Archive for the ‘سنہری باتیں’ Category

چوہدری صاحب ! خدا کے لیے

تحریر:ذوالفقارعلی

جاوید چوہدری صاحب!قومیں نوحوں اور مرثیوں سے نہيں امیدوں اور خوابوں سے اٹھان پاتی ہيں۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دینے کے لیے تاریکی کے تذکرے نہيں واضح اہداف ، موثر منصوبہ بندی اور اس کے اوپر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کے خاکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 چوہدری صاحب ! آپ جیسے رائے ساز کالم نویسوں کے نوحے سن سن کر قوم تھک چکی ہے۔ خدا کے لیے موجودہ حالات میں سے انہيں کوئی خاکہ دیجیے کوئی رہنمائی کا واضح نقشہ پیش کیجیے خود نہیں دے سکتے تو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان سے بنوا کر دیجیے ۔ اگر کوئی ملک میں قوم کی مخلص قیادت کے قابل ہے تو اس کا پتہ دیجیے اور اسے سپورٹ کیجیے ، کھل کر اس کا نام لیجیے ۔نہيں ہے تو بتائیے کہ اسکریچ سے لے کر کامیابی تک کا راستہ کیا ہے ؟ تا کہ قوم میں سے کوئی امید پائے اور آگے بڑھے قوم آپ اور آپ جیسے چند دیگر قلم کاروں کو پڑھتی ہے مگر آپ کی تحریروں سے بس مایوسی،انتشار اور دکھ کشید کر کے رہ جاتی ہے۔

چوہدری صاحب بہادری اور بزدلی دونوں ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں،خدا کے لیے اس قوم میں امید اور بہادری بانٹیے ۔ چوہدری صاحب معذرت چاہتا ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے آپ اور آپ جیسے دیگر رائے ساز لوگ بغداد کے علماء معلوم ہوتے ہں وہ علماء تاتاریوں کے حملے کے وقت قوم کو کوے کی حلت و حرمت کے مسائل میں الجھائے ہوئے تھے اور آپ اس فتنے کے عہد میں "ڈوب مرنے کا مقام ہے” جیسے درس دے کر بالواسطہ مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہيں۔

 چوہدری صاحب اس قوم کے نفرت اور غصے کو اس کے اصل دشمن سے انتقام کی طرف موڑ کر قوت میں بدل ڈالنے کا نسخہ بتائیے ،اس وقت سے پہلے کہ جب انقلاب فرانس کی طرح بپھرے ہوئے لوگ ہر نرم ہاتھوں والے کو موت کے گاقٹ اتار دینے کو آمادہ ہوجائيں گے اور میں اور آپ جانتے ہيں کہ بہرحال قلم کاروں کے ہاتھ نرم ہوتے ہيں ۔چوہدری صاحب لاکھوں قاری بنا لینا،ہزاروں افراد کو فیس بک پر اپنا ہمنوا بنا کر مسرت حاصل کر لینا ،ہر کالم پر بیسیوں تعریفی ایس ایم ایس اور کالز اٹینڈ کر لینا اور اپنے سرکاری دوروں کی کہانیاں بیان کر کے دیگر بیسیوں لکھاریوں کے دلوں میں چٹکیاں کاٹ لینا محض ذاتی نفسیاتی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے، قوم کے دکھوں کا مداوا نہيں ۔منہ اور قلم کی کمائی کھانے کے بجائے عمل کی کمائی کھانا زیادہ مشکل ہے۔

چوہدری صاحب قوم کو بتائیے کہ کوئی پروفیسر نجم الدین اربکان ،شیخ احمد یاسین ، ماؤزے تنگ یا لینن اور مارکس کس طرح پیدا ہوگا ؟نہيں تو کس طرح کوئی Collective Wisdom کے ادارے اس کی جگہ لے سکیں گے ؟ کیسے کامیابی کے کوئی خاکے بن سکیں گے ۔؟ کیسے کوئی راہ نجات نظر آ سکے گی؟ کوئی اسٹریٹجک پلاننگ ہوسکے گی ؟

چوہدری صاحب کچھ تو بتائیے کہ قوم کا کوئی گروہ کیسے قوم کی کردار اور ذہن سازی کر سکتا ہے ؟کیسے اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا کام ممکن ہے؟ کیسے اس نظام خون آشام کی سیاہ رات ڈھل کر کسی امن ، آشتی اور آسودگی کی صبح بن سکتی ہے۔

 چوہدری صاحب ۔ مشرق و مغرب آپ کی عملی بیداری کو ترس رہے ہیں ، چوہدری صاحب آپ کے پاس ان کے لیے تریاق ہے اور یہ سب مارگزیدہ ، یہ اندھے اور آپ بینا ، آپ کے ہاتھوں میں چراغ ہے اور یہ اندھیروں کا شکار ۔اکر آپ جیسے لوگ علم تقویٰ اور کامیابی کا کوئی واضح منصوبہ نہيں دیں گے تو یاد رکھیں کہ پھر عزت و شرف کی ساری پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جائيں گیں۔

 چوہدری صاحب خدا کے لیے ! واضح اہداف ، مؤثر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ !

 کوئی امید !

 کوئی حوصلہ !

کوئی منصوبہ!

 کچھ تو دیجیے ؟

Advertisements

قبائلی پھر جیت گئے۔۔۔۔جعلی ڈگری پر منتخب رکن اسمبلی کے باجوڑ آنے پر پابندی

باجوڑ ایجنسی کے سلارزئی قبائل کے عمائدین اور زعماء نے جعلی ڈگری پر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی سید اخونزادہ چٹان کو سالارزئی قوم کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے باجوڑ ایجنسی آنے پر مکمل پابندی عائد کرنے ،مکان نذرآتش کرنے سمیت انکے خلاف بھر پور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان سالارزئی قبائل کے عمائدین زعماء اور سالارزئی قومی لشکر کے رہنماؤں ملک محبوب جان سالارزئی ، ملک مناسب خان، ملک محمد یونس، ملک عبد السلام ملک محمد ابرابر، انورزیب خان، ملک حفیظ الرحمان ، حاجی زیارت گل، ملک خانزادہ ، ملک محمد یارکسئی اور ملک عبد الناصر نے ہفتہ کو یہاں تحصیل سالارزئی کے علاقہ راغگاں میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان سیاست چمکانے اور ایجنسی کے پر امن حالات خراب کرنے کیلئے افغان حکومت کا سہارا لیکر اپنی جعلی ڈگری کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں افغان حکومت نے نہ تو کوئی سروے شروع کیا ہے اور نہ ہی سالارزئی کے غیور قبائلی عوام کسی بیرونی ملک سے امداد لینے کا تصور کر سکتے ہیں جبکہ باجوڑ ایجنسی میں ہونے والی بارشوں سے جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ،ان میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو پولیٹیکل انتظامیہ نے تین تین لاکھ روپے شدید زخمی ہونے والوں کو ایک ایک لاکھ اور معمولی زخمی کو پچاس پچاس ہزار روپے فی کس امداد دی ہے جبکہ پولیٹیکل انتظامیہ نے ایجنسی میں بارشوں سے تباہ ہونے والے مکانات کا سروے بھی شروع کیا ہے ۔ سالارزئی کے قبائلی عمائدین نے کہا کہ سید اخونزادہ چٹان نے مقامی لوگوں میں حکومت اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے اور ایجنسی کے پر امن حالات کو خراب کرنے کیلئے بھر پور مہم کا آغاز کیا جس کی وجہ سے باجوڑ ایجنسی کے عوام میں ان کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

یاد تو رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔لیکن؟

تحریر:شاہد عباسی

"مجھے اچھی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ ہر مہینہ اپنی تنخواہ میں سے کچھ تھوڑی سی رقم خرچ کر کے نئی اور معیاری کتب ضرور خریدوں،یا انٹرنیٹ پر دستیاب ای لائبریریز سے استفادہ کروں لیکن ایک مسئلہ مجھے نہایت پریشان کرتا ہے، باوجود کوشش کہ مجھے کتاب کے وہ حصے یاد نہیں ہو پاتے جنہیں میں مفید پا کر یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ ان پر عمل کیا جا سکے اور دوسروں کو بھی ان سے آگاہ کیا جا سکے،جب کہیں حوالہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تو اکثر مجھے یاد ہی نہیں رہتا اور کچھ ایسی ہی کیفیت ایم اے پرائیویٹ کے امتحانات کے دوران پیپر حل کرتے وقت بھی ہوتی ہے”ایک ہی سانس میں فرحان یہ بات کہہ گیا اور اب وہ اپنے دوست ثاقب کی جانب جواب طلب نظروں سے یوں دیکھ رہا تھا، گویا وہی اس کے مسئلہ کو حل کرنے کا ذمہ دار ہو۔ ثاقب تو فرحان کو درپیش مشکل حل کر سکا ہو یا نہیں ہم ضرور اس کی کوشش کرتے ہیں۔

کتابوں کا مطالعہ سب کی نہیں تاہم ہر ”پڑھے لکھے“ فرد کی خواہش ضرور ہوتی ہے جس پر وہ گاہے بگاہے عمل کی کوشش بھی ضرور کرتا ہے۔لیکن اکثر اوقات ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ جن کتابوں کو ہم پڑھنا چاہتے ہیں وہ یا ان کے وہ حصے جو مفید لگیں یاد نہیں رہ پاتے، یہ مسئلہ صرف ایک فرحان کا نہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق ہر 5میں سے3افراد اس مسئلے کا شکار رہتے ہیں۔امتحان کا موقع ہو یا ٹیسٹ کی تیاری،ملازمت کے حصول کی خاطر انٹرویو کا مرحلہ ہو یا معمول کا مطالعہ،بھول جانے یا عدم توجہی کی یہ مشکل کسی نا کسی صورت ان مواقع پر یکسوئی کو متاثر ضرورکرتی ہے۔ چونکہ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دوسروں کے تجربات سے استفادہ کے بجائے وقتی حل کو ترجیح دینا نہ چاہتے یا بغیر علم میں آئے ہماری عادت بن چکا ہوتا ہے اس لئے اس اہم مسئلے کو بھی ہم نظر انداز کردیتے ہیں۔یا شاید زمانہ طالبعلمی سمیت ایام جوانی میں اس کی سنگینی سے صحیح طرح آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے مسئلہ نہ سمجھ کر حل کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہم کچھ بھی کہہ لیں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جو پڑھ لیا جائے، اور دل کو اچھا بھی لگ جائے اسے بھلانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔

طبی اور نفسیاتی ماہرین اس حوالے سے کئی حل پیش کرتے ہیں جن پر آسانی سے عمل کر کے، انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر ہم اپنی یادداشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ کم وقت میں بہتر نتائج بھی حاصل کر سکتے ہیں۔آج اس تحریر میں ہم ایسی 10عادات کا جائزہ لیں گے جن پر عمل سے ہم ہر اس اچھی لگنے والی بات کو یاد رکھ سکتے ہیں جس کا یاد رکھنا ہمارے لئے زندگی کے کسی بھی موڑ پر فاہدہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔

ذرا ایک ایسی محفل کا تصور کریں جہاں آپ کے کئی ہم عمر افراد موجود ہوں، باہمی دلچسپی کا کوئی موضوع زیر بحث ہو،ایسے وقت میں جب بحث اپنے پورے عروج پر ہو گفتگو کرنے والا روانی میں ہی سہی یہ کہہ دے کہ ”پتہ نہیں ۔۔۔لیکن ایسا ہی ہوا تھا،یا جو بات آپ کر رہے ہیں اس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔اور شعر یاد نہ آسکے، کسی کا قول نقل کرنا چاہیں لیکن وہ پورا یاد نہ ہو۔۔۔۔اپنی بات کی دلیل کے طور پر گروپ میں مستند سمجھی جانے والی کسی کتاب کا حوالہ دینا چاہیں لیکن پڑھی گئی بات پوری طرح یاد نہ آرہی ہو“اس وقت ہونے والی شرمندگی اور خجالت کا عالم وہی جانتا ہے جس پر یہ گزری ہو۔اگر آپ ذیل میں دی گئی عادات کو اپنانے کی کوشش کریں گے تو ہمیں امید ہے کہ ایسی صورتوں میں آئندہ آپ کو کسی موقع پر یہ یا ان سے ملتے جلتے جملے ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔

بھولنے سے بچاﺅ کی 10عادات
٭پڑھائی کا وقت:عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم نصابی و غیر نصابی ہر دو طرح کی کتابوں کا مطالعہ اس وقت کرتے ہیں جب ذہنی طور پر مصروفیت یا تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔اس سے سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی چیز کو یاد رکھنے کے لئے درکار توجہ نہیں مل پاتی۔ تھکاوٹ کے سبب جب جسم کو آرام کی ضرورت ہو تو ذہن بھی اسے یہی ہدایت دیتا ہے اس لئے وہ آنکھوں سے گزرنے والی اشیاء کو یاد نہیں رکھ پاتا۔ہم نے اکثر اس بات کا مشاہدہ کیا ہو گا کہ رات کو کسی انجان علاقے میں چلے جائیں تو باوجودیکہ وہاں لائٹیں روشن ہوتی ہیں، دوبارہ اسی علاقے میں جانے کے لئے مطلوبہ جگہ کا بارہا پوچھنا پڑتا ہے۔اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اندھیرے میں دیکھی گئی چیزیں ہم صحیح طرح سے نہیں دیکھ پاتے اسی لئے ان کی بنیاد پر دوبارہ وہاں نہیں پہنچ پاتے۔ لہٰذا مطالعے کے لئے سب سے پہلے کوشش کی جائے کہ پڑھنے کے لئے منتخب کیا گیا وقت دماغی وجسمانی تھکن کا نہ ہو۔

٭کتب بینی یا مطالعہ:کسی بھی کتاب کو پڑھتے وقت ایک اور غلطی جو ہم میں سے اکثر افراد کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ،کتاب کا مطالعہ کرنے کے بجائے اس پر سرسری نظر دوڑائی جاتی ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے آپ کتاب خریدنے کے لئے کسی دکان میں موجود ہوں اور کتاب میں موجود مواد کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف ورق الٹ پلٹ دیکھ رہے ہوں۔یہ بات یقینی ہے کہ اس دوران پڑھی یا نظروں سے گزاری گئی کوئی بات آپ کو یاد نہیں رہ سکتی لہٰذا یہ سوچنا کہ اس میں یاداشت کا قصور ہے بالکل غلط بات ہو گی۔صحیح طرح سے کسی بھی جملے ،پیراگراف یا پوری کتاب کا خلاصہ یاد رکھنے کے لئے لازم ہے کہ ہم محض کتب بینی نہ کر رہے ہوں بلکہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ پڑھ رہے ہوں ۔

٭بوجھ یا ضرورت:کوئی بھی فرد جس کام میں مہارت رکھتا ہے اس کا ایک بڑا سبب اس کام سے اس کی دلچسپی ہوتی ہے،دوسری جانب جن کاموں میں ہماری دلچسپی نہ ہو بلکہ وہ بادل نخواستہ ہمیں کرنا پڑے ہوں تو ان کو کسی نا کسی طرح گزارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ برتاﺅ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ہم مذکورہ معاملے سے سنجیدہ نہیں اسے بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کسی وقتی ضرورت یا مفاد کے تحت اسے برت رہے ہیں اسی وجہ سے وہ ہمیں وقت گزرنے کے باعث اپیل نہیں کرتے ۔بالکل یہی معاملہ مطالعے کا بھی ہے کہ اگر آپ پڑھی گئی بات کو یاد رکھنا چاہتے ہیں تو اسے بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ اس میں دلچسپی لے کر پڑھیں۔اپنی علم کی پیاس بجھانے کے لئے ضرورت بنا کر جب آپ کتاب سے رجوع کریں گے تو وہ آپ کو بوجھ نہیں لگے گی۔

٭کتاب کا ادب:ممکن ہے یہ اصطلاح ہم میں سے بہت سوں کے لئے نئی ہو یا کچھ اجنبی سی لگے۔اس کا سبب یہ ہے کہ مادیت کی بنیاد پر بننے والی قدریں حضرت انسان کو جن چیزوں سے محروم کر رہی ہیں ان میں ایک بہت بنیادی چیز ”ادب“ہے خواہ وہ کسی انسان کا ہو یا کسی دوسرے جاندار کا۔ایک وقت تھا کہ جب مسلمان دنیا بھر میں علم کا منبع سمجھے جاتے تھے ۔اہل مغرب اس وقت ہماری تہذیبی اقداروروایات اپنانے میں اتنا ہی فخر محسوس کرتے تھے جتنا آج ہم ان کی نقالی میں۔اس وقت کے واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں اورمعاشرے میں اخلاقیات کو انتہائی اہمیت دی جاتی تھی ۔کسی بھی لمحے بد ادبی کے قریب پھٹکنا گویا اپنے آپ کو نکو بنانے کے مترادف ہوا کرتا تھا۔کتاب کو پڑھنے کے ساتھ اسے اٹھاتے،رکھتے یا مطالعے کے بعد کے وقفے میں یونہی پھینک نہیں دیا جاتاتھا۔نتیجتا کتابیں اپنا سب کچھ پڑھنے والے کو دے دیا کرتی تھیں۔

تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کھانا پکاتے،کپڑے استری کرتے،اسکول یا کالج جاتے ہوئے گاڑی میں سفر کے دوران،ایک کتاب کو پڑھنے کے لئے دوسری کو تکیہ بنا کر،ایک لمحے کتاب سے کرکٹ کا بیٹ بنا لینے اور دوسرے لمحے اس کو مطالعہ کے لئے استعمال کرنے،بلکہ اب بعض جگہوں پر تو کموڈ پر بیٹھے بیٹھے بھی مطالعہ کر کے ہم وہ بننا چاہیں جو ہم کر ہی نہیں رہے ہوتے۔پس ثابت یہ ہوا کہ کتاب سے کچھ بھی لینے کے لئے یا پڑھے ہوئے کو یاد رکھنے کے لئے اس کا ادب بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہم اپنے بڑوں کا کرتے ہیں۔

٭نیند پوری کریں/ڈپریشن سے بچیں:نیند کی کمی کی وجہ سے اکثر انسومینیا نامی بیماری یا اس کی کچھ ابتدائی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو کسی سطح پر ڈپریشن پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہیں ۔اس کے نتیجے میں ہم مطالعے کے لئے درکار توجہ مہیا نہیں کر سکتے نتیجتاً پڑھی ہوئی بات یاد نہ رکھنے کی شکایت سر اٹھا لیتی ہے ۔مطالعے کی اچھی عادت پیدا کرنے کے لئے ہمیں نیند پوری کرنے کی متوازن عادت پیدا کرنے کی ضرورت پڑھتی ہے۔جو ناصرف ڈپریشن سے بچاﺅ کا سبب نتی ہے بلکہ اس سے دماغ کو اپنا کام کرنے کے لئے مطلوب آرام مل جانے سے پڑھائی کے بعد یا د رکھنے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔چوبیس گھنٹوں میں کم از کم چھ گھنٹے کی نیند کو اگر عادت بنا لیا جائے تویہ یاد رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

٭گناہوں سے بچیں:فقہی قوانین کی تدوین کرنے والے مسلم اسکالرز میں سے ایک بڑا نام امام شافعی کا ہے۔ان کی یادداشت حیرت انگیز ہونے کے متعلق تاریخ میں کئی واقعات ملتے ہیں۔امام شافعی کے متعلق ایک واقعہ میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد سے پوچھا کہ” شیخ نسیان(بھولنے)سے بچاﺅ کے لئے کیا کروں ؟“تو ان کے استاد نے خاصا طویل جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ” اگر اپنی یادداشت کو بہتر رکھنا چاہتے ہو تو گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو یہ یادداشت کو کھا جاتے ہیں“۔ہم اپنی معمول کی زندگی میں بھی اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ کلاس میں اچھی پوزیشن لینے کا معاملہ ہو یا انٹرویو میں بہتر کارکردگی دکھانے کا ہر جگہ وہی امیدوار ذیادہ بہتر انداز میں کامیاب ہوتے ہیں جو معاشرے میں مروج خرابیوں سے بچ کر زندگی گزارتے ہیں یا ان میں رہ کر بھی ان کا حصہ نہیں بنتے۔

٭معاون غذائیں:کچھ عرصہ قبل بہت سارے گھروں میں دادیاں اور نانیاں اپنی پوٹلیوں میں ایسی چیزیں ضرور رکھا کرتی اور انہیں گھر کے بچوں کو دیا کرتی تھیں جو یادداشت کو بہتر بنانے میں معان ثابت ہوتی ہیں۔جب کہ کئی گھروں میں بچوں کو روزمرہ غذاﺅں میں بادام ،کشمش،کھوپرا،دودھ یا اس سے ملتی جلتی غذائیں فراہم کی جاتی تھیں۔گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی مصروفیت،مہنگائی اور آگاہی کی کمی نے یہ نعمت بھی ہم سے چھین لی ہے۔حالانکہ پڑھی ہوئی باتوں کو یاد رکھنے کے لئے ایک اہم چیز ہماری غذائیں بھی ہیں ہم دن بھر جو کچھ کھاتے ہیں وہ صرف ہمارے معدے ہی پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس کا نتیجہ جسم کے دیگر اجزاءکی مانند ہماری یاد داشت پر بھی پڑھتا ہے۔

غذائی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ یادداشت کو بہتر بنانے کے لئے ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جن میں دماغ کو قوت فراہم کرنے والے اجزاء موجود ہوں۔ پھل،سبزیاں اور خشک فروٹ ایسی اشیاءہیں جو استعمال کرنے والے کو یہ فائدہ پہنچاتی ہیں کہ وہ کسی بھی بات کو یاد رکھنے کے قابل ہو سکے۔ان میں موجود منرلز،وٹامن، نمکیات ،چکنائی اور دیگر اجزاء ہمارے دماغ کے لئے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔جاپان میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یادداشت کی بحالی میں ہلکا بھنا ہوا پیاز،ادرک اورLeekنامی پیاز کی طرح کا پودا ذیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔دن بھر میں تین کپ کافی یا چائے کا استعمال بھی یادداشت کے لئے ذیادہ بہتر ہوتا ہے خصوصاً خواتین میں اس کے استعمال سے اچھے نتائج دیکھے گئے ہیں۔

٭نشہ آور اشیاء سے پرہیز:ہم پڑھی ہوئی چیز کو یاد رکھنا چاہتے ہیں،یہ بہت ہی اچھی خواہش ہے جس کو پورا کرنے کے لئے بری عادات سے بچاﺅ لازم ہوتا ہے۔اگر وہ موجود ہوں تو ان سے چھٹکارا ہی مسئلہ کا حل ہوتا ہے۔جس طرح صاف ستھرے گھر میں کچرے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی بالکل اسی طرح اچھی باتوں کو یاد رکھنے والے ذہن میں کسی بیکار کام کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔نہ ہی دماغ کے زیر اثر موجود جسم ایسے کاموں میں ملوث ہوتا ہے جو کسی بھی سطح پر صفائی یا اچھائی کے معیار پر پورا نہ اترتے ہوں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام نشہ آور اشیاء سگریٹ،پان ،شراب،الکوحل ، حشیش،شیشہ ، وغیرہ سے بچیں۔کیونکہ اگر ہم ان گندی اشیاء کو جگہ دیں گے تو یہ کتابوں سے ملنے والی اچھی باتوں کو ہمارے ذہن کا حصہ بننے اور پھر ان پر عمل کا وقت آنے نہیں دیں گی۔

٭تذکیر /تکرار:کسی بھی نصابی اور غیر نصابی کتاب میں پڑھی گئی باتوں کو یاد رکھنے کے لئے ایک بار کا پڑھنا یا سننا کافی نہ سمجھیں ۔یہ بات طے شدہ قانون کی حیثیت رکھتی ہے کہ جو کام جتنا ذیادہ اہم ہو اسے اتنی ہی ذیادہ بار سرانجام دیا جاتا ہے۔بالکل اسی طرح جو کتاب جتنی اہم ہو اسے اتنا ہی ذیادہ پڑھا جانا چاہئے۔ہر مسلمان یہ بات جانتا ہے کہ قرآن اس کی زندگی کے لئے ایک رہنما کتاب ہے اس لئے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس کا مطالعہ اپنا معمول بنائے رکھیں۔آج کے معاشرے میں خرابیوں کی موجودگی کا جائزہ لیا جائے اور بعد ازاں اپنی زندگیوں کو ہم بغیر کسی دانشور کی عقل کا استعمال کئے کھنگالیںتو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہت ساری خرابیوں کا ایک سبب ان سے بچاﺅ کے راستہ کا علم نہ ہونا ہے۔جب زندگی کے لئے راہنما کتاب کو ہم نے اپنی زندگی سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تو نتیجہ یہ نکلا جو ہم آج اپنے چاروں طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس گفتگو سے حاصل یہ ہوا کہ کسی بھی یاد رکھنے کی قابل بات کو ایک بار پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً اس کا تکرار بھی ضروری ہوتا ہے۔

٭خود اعتمادی:انٹرنیٹ،کتاب،پوسٹر،ہورڈنگ،نوٹس بورڈ،خط ،ای میل یا کسی بھی صورت میں موجود وہ لوازمہ جسے ہم یاد رکھنا چاہتے ہوں ،اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اس پرعمل اور اسے دوسروں تک پہنچا کر بھلائی میں اضافے کے خواہاں ہو ،وہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے آپ کو اس کا اہل تسلیم کریں۔

ہم نے یہ بات ضرور سنی یا مشاہدہ کی ہو گی کہ ایک جیسی زمین پر برسنے والے ایک ہی جیسے بارش کے قطرے مختلف صورتوں میں ردعمل ظاہر کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔زمین کا ایک حصہ بارش کے قطروں کو اپنے اوپر سے بہا دیتا ہے،دوسرا حصہ انہیں روک کر کیچڑ بن جاتا ہے،تیسرا حصہ اپنی سختی کے ساتھ ساتھ گہرائی کی وجہ سے اسے روک کر دوسروں کے استعمال کے لئے محفوظ کر دیتا ہے چوتھا حصہ اس پانی کو جذب کر کے سبزا اگنے کی جگہ بن جاتا ہے۔ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق وہ کام کرتا ہے جس کا وہ اپنے آپ کو اہل ثابت کرتا ہے لیکن قدر زمین کے اس ٹکڑے کی ہوتی ہے جو اس پانی کو جذب کر کے سبزا اگنے کا باعث بنتا ہے۔بالکل اسی طرح جب تک ہم اپنے متعلق یہ طے نہ کر لیں کہ جو کام کرنا چاہتے ہیں ہم اس کے اہل بھی ہیں، تب تک وہ کام پورا نہیں ہو سکتا۔یاد رکھنے کی باتوں کو محفوظ کر لینے سے قبل کا ایک انتہائی اہم مرحلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے اوپر اس بات کا اعتماد ہو کہ ہم جو کچھ پڑھ رہے ہیں اسے یاد بھی رکھ سکتے ہیں ۔یہ کوئی مشکل کام نہیں بس اس کے لئے جذبہ اور خوداعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر بڑی مشکل کو یہ کہہ سکے کہ”میں یہ کر سکتا ہوں/ہم یہ کر سکتے ہیں“۔

ان10عادات پر عمل کر کے ہم سب فرحان کی طرح اس مشکل سے بچ سکتے ہیں جس کی شکایت و ہ اپنے دوست ثاقب سے کر رہا تھا۔لیکن یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا، ہر اچھے کام کی طرح اسے بھی پورا کرنے کے لئے ہمیں خود ہی کوشش کرنا ہو گی۔مستقل مزاجی،تسلسل اور نیک نیتی کے ساتھ۔یقین کریں ایسا کرنے کے بعد آپ کبھی کسی بات کو کسی جملے کو یا کتاب کے کسی حصہ کو بھولنے کی شکایت نہیں کریں گے۔

احساس اور عمل کا فرق

تحریر:زبیر نسیم
  ”پتا نہیں، کیوں ناکامی میرا مقدر بن گئی ہے ۔ جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں، وہ کام ہی بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ کتنی ہی دفعہ سونا میرے ہاتھ مےں آکر مٹی بن چکا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اگر میں نے کفن کی دکان کھولی تو لوگ مرنا ہی چھوڑ دےں گے۔“
 آپ غلط سمجھے! یہ الفاظ میں نے دل برداشتہ ہو کر اپنے بارے میں نہیں لکھے بلکہ یہ وہ خیالات ہیں جو ہر فرد کے ذہن میں اکثر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ بات بے بات پریشان ہوتے رہتے ہیں جس کا بنیادی سبب یہی خیالات ہیں۔ ےہ خیالات کیوں پےدا ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے کیا عوامل ہیں کہ جو افراد کے ذہنوں کو بری طرح الجھائے رکھتے ہیں جس کے سبب اکثر لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔
 آپ غور کیجئیے، جب بھی آپ کو کبھی ذہنی دباﺅ اور پریشانی درپیش ہوگی تو یا وہ ماضی میں کسی کام کے غلط ہونے کا غم ہوگا یا پھر مستقبل میں کسی کام کے غلط ہونے کا خوف ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں آپ کے ساتھ جو بھی واقعہ پیش آیا ہوگا، وہ یا تو خوشی کا واقعہ ہوگا یا غم کا۔ ماضی میں خوشی کا واقعہ مستقبل میں خوشی کے حصول کی امیدپیدا کرتا ہے جب کہ ماضی میں پیش آنے والا غم گین واقعہ مستقبل میں پھر غم کے لاحق ہونے کا خوف دلاتا ہے، یعنی ہماری زندگی میں ماضی کی خوشی یا غم اور مستقبل کی امید و خوف کا بنیادی کردار ہے، جن کی بنیاد ماضی میں ہونے والا واقعہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک آدمی آگ سے بہت ڈرتا ہے تو دراصل اس کے پیچھے اس واقعے کا غم ہوگا جو اسے ماضی میں آگ سے جلنے پر لاحق ہوا تھا۔ اس کا یہی ماضی کا غم اسے مستقبل میں دوبارہ آگ سے جلنے کا خوف دلا کر ہاتھ پیچھے کھینچ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اردو میں اسی لئے تو کہتے ہیں، دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔
 اسی طرح اگر کسی بچے کو اس کی خالہ کے ہاں جانے پر ٹافیاں اور دیگر پسندیدہ کھانوں سے خوشی میسر آتی ہے تو وہ دوبارہ اسی خوشی کی امید پر خالہ کے ہاں جانا چاہتا ہے۔ اور بچوں پر ہی کیا موقوف، اگر آپ کو کسی جگہ پر بہت عزت ملے تو آپ بھی اسی خوشی کے دوبارہ حصول کی امید پر اس جگہ بار بار جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
 جس طرح اپنے ساتھ پیش آنے والا غم یا خوشی کا واقعہ مستقبل مےں خوف یا امید پیدا کرتا ہے، اسی طرح کسی دوسرے کے ساتھ پیش آنے والا غم یا خوشی کا معاملہ بھی آپ کو مستقبل میں خوف یا امید کا احساس دلاتا ہے۔ اگر آپ کسی موٹر سائیکل والے کا حادثہ دیکھتے ہیں تو موٹر سائیکل والے کو پےش آنے والے غم کو پےشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے ساتھ حادثہ ہوجانے کے خوف سے اپنی گاڑی آہستہ چلانا شروع کردیتے ہیں۔ بچے جب کرکٹرز کو دی جانے والی عزت افزائی کے ذریعے انھیں ملنے والی خوشی کا اندازہ کرتے ہیں تو خود بھی اسی عزت افزائی کی امید پر کرکٹر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ واقعہ تو مشہور ہی ہے کہ جب علامہ قفال شاشی (جو خود بہت ماہر لوہار تھے) نے بادشاہ کے دربار مےں ایک عالم کی عزت افزائی اپنے سے زیادہ ہوتی دےکھی تو علم کی راہ میں جت گئے اور بالآخر بڑی محنت کے بعد دنیا نے ان کے علم کا بھی لوہا مان ہی لیا۔
 ماضی کے غم یا خوشی کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی تیسری وجہ لوگوں یا بڑوں کے ریمارکس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک بچہ کتے سے ڈرتا ہے لےکن اسے نہ تو ماضی میں کتے نے کاٹا ہے اور نہ اس نے کسی کو کتے کے ذریعے نقصان پہنچتے دےکھا ہے۔ اس بچے کا خوف دراصل بڑوں کی طرف سے بچے کو کتے سے ڈرائے جانے کی وجہ سے ہے۔
 گویا ہمارے مستقبل کے بارے میں خوف یا امید کا تعلق ماضی کے غم یا خوشی سے ہے۔ اور یہ معاملہ صرف میرےیا آپ کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ہر انسان اسی بنیاد پر خوف زدہ یا پُرامید ہوتا ہے اور یہ چاروں کیفیات ےعنی خوشی، غم، امید اور خوف ہر انسانی زندگی کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر کوئی چاہے تو بھی ان کیفیات میں سے کسی ایک سے بھی بہ ہوش و حواس پےچھا نہیں چھڑا سکتا۔
 لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کیفیات کو مثبت طور پر استعمال کرکے آپ بالکل مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں جب کہ انھی کیفیات کو منفی طور پر استعمال کرکے اپنے آپ کو پریشان اور غیر مطمئن رکھنا بھی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ماضی میں حاصل ہونے والی خوشی ہی آپ کو مستقبل میں پُرامید کرتی ہے۔ اگر آپ ماضی کی خوشی پر شکر ادا کریں گے اور مستقبل میں پھر یہی خوشی حاصل ہونے کی امید رکھتے ہوئے مزید محنت کریں گے اور ماضی کے غم پر صبر کرتے ہوئے مستقبل میں خوف کو مسلسل محنت کی صورت دے دیں گے تو آپ کا حال نہایت اطمینان بخش ہوگا۔ لیکن اگر آپ نے خوشی ملنے پر ناشکری اور غرور کا رویہ اپناےا اور اس خوشی کے بل بوتے پر غفلت ِ عمل کا شکار ہوگئے اور غم پر ملال کرتے ہوئے مستقبل میں پھر ناکامی کے خوف سے مایوس ہو کر بیٹھ گئے تو پھر پریشان حالی آپ کا مقدر بن جائے گی۔
 مثال کے طور پر، ایک بچہ فرسٹ آئے اور اس خوشی پر شکر ادا کرتے ہوئے مستقبل میں پھر یہ خوشی ملنے کی امید پر مزید محنت کرے تو کامیابی تو اسی کی منتظر رہے گی جب کہ یہی بچہ اگر فرسٹ آنے کی خوشی پر غرور، ناشکری کرتے ہوئے مستقبل میں پھر ےہی امید لگائے، لیکن محنت کی طرف سے غافل ہوجائے تو ناکامی اس سےزیادہ دور نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی کو کاروبار میں نقصان کا غم لاحق ہوجائے، مگر وہ اس پر صبر کرتے ہوئے مستقبل میں پھر ےہی غم لاحق ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر مسلسل محنت میں جت جائے تو ایک نہ ایک دن نقصان کا نفع میں بدل جانا اس کا مقدرٹھہرے گا جب کہ یہی آدمی اگر کارباری نقصان پر غم کرتے ہوئے ملال کرتا رہ جائے اور مستقبل میں پھر اسی نقصان کے خوف سے مایوس ہو کر بےٹھا رہ جائے تو وہ قیامت تک اپنے نقصان کو نفع میں نہیں تبدیل کرسکتا۔
 دراصل ماضی میں پہنچنے والے غم پر ملال اسی وقت پےدا ہوتا ہے جب ماضی کی خوشی کو بہ طور شکر یاد نہ رکھا جائے، ماضی کے غم پر ملال کرنے والا دراصل خوشی پر ناشکری کا اظہار کررہا ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے تو بس غم ہی غم ملا ہے، خوشی تو اسے کبھی میسر ہی نہیں آئی ہے۔ چنانچہ وہ مستقبل میں پھر ناکامیوں کے ملنے سے خوف زدہ ہو کر مایوس ہوجاتا ہے اور پھر ہاتھ پیر چھوڑ بیٹھنے کے باعث پریشانیوں اور تفکرات اس کے حال کو برباد کردیتے ہیں۔ اسی طرح خوشی پر ناشکری کرنے والا مستقبل کے بارے میں اتنا زےادہ پُرامےد ہوجاتا ہے کہ محنت سے غافل ہو جاتا ہے اور پھر اس کے عروج کا ستارہ زوال پذیر ہو کر اسے بھی لے ڈوبتا ہے اور پریشان زندگی اس کی پہچان بن جاتی ہے۔
 اس کے برعکس، اگر کوئی ماضی کے غم کو مثبت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اس پر صبر کرتا ہے تو دراصل وہ خوشی کے میسر آجانے کا شکر بھی ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اسی مثبت روئے کی بہ دولت وہ مستقبل میں پُرامید تو ہوتا ہے، مگر مزید محنت کی روش اسے آگے ہی آگے لے جاتی ہے۔ ماضی کا غم اسے مستقبل کے لئے خوف زدہ تو کرتا ہے، مگر وہ ماضی کے غم پر صبر کرتے ہوئے مسلسل محنت کے ذریعے اس خوف کو شکست دے ہی دیتا ہے اور پھر مطمئن زندگی اسے خوش آمدید کہتی ہے۔
 آگے ایک چارٹ دیا جائے گیا ہے۔ آپ اس چارٹ کو خوب صورت انداز میں نمایاں لکھ کر اپنے آئینے کے پاس چسپاں کرلیجیے اور جب کبھی ماضی پر ملال ہو یا مستقبل کے خوف سے مایوس ہوں تو اس چارٹ کو دیکھئے اس سلسلے میں آپ اپنی زندگی کی بڑی خوشیوں پر مشتمل فہرست بنا کر رکھیئے۔ یہ فہرست مایوسی اور ملال کے وقت آپ کے لِے شافی دوا ثابت ہوگی۔ مایوسی اور ملال کے وقت جب بھی آپ اس فہرست کو دیکھیں گے اور شکر ادا کریں گے تو مستقبل کی امید آپ کو کام کرنے کا نیا ولولہ عطا کرے گی۔
درج بالا بحث کا خلاصہ
 ٭ ہر انسان میں چار کیفیات (خوشی، امید، غم اور خوف) پائی جاتی ہیں۔ انسان کا زمانہ حال انھی چار کیفیات کا آئینہ دارہے۔
٭ ہر فرد ان کیفیات پر مثبت طرزِ عمل ظاہر کرکے مطمئن رہ سکتا ہے۔ (مثبت طرزِ عمل یعنی خوشی پر شکر، امید پر مزید محنت، غم پر صبر اور خوف پر مسلسل محنت کا رویہ ظاہر کرنا)
٭ ”ماضی کے غم پر ملال“ کا علاج ماضی کی خوشی کو یاد کرکے شکر ادا کرنا ہے۔
٭ ”مستقبل کے خوف سے مایوسی“ کا علاج بھی ماضی کی خوشی کو یاد کرتے ہوئے مسلسل محنت کرنا ہے۔
چارٹس برائے تذکیر
1۔زمانہ حال:

خوشی      امید
ماضی   حال   مستقبل
غم      خوف
2۔مثبت طرز عمل:

شکر     مزید محنت
  مطمئن فرد
صبر     مسلسل محنت
3۔منفی طرزِ عمل:

ناشکری/غرور   غفلت
  پریشان فرد
ملال     مایوسی
٭ اظہار حقیقت: اس مضمون کا مرکزی خیال محترم منیر احمد راشد کے لیکچر سے لیا گیا ہے جس کے لئے میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

یاد رکھیں۔۔۔۔۔بھول جائیں۔۔۔۔۔۔

ان چیزوں کو ہمیشہ بھولنے کی کوشش کریں جوآپ کو غمگین کرتی ہوں لیکن انہیں ہمیشہ یاد رکھیں جنہوں نے آپ کو خوشی دی ہو،

کسی بھی دوست کی جانب سے کی گئی غلطی کو بھولنے کی کوشش کریں،لیکن اس دوست کو ضرور یاد رکھیں جس نے اعتما دکو دھوکا دیا ہو،

ہر گزر جانے والی مشکل کو اس سے سبق حاصل کر کے بھول جائِں، لیکن روزانہ ملنے والی نعمتوں خو ضرور یاد رکھیں

%d bloggers like this: