستان ریلویز میں ضم کردی گئی۔
16 جون 1889ءکو کراچی اور کیماڑی کے درمیان ٹریک کو مزید وسعت دی گئی جبکہ 1897ءتک کیماڑی سے کوٹری تک ریلوے ٹریک کو ڈبل کردیا گیا۔ 1898ءتک ریلوے نیٹ ورک میں مزید بہتری آتی گئی اور بعدازاں پشاور سے کراچی تک ریلوے لائن بچھانے پر غور کیا گیا، یہ وہی راستہ ہے جس میں سکندراعظم نے اپنی فوج کے ہمراہ کوہِ ہندوکش سے بحیرہ عرب تک پیش قدمی کی تھی۔ بیسویں صدی کے درمیان پشاور سے راولپنڈی اور راولپنڈی سے لاہور کے درمیان ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 20 ویں صدی کے آخر میں پشاور کی مین لائن سے متصل مختلف سیکشن اور ذیلی لائن بچھائی گئی۔
1947ءمیں قیام پاکستان کے بعد شمال مغربی اسٹیٹ ریلویز کا 1,947 میل ریلوے ٹریک پاکستان کے حصے میں آیا۔ 1954ءمیں مردان چارسدہ تک ریلوے لائن میں توسیع کردی گئی اور 1956ءمیں جیکب آباد کشمور کی 2 فٹ 6 انچ گوج لائن کو بڑی گوج لائن میں تبدیل کردیا گیا۔ 1961ءمیں شمال مغربی ریلویز کا نام تبدیل کرکے پاکستان ریلویز رکھ دیا گیا۔ 1969ءمیں کوٹ ادو کشمور لائن بچھائی گئی، جبکہ 1973ءمیں کراچی سے ملک کے شمالی علاقوں کو ملانے کے لیے متبادل روٹ تیار کیا گیا۔ اس وقت پاکستان کے مجموعی ریلوے ٹریک کی لمبائی 5072 میل ہے۔
ایک بڑی گوج کی ریلوے لائن کوئٹہ سے زاہدان تک بچھی ہوئی ہے اور ایک معیاری گوج لائن زاہدان سے ایران کے مرکزی شہر کرمان سے جڑی ہوئی ہے جو ایران کے مرکزی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ 18 مئی 2007ءکو پاک ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت ریلوے لائن دسمبر 2008ءتک مکمل کی جانی تھی۔ اب یہ ریلوے سسٹم زاہدان سے منسلک ہے۔ پاکستان سے افغانستان کے درمیان کوئی ریل لنک نہیں ہے اور نہ ہی افغانستان میں کوئی ریلوے نیٹ ورک ہے، تاہم پاکستان نے افغان ریل نیٹ ورک کو 3 مرحلوں میں تعمیر کرنے کے لیے مدد دینے کی پیشکش کی تھی۔ پہلے مرحلے میں چمن سے افغانستان کے شہر اسپن بولدک تک، دوسرے مرحلے میں اس لائن کی قندھار تک توسیع اور آخری مرحلے میں اس کو ہرات تک بچھانے کا منصوبہ تھا، جہاں سے اس لائن کی ترکمانستان کے مقام خشکا تک توسیع ہونی ہے۔ آخری مرحلے میں گوج کا لنک 5 فٹ 6 انچ ہوگا جبکہ مرکزی ایشیاءمیں 4 فٹ 11 انچ کے لگ بھگ گوج ہے۔ اس کے علاوہ یہ روٹ گوادر سے دالبندین اور مرکزی ایشیا سے تفتان تک منسلک رہے گا۔
پاکستان کا چین سے بذریعہ ریل کوئی رابطہ نہیں ہے، تاہم فروری 2007ءمیں حویلیاں سے خنجراب پاس کے ذریعے چین کے اہم شہر کاشغر تک مجموعی طور پر 750 کلومیٹر فاصلے کے ٹریک کی فزیبلٹی ٹھیکے دیے گئے۔ یہ منصوبہ زیرغور ہے اور اس پر کام جاری ہے۔ اسلام آباد سے براستہ تہران استنبول تک مسافر ٹرین چلانے کا منصوبہ زیرغور ہے۔ 14 اگست 2009ءکو اسلام آباد سے استنبول کے درمیان کنٹینر ٹرین سروس کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ پہلی ٹرین میں 20 کنٹینر منسلک تھے۔ یہ سروس ہفتہ میں 2 بار چلائی جاتی ہے۔ اس سروس کے بعد مسافر ٹرین کا منصوبہ زیر غور ہے اور اسی روٹ کے ذریعے مرکزی ایشیاءاور یورپین ممالک تک رسائی کی امید ہے۔ تاہم بلوچستان کے شورش زدہ حالات کے باعث اکثر کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا جاتا ہے۔ سیکورٹی خدشات کے باعث یہ منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہے۔ چین کو گوادر روٹ سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ اس گزرگاہ سے سنکیانگ کو سینٹرل ایشیائی ممالک تک تجارتی حوالے سے بین الاقوامی رسائی حاصل ہوگی۔ چین کی جانب سے ایسٹ ویسٹ ریلوے کی چین کے سرحدی شہر کاشی سے پشاور تک توسیع ہوگی جس کے ذریعے بیجنگ گوادر کے ساتھ بھی انتہائی مختصر راستے سے کارگو موصول کرے گا۔ مذکورہ ریل نیٹ ورک کو خلیج فارس سے سنکیانگ کو تیل کی فراہمی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ پاکستان کے اندرونی ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے چین کو ایران تک بھی رسائی دی جاسکتی ہے۔
….٭٭٭….

Advertisements
%d bloggers like this: