Archive for the ‘Education’ Category

چوہدری صاحب ! خدا کے لیے

تحریر:ذوالفقارعلی

جاوید چوہدری صاحب!قومیں نوحوں اور مرثیوں سے نہيں امیدوں اور خوابوں سے اٹھان پاتی ہيں۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دینے کے لیے تاریکی کے تذکرے نہيں واضح اہداف ، موثر منصوبہ بندی اور اس کے اوپر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کے خاکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 چوہدری صاحب ! آپ جیسے رائے ساز کالم نویسوں کے نوحے سن سن کر قوم تھک چکی ہے۔ خدا کے لیے موجودہ حالات میں سے انہيں کوئی خاکہ دیجیے کوئی رہنمائی کا واضح نقشہ پیش کیجیے خود نہیں دے سکتے تو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان سے بنوا کر دیجیے ۔ اگر کوئی ملک میں قوم کی مخلص قیادت کے قابل ہے تو اس کا پتہ دیجیے اور اسے سپورٹ کیجیے ، کھل کر اس کا نام لیجیے ۔نہيں ہے تو بتائیے کہ اسکریچ سے لے کر کامیابی تک کا راستہ کیا ہے ؟ تا کہ قوم میں سے کوئی امید پائے اور آگے بڑھے قوم آپ اور آپ جیسے چند دیگر قلم کاروں کو پڑھتی ہے مگر آپ کی تحریروں سے بس مایوسی،انتشار اور دکھ کشید کر کے رہ جاتی ہے۔

چوہدری صاحب بہادری اور بزدلی دونوں ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں،خدا کے لیے اس قوم میں امید اور بہادری بانٹیے ۔ چوہدری صاحب معذرت چاہتا ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے آپ اور آپ جیسے دیگر رائے ساز لوگ بغداد کے علماء معلوم ہوتے ہں وہ علماء تاتاریوں کے حملے کے وقت قوم کو کوے کی حلت و حرمت کے مسائل میں الجھائے ہوئے تھے اور آپ اس فتنے کے عہد میں "ڈوب مرنے کا مقام ہے” جیسے درس دے کر بالواسطہ مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہيں۔

 چوہدری صاحب اس قوم کے نفرت اور غصے کو اس کے اصل دشمن سے انتقام کی طرف موڑ کر قوت میں بدل ڈالنے کا نسخہ بتائیے ،اس وقت سے پہلے کہ جب انقلاب فرانس کی طرح بپھرے ہوئے لوگ ہر نرم ہاتھوں والے کو موت کے گاقٹ اتار دینے کو آمادہ ہوجائيں گے اور میں اور آپ جانتے ہيں کہ بہرحال قلم کاروں کے ہاتھ نرم ہوتے ہيں ۔چوہدری صاحب لاکھوں قاری بنا لینا،ہزاروں افراد کو فیس بک پر اپنا ہمنوا بنا کر مسرت حاصل کر لینا ،ہر کالم پر بیسیوں تعریفی ایس ایم ایس اور کالز اٹینڈ کر لینا اور اپنے سرکاری دوروں کی کہانیاں بیان کر کے دیگر بیسیوں لکھاریوں کے دلوں میں چٹکیاں کاٹ لینا محض ذاتی نفسیاتی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے، قوم کے دکھوں کا مداوا نہيں ۔منہ اور قلم کی کمائی کھانے کے بجائے عمل کی کمائی کھانا زیادہ مشکل ہے۔

چوہدری صاحب قوم کو بتائیے کہ کوئی پروفیسر نجم الدین اربکان ،شیخ احمد یاسین ، ماؤزے تنگ یا لینن اور مارکس کس طرح پیدا ہوگا ؟نہيں تو کس طرح کوئی Collective Wisdom کے ادارے اس کی جگہ لے سکیں گے ؟ کیسے کامیابی کے کوئی خاکے بن سکیں گے ۔؟ کیسے کوئی راہ نجات نظر آ سکے گی؟ کوئی اسٹریٹجک پلاننگ ہوسکے گی ؟

چوہدری صاحب کچھ تو بتائیے کہ قوم کا کوئی گروہ کیسے قوم کی کردار اور ذہن سازی کر سکتا ہے ؟کیسے اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا کام ممکن ہے؟ کیسے اس نظام خون آشام کی سیاہ رات ڈھل کر کسی امن ، آشتی اور آسودگی کی صبح بن سکتی ہے۔

 چوہدری صاحب ۔ مشرق و مغرب آپ کی عملی بیداری کو ترس رہے ہیں ، چوہدری صاحب آپ کے پاس ان کے لیے تریاق ہے اور یہ سب مارگزیدہ ، یہ اندھے اور آپ بینا ، آپ کے ہاتھوں میں چراغ ہے اور یہ اندھیروں کا شکار ۔اکر آپ جیسے لوگ علم تقویٰ اور کامیابی کا کوئی واضح منصوبہ نہيں دیں گے تو یاد رکھیں کہ پھر عزت و شرف کی ساری پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جائيں گیں۔

 چوہدری صاحب خدا کے لیے ! واضح اہداف ، مؤثر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ !

 کوئی امید !

 کوئی حوصلہ !

کوئی منصوبہ!

 کچھ تو دیجیے ؟

آئسکریم نہیں کھائوں گا۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: شہزادقمر

کام اور مطا لعہ کے دوران میوزک سننے سے حافظہ متاثر ہوتا ہے

ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کام یا پڑھائی کے دوران میوزک سننے سے قوت ارتکازیا توجہ

متاثر ہوتی ہے۔ برطانوی یونیورسٹی آف ویلز

انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق کام یا پڑھائی کے دوران میوزک سننے سے حافظے کی صلاحیت مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ انسٹ

ی ٹیوٹ کے ماہرین نے18سے30سال کی عمر کے 25افراد سے میوزک سننے کے دوران مختلف نوعیت کے سوالات کیے جس میں ان کی یادداشت کا امتحان لیا گیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ شرکاء جب کوئی آواز یا میوزک سنے بغیر سوالوں کے جوابات دیتے تو انتہائی یکسو ہوتے اور صحیح جواب دیتے لیکن جن شرکاء نے میوزک سننے کے دوران سوالات سنے ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن تھی

ایڈجسٹ؟

                                                               تحریر:عاقب علی عاقب

 

میں کالم رائیٹنگ کے موضوع پر ہونے والی ایک کلاس میں شریک تھا ،ہال شرکائے کورس سے بھرا ہوا تھا۔اس دوران میرے موبائل کی بیل بجی،کلاس کے دوران بیل بجنے پر شرمندہ سا ہو کرنمبر دیکھنے کے بعدمیں نے کال منقطع کر دی،موبائل کو سائیلنٹ کرنے سے قبل ہی دوبارہ بیل بج اٹھے،میں نے ایک با رپھر شرمندگی کے ساتھ ےہی عمل دوبارہ دوہرایا۔تا ہم جلد ہی کلاس کے ماحول ،موضوع اور ٹیچر کے دلکش انداز نے میری خجالت غائب کر دی ، باقی شرکاءبھی ٹرینر ہی کی جانب متوجہ تھے۔کلاس ایک بوجھ نہیںپکنک پوائنٹ لگ رہی تھی۔اس طرح کا ماحول کلاس میں میسر آنا"قابل حیرت "تھا کہ ساڑھے تین گھنٹے میں کوئی بھی بور نہیں ہو ۔۔ ! ایمز انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ کی جانب سے "کالم کیسے لکھیں؟… "کے موضوع پر ہونے والی اس ورکشاپ میں ہی میرا تعارف جلال صاحب سے ہواجو پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں۔مگراپنے اندر موجود صحافی کم کالم نگار کو دبا نہ سکنے کی وجہ سے وہ دن بھر کی تھکا دینے والی ذہنی و جسمانی مصروفیت کے باوجود طویل سفرکر کے بھی یہاں موجود تھے، کلاس میں آنے والی کال پر میں تھوڑا پریشان تھا۔ کال سرمد کی تھی جو ےونیورسٹی کے دور سے میرے دوستوں میں شامل ہے۔اتنا مجھے علم تھا کہ وہ صبح ایک جاب کیلئے انٹر ویو دینے گےا تھا۔یقینا اس کی کال کا سبب یہی ہو گا کہ وہ جلد از جلد مجھے انٹرویو کی روداد سناسکے،سرمد فنانس میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکا تھا۔ 

میں نے باہر نکلتے ہی اسے کال کی ، ملاقات کی جگہ لیاقت آباد کا ایک ہوٹل طے پاےا۔میں کلاس سے نکلنے کے بعدسیدھا بس اسٹاپ پہنچا، جلال صاحب جووہاں پہلے سے موجود تھے میری طرف بڑھے اور حیرانی سے پوچھا” ابھی آپ ہی کلاس میں موجود تھے ؟ میںنے اثبات میں سر ہلاکر جواب دیا۔انھوں نے فورا پوچھا تم نے ایم بی اے کہاں سے کیا ہے ؟اور آج کل کیا کر رہے ہو ؟میں نے اپنے تعلیمی سفر اور موجودہ سرگرمیوں کی مختصر سی کہانی بتائی جسے وہ بڑی تو جہ سے سنتے اور تائیدی انداز میں اسکا اظہار بھی کرتے رہے ابھی بات جاری تھی کے کہ میرے روٹ کی بس آگئی۔میں اس میں سوار ہو گیا اتفاق سے جلال صاحب بھی اسی بس میں سوار ہوئے مگر کیونکہ سیٹس الگ الگ ملیں اس لئے دوبارہ بات نہ ہوسکی۔کالم نگاری سے ان کی دلچسپی اورموتیوں کے سے طرز گفتگوکو دیکھ کر میں یہ سوچنے پرمجبور ہوا کہ مستقبل کا کالم نویس خود کو اکاونٹس کی کرسی پر کےسے ایڈجسٹ کر یگا؟ 

میں بس میں سوار ہونے کے بعد جگہ خالی دیکھ کر ایک سیٹ پر بیٹھا،دو افراد کی گنجائش والی اس سیٹ پر پہلے سے ہی ایک نوجوان موجود تھا۔گاڑی چلنے پر سفر کاٹنے کی نیت سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے میں نے اپنا تعارف کروایااور ساتھ ہی بھی بتادیا کہ میں کراچی میں نیا ہوں،اگر ٓپ کو برا نہ لگے تو بس جہاں جہاں سے گزرے مجھے جگہوں کے بارے میں بتاتے رہنا،میں ہر تھوڑی دیر بعد اس سے علاقے ،جگہ، اسٹاپ اور بس کے روٹ پر بات کرتا رہا وہ انتہائی صبرکے ساتھ ہر جگہ کی بارے میں تھوڑی تھوڑی معلومات بڑی دل چسپی سے بتارہا تھا۔اپنے متعلق اس نے یہی بتایا کہ وہ بنگلورٹاﺅن کے پاس کسی دفتر میں کام کر تا ہے۔مجھے اس کی باتو ں اور انداز سے محسوس ہواکہ وہ ایک اچھاٹورسٹ گائیڈ بن سکتا ہے۔معلوم نہیں وہ اپنی اس صلاحیت سے آگاہ تھا یا نہیں ،یاکب تک اسے یہ آگاہی ہو پائے گی ؟اس قدرتی اور اہم صلاحیت کے باوجود وہ کیسے ایک اجنبی کام کرتے ہوئے خود کو کب تک دفتر میں ایڈجسٹ رکھ سکے گا؟ 

اس دوران گاڑی لیاقت آباد دس نمبر کے اسٹاپ پر پہنچ گئی اس نوجوان نے شاید آگے جانا تھا ،میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نیچے اتر گیا۔میرا دوست سرمد پہلے سے یہاںموجود تھا گفتگو میں انٹرویو کے دو ران ہونے والی باتوں کو وہ جس طرح بتا رہا تھا اس سے یہ واضح تھا کہ وہ مارکیٹننگ کی جاب کے لئے تےار ۔تھا میں نے مذاقا پوچھا ، تم نے ایم بی اے فنانس میں کیوں کیا تھا؟اس کا جواب تھا کہ” عاقب میں نے جن سے بھی مشورہ لیا انھوں نے ےہی کہا کہ فنانس اچھا ہے مگر اب مجھے ےہ محسوس ہو رہا ہے کہ میں سوشل انسان ہوں ایک جگہ بیٹھ کر کام میرے بس کا نہیں ہے“ ۔اس کی جانب سے دئے گئے جواب کو سننے کے بعد ایک ہفتہ گزرچکامگرمیں اب بھی میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ فنانس کا ماہر فرد خود کو کسی دوسری فیلڈ میں کس طرح اٰیڈجسٹ کر سکے گا؟ 

درحقیقت یہ ہمارا المیہ ہے! ہمیں وکیل ،سیاست دان،صحافی،بزنس مین،کھلاڑی ،ڈاکٹر،انجیئینر غرض ہر شعبے میںایسے افراد سے سابقہ پڑتا ہے جوبننا کچھ چاہتے تھے مگر بن کچھ اور گئے،یقینا ہمیں ان شعبوںسمیت زندگی کے ہر شعبے میں تربیت ےافتہ افراد کی ضرورت ہے ۔ایسے افراد کی تیاری میںوالدین،معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے خاص طور پراساتذہ کی زمہ داری بڑھ جاتی ہے لیکن کیا استاد کو دی جانے والی تنخواہ اور تربیت اس قابل ہے کہ وہ خود کو اس محاذ پر ایڈجسٹ کر سکے ؟کہ ایک ہی وقت میں وہ اپنے طالب علم کو نصاب پڑھانے کے ساتھ اسے کیرئیر کے متعلق رہنمائی بھی مہیا کر رہا ہو،والدین اور معاشرے کے دیگر طبقات اپنی موجودہ صلاحیتوںمیںاس ذمہ داری کوپورا کر سکیںگے؟ہمیں پورے شعور کے ساتھ غور کر تے ہوئے ایک لائحہ عمل پیش کرنا اور اسے طے کر کے سب کو عمل میں لانا ہوگا۔اپنے بچوں کو ان کے پسندیدہ شعبہ جات میں تعلیم کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنا ہونگے ورنہ! ہمیںہرمرحلے پر جلال صاحب،سرمد اوربس والے اس نوجوان کی طرح ایڈجسٹ ہی کرنا ہو گا۔۔سوری موبائل پھر بج رہا ہے۔۔

تعلیم سب کے لئے۔۔۔۔۔سوائے پاکستانیوں کے

تحریر:شاہد عباسی

اپنے وقت کے بہت بڑے اسکالر کا رتبہ پانے والا وہ فرد بچپن میں انتہائی کند ذہن تھا،پڑھتا تو کچھ یاد نہ کر سکتا اور سنتا تو سمجھ نہ آتا،لہذا یہ سوچ کر چپ ہو رہا کہ شاید پڑھنا لکھنا اس کے بس کی بات نہیں،گزرتی عمر نے اسے زندہ رہنے کے لئے کوئی شعبہ چننے کا موقع دیا تو اپنے اردگرد رہنے والوں کی طرح اس نے بھی بڑھئی بننے کا فیصلہ کیا اور اس فن میں اتنا طاق ہوا کہ اس کے بنائے صندوقوں کی دھوم پورے شہر میں ہو گئی۔

جانے کسی کے مشورے پر یا خود سوچ کر اپنی محنت کا بھرپور صلہ پانے اور ساتئش کی تمنا لئے اس نے نہایت دلجمعی سے ایک صندوق تیار کیا اور اسے لے کر بادشاہ وقت کے دربار میں پہنچا ،دربار میں جس نے بھی اس ماہر ترکھان کے ہاتھ کا بنا صندوق دیکھا عش عش کر اٹھا،بادشاہ نے بھی اس کی نفاست اور کاریگری کوپسند کیا،،اس کی محنت رنگ لاتی نظرآرہی تھی بادشاہ صندوق پر کی گئی فنکاری میں گم تھا کہ اور اسے یوں لگ رہا تھا کہ گویا سارے جہان کی دولت اسے دے دی گئی ہو۔

اچانک دربار میں کھسر پھسر ہوئی اور عبایا پہنے ایک فرد دربار میں داخل ہوئے،آواز سن کر بادشاہ نے جونہی سر اٹھایااور اس کی نظر اندر آ نے والے فرد پر پڑی تو وہ سامنے پڑاانتہائی خوبصورت صندوق اور اپنی کچھ لمحے قبل کی مصروفیت بھول کرکھڑا ہو گیا۔آنے والی کی آﺅ بھگت کی اور اسے اپنے ساتھ نشست پر بیٹھنے کو جگہ دی۔

ایک اجنبی کی یوں دربار میں آمد،بادشاہ کا اپنی مصروفیت چھوڑ کر اس کے اعزاز میں کھڑا ہونا،اسے اپنے ساتھ بٹھانا ایسے امور تھے جنہوں نے مذکورہ ترکھان کے جذبہ تجسس کو ہوا دی،اس نے قریب کھڑے ایک درباری سے ماجرا پوچھا کہ آنے والا کون ہے جس کے احترام میں بادشاہ وقت کھڑا ہو گیا تھا؟تو جواب ملا کہ یہ شہر کے مشہور مسلم اسکالر ہیں،ان کے علم کا رتبہ اور مقام اتنا ہے کہ یہ جب بھی دربار میں تشریف لاتے ہیں بادشاہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر انہیں تعظیم دیتا ہے۔

یہ جملہ سن کر اس بڑھئی کے ذہن نے پلٹا کھایا،وہ ذہن جو کچھ یاد رکھنے کے قابل نہ تھا ،شدیدمحنت اور سچی لگنے کے ساتھ کوششوں میں ایسا مصروف ہوا کہ کچھ عرصے میں صرف اس شہر ہی میں نہیں بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے علامہ کفال شاشی کتے نام سے شہرت حاصل کی۔بادشاہ کے اس اقدام کا فوری اثر تو اپنی جگہ دیر پا تاثر یہ تھا کہ مسلمانوں نے 1050برس تک مسلم دنیا پر حکمرانی کی۔

تا ہم اب معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے اور اسے ہی واقفان حالت تعلیمی تنزلی کا سبب قرار دیتے ہیں۔اس کا تازہ ترین ثبوت وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان بھر کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز سے ہونے والی ملاقات میں کئے گئے وعدے سے انحراف کر کے دیا ہے۔ جس میں انہوں نے یہ یقین دلایا تھا کہ جامعات کو فنڈز کی قلت سے بچانے کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں اعلی تعلیمی کمیشن کومزید فنڈز دئے جائیں گے۔وزیراعظم کی جانب سے کی گئی اس وعدہ خلافی پرانہیں یاددہانی کے لئے اعلی تعلیمی کمیشن کے چئیرمین کی جانب سے خط لکھ کر یہ کہا گیا تھاکہ کمیشن نے رواں مالی سال کے بجٹ18.5ارب روپے میں30فیصد اضافے کی سفارش کی تھی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔واضح رہے کہ قبل ازیں یہ بجٹ22.5ارب روپے تھا جس میں کابینہ کے فیصلہ کے تحت کٹوتی کر کے اسے18.5ارب روپے کر دیاگیا تھا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لئے نئے مالی سال میں15.6ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کی قلت کے سبب ملک بھر کی انجینئرنگ و دیگر جامعات میں جاری 246منصوبے ختم یا مکمل طور پر سست رفتار ہو کراپنی معنویت اورافادیت کھو دیں گے۔دوسری جانب اس کے نتیجے میںحکومتی خرچ پر بیرون ملک تعلیم ھاصل کرنے والے9ہزار سے زائد طلباءکا تعلیمی سلسلہ بھی منقطع ہو سکتا ہے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے کے انتطار میں وہ لوگ جو نیشنل ٹیسٹنگ سینٹر اورجی آر ای کے امتحان پاس کر چکے ہیں ،اپنی پیشہ وارانہ زندگی شروع کرنے کے انتظار میں اپنے گھرانوں پر مالی بوجھ اور ملکی وسائل میں ان کے ذریعہ ہونے والے اضافہ کو روکنے کا سبب بنیں گے۔

اعلی تعلیمی کمیشن کے پاس فنڈز کی عدم موجودگی کے سبب پیدا ہونے والی اس شرمناک صورتحال کے ازالہ کے لئے چند روز قبل ملک کی متعدد سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی تھی۔جس میں انہیں سید یوسف رضا گیلانی نے یہ یقین دلایا تھا کہ اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں اتنا اضافہ کیا جائے گا جو جاری پروجیکٹس سمیت جامعات میں ہونے والے دیگر ترقیاتی وتحقیقاتی کاموں میں اضافے کا سبب بن کر ملک کے مستقبل کومحفوظ بنا سکے۔

راقم کی جانب سے کی گئی چھان بین کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ حالیہ بجٹ میں جس رقم میں کٹوتی کی گئی ہے وہ انجینئرنگ اورعام جامعات کے متعدد منصوبوں،لیبارٹریز کی ضروریات کی تکمیل،جدید تحقیق میں استعمال ہونے والے آلات کی فراہمی اور آخری سال کے طلباءکی جانب سے تیار کئے جانے والے پروجیکٹس پرخرچ کی جانی تھی۔تا ہم اس رقم کی کٹوتی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں اب یا تو جامعات کے یہ تمام منصوبے اور طلبہ کا تحقیقی کام روکنا ہو گا یا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ہوئے افراد کو حالات کے رحم وکرم پر چھو ڑکران سے لاتعلقی اختیار کرنا ہو گی۔نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر دو صورتوں میں عالمی سطح پر ملک کی جنگ ہنسائی اور شرمندگی کی حد تک کم شرح خواندگی کو بہتر کر کے تعلیم سے دور رہنے والوں کو حصول علم کے قریب لانے پہلے ہی قلت کا شکار کوششیں سبوتاژ ہو ں گی۔

ایک ایسے وقت میں جب تعلیم یافتہ ہونا افراد ہی نہیں اقوام کی ترقی کے لئے بھی لازمی شرط مانا جا چکا ہے،وفاق کی جانب سے اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں قابل ذکر اضافہ کرنے کے بجائے سات ارب روپے کی کٹوتی کر کے گزشتہ 22ارب روپے کے فنڈ کو15ارب کر دیا گیا ہے کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ حکومت وقتی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے سے آگے بڑھ کر ملکی ترقی میں بھی سنجیدہ ہو گی۔

تعلیمی حلقوں سے وابستہ افراد نے بجٹ میں اعلی تعلیمی کمیشن کے فنڈز کی کٹوتی کو وسائل کی قلت کے بجائے حکومتی عدم دلچسپی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر قانون صدر اور حکومت کے خلاف عدالتوں میں جاری کیسز پر وکلاءکی رائے کو اپنے حق میں بدلنے اورعدلیہ پر دباﺅ پیدا کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کر سکتے ہیں تو ایک ضروری مد میں خرچ کرنے کے لئے ہی وسائل قلت کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

یقینا یہ بات جواب طلب ہے تاہم ابھی تک اپنے وعدہ کے باوجود فنڈز فراہم کرنے میں ناکامی کا شکار وزیر اعظم پاسکتان یاکسی بھی حکومتی حلقے کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا گیا،اگر اس خاموشی کو احساس جرم کی موجودگی سے تعبیر کیا جائے تو بھی ضرورت اس سے کچھ ذیادہ کرنے کی ہے اور وہ یہ کہ فوری طور پر اعلی تعلیمی کمیشن کے کٹوتی کئے گئے فنڈز بحال اوران میں وعدہ شدہ اضافہ بھی کیا جائے۔تا کہ اس وقت بیرون ملک موجود طلباءیکسوئی سے تعلیم حاصل کر سکیں،جو جانے کے منتظر ہیں اورتمام امتحانات پاس کر چکے ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے متوقع بحران سے بچایا جائے۔جب کہ ملکی جامعات میں جاری منصوبوں پر کام برقرار رہنے کے ساتھ ان کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

یونیورسٹی آف انجنئرنگ اینڈٹیکنالوجی لاہور کے وائس چانسلر جنرل اکرم کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لئے بھیجنے کا منصوبہ زیرغور تھا۔متعدد منصوبے جو اس وقت جاری ہیں وہ رک جائیں گے جن کا بڑے پیمانے پر نقصان ہو گا۔رقم اور وقت دونوں کا یہ نقصان بجٹ میں حالیہ کٹوتی کے سبب تعلیم کے مستقبل پر اثرانداز ہو گا۔
پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کامران مجاہد کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں پنجاب یونیورسٹی اساتذہ اورانتظامہ اہلکاروںکی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے۔یونیورسٹی کے رواں مالی سال کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخراجات کے لئے ۳ارب۳۶کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی تھی جس میں سے ایک ارب روپے اعلی تعلیمی کمیشن نے مہیا کئے تھے۔جب کہ نئے بجٹ میںاعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ ۷ارب روپے کی کٹوتی کے بعدیہ توقع نہیں کہ جامعات کو موجودہ مالی سال جتنی رقوم بھی دی جا سکیں گی۔
لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر بشری متین کا کہنا تھا کہ وہ جامعات جواپنے قیام کا ابتدائی عرصہ گزار رہی ہیں اس سے سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔جامعہ میں جاری تعمیراتی کام رک جانے اور ادائیگیوں میں دشواریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی صورتحٓل میں جب سیلف فنانس پروگرام جاری کرنے کی اجازت بھی نہ ہو جامعات کے لئے اخراجات کی رقم جمع کرنا ایک دشوار امر ہو گا۔اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی سے بڑی اور قدیم جامعات کے کم ہمتاثر ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی یونیورٹیز کے لئے یہ ایک دشوار امر ہو گا۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر پیر ذادہ قاسم کا اپنے ظریفانہ تبصرہ میں کہنا تھا کہ جس طرح سرکاری اسکولز غیرمعیاری ہونے کے سبب پیلے اسکول قرار پائے تھے اسی طرح اب سرکاری جامعات بھی پیلی جامعات بننے جا رہی ہیں۔جامعہ کراچی کے متعلق انہوں نے کہا کہ فنڈز میں کٹوتی کی وجہ سے ملک بھر کی تمام جامعات کی طرح کراچی یونیورسٹی بھی اپنے تمام جاری منصوبوں کو بند کرنے پر مجبور ہوگی۔

جامعات سے وابستہ اساتذہ نے بھی اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی پر احتجاج کرتے ہوئے اسے حکومت کی تعلیم دشمن پالیسی قرار دیاہے۔اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تحقیق اعلی تعلیم میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو ملکوں کی ترقی کے لئے لازمی ہوا کرتا ہے۔گزشتہ کچھ عرصے میں اعلی تعلیم کے لئے بجٹ مختص کئے جانے نے ملک میں تحقیق کا کلچر پیدا کیا تھا لیکن اب اس کا خاتمہ ہونا دور کی بات نہیں ہے۔جس کا لازی اثر ملکی ترقی اور انسانی وسائل کی بہتری کے لئے کی جانے والی کوششوں پر پڑے گا۔

تمام تر احتجاج اوردبی زبانوں میں کی جانے والی گفتگو کو کافی نہ جان کر اعلی تعلیمی کمیشن کے چئیرمین جاوید ایچ لغاری نے وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو خط بھی لکھا جس میں انہوں نے گزشےہ مہینے جامعات کے وائس چانسلرز سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیںیہ اپیل کی تھی کہ کمیشن کے فنڈمیں کی جانے والی کٹوتی کا فیصلہ معطل کرکے سابقہ فنڈز بحال اور ضروریات کے مطابق فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔تا ہم تاحال اس پر کوئی عمل یا ردعمل ظاہر نہیں ہو سکااوربجٹ اجلاس بھی ختم ہو نے کو ہے۔پاکستان میں اچانک بڑھنے اور پھر کبھی نہ کم ہونے والی مہنگائی نے یہ قانون تو تبدیل کر ہی دیا ہے کہ مہنگائی بڑھنے یا کم ہونے کا تعلق بجٹ سے نہیں تو کیوں نہ اس خرابی کو خوبی میں بدلتے ہوئے بجٹ سیشن کے خاتمے کے بعد سہی دیر آید درست آید کے مصداق اعلی تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں کی گئی کٹوتی کو واپس لے کر نئے چیلنجز کے مطابق اضافی فنڈز جاری کئے جائیں۔تا کہ جامعات میں زیر تعلیم طلباہ ،جاری منصوبے ،بیرون ملک اعلی تعلیم کے حصول کے لئے موجود اورجانے کے منتظرافراد کی کامرانی کا سفر جاری رہ سکے۔

اعلی تعلیمی کمیشن کے تحت ملکی انسانی وسائل کی ترقی کے لئے جاری پروجیکٹ میں 9ہزار طلباءکو بیرون ملک بھیجا گیا ہے۔پی ایچ ڈی اور دیگر پروگرام کے لئے گئے ہوئے مذکورہ طلباءاپنے تعلیمی دورانیہ کے درمیان یا اختتام کے قریب ہیں۔ان کی ٹیوشن فیس،تحقیقی و دیگر اخراجات کے لئے 10ارب روپے کی رقم درکار ہے۔بجٹ کٹوتی سے ملک بھرکی جامعات کے 258کیمپسز میںجاری193اورنئے شروع کئے جانے والے11منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو جائیں گے۔اعلی تعلیمی کمیشن نے اپنے قیام کے بعد ملک میں اعلی تعلیم کے لئے کی گئی کوششوں کے سلسلے میں سالانہ طلباءکی تعداد کو2لاکھ76ہزار274سے بڑھاکر8لاکھ3ہزار507،کیمپسز کی تعداد کو116سے بڑھا کر258،تحقیقاتی مطبوعات کی تعدادکوسالانہ815سے بڑھا کر4ہزار13اورسالانہ پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد کو1ہزار947سے بڑھا کر3ہزار280کر دیا تھا۔تاہم بجٹ میں کٹوتی کے بعد اب یہ ممکن نہیں ہو پائے گا

یاد تو رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔لیکن؟

تحریر:شاہد عباسی

"مجھے اچھی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ ہر مہینہ اپنی تنخواہ میں سے کچھ تھوڑی سی رقم خرچ کر کے نئی اور معیاری کتب ضرور خریدوں،یا انٹرنیٹ پر دستیاب ای لائبریریز سے استفادہ کروں لیکن ایک مسئلہ مجھے نہایت پریشان کرتا ہے، باوجود کوشش کہ مجھے کتاب کے وہ حصے یاد نہیں ہو پاتے جنہیں میں مفید پا کر یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ ان پر عمل کیا جا سکے اور دوسروں کو بھی ان سے آگاہ کیا جا سکے،جب کہیں حوالہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تو اکثر مجھے یاد ہی نہیں رہتا اور کچھ ایسی ہی کیفیت ایم اے پرائیویٹ کے امتحانات کے دوران پیپر حل کرتے وقت بھی ہوتی ہے”ایک ہی سانس میں فرحان یہ بات کہہ گیا اور اب وہ اپنے دوست ثاقب کی جانب جواب طلب نظروں سے یوں دیکھ رہا تھا، گویا وہی اس کے مسئلہ کو حل کرنے کا ذمہ دار ہو۔ ثاقب تو فرحان کو درپیش مشکل حل کر سکا ہو یا نہیں ہم ضرور اس کی کوشش کرتے ہیں۔

کتابوں کا مطالعہ سب کی نہیں تاہم ہر ”پڑھے لکھے“ فرد کی خواہش ضرور ہوتی ہے جس پر وہ گاہے بگاہے عمل کی کوشش بھی ضرور کرتا ہے۔لیکن اکثر اوقات ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ جن کتابوں کو ہم پڑھنا چاہتے ہیں وہ یا ان کے وہ حصے جو مفید لگیں یاد نہیں رہ پاتے، یہ مسئلہ صرف ایک فرحان کا نہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق ہر 5میں سے3افراد اس مسئلے کا شکار رہتے ہیں۔امتحان کا موقع ہو یا ٹیسٹ کی تیاری،ملازمت کے حصول کی خاطر انٹرویو کا مرحلہ ہو یا معمول کا مطالعہ،بھول جانے یا عدم توجہی کی یہ مشکل کسی نا کسی صورت ان مواقع پر یکسوئی کو متاثر ضرورکرتی ہے۔ چونکہ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دوسروں کے تجربات سے استفادہ کے بجائے وقتی حل کو ترجیح دینا نہ چاہتے یا بغیر علم میں آئے ہماری عادت بن چکا ہوتا ہے اس لئے اس اہم مسئلے کو بھی ہم نظر انداز کردیتے ہیں۔یا شاید زمانہ طالبعلمی سمیت ایام جوانی میں اس کی سنگینی سے صحیح طرح آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے مسئلہ نہ سمجھ کر حل کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہم کچھ بھی کہہ لیں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جو پڑھ لیا جائے، اور دل کو اچھا بھی لگ جائے اسے بھلانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔

طبی اور نفسیاتی ماہرین اس حوالے سے کئی حل پیش کرتے ہیں جن پر آسانی سے عمل کر کے، انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر ہم اپنی یادداشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ کم وقت میں بہتر نتائج بھی حاصل کر سکتے ہیں۔آج اس تحریر میں ہم ایسی 10عادات کا جائزہ لیں گے جن پر عمل سے ہم ہر اس اچھی لگنے والی بات کو یاد رکھ سکتے ہیں جس کا یاد رکھنا ہمارے لئے زندگی کے کسی بھی موڑ پر فاہدہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔

ذرا ایک ایسی محفل کا تصور کریں جہاں آپ کے کئی ہم عمر افراد موجود ہوں، باہمی دلچسپی کا کوئی موضوع زیر بحث ہو،ایسے وقت میں جب بحث اپنے پورے عروج پر ہو گفتگو کرنے والا روانی میں ہی سہی یہ کہہ دے کہ ”پتہ نہیں ۔۔۔لیکن ایسا ہی ہوا تھا،یا جو بات آپ کر رہے ہیں اس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔اور شعر یاد نہ آسکے، کسی کا قول نقل کرنا چاہیں لیکن وہ پورا یاد نہ ہو۔۔۔۔اپنی بات کی دلیل کے طور پر گروپ میں مستند سمجھی جانے والی کسی کتاب کا حوالہ دینا چاہیں لیکن پڑھی گئی بات پوری طرح یاد نہ آرہی ہو“اس وقت ہونے والی شرمندگی اور خجالت کا عالم وہی جانتا ہے جس پر یہ گزری ہو۔اگر آپ ذیل میں دی گئی عادات کو اپنانے کی کوشش کریں گے تو ہمیں امید ہے کہ ایسی صورتوں میں آئندہ آپ کو کسی موقع پر یہ یا ان سے ملتے جلتے جملے ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔

بھولنے سے بچاﺅ کی 10عادات
٭پڑھائی کا وقت:عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم نصابی و غیر نصابی ہر دو طرح کی کتابوں کا مطالعہ اس وقت کرتے ہیں جب ذہنی طور پر مصروفیت یا تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔اس سے سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی چیز کو یاد رکھنے کے لئے درکار توجہ نہیں مل پاتی۔ تھکاوٹ کے سبب جب جسم کو آرام کی ضرورت ہو تو ذہن بھی اسے یہی ہدایت دیتا ہے اس لئے وہ آنکھوں سے گزرنے والی اشیاء کو یاد نہیں رکھ پاتا۔ہم نے اکثر اس بات کا مشاہدہ کیا ہو گا کہ رات کو کسی انجان علاقے میں چلے جائیں تو باوجودیکہ وہاں لائٹیں روشن ہوتی ہیں، دوبارہ اسی علاقے میں جانے کے لئے مطلوبہ جگہ کا بارہا پوچھنا پڑتا ہے۔اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اندھیرے میں دیکھی گئی چیزیں ہم صحیح طرح سے نہیں دیکھ پاتے اسی لئے ان کی بنیاد پر دوبارہ وہاں نہیں پہنچ پاتے۔ لہٰذا مطالعے کے لئے سب سے پہلے کوشش کی جائے کہ پڑھنے کے لئے منتخب کیا گیا وقت دماغی وجسمانی تھکن کا نہ ہو۔

٭کتب بینی یا مطالعہ:کسی بھی کتاب کو پڑھتے وقت ایک اور غلطی جو ہم میں سے اکثر افراد کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ،کتاب کا مطالعہ کرنے کے بجائے اس پر سرسری نظر دوڑائی جاتی ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے آپ کتاب خریدنے کے لئے کسی دکان میں موجود ہوں اور کتاب میں موجود مواد کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف ورق الٹ پلٹ دیکھ رہے ہوں۔یہ بات یقینی ہے کہ اس دوران پڑھی یا نظروں سے گزاری گئی کوئی بات آپ کو یاد نہیں رہ سکتی لہٰذا یہ سوچنا کہ اس میں یاداشت کا قصور ہے بالکل غلط بات ہو گی۔صحیح طرح سے کسی بھی جملے ،پیراگراف یا پوری کتاب کا خلاصہ یاد رکھنے کے لئے لازم ہے کہ ہم محض کتب بینی نہ کر رہے ہوں بلکہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ پڑھ رہے ہوں ۔

٭بوجھ یا ضرورت:کوئی بھی فرد جس کام میں مہارت رکھتا ہے اس کا ایک بڑا سبب اس کام سے اس کی دلچسپی ہوتی ہے،دوسری جانب جن کاموں میں ہماری دلچسپی نہ ہو بلکہ وہ بادل نخواستہ ہمیں کرنا پڑے ہوں تو ان کو کسی نا کسی طرح گزارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ برتاﺅ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ہم مذکورہ معاملے سے سنجیدہ نہیں اسے بوجھ سمجھتے ہیں لیکن کسی وقتی ضرورت یا مفاد کے تحت اسے برت رہے ہیں اسی وجہ سے وہ ہمیں وقت گزرنے کے باعث اپیل نہیں کرتے ۔بالکل یہی معاملہ مطالعے کا بھی ہے کہ اگر آپ پڑھی گئی بات کو یاد رکھنا چاہتے ہیں تو اسے بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ اس میں دلچسپی لے کر پڑھیں۔اپنی علم کی پیاس بجھانے کے لئے ضرورت بنا کر جب آپ کتاب سے رجوع کریں گے تو وہ آپ کو بوجھ نہیں لگے گی۔

٭کتاب کا ادب:ممکن ہے یہ اصطلاح ہم میں سے بہت سوں کے لئے نئی ہو یا کچھ اجنبی سی لگے۔اس کا سبب یہ ہے کہ مادیت کی بنیاد پر بننے والی قدریں حضرت انسان کو جن چیزوں سے محروم کر رہی ہیں ان میں ایک بہت بنیادی چیز ”ادب“ہے خواہ وہ کسی انسان کا ہو یا کسی دوسرے جاندار کا۔ایک وقت تھا کہ جب مسلمان دنیا بھر میں علم کا منبع سمجھے جاتے تھے ۔اہل مغرب اس وقت ہماری تہذیبی اقداروروایات اپنانے میں اتنا ہی فخر محسوس کرتے تھے جتنا آج ہم ان کی نقالی میں۔اس وقت کے واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں اورمعاشرے میں اخلاقیات کو انتہائی اہمیت دی جاتی تھی ۔کسی بھی لمحے بد ادبی کے قریب پھٹکنا گویا اپنے آپ کو نکو بنانے کے مترادف ہوا کرتا تھا۔کتاب کو پڑھنے کے ساتھ اسے اٹھاتے،رکھتے یا مطالعے کے بعد کے وقفے میں یونہی پھینک نہیں دیا جاتاتھا۔نتیجتا کتابیں اپنا سب کچھ پڑھنے والے کو دے دیا کرتی تھیں۔

تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کھانا پکاتے،کپڑے استری کرتے،اسکول یا کالج جاتے ہوئے گاڑی میں سفر کے دوران،ایک کتاب کو پڑھنے کے لئے دوسری کو تکیہ بنا کر،ایک لمحے کتاب سے کرکٹ کا بیٹ بنا لینے اور دوسرے لمحے اس کو مطالعہ کے لئے استعمال کرنے،بلکہ اب بعض جگہوں پر تو کموڈ پر بیٹھے بیٹھے بھی مطالعہ کر کے ہم وہ بننا چاہیں جو ہم کر ہی نہیں رہے ہوتے۔پس ثابت یہ ہوا کہ کتاب سے کچھ بھی لینے کے لئے یا پڑھے ہوئے کو یاد رکھنے کے لئے اس کا ادب بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہم اپنے بڑوں کا کرتے ہیں۔

٭نیند پوری کریں/ڈپریشن سے بچیں:نیند کی کمی کی وجہ سے اکثر انسومینیا نامی بیماری یا اس کی کچھ ابتدائی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو کسی سطح پر ڈپریشن پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہیں ۔اس کے نتیجے میں ہم مطالعے کے لئے درکار توجہ مہیا نہیں کر سکتے نتیجتاً پڑھی ہوئی بات یاد نہ رکھنے کی شکایت سر اٹھا لیتی ہے ۔مطالعے کی اچھی عادت پیدا کرنے کے لئے ہمیں نیند پوری کرنے کی متوازن عادت پیدا کرنے کی ضرورت پڑھتی ہے۔جو ناصرف ڈپریشن سے بچاﺅ کا سبب نتی ہے بلکہ اس سے دماغ کو اپنا کام کرنے کے لئے مطلوب آرام مل جانے سے پڑھائی کے بعد یا د رکھنے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔چوبیس گھنٹوں میں کم از کم چھ گھنٹے کی نیند کو اگر عادت بنا لیا جائے تویہ یاد رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

٭گناہوں سے بچیں:فقہی قوانین کی تدوین کرنے والے مسلم اسکالرز میں سے ایک بڑا نام امام شافعی کا ہے۔ان کی یادداشت حیرت انگیز ہونے کے متعلق تاریخ میں کئی واقعات ملتے ہیں۔امام شافعی کے متعلق ایک واقعہ میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد سے پوچھا کہ” شیخ نسیان(بھولنے)سے بچاﺅ کے لئے کیا کروں ؟“تو ان کے استاد نے خاصا طویل جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ” اگر اپنی یادداشت کو بہتر رکھنا چاہتے ہو تو گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو یہ یادداشت کو کھا جاتے ہیں“۔ہم اپنی معمول کی زندگی میں بھی اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ کلاس میں اچھی پوزیشن لینے کا معاملہ ہو یا انٹرویو میں بہتر کارکردگی دکھانے کا ہر جگہ وہی امیدوار ذیادہ بہتر انداز میں کامیاب ہوتے ہیں جو معاشرے میں مروج خرابیوں سے بچ کر زندگی گزارتے ہیں یا ان میں رہ کر بھی ان کا حصہ نہیں بنتے۔

٭معاون غذائیں:کچھ عرصہ قبل بہت سارے گھروں میں دادیاں اور نانیاں اپنی پوٹلیوں میں ایسی چیزیں ضرور رکھا کرتی اور انہیں گھر کے بچوں کو دیا کرتی تھیں جو یادداشت کو بہتر بنانے میں معان ثابت ہوتی ہیں۔جب کہ کئی گھروں میں بچوں کو روزمرہ غذاﺅں میں بادام ،کشمش،کھوپرا،دودھ یا اس سے ملتی جلتی غذائیں فراہم کی جاتی تھیں۔گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی مصروفیت،مہنگائی اور آگاہی کی کمی نے یہ نعمت بھی ہم سے چھین لی ہے۔حالانکہ پڑھی ہوئی باتوں کو یاد رکھنے کے لئے ایک اہم چیز ہماری غذائیں بھی ہیں ہم دن بھر جو کچھ کھاتے ہیں وہ صرف ہمارے معدے ہی پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس کا نتیجہ جسم کے دیگر اجزاءکی مانند ہماری یاد داشت پر بھی پڑھتا ہے۔

غذائی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ یادداشت کو بہتر بنانے کے لئے ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جن میں دماغ کو قوت فراہم کرنے والے اجزاء موجود ہوں۔ پھل،سبزیاں اور خشک فروٹ ایسی اشیاءہیں جو استعمال کرنے والے کو یہ فائدہ پہنچاتی ہیں کہ وہ کسی بھی بات کو یاد رکھنے کے قابل ہو سکے۔ان میں موجود منرلز،وٹامن، نمکیات ،چکنائی اور دیگر اجزاء ہمارے دماغ کے لئے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔جاپان میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یادداشت کی بحالی میں ہلکا بھنا ہوا پیاز،ادرک اورLeekنامی پیاز کی طرح کا پودا ذیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔دن بھر میں تین کپ کافی یا چائے کا استعمال بھی یادداشت کے لئے ذیادہ بہتر ہوتا ہے خصوصاً خواتین میں اس کے استعمال سے اچھے نتائج دیکھے گئے ہیں۔

٭نشہ آور اشیاء سے پرہیز:ہم پڑھی ہوئی چیز کو یاد رکھنا چاہتے ہیں،یہ بہت ہی اچھی خواہش ہے جس کو پورا کرنے کے لئے بری عادات سے بچاﺅ لازم ہوتا ہے۔اگر وہ موجود ہوں تو ان سے چھٹکارا ہی مسئلہ کا حل ہوتا ہے۔جس طرح صاف ستھرے گھر میں کچرے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی بالکل اسی طرح اچھی باتوں کو یاد رکھنے والے ذہن میں کسی بیکار کام کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔نہ ہی دماغ کے زیر اثر موجود جسم ایسے کاموں میں ملوث ہوتا ہے جو کسی بھی سطح پر صفائی یا اچھائی کے معیار پر پورا نہ اترتے ہوں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام نشہ آور اشیاء سگریٹ،پان ،شراب،الکوحل ، حشیش،شیشہ ، وغیرہ سے بچیں۔کیونکہ اگر ہم ان گندی اشیاء کو جگہ دیں گے تو یہ کتابوں سے ملنے والی اچھی باتوں کو ہمارے ذہن کا حصہ بننے اور پھر ان پر عمل کا وقت آنے نہیں دیں گی۔

٭تذکیر /تکرار:کسی بھی نصابی اور غیر نصابی کتاب میں پڑھی گئی باتوں کو یاد رکھنے کے لئے ایک بار کا پڑھنا یا سننا کافی نہ سمجھیں ۔یہ بات طے شدہ قانون کی حیثیت رکھتی ہے کہ جو کام جتنا ذیادہ اہم ہو اسے اتنی ہی ذیادہ بار سرانجام دیا جاتا ہے۔بالکل اسی طرح جو کتاب جتنی اہم ہو اسے اتنا ہی ذیادہ پڑھا جانا چاہئے۔ہر مسلمان یہ بات جانتا ہے کہ قرآن اس کی زندگی کے لئے ایک رہنما کتاب ہے اس لئے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس کا مطالعہ اپنا معمول بنائے رکھیں۔آج کے معاشرے میں خرابیوں کی موجودگی کا جائزہ لیا جائے اور بعد ازاں اپنی زندگیوں کو ہم بغیر کسی دانشور کی عقل کا استعمال کئے کھنگالیںتو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہت ساری خرابیوں کا ایک سبب ان سے بچاﺅ کے راستہ کا علم نہ ہونا ہے۔جب زندگی کے لئے راہنما کتاب کو ہم نے اپنی زندگی سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تو نتیجہ یہ نکلا جو ہم آج اپنے چاروں طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس گفتگو سے حاصل یہ ہوا کہ کسی بھی یاد رکھنے کی قابل بات کو ایک بار پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً اس کا تکرار بھی ضروری ہوتا ہے۔

٭خود اعتمادی:انٹرنیٹ،کتاب،پوسٹر،ہورڈنگ،نوٹس بورڈ،خط ،ای میل یا کسی بھی صورت میں موجود وہ لوازمہ جسے ہم یاد رکھنا چاہتے ہوں ،اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اس پرعمل اور اسے دوسروں تک پہنچا کر بھلائی میں اضافے کے خواہاں ہو ،وہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے آپ کو اس کا اہل تسلیم کریں۔

ہم نے یہ بات ضرور سنی یا مشاہدہ کی ہو گی کہ ایک جیسی زمین پر برسنے والے ایک ہی جیسے بارش کے قطرے مختلف صورتوں میں ردعمل ظاہر کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔زمین کا ایک حصہ بارش کے قطروں کو اپنے اوپر سے بہا دیتا ہے،دوسرا حصہ انہیں روک کر کیچڑ بن جاتا ہے،تیسرا حصہ اپنی سختی کے ساتھ ساتھ گہرائی کی وجہ سے اسے روک کر دوسروں کے استعمال کے لئے محفوظ کر دیتا ہے چوتھا حصہ اس پانی کو جذب کر کے سبزا اگنے کی جگہ بن جاتا ہے۔ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق وہ کام کرتا ہے جس کا وہ اپنے آپ کو اہل ثابت کرتا ہے لیکن قدر زمین کے اس ٹکڑے کی ہوتی ہے جو اس پانی کو جذب کر کے سبزا اگنے کا باعث بنتا ہے۔بالکل اسی طرح جب تک ہم اپنے متعلق یہ طے نہ کر لیں کہ جو کام کرنا چاہتے ہیں ہم اس کے اہل بھی ہیں، تب تک وہ کام پورا نہیں ہو سکتا۔یاد رکھنے کی باتوں کو محفوظ کر لینے سے قبل کا ایک انتہائی اہم مرحلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے اوپر اس بات کا اعتماد ہو کہ ہم جو کچھ پڑھ رہے ہیں اسے یاد بھی رکھ سکتے ہیں ۔یہ کوئی مشکل کام نہیں بس اس کے لئے جذبہ اور خوداعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر بڑی مشکل کو یہ کہہ سکے کہ”میں یہ کر سکتا ہوں/ہم یہ کر سکتے ہیں“۔

ان10عادات پر عمل کر کے ہم سب فرحان کی طرح اس مشکل سے بچ سکتے ہیں جس کی شکایت و ہ اپنے دوست ثاقب سے کر رہا تھا۔لیکن یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا، ہر اچھے کام کی طرح اسے بھی پورا کرنے کے لئے ہمیں خود ہی کوشش کرنا ہو گی۔مستقل مزاجی،تسلسل اور نیک نیتی کے ساتھ۔یقین کریں ایسا کرنے کے بعد آپ کبھی کسی بات کو کسی جملے کو یا کتاب کے کسی حصہ کو بھولنے کی شکایت نہیں کریں گے۔

%d bloggers like this: