Archive for the ‘دوسرا رخ’ Category

چوہدری صاحب ! خدا کے لیے

تحریر:ذوالفقارعلی

جاوید چوہدری صاحب!قومیں نوحوں اور مرثیوں سے نہيں امیدوں اور خوابوں سے اٹھان پاتی ہيں۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دینے کے لیے تاریکی کے تذکرے نہيں واضح اہداف ، موثر منصوبہ بندی اور اس کے اوپر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کے خاکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 چوہدری صاحب ! آپ جیسے رائے ساز کالم نویسوں کے نوحے سن سن کر قوم تھک چکی ہے۔ خدا کے لیے موجودہ حالات میں سے انہيں کوئی خاکہ دیجیے کوئی رہنمائی کا واضح نقشہ پیش کیجیے خود نہیں دے سکتے تو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان سے بنوا کر دیجیے ۔ اگر کوئی ملک میں قوم کی مخلص قیادت کے قابل ہے تو اس کا پتہ دیجیے اور اسے سپورٹ کیجیے ، کھل کر اس کا نام لیجیے ۔نہيں ہے تو بتائیے کہ اسکریچ سے لے کر کامیابی تک کا راستہ کیا ہے ؟ تا کہ قوم میں سے کوئی امید پائے اور آگے بڑھے قوم آپ اور آپ جیسے چند دیگر قلم کاروں کو پڑھتی ہے مگر آپ کی تحریروں سے بس مایوسی،انتشار اور دکھ کشید کر کے رہ جاتی ہے۔

چوہدری صاحب بہادری اور بزدلی دونوں ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں،خدا کے لیے اس قوم میں امید اور بہادری بانٹیے ۔ چوہدری صاحب معذرت چاہتا ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے آپ اور آپ جیسے دیگر رائے ساز لوگ بغداد کے علماء معلوم ہوتے ہں وہ علماء تاتاریوں کے حملے کے وقت قوم کو کوے کی حلت و حرمت کے مسائل میں الجھائے ہوئے تھے اور آپ اس فتنے کے عہد میں "ڈوب مرنے کا مقام ہے” جیسے درس دے کر بالواسطہ مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہيں۔

 چوہدری صاحب اس قوم کے نفرت اور غصے کو اس کے اصل دشمن سے انتقام کی طرف موڑ کر قوت میں بدل ڈالنے کا نسخہ بتائیے ،اس وقت سے پہلے کہ جب انقلاب فرانس کی طرح بپھرے ہوئے لوگ ہر نرم ہاتھوں والے کو موت کے گاقٹ اتار دینے کو آمادہ ہوجائيں گے اور میں اور آپ جانتے ہيں کہ بہرحال قلم کاروں کے ہاتھ نرم ہوتے ہيں ۔چوہدری صاحب لاکھوں قاری بنا لینا،ہزاروں افراد کو فیس بک پر اپنا ہمنوا بنا کر مسرت حاصل کر لینا ،ہر کالم پر بیسیوں تعریفی ایس ایم ایس اور کالز اٹینڈ کر لینا اور اپنے سرکاری دوروں کی کہانیاں بیان کر کے دیگر بیسیوں لکھاریوں کے دلوں میں چٹکیاں کاٹ لینا محض ذاتی نفسیاتی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے، قوم کے دکھوں کا مداوا نہيں ۔منہ اور قلم کی کمائی کھانے کے بجائے عمل کی کمائی کھانا زیادہ مشکل ہے۔

چوہدری صاحب قوم کو بتائیے کہ کوئی پروفیسر نجم الدین اربکان ،شیخ احمد یاسین ، ماؤزے تنگ یا لینن اور مارکس کس طرح پیدا ہوگا ؟نہيں تو کس طرح کوئی Collective Wisdom کے ادارے اس کی جگہ لے سکیں گے ؟ کیسے کامیابی کے کوئی خاکے بن سکیں گے ۔؟ کیسے کوئی راہ نجات نظر آ سکے گی؟ کوئی اسٹریٹجک پلاننگ ہوسکے گی ؟

چوہدری صاحب کچھ تو بتائیے کہ قوم کا کوئی گروہ کیسے قوم کی کردار اور ذہن سازی کر سکتا ہے ؟کیسے اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا کام ممکن ہے؟ کیسے اس نظام خون آشام کی سیاہ رات ڈھل کر کسی امن ، آشتی اور آسودگی کی صبح بن سکتی ہے۔

 چوہدری صاحب ۔ مشرق و مغرب آپ کی عملی بیداری کو ترس رہے ہیں ، چوہدری صاحب آپ کے پاس ان کے لیے تریاق ہے اور یہ سب مارگزیدہ ، یہ اندھے اور آپ بینا ، آپ کے ہاتھوں میں چراغ ہے اور یہ اندھیروں کا شکار ۔اکر آپ جیسے لوگ علم تقویٰ اور کامیابی کا کوئی واضح منصوبہ نہيں دیں گے تو یاد رکھیں کہ پھر عزت و شرف کی ساری پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جائيں گیں۔

 چوہدری صاحب خدا کے لیے ! واضح اہداف ، مؤثر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ !

 کوئی امید !

 کوئی حوصلہ !

کوئی منصوبہ!

 کچھ تو دیجیے ؟

Advertisements

مشکوک پارسل اور امریکی انتخاب

امریکا میں دو نومبر کو ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخآبات سے پہلے انتیس اکتوبر کو اچانک امریکی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور اس کی وجہ لندن میں امریکا آنے والے طیارے سے مشتبہ دھماکا خیز پیکٹ کی موجودگی بتائی گئی ۔۔۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ مشتبہ پیکٹ ۔۔۔ ایسٹ مڈلینڈ ہوائی اڈے ۔۔۔ سے برآمد ہوا تھا ۔۔۔۔ دبئی پولیس نے بھی امریکا آنے والے طیارے سے مشتبہ پیکٹ برآمد کیا ۔۔۔ اور اس میں دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق کردی ۔۔۔۔ امارات ایئرلائن کے مطابق یہ پیکٹس یمن سے کارگو کئے گئے تھے ۔۔۔ اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان پر شکاگو کی یہودی عبادت خانوں کو پتا درج ہے ۔۔۔۔

اس پوری صورت حال کو امریکی اور برطانوی نشریاتی اداروں نے دکھایا ۔۔۔ اس کے ساتھ اگلے دن امریکی اور برطانوی اخبارات میں اس خبر کو شہہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا ۔۔ مغربی میڈیا کی مشترکہ سرخی یہی تھی کہ بم پھٹنے کی صورت میں طیارہ فضا میں تباہ ہوسکتا تھا ۔۔۔ اور اس کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے

امریکی صدر نے اس سازش کا الزام جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ کو قرار دیا ۔۔ اور بتایا کہ اس منصوبے کے بارے میں سعودی عرب نے امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا ۔۔۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اکتوبر میں ہی یورپی ممالک میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی اطلاع بھی سعودی انٹیلی جنس نے ہی دی تھی ۔۔۔ اس معاملے پر امریکی صدر براک اوباما نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کو ٹیلی فون کرکے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔۔۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔۔۔

مشتبہ پیکٹس کے معاملے پر یمن میں سکیورٹی کریک ڈاون شروع ہوگیا ہے اور چھبیس مشتبہ پیکٹس قبضے میں لے لئے گئے ہیں۔۔ اور ایک خاتون کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔۔۔ جبکہ فیڈیکس اور یو پی ایس نے یمن سے گارکو اٹھانا بند کر دیا ہے۔

امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس حکام اگرچہ پارسل دھماکوں کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر اور نائجیریئن شہری عبدالمطلب کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائی جیسی کوشش قرار دے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن امریکی انتخابات سے پہلے اس قسم کی کارروائیوں میں اضافے کو بعض حلقے معنی خیز تصور کرتے ہیں ۔۔ اور اسے امریکی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ جو پارسل بم برآمد ہوئے ہیں ۔۔ ان کی تصاویر تو جاری کردی گئیں ۔۔ لیکن ان پارسل پر تحریر کردہ پتے میڈیا پر کہیں نظر نہیں آئے۔۔۔۔۔

Children for Sale: Trafficking by Foreign Embassies

Report: Tariq Habib

Solid evidences have revealed that foreign embassies in Pakistan are involved in illegal child trafficking. NGOs sponsored and supported by foreign embassies are adopting new born Pakistani Muslim children and sending them abroad, whereas local welfare organizations are also involved in the crime. According to Pakistan’s law, non-Muslims cannot adopt Muslims.

However, reality speaks differently. A foreign couple employed in a foreign embassy holding Passport No. 19124346 and 19124345 adopted a 6 month old child Zara Bilquis from a renowned welfare organization. The welfare organization permitted that the child can be migrated to another country after adoption.


However, serious mismatching of facts was revealed when the documents where reviewed in detail. The documents state that the child was adopted by the couple on August 21, 2009, whereas, birth certificate of the child K00680496 was prepared a month earlier on July 27, 2009 and the name of couple was already mentioned as parents instead of original parents.

An important source relating to the case told The Eastern Tribune that in the last two decades, more than 40,000 Muslim children have been smuggled from Pakistan. The source claimed that these children are converted to Christianity and can be used against the interest of Pakistan. Several incidents of child trafficking by foreign NGOs were also reported right after the 2005 earthquake in the northern areas of Pakistan. “These NGOs take advantage of the IR-4 visa classification of the United States,” the source claimed.

The IR-4 visa classification signifies that the orphan will be adopted by the petitioner after being admitted to the United States.  In order to issue an IR-4 visa, the consular officer must be satisfied that the petitioner both intends to adopt the beneficiary in the U.S. and is legally able to do so.  The petitioner must have secured permanent legal custody of the orphan under the laws of the orphan’s home country.  That custody must be sufficient to allow the child to be taken from the country and adopted abroad.  In addition, the petitioner must have fulfilled any applicable pre-adoption requirements of their home state.

However, none of the requirements were followed when these foreign NGOs adopted new born children in Pakistan and smuggled them abroad. Sources also revealed that the Government of Pakistan does not even have correct facts and figures regarding the adopted children by foreign NGOs, leave aside the violation of Pakistani and international law.

عائشہ،ٹائم میگزین اورنئی صف بندی

تحریر:شاہد عباسی

"وہ بہت سی دیگر راتوں کی طرح ایک تاریک رات تھی ،حالات کی خرابی اور آدھی رات گزر جانے کے باعث پوراگائوں سوچکا تا  لیکن ارژگان صوبے کی اس بستی کے ایک گھر میں ابھی تک روشنی نظر آ رہی تھی۔اہلخانہ کے جذبات دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ غصے میں ہیں یا جھنجھلاہٹ کے مارے ان کی یہ حالت غیرہو رہی ہے۔یہ کیفیت خاصی دیر سےبرقرار تھی کہ اچانک دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز آئی ،جس نے سب کو مزید پریشان کر دیا مگر کوئی گنجائش نہ پاتے ہوئے اہلخانہ کی جانب سے دروازہ کھولا گیا توآنے والوںنے حکم جاری کیا "عائشہ”کے سسرالی اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر آئے ہیں۔اسے بلایا جائے،یہ اعلان نشر کر کے انتظار کرنے کے بجائے بے وقت آنے والے اس وفد کے سربراہ نے وہاں کھڑے کھڑے اپنا فیصلہ سنایاکہ "عائشہ اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر آئی ہے ،اس کا یہ اقدام قابل سزا ہے لہذااسے سامنے لایا جائے”۔یہ کہہ کر وہ گھر کے اندرداخل ہوئے ،عائشہ کو دبوچا اور اس حالت میں کہ اس کے بازو اسی کے دیور نے پکڑ رکھے تھے،منصف کی موجودگی میںاس کے شوہر نے پہلے کان اور پھر اس کی ناک کان ڈالی۔اس گھنائونی کارروائی میں ملوث افراد کے گروہ کی قیادت کرنے والے منصف کو مقامی طالبان لیڈر کے طور پر شناخت کیا گیا۔”


گزشتہ برس کی جانے والی یہ مبینہ کارروائی امریکی جریدہ ٹائم کی نو اگست کی اشاعت میں شائع ہونے والے شمارے کی کور اسٹوری ہے جس کے ساتھ [عائشہ]نامی ایک لڑکی کی تصویر بھی دی گئی ہے۔ٹائم کے رائٹر آریان بیکرکے بقول [عائشہ]اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر بوجوہ اپنے والدین کے پاس آ گئی تیہ لیکن اسے وہآں بھی امن سے رہنے نہیں دیاگیا ۔اسٹوری کی ہائی لائٹس کے ساتھ ہی ٹائم کے مینیجنگ ایڈیٹررچرڈ اسٹینگلز کا قارئین کے نام یہ پیغام موجود ہے کہ ‘یہ واقعہ دس برس قبل طالبان کے دور حکومت میں پیش نہیں آیا بلکہ ایک برس قبل پیش آیا ہے’،ظلم کا شکار عائشہ ان کے بقول اس وقت کابل کے ایک خفیہ خواتین مرکز میں رہائش پزیرہے’۔

رچرڈنے اتنا لکھنے کے بعد براہ راست کرزئی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘گزشتہ مہینے ہی مصالحتی کونسل بنانے اورطالبان سے مفاہمت کے لئے نئے سرے سے تیاریاں کرنے والی کرزئی انتظامیہ کو یہ بات یاد کیوں نہیہں رہتی کہ

What Happens If We Leave Afghanistan’

اور یہی جملہ "عائشہ "نامی نوجوان لڑکی کی تصویرکے ہمراہ آئندہ ہفتے[8اگست کو]شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے سرورق کی زینت بھی بنایا گیا ہے۔” مصنف کو یہ شکایت بھی ہے کہ”اگر امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں افغانستان سے نکلنے کے لئے پلنے والے منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہاں سے فوج کو واپس بلا لیا جاتا ہے تو افغان خواتین سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔ان میں سے بدکاری میں ملوث عورتوں کو پھر سنگسار کیاجائے گااوربغیر پردہ کے باہر نکلنے والیوں کو پردہ کی پابندی کروائی جائے گی”۔

عائشہ کے ساتھ بیتنے والا واقعہ اگر سچا ہے اور اس میں سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو جیسا کوئی پھندا موجود نہیں تو یقینا یہ ایک گھنائونا کام ہے،خواہ سے انجام دینے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو۔لیکن ٹائم جیسے میگزین کی جانب سے جسے مشہور زمانہ صیہونی ملکیتی ادارے سی این این کی پشت پناہی بھی حاصل ہےموجود وقت میں یہ اسٹوری سامنے لانا اور اس انداز میں واضح پیغام دینا کچھ اور ہی جتلا رہا ہے۔

مغربی میڈیا باالخصوص بلاگز اور ویب سائٹس پربرملا یہ تبصرے کئے جا رہے ہیں کہ ٹائم نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے منصوبے اور طالبان سے مفاہمت کے متعلق جاری بحث کو منطقی انجام تک پنچا دیا ہے۔جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ کو طالبان سے مذاکرات اور افغانستان سے فوج نکالنے کی "حماقت”کرنے کے بجائے پہلے سے ذیادہ سنگین قدم اٹھانا چاہئے۔

معاملہ محض ٹائم کی اسٹوری تک رہتا تو شایداتنا گھمبیر نہ ہوتا مگرچند روز قبل وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے خفیہ کاغذات،دو روز قبل پوسٹ کی گئی پراسرار انشورنس فائل اور اس تمام واقعے میں پاکستان اور خاص طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کرنا اس امر کی نا ندہی کرتا ہے کہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں جسے عورتوں کے حقوق کی حفاظت قرار دے کر ہضم کر لیا جائے[اگر یہ حقیقت میں عورت کے حق کی حفاظت ہوتی تو بھی گورا ہو سکتا تھا،لیکن یہ ہاتھی دانت دکھ رہے ہیں،جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں]۔

برطانیہ کی جانب سے حال ہی میںمسئلہ کشمیر کو اپنا پیدا کردہ مسئلہ تسلیم کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے بھارت کی زبان بولتے ہوئے افغان حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا،دہشت گردی کو ہماری ریاستی پالیسی قرار دے کر امورٹ بند کرنے کا مشورہ،چند ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور خصوصی ایلچی رچرڈ ہارلبروک کی موجودگی میں بھارت کو تجارتی راہداری مہیا کرنے کا ہنگامی معاہدہ کروانا،امریکہ کی جانب سے بھارت کو نیو کلئیر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے چھ معاہدے ایک ہی روز طے پانا،تمام تر احتجاج کے باوجود آئی ایس آئی کے اعلی سطحی وفد کی جانب سےڈیوڈکیمرون کے روئے پر برطانیہ جانے سے انکارمگر صدرمملکت کی جانب سے اقرار،جولائی کے مہینے میں افغانستان میںبڑھتی مزاحمت کے نتیجے میں66امریکی فوجیوں کی ہلاکت،شمالی علاقوں میں اچانک بڑھ جانے والے ڈرون حملوں ،اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے متعلق امریکی حکام کے بیانات،بلوچستان کی شورش میں اضافے،قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے پیدا ہونے والے ردعمل کو پاکستان کی ایٹمی قوت عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی دھمکی قرار دینے،اوباما کی جانب سے الیکشن میں افغان جنگ ختم کرنے کے وعدے سے لے کر سترہ ہزار اور بائیس ہزار مزید فوجی یہاں بھیجنے کے اعلان کے بعد اس جنگ کو اوباما کی جنگ قرار دینے کی قلابازی،کینیڈا کے افغانستان میں سابق سفیر اور اقوام متدرہ مشن کے ڈپٹی کرس الیگزینڈر کی جانب سے جنرل کیانی کی سربراہی میں پاکتاینی فوج کو بلوچستان کی شورش پر قابو پانے،انڈیا کو افغانستان سے نکالنے اور قبائیلیوں کو رام کرنے کے لئے گوریلا جنگجوئوں کی حمایت اورانہیں اسپانسر کرنے کے پرانے دعوے کے ازسرنو دہرائے جانے،فروری میں ملابرادر وغیرہ کی گرفتاری کو ان کے امریکہ کی جانب جھکائو اور پاکستانی فوج کے اثر سے آذاد ہو جانے سے تعبیر کرنے،بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی ایماء پر آپریشن سے پاکستان فوج کے انکارکو امارت اسلامی افغانستان کا بچائو قرار دینے،اور ان تمام واقعات کے نتیجے کے طور پر اتحادیوں کی جانب سے "سنجیدہ کارروائی”کا مطالبہ اپنے اندر اتنی کچھ معنویت ضرور رکھتا ہے جو سرسری نظر ڈالنے والے کو بھی بہت کچھ سمجھا جائے۔


ٹائم میگزین کی جانب سے اٹھارہ سالہ عائشہ کو اپنے سرورق کی زینت بنانا اور اس پر بیتنے والے المیہ لمحات کا ذکر افسوسناک ہی نہیں اپنے اندر بہت سارے سوال بھی رکھتا ہے۔جن کا جواب آج نہیں تو کل ان سب کو دینا ہو گا جو اپنے اپنے مفاد کے لئے ایک کام کو جائزیانارروا قرار دیتے ہیں مگر جب اس سے ان کے کسی مخالف کو فائدہ پہنچے تو اسے یکلخت حرام یاپھرقابل قبول قرار دے ڈالتے ہیں۔اور اس سارے مرحلے میں دلچسپ ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ہر لمحہ دو انتہائوں پررہنے والے انتہاپسندی کاالزام بھی اپنے مخالفین یعنی مسلمانوں پر لگاتے ہیں

عورت ہی نہیںدنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والی کوئی بھی ذی روح مخلوق یقینا اس لائق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے،ادب واحترام روا رکھا جائے،جسمانی تشدد دور کی بات اس کے متعلق نازیبا کلمات تک کہنے سے قبل ہی اپنی زبانوں اور سوچوں پر پہرے بٹھالئے جائیں۔ خرابی پید اہو جانے کے بعد مرض کی روک تھام کے نام پر خرابہ پیدا کرنے کے بجائے تعلقات پہلے ہی فطری حدوں میں رکھے جائیں۔لیکن نہ جانے کیوں یہاں آ کر ذہن امریکی پالیسی سازوں کی منطق پر حیران ہوتا ہے جو میڈیا کے زور پر مہم چلا کر "عائشہ”کے نام پر افغانستان میں جاری بونا اپارٹازم[سفاکیت کے لئے استعمال ہونے والی مغربی اصطلاح} کو تو جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر اسی کی ہم مذہب”عافیہ”کے ساتھ خود اس سے بھی ذیادہ "سلوک” روا رکھتے ہیں۔ افغانستان میں مبینہ طالبان کی جانب سے کئے گئے”کارنامے”کی نشاندہی تو ٹائم نے کردی،جس کی تردید یا تائید میںفریق مخالف کی کوئی رائے موجو دہی نہیں جو ان پر فرد جرم عائد کر سکے۔مگر سب کے سامنے کئے گئے اس کارنامے کے متعلق کیا کہاجائے جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ سے اغواء کے بعد،بگرام ائیر بیس،قندھار جیل،امریکی عدالت اورزنداںنمانفسیاتی مرکز میں عافیہ پر روا رکھا گیا،وہ جرم پس پردہ سہی مگر یہ تو سردیوارہوا ہے ۔

اس پر کیا ٹائم اپنے آقائوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ جب تک امریکی عدالتوں سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی،عام امریکی نفسیاتی امراض سے جان نہیں چھڑاتا،ملک پر عائد قرض،لاقانونیت،ہر بارہویں منٹ میں ہونے والی ڈکیتی،ہر نصف گھنٹے  میں لٹنے والی کسی عورت کی عزت،بغیر شادی کے ماں بننے والی18برس سے کم عمر لڑکیو ں کا تناسب کم نہیں ہو جاتا ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔یقینا ایسا ہونا مشکل ہے تا ہم پھر بھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سب کو نظر آنے والی وہ تصویر جس میں امریکا خود مجرم نظر آتا ہے جب تک دھندلاہٹ سے پاک نہیں کر لی جاتی اس تصویر کے کسی ایک رنگ کی موجودگی پر دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بعید نہیں کہ عالمی اداروں اور امریکی تھنک ٹینکس کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق امریکی معاشرے میں پنپنے والے قبیح جرائم پر جس روز وہاں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دنیا کے تمام ممالک کی عوام اپنے لئے انصاف ڈھونڈنے کو خود ہی اٹھ کھڑے ہوں۔

یا پھراسے روسی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار اورماسکو کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ماہر کی پیشنگوئی کے مطابق آئندہ برس امریکے کے ٹکڑے ہونے سے تعبیر کر کے خاموشی سے دیکھا جاتا رہے۔

معاملہ جس کروٹ بھی بیٹھےکے یہ طے ہے کہ فیصلہ کرنا ہی ہو گا ،ورنہ آج اگر اسے ٹالا گیا تو کل شاید یہ زبردستی کرنا پڑے ،مگر اس وقت اختیار نہیں مجبوری سے کیا جائے گا۔فیصلہ اب ان کے ہاتھوں میں ہے،اختیار یا مجبوری۔۔۔۔؟؟؟

افغانستان اور امریکہ۔۔۔۔۔۔۔اب بھی کچھ باقی ہے۔۔۔؟؟؟

معروف جریدے ٹائم نے اپنی حالیہ اشاعت میں سرورق پر ایک نوجوان لڑکی کی تصویر دی ہے جس کی ناک کٹی ہوئی دکھائی گئی ہے ۔اس تصویر کے ساتھ موجود کوراسٹوری کی سرخی میں یہ جملہ درج ہے

What Happens If We Leave Afghanistan

گویا ٹائم ،امریکی حکومت کی زبان بولتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر امریکی اور ان کی قیادت میں موجود چالیس ممالک کی فوج وہاں سے چلی گئی تو ایس اہی دوبارہ ہو گا۔

Title of Time Magazine

کور اسٹوری کے مندرجات بھی انہی خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔یقینا  پیشہ وارانہ لحاظ سے ایسی تصویر دینا جو موضوع کی صحیح صحیح ترجمانی کرے لائق تحسین اقدام ہے،مگر اس وقت تک جب یہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنے کے بجائے سچ کے اظہار کا سبب بنے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی سربراہی میں گزشتہ دس برسوں سے افغانستان میں موجود افواج نے جس بڑے پیمانے پر شہری ودیہی آبادی کا قتل عام کیا ہے اس نے ہلاکو اور چنگیز خان کی روحوں تک کو شرما دیا ہے۔یودیوں نے ہٹلر سے جتنا ظلم منسوب کر رکھا ہے وہ بھی مات کھا گیا ہو گا۔جولائی کے مہینے میں66سے زائد امریکی فوجیوں کی افغانستان میں ہلاکت اس بات کی نشاندہی ہے کہ تمام تر جاہ و جلال ،قوت کے استعمال،تشددمدھوکہ دہی کے باوجود اگر ردعمل اتنا شدید ہے  تو اس کے پس پردہ کوئی عمل تو کارفرما ہو گا۔

ان حقائق کے تناظر میں جریدہ ٹائم کے تخلیق کاروں سے تھوڑی سی معذرت کے ساتھ ، تصویر کے ساتھ اصل کیپشن یوں ہونا چاہئے

What Still Happened Despite 10 Years of Occupying Afghanistan

اس تبدیل شدہ کیپشن کے ساتھ یہ تصویر منظر کی کچھ صحیح عکاسی کرتی محسوس ہوتی ہے۔ملاحظہ فرمائیں

نبی مہربان ﷺکی تصاویر کے بعد "قرآن جلانے” کا اعلان

تحریر:شاہد عباسی

آج کی دنیا کو اپنے مہذب ہونے پر فخر ہے جس کا ثبوت وہ سب کے لئے برابری،برداشت اور حقوق کی فراہمی کو قرار دیتی ہے۔اس دعوے پر عمل میں اہل دنیا اتنے آگے بڑھ گئے کہ مغربی ممالک نے اپنے ہاں کتوں ،بلیوں سمیت پالتو وغیر پالتو جانوروں تک کے حقوق کی حفاظت اوران کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد تنظیمیں قائم کر لیں،زمین پر کٹنے والا ہر درخت انہیں کرہ ارض کی تباہی لگتا ہے،عورتوں کی آزادی خواہ وہ اخلاقیات سے عاری کیوں نہ ہو،مزدوروں کے حقوق خواہ وہ آجر کی جیب پر ڈاکہ کیوں نہ ہوں،آزادی اظہار اوراطلاعات تک رسائی کا حق خواہ وہ کسی کی جان جانے کا سبب ہی کیوں نہ بنے،یہ اور اس جیسے بے شمار ”حقوق و فرائض“ ہیں جن کے حصول کی خاطر مغرب اور اہل مغرب ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔وہ اس بات کا اتنا ڈھول پیٹتے ہیں کہ ناواقفان حال انہیں فرشتہ صفت سمجھنا شروع کر دیں،لیکن یہ شرافت، دیانت،قانون پر عملدرآمد،مہذب پن،حقوق کی طلب ، فرائض کی ادائیگی،برداشت،تعلیم دوستی،انسانی ترقی کا جنون وغیرہ اس وقت کہاں کھو جاتے ہیں جب معاملہ اسلام اورمسلمانوں کا آ جائے۔

اس مرحلے پر پہنچتے ہی ان کے منہ میں موجود دانت گویاکسی خون آشام درندے اورزبانیں کسی گنوار جاہل اوروحشی کی مانند ہو جاتی ہیں جبھی وہ ہر کس و ناکس کا نرخرہ چبانے اور خون چاٹنے کو تیار رہتے ہیں۔

بدکاری میں ملوث مردوعورتوں کو بیماریوں سے بچاﺅ اورمزدور حقوق کے نام پر کروڑوں ڈالر کے فنڈ مہیا کرنے والا مغرب سویٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کا اعلان کر دیتا ہے،عورتوں کی آزادی کو ہر سانس سے بھی ذیادہ جپنے والا معاشرہ فرانس میں حجاب جیسے فرض پر پابندی کا قانون منظور کر لیتا ہے، پاکستان، ایران یا کسی بھی مسلم ملک کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش پر آسمان سر پر اٹھا لینے اوروجود ہی نہ رکھنے والے ہتھیاروں کے بہانے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا نظام جرمنی کی بھری عدالت میں حجاب کرنے پر مسلم خاتون کو خنجر گھونپ کر شہید کر وادیتا ہے،افغانستان کے دوردراز علاقے میں مرتد ہونے والے”عبدالرحمن“کو راتوں رات خصوصی جہاز سے زندگی محفوظ بنانے کی آڑ میں یورپ منتقل کرنے والے انسانی حقوق کے چیمپئن دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی پر کیچر اچھالنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔اپنی قوم کے افراد کے ہاتھوں لکھی گئی آئینہ دکھاتی کتابوں، بنائی گئی فلموں پر پابندی لگانے والا مغرب مسلمانوں کی جان سے بھی ذیادہ عزیزترین کتاب قرآن مقدس کی کھلے عام ”نعوزباللہ“تذلیل کرتا اور کرواتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اسے کوئی حق یا حقوق یاد نہیں آتے۔

اس طویل تمہید کا سبب در اصل وہ پس منظر واضح کرنا تھا جس کی عدم موجودگی میں آگے بیان کی جانے والی بات یا اس کی سنگینی کا اندازہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

دوماہ قبل ہی توہین رسالت کی کوشش کے سبب لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پاکستان میں بند کی جانے والی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”فیس بک“پر ایک بار پھر مسلمانوں کو نیا چرکہ لگانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔حالیہ سانحے میں سترہ ستمبر کو مذکورہ ویب سائٹ پر Everybody Burn Quraan Day کے نام سے دن منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ مہینے بھر سے فیس بک کے گروپ پیجز میں موجود یہ صفحہ مذکورہ گروپ کی اکلوتی گستاخی نہیں بلکہ مذکورہ مردوخواتین جہاد،حجاب اور دیگر اسلامی شعائروفرائض کے بارے میں بھی گستاخ آمیز پیجز بنا کر اپنا کریہیہ منصوبہ سرانجام دے رہے ہیں۔مذکورہ گروپ کی جانب سے کی گئی گستاخی کے ساتھ ہی اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ (نعوذ باللہ)اس وقت تک قرآن مقدس جلایا جاتا رہے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو تے ۔اور یہ وہی مطالبات ہیں جن کی آڑ میں صلیبیءاوفاج افغانستان میں آتش و آہن کی بارش کر رہی ہیں،عراق کو تاراج کر رہی ہیں اور اب خاکم بدہن پاکستان پر نظریں گاڑنے کے بعد اپنے پیادوں کو حرکت میں لا چکی ہیں۔

Everybody Burn Quraan Dayکا ایونٹ منعقد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ”اسلام کو امن اورآزادی کا دین قرار دینا ایک غلط فہمی ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا ہر فرد کو چاہئے کہ وہ گروپ جوائین کرے اور (نعوذباللہ)قرآن کو اس وقت تک جلاتارہے جب تک یہ ہیپوکریسی واپس نہیں لے لی جاتی“۔مذکورہ گروپ کی جانب سے اس پیج پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سینکڑوں گستاخ آمیز تصاویر بھی اپ لوڈ کی گئی ہیں۔

اس دوران فیس بک استعمال کرنے والے متعدد مسلم یوزرز کی جانب سے ویب سائٹ کی انتظامیہ کو شکایتی ای میلز کی گئیں جن میں ان گروپس کی اطلاع دے کر انہیں بلاک کر نے کا بھی کہا گیا تا ہم اس پر کوئی عمل نہیں ہو سکا۔وہ تو غیر ہیں انہیں شاید قرآن،جہاد اورحجاب کے متعلق مسلمانوں کے جذبات و عقائد کا اندازہ نہ ہو یا پھر مادیت کو اہی اول و آخر سمجھنے والا مغرب ان امورکی اہمیت کو سمجھنے کا اہل ہی نہ ہو ،افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کیمونیکیشن کی نگرانی اور اس سے وابستہ دیگر امور کا ذمہ دار ادارہ پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی باوجود رابطے اورنشاندہی کے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہا ہے۔حالانکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اسی ادارے کی جانب سے فیس بک پر لگائی جانے والی پابندی نے ویب سائٹ کی انتظامیہ کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ کارروائی کے دوروز کے اندراندر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش پر معافی مانگے ۔حالیہ مقابلے کی اطلاع دینے اور ویب کی انتظامیہ پر اپنی حیثیت استعمال کرتے ہوئے اس مذموم کوشش کو روکے جانے کے لئے کردار ادا کرنے کے بجائے جب میڈیا کی جانب سے رابطہ کر کے ان سے وضاحت چاہی گئی تو سربراہ ادارہ کی میٹنگ میں مصروفیت کا جواز پیش کرنے والوں نے محض رابطہ کرنے والے صحافیوں کوتحریر ی شکایت کرنے کی تجویز دینے کو کافی سمجھا۔

واضح رہے کہ فیس بک کے استعمال کنندگان کی تعداد ۰۵لاکھ سے ذیادہ ہے،مذکورہ ویب سائٹ پر۵لاکھ سے زائد ایپلیکیشنز موجود ہیں،۰۲لاکھ سے زائد ممبرز اسے روزانہ استعمال کرتے ہیں،رواں برس کے ابتدائی تین ماہ میں ایک ارب سے زائد اشتہارات اپ لوڈ کئے گئے،اس وقت ایک ویب سائٹ ہونے کے باوجود اس کی مالیت ساڑھے نو ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔مختلف اوقات میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئے اے اور دیگر امریکی تحقیقاتی ادارے مذکورہ ویب کے ذریعے میسر آنے والی معلومات کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں،جب کہ امریکی پالیسی ساز ویب صارفین کے نفسیاتی تجزئے کے نتیجے میں ملنے والی معلومات کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا اعدادوشمار کے تناظر میں یہ بات زیادہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا پلیٹ فارم جسے چین وبھارت کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک کی آبادی سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں،اس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے اور دوسروں کی جانب سے دی جانے والی رائے ےا کی جانے والی سرگرمی کا اثر قبول کرتے ہوں۔یکے بعد دیگرے مسلم مخالف اقدامات کے لئے استعمال کرنا ،اللہ رب العزت کی جانب سے قیامت تک کے انسانوں کے لئے قابل تقلیدقرار دی جانے والی محترم ترین ہستی محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی اور اب جہاد جیسے فرض کی توہین اور قرآن مقدس جیسے الوہی کتاب کو جلانے کا دن منانے کی مذموم کوشش یہ ثابت کرتی ہے کہ میدان جنگ میں ناکامی کا مزہ چکھنے کے بعد چھیڑی گئی اعصابی جنگ میں کامیابی کے حصول کا خواہاں مغرب اب اوچھی ترین حرکتوں کے زریعے کسی بھی قیمت پر میدان مارنا چاہتا ہے۔اوراس پوری کارروائی میں اسے شاہ سے ذیادہ شاہ کے وفادار ان افراد و اداروں کی مدد میسر ہے جو اپنی سادہ لوحی،لاعلمی یا سطحیت کی وجہ سے چاروناچار اس کے چمکیلے نعروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس کا ثبوت مئی میں فیس بک پر لگائی جانے والی پابندی کے دوران نام نہاد بلاگرز اور انسانی حقوق کے چیمپئنز کی جانب سے پابندی کی مخالفت میں دئے گئے بے بنیاد دلائل تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے مسلمان رمضان جیسے بابرکت مہینے کا اختتام کر کے عید کی خوشیاں منا رہے ہوں گے ،عین اسی وقت ان کی خوشیوں کو گہنانے کے لئے نعوذباللہ قرآن کو جلانے کا دن منانے کا اعلان کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ رہا ہے ،وہ سوئے ہوئے کو جاگنے،جاگتے ہوﺅں کو کچھ کر گزرنے اور کچھ کرنے والوں کو اپنی رفتار پہلے سے تیز کرنے کا پیغام دے رہاہے،کوئی ہے جو اس پکار پر لبیک کہہ کر اس روز سرخرو ہو سکے جس روز سبھی اس سرخروئی کے منتظر ہوں گے۔کسی کو اس کی جاہ و حشمت،قوت و اختیار کام نہ آسکیں گے ماسوائے ان کے جو رب عظیم کے عرش کے سائے میں ہوں گے اور جنہیں ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دئے جائیں گے۔یہ سرخروئی حاصل کرنے کے لئے کسی میدان جنگ میں اترنے کو کمر کسنے کی ضرورت نہیں نہ ہی تلوار اٹھا کر صفیں الٹنا مقصود ہے ،ضرورت ہے تو صرف اس امر کی کہ تدبیر کے مقابل تدبیر اپنائی جائے،طعن وتشنیع کے مقابل کردار پیش کئے جائیں،پرفریب چمکیلے نعروں کے مقابل عمل کی قوت لائی جائے۔کامیابی یقینا راہ تک رہی ہے ہر اس فرداورقوم کے لئے جو اس منزل تک رسائی کے طبعی قوانین پورا کرنے کو تیار ہو۔

تعلیم سب کے لئے۔۔۔۔۔سوائے پاکستانیوں کے

تحریر:شاہد عباسی

اپنے وقت کے بہت بڑے اسکالر کا رتبہ پانے والا وہ فرد بچپن میں انتہائی کند ذہن تھا،پڑھتا تو کچھ یاد نہ کر سکتا اور سنتا تو سمجھ نہ آتا،لہذا یہ سوچ کر چپ ہو رہا کہ شاید پڑھنا لکھنا اس کے بس کی بات نہیں،گزرتی عمر نے اسے زندہ رہنے کے لئے کوئی شعبہ چننے کا موقع دیا تو اپنے اردگرد رہنے والوں کی طرح اس نے بھی بڑھئی بننے کا فیصلہ کیا اور اس فن میں اتنا طاق ہوا کہ اس کے بنائے صندوقوں کی دھوم پورے شہر میں ہو گئی۔

جانے کسی کے مشورے پر یا خود سوچ کر اپنی محنت کا بھرپور صلہ پانے اور ساتئش کی تمنا لئے اس نے نہایت دلجمعی سے ایک صندوق تیار کیا اور اسے لے کر بادشاہ وقت کے دربار میں پہنچا ،دربار میں جس نے بھی اس ماہر ترکھان کے ہاتھ کا بنا صندوق دیکھا عش عش کر اٹھا،بادشاہ نے بھی اس کی نفاست اور کاریگری کوپسند کیا،،اس کی محنت رنگ لاتی نظرآرہی تھی بادشاہ صندوق پر کی گئی فنکاری میں گم تھا کہ اور اسے یوں لگ رہا تھا کہ گویا سارے جہان کی دولت اسے دے دی گئی ہو۔

اچانک دربار میں کھسر پھسر ہوئی اور عبایا پہنے ایک فرد دربار میں داخل ہوئے،آواز سن کر بادشاہ نے جونہی سر اٹھایااور اس کی نظر اندر آ نے والے فرد پر پڑی تو وہ سامنے پڑاانتہائی خوبصورت صندوق اور اپنی کچھ لمحے قبل کی مصروفیت بھول کرکھڑا ہو گیا۔آنے والی کی آﺅ بھگت کی اور اسے اپنے ساتھ نشست پر بیٹھنے کو جگہ دی۔

ایک اجنبی کی یوں دربار میں آمد،بادشاہ کا اپنی مصروفیت چھوڑ کر اس کے اعزاز میں کھڑا ہونا،اسے اپنے ساتھ بٹھانا ایسے امور تھے جنہوں نے مذکورہ ترکھان کے جذبہ تجسس کو ہوا دی،اس نے قریب کھڑے ایک درباری سے ماجرا پوچھا کہ آنے والا کون ہے جس کے احترام میں بادشاہ وقت کھڑا ہو گیا تھا؟تو جواب ملا کہ یہ شہر کے مشہور مسلم اسکالر ہیں،ان کے علم کا رتبہ اور مقام اتنا ہے کہ یہ جب بھی دربار میں تشریف لاتے ہیں بادشاہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر انہیں تعظیم دیتا ہے۔

یہ جملہ سن کر اس بڑھئی کے ذہن نے پلٹا کھایا،وہ ذہن جو کچھ یاد رکھنے کے قابل نہ تھا ،شدیدمحنت اور سچی لگنے کے ساتھ کوششوں میں ایسا مصروف ہوا کہ کچھ عرصے میں صرف اس شہر ہی میں نہیں بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے علامہ کفال شاشی کتے نام سے شہرت حاصل کی۔بادشاہ کے اس اقدام کا فوری اثر تو اپنی جگہ دیر پا تاثر یہ تھا کہ مسلمانوں نے 1050برس تک مسلم دنیا پر حکمرانی کی۔

تا ہم اب معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے اور اسے ہی واقفان حالت تعلیمی تنزلی کا سبب قرار دیتے ہیں۔اس کا تازہ ترین ثبوت وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان بھر کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز سے ہونے والی ملاقات میں کئے گئے وعدے سے انحراف کر کے دیا ہے۔ جس میں انہوں نے یہ یقین دلایا تھا کہ جامعات کو فنڈز کی قلت سے بچانے کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں اعلی تعلیمی کمیشن کومزید فنڈز دئے جائیں گے۔وزیراعظم کی جانب سے کی گئی اس وعدہ خلافی پرانہیں یاددہانی کے لئے اعلی تعلیمی کمیشن کے چئیرمین کی جانب سے خط لکھ کر یہ کہا گیا تھاکہ کمیشن نے رواں مالی سال کے بجٹ18.5ارب روپے میں30فیصد اضافے کی سفارش کی تھی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔واضح رہے کہ قبل ازیں یہ بجٹ22.5ارب روپے تھا جس میں کابینہ کے فیصلہ کے تحت کٹوتی کر کے اسے18.5ارب روپے کر دیاگیا تھا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لئے نئے مالی سال میں15.6ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کی قلت کے سبب ملک بھر کی انجینئرنگ و دیگر جامعات میں جاری 246منصوبے ختم یا مکمل طور پر سست رفتار ہو کراپنی معنویت اورافادیت کھو دیں گے۔دوسری جانب اس کے نتیجے میںحکومتی خرچ پر بیرون ملک تعلیم ھاصل کرنے والے9ہزار سے زائد طلباءکا تعلیمی سلسلہ بھی منقطع ہو سکتا ہے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے کے انتطار میں وہ لوگ جو نیشنل ٹیسٹنگ سینٹر اورجی آر ای کے امتحان پاس کر چکے ہیں ،اپنی پیشہ وارانہ زندگی شروع کرنے کے انتظار میں اپنے گھرانوں پر مالی بوجھ اور ملکی وسائل میں ان کے ذریعہ ہونے والے اضافہ کو روکنے کا سبب بنیں گے۔

اعلی تعلیمی کمیشن کے پاس فنڈز کی عدم موجودگی کے سبب پیدا ہونے والی اس شرمناک صورتحال کے ازالہ کے لئے چند روز قبل ملک کی متعدد سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی تھی۔جس میں انہیں سید یوسف رضا گیلانی نے یہ یقین دلایا تھا کہ اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں اتنا اضافہ کیا جائے گا جو جاری پروجیکٹس سمیت جامعات میں ہونے والے دیگر ترقیاتی وتحقیقاتی کاموں میں اضافے کا سبب بن کر ملک کے مستقبل کومحفوظ بنا سکے۔

راقم کی جانب سے کی گئی چھان بین کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ حالیہ بجٹ میں جس رقم میں کٹوتی کی گئی ہے وہ انجینئرنگ اورعام جامعات کے متعدد منصوبوں،لیبارٹریز کی ضروریات کی تکمیل،جدید تحقیق میں استعمال ہونے والے آلات کی فراہمی اور آخری سال کے طلباءکی جانب سے تیار کئے جانے والے پروجیکٹس پرخرچ کی جانی تھی۔تا ہم اس رقم کی کٹوتی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں اب یا تو جامعات کے یہ تمام منصوبے اور طلبہ کا تحقیقی کام روکنا ہو گا یا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ہوئے افراد کو حالات کے رحم وکرم پر چھو ڑکران سے لاتعلقی اختیار کرنا ہو گی۔نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر دو صورتوں میں عالمی سطح پر ملک کی جنگ ہنسائی اور شرمندگی کی حد تک کم شرح خواندگی کو بہتر کر کے تعلیم سے دور رہنے والوں کو حصول علم کے قریب لانے پہلے ہی قلت کا شکار کوششیں سبوتاژ ہو ں گی۔

ایک ایسے وقت میں جب تعلیم یافتہ ہونا افراد ہی نہیں اقوام کی ترقی کے لئے بھی لازمی شرط مانا جا چکا ہے،وفاق کی جانب سے اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں قابل ذکر اضافہ کرنے کے بجائے سات ارب روپے کی کٹوتی کر کے گزشتہ 22ارب روپے کے فنڈ کو15ارب کر دیا گیا ہے کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ حکومت وقتی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے سے آگے بڑھ کر ملکی ترقی میں بھی سنجیدہ ہو گی۔

تعلیمی حلقوں سے وابستہ افراد نے بجٹ میں اعلی تعلیمی کمیشن کے فنڈز کی کٹوتی کو وسائل کی قلت کے بجائے حکومتی عدم دلچسپی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر قانون صدر اور حکومت کے خلاف عدالتوں میں جاری کیسز پر وکلاءکی رائے کو اپنے حق میں بدلنے اورعدلیہ پر دباﺅ پیدا کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کر سکتے ہیں تو ایک ضروری مد میں خرچ کرنے کے لئے ہی وسائل قلت کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

یقینا یہ بات جواب طلب ہے تاہم ابھی تک اپنے وعدہ کے باوجود فنڈز فراہم کرنے میں ناکامی کا شکار وزیر اعظم پاسکتان یاکسی بھی حکومتی حلقے کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا گیا،اگر اس خاموشی کو احساس جرم کی موجودگی سے تعبیر کیا جائے تو بھی ضرورت اس سے کچھ ذیادہ کرنے کی ہے اور وہ یہ کہ فوری طور پر اعلی تعلیمی کمیشن کے کٹوتی کئے گئے فنڈز بحال اوران میں وعدہ شدہ اضافہ بھی کیا جائے۔تا کہ اس وقت بیرون ملک موجود طلباءیکسوئی سے تعلیم حاصل کر سکیں،جو جانے کے منتظر ہیں اورتمام امتحانات پاس کر چکے ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے متوقع بحران سے بچایا جائے۔جب کہ ملکی جامعات میں جاری منصوبوں پر کام برقرار رہنے کے ساتھ ان کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

یونیورسٹی آف انجنئرنگ اینڈٹیکنالوجی لاہور کے وائس چانسلر جنرل اکرم کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لئے بھیجنے کا منصوبہ زیرغور تھا۔متعدد منصوبے جو اس وقت جاری ہیں وہ رک جائیں گے جن کا بڑے پیمانے پر نقصان ہو گا۔رقم اور وقت دونوں کا یہ نقصان بجٹ میں حالیہ کٹوتی کے سبب تعلیم کے مستقبل پر اثرانداز ہو گا۔
پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کامران مجاہد کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں پنجاب یونیورسٹی اساتذہ اورانتظامہ اہلکاروںکی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے۔یونیورسٹی کے رواں مالی سال کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخراجات کے لئے ۳ارب۳۶کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی تھی جس میں سے ایک ارب روپے اعلی تعلیمی کمیشن نے مہیا کئے تھے۔جب کہ نئے بجٹ میںاعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ ۷ارب روپے کی کٹوتی کے بعدیہ توقع نہیں کہ جامعات کو موجودہ مالی سال جتنی رقوم بھی دی جا سکیں گی۔
لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر بشری متین کا کہنا تھا کہ وہ جامعات جواپنے قیام کا ابتدائی عرصہ گزار رہی ہیں اس سے سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔جامعہ میں جاری تعمیراتی کام رک جانے اور ادائیگیوں میں دشواریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی صورتحٓل میں جب سیلف فنانس پروگرام جاری کرنے کی اجازت بھی نہ ہو جامعات کے لئے اخراجات کی رقم جمع کرنا ایک دشوار امر ہو گا۔اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی سے بڑی اور قدیم جامعات کے کم ہمتاثر ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی یونیورٹیز کے لئے یہ ایک دشوار امر ہو گا۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر پیر ذادہ قاسم کا اپنے ظریفانہ تبصرہ میں کہنا تھا کہ جس طرح سرکاری اسکولز غیرمعیاری ہونے کے سبب پیلے اسکول قرار پائے تھے اسی طرح اب سرکاری جامعات بھی پیلی جامعات بننے جا رہی ہیں۔جامعہ کراچی کے متعلق انہوں نے کہا کہ فنڈز میں کٹوتی کی وجہ سے ملک بھر کی تمام جامعات کی طرح کراچی یونیورسٹی بھی اپنے تمام جاری منصوبوں کو بند کرنے پر مجبور ہوگی۔

جامعات سے وابستہ اساتذہ نے بھی اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی پر احتجاج کرتے ہوئے اسے حکومت کی تعلیم دشمن پالیسی قرار دیاہے۔اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تحقیق اعلی تعلیم میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو ملکوں کی ترقی کے لئے لازمی ہوا کرتا ہے۔گزشتہ کچھ عرصے میں اعلی تعلیم کے لئے بجٹ مختص کئے جانے نے ملک میں تحقیق کا کلچر پیدا کیا تھا لیکن اب اس کا خاتمہ ہونا دور کی بات نہیں ہے۔جس کا لازی اثر ملکی ترقی اور انسانی وسائل کی بہتری کے لئے کی جانے والی کوششوں پر پڑے گا۔

تمام تر احتجاج اوردبی زبانوں میں کی جانے والی گفتگو کو کافی نہ جان کر اعلی تعلیمی کمیشن کے چئیرمین جاوید ایچ لغاری نے وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو خط بھی لکھا جس میں انہوں نے گزشےہ مہینے جامعات کے وائس چانسلرز سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیںیہ اپیل کی تھی کہ کمیشن کے فنڈمیں کی جانے والی کٹوتی کا فیصلہ معطل کرکے سابقہ فنڈز بحال اور ضروریات کے مطابق فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔تا ہم تاحال اس پر کوئی عمل یا ردعمل ظاہر نہیں ہو سکااوربجٹ اجلاس بھی ختم ہو نے کو ہے۔پاکستان میں اچانک بڑھنے اور پھر کبھی نہ کم ہونے والی مہنگائی نے یہ قانون تو تبدیل کر ہی دیا ہے کہ مہنگائی بڑھنے یا کم ہونے کا تعلق بجٹ سے نہیں تو کیوں نہ اس خرابی کو خوبی میں بدلتے ہوئے بجٹ سیشن کے خاتمے کے بعد سہی دیر آید درست آید کے مصداق اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کی گئی کٹوتی کو واپس لے کر نئے چیلنجز کے مطابق اضافی فنڈز جاری کئے جائیں۔تا کہ جامعات میں زیر تعلیم طلباہ ،جاری منصوبے ،بیرون ملک اعلی تعلیم کے حصول کے لئے موجود اورجانے کے منتظرافراد کی کامرانی کا سفر جاری رہ سکے۔

اعلی تعلیمی کمیشن کے تحت ملکی انسانی وسائل کی ترقی کے لئے جاری پروجیکٹ میں 9ہزار طلباءکو بیرون ملک بھیجا گیا ہے۔پی ایچ ڈی اور دیگر پروگرام کے لئے گئے ہوئے مذکورہ طلباءاپنے تعلیمی دورانیہ کے درمیان یا اختتام کے قریب ہیں۔ان کی ٹیوشن فیس،تحقیقی و دیگر اخراجات کے لئے 10ارب روپے کی رقم درکار ہے۔بجٹ کٹوتی سے ملک بھرکی جامعات کے 258کیمپسز میںجاری193اورنئے شروع کئے جانے والے11منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو جائیں گے۔اعلی تعلیمی کمیشن نے اپنے قیام کے بعد ملک میں اعلی تعلیم کے لئے کی گئی کوششوں کے سلسلے میں سالانہ طلباءکی تعداد کو2لاکھ76ہزار274سے بڑھاکر8لاکھ3ہزار507،کیمپسز کی تعداد کو116سے بڑھا کر258،تحقیقاتی مطبوعات کی تعدادکوسالانہ815سے بڑھا کر4ہزار13اورسالانہ پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد کو1ہزار947سے بڑھا کر3ہزار280کر دیا تھا۔تاہم بجٹ میں کٹوتی کے بعد اب یہ ممکن نہیں ہو پائے گا

%d bloggers like this: