Archive for the ‘Health’ Category

امراض قلب کے اسپتال میں 78 کروڑکی کرپشن ،ذمہ دار کون؟

تحریر:شاہد عباسی

مریضوں سے وصول شدہ 3کروڑ 76لاکھ روپے بینک میں جمع نہیں ہوئے، بلاضرورت 7کروڑ روپے کی مشنری خریدی گئی

ملک کے سب سے بڑے امراض قلب کے اسپتال قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں 78 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے جن کی نشاندہی مالی سال 2007ءاور 2008ءکی آڈٹ رپورٹ میں ظاہر ہوئی ہے۔انتظامیہ کے موقف کے برعکس ذرائع کے مطابق رفیقی شہید روڈ پر واقع قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) جوکہ خود مختار اور وفاقی وزارت صحت کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ ہے ۔1963ءمیںامراض قلب کے علاج،بڑھتے ہوئے مریضوں پر قابو پانے اور مرض کا شکار افراد کو بہتر طبی سہولیات کی غرض سے قائم کیا گیا تھا۔پاکستان ہی نہیں جنوبی ایشیاءمیں اپنی نوعیت کے پہلے ادارے کا اعزاز رکھنے والا یہ طبی مرکز اگرچہ سالانہ بنیادوں پر حکومت سے گرانٹ حاصل کرتا ہے لیکن اس کے ناکافی ہونے کی وجہ سے یہ اپنے اخراجات موصول ہونے والے عطیات،انڈومنٹ فنڈ اورمریضوں کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم کے ذریعے پورا کرتا ہے۔امراض قلب سے وابستہ ہونے اور یہاں موجود انفراسٹرکچر کے پیش نظریومیہ بنیادوں پر صرف او پی ڈی میں 15 سو سے 2000مریض رپورٹ ہوتے ہیں اگرچہ یہاں آنے والے مریضوں کو کم خرچ میں قابل ڈاکٹرز اور فوری طور پر معیاری طبی امداد مہیا کی جاتی ہے جو مریضوں کا اعتماد سمیٹنے کے ساتھ انہیں سہولیات مہیا کرنے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم اس میں کرپشن کے متعلق کی گئی نشاندہی اب شاید اس اعتماد کو مجروح کر دے۔ مالی سال 2007ءاور 2008ءکی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ادارے میں 78 کروڑ روپے سے زائد وصول کی جانے والی فیس میں تین کروڑ 76لاکھ روپے سے زائد کی خورد برد ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ رقم وصول تو کی گئی ہے تا ہم بینک میں جمع ہی نہیں کروائی گئی۔

آڈٹ رپورٹ کا اسکین

دوسری جانب اسپتال کی انتظامیہ نے ادارے کے قریب واقع نیشنل بینک کارڈیو برانچ میں ایل سی کھول کر میسرز اسحاق کارپوریشن کے ذریعے مختلف مشینری اور آلات درآمد کئے جن پر 9کروڑ53لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی ظاہر کی گئی ہے لیکن اس کے لئے وفاقی وزارت صحت اور وفاقی وزارت فنانس سے فارن ایکسچینج کی منظوری نہیں لی گئی اور نہ ہی اس خریداری کے حوالے سے متعلقہ دستاویزات موجود ہیں۔ ان دو معاملات کے ساتھ ہسپتال کے موجود انفراسٹرکچر کے حوالے سے یہ بات بھی آڈٹ رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے نیشنل بینک کو 42 ہزار روپے ماہانہ پر برانچ کھولنے کی جگہ کرائے پر دی جو مارکیٹ ریٹ سے بہت کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق کینٹین ٹھیکوں میں مخصوص افراد کو نوازا گیا۔ کیفے ٹیریا میسرز سلیم کارپوریشن کا ماہانہ 42ہزار روپے کرائے پر دیا گیا لیکن ٹھیکیدار سے بجلی اور گیس کے بلز وصول نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ادارے کو 9لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اسپتال کے لئے ضرورت سے قبل ہی 7کروڑ روپے سے زائد کی مشینری اور آلات کی خریداری بھی کی گئی۔ضرورت سے قبل کے لفظ کے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وہ مشینری ہے جس کے استعمال کی نوبت بھی نہیں آئی اور جن اداروں سے وہ خڑیدی گئی ہے ان کی جانب سے دی گئی وارنٹی مذکور آلات کے استعمال سے قبل ہی پوری ہوگئی ہے۔
ادارے سے وابستہ ذرائع کے مطابق این آئی سی وی ڈی کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 500 سو سے 700سو مریض روزانہ آتے ہیں جن میں سے 80سے 90 مریضوں کو روزانہ داخل کیا جاتاہے۔یہ اعدادوشمار انتطامیہ کی جانب سے تسلیم بھی کئے جاتے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق دوران آڈٹ متعلقہ افراد کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اسپتال نے مریضوں کو علاج کی مد میں جمع کرائی گئی رقم میں سے ایک کروڑ روپے سے زائد واپس کردیئے جس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی جبکہ رقم واپس لینے والے مریضوں کی فہرست کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہواکہ اس میں متعدد مریضوں کے نام کئی بار لکھے ہوئے ہیں۔ نیشنل بینک میںقومی ادارہ امراض قلب کے اکاﺅنٹ میں انتظامیہ نے عطیہ کے طور پر ملنے والے 27لاکھ روپے قانونی طور پرجمع رکھے ہوئے ہیںتاہم رقم کو فنانشل ایڈوائزر اور بجٹ تخمینے میں بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔


رپورٹ کے مطابق میسرز زیم سکیورٹی کو سکیورٹی گارڈز فراہم کرنے کی مد میں 7لاکھ روپے سے زائد ادا کئے گئے۔ جب کہ اسپتال ریکارڈ کے مطابق این آئی سی وی ڈی کے پاس اپنے 47سکیورٹی گارڈ ز اور ایک سیکورٹی آفیسر ملازم ہے ان ملازمین کی تنخواہوں اور الاﺅنسز پر ہر سال 36لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔
انتظامیہ نے افسران ،ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کو کارڈیو کے اندر رہائشی سہولت دے رکھی ہے لیکن آڈٹ کے دوران پتہ چلاکہ ایسے افسران ،ڈاکٹرز اور ملازمین کی اکثریٹ ہاﺅس رینٹ الاﺅنسز بھی لے رہے ہیں۔اسپتال میں رہائش پذیر بیشتر افسران ،ڈاکٹرز اور ملازمین نے بجلی کے بلز بھی ادا نہیں کئے ۔مختلف کمپنیوں سے ای سی جی اور آلات جراحی کی خریداری کی گئی جس کے لئے ایک کروڑ 41لاکھ روپے سے زائد ادا کئے گئے لیکن اس خریداری کی تصدیق نہیں ہوسکی۔


فنانس ڈویژن کے مطابق لاءچارجز کی ادائیگی   کے لئے وزارت قانون سے پیشگی منظوری ضروری ہے لیکن منظوری کے بغیر مختلف وکلاءکو  لیگل چارجز کی مد میں 6لاکھ روپے سے زائد ادا کئے گئے آڈٹ رپورٹ کے مطابق گزٹ آف پاکستان کے مطابق پروفیسر کا عہدہ 20گریڈ کاہے سیلری شیٹ سے پتہ چلاکہ اس وقت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گریڈ 22میں تھے۔اس گریڈ کی کوئی پوسٹ نہ ہونے کے باوجود وہ کام کرتے رہے۔قانون کے مطابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو گریڈ 17تک تقرریوں کا اختیار ہے لیکن انہوںنے قانون کے برخلاف گریڈ18میں ایک خاتون ڈاکٹر کو بھرتی کیا اور بعد میں انہیں اگلے گریڈ میں ترقی بھی دے دی گئی۔مختلف گریڈ کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو پیشہ وارانہ فیس کے نام پر غیر قانونی طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کی گی۔ مالی سال 2007ءاور 2008ءکی آڈٹ رپورٹ تقریبا6ماہ قبل وزارت صحت کے متعلقہ حکام کو بھیجی جاچکی ہے لیکن ذرائع کے مطابق اب تک اس خورد برد کے ذمہ داران کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی نہیں کی گئی جوکہ افسوس ناک عمل ہے۔
این آئی سی وی ڈی کی اہمیت کے حا مل ادارے کی آڈٹ رپورٹ میں کی گئی نشاندہی کے باوجود کوئی تادیبی کارروائی نہ ہونا اور متعلقہ ذمہ داران کو کھلی چھوٹ دئے رکھنے کے متعلق ذرائع کا کہناہے کہ جب تک وفاقی محکمہ صحت کی ملی بھگت نہ ہواتنی گھناﺅنی کرپشن کے ذمہ داران کا بچے رہنا ممکن ہی نہیں ہے۔واضح رہے کہ حالیہ بجٹ میں شعبہ صحت کے لئے مختص کی گئی رقم کے ناکافی ہو نے پر یہ جواب دیا گیا تھاکہ حکومت طبی اداروں کو بتدریج بہتر کرنے کے لئے لانگ ٹرم منصوبے پر عملدرآمد کی خواہاں ہے اس وقتی خامی پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔لیکن ایک خودمختار طبی ادارے کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سب محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کو تھا ورنہ حکومت اور محکمہ صحت اپنی سابقہ روش کو ہی برقرار رکھنے پر مصر ہیں۔
حکومتی سطح پر کی جانے والی کرپشن اور اس کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ بدنام زمانہ کیری لوگر بل میں امریکہ کی جانب سے شعبہ صحت کی بہتری کے لئے دی جانے والی امداد بھی یہ کہہ کر روک لی گئی تھی کہ محکمہ میں کرپشن کے باعث امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم خوردبرد کی نظر ہو جانے کا خدشہ ہے۔لہذا یہ محکمہ صحت کے حکام کو منتقل کرنے کے بجائے ان کی جانب سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لے کر امریکی نگرانی میں امدادی اداروں کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔
این آئی سی وی ڈی میں کرپشن،آڈٹ رپورٹ میں اس کی نشاندہی پرموقف جاننے کے لئے اسپتال کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خان شاہ زمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کرپشن ناممکن ہے۔

NICVD کیا ہے؟
قومی ادارہ امرض قلب 360بیڈڈاسپتال ہے جہاں400سے زائد بستر مریضوں کے لئے دستیاب ہیں۔تین میڈیکل،ایک سرجیکل،ایک پیڈیاٹرک،تین کارنری کئیر ،ایک سرجیکل آئی سی یواور28بستروں پر مشتمل شعبہ حادثات کے ساتھ ملک بھر سے لائے جانے والے مریضوں کو خدمات مہیا کرتا ہے۔اگر چہ راولپنڈی میں فوج کے زیر اہتمام قائم کارڈیک سینٹر کے قیام کے بعد سے اندرون ملک اورکراچی میں ایک اور کارڈیک سینٹر کے قیام سے مقامی مریضوں کا دباﺅ کسی حد تک کم ہوا ہے لیکن بڑی تعداد اب بھی یہیں آتی ہے۔جس کا ثبوت ادارے کی جانب سے سالانہ ۳ہزار انجیوگرافیز اور۵سو سے زائد کارنیو انجیوپلاسٹیز ہیں۔

<strong> تحریر:شاہد عباسی</strong>

<strong>مریضوں سے وصول شدہ 3کروڑ 76لاکھ روپے بینک میں جمع نہیں ہوئے، بلاضرورت 7کروڑ روپے کی مشنری خریدی گئی

</strong>

ملک کے سب سے بڑے امراض قلب کے اسپتال قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں 78 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے جن کی نشاندہی مالی سال 2007ءاور 2008ءکی آڈٹ رپورٹ میں ظاہر ہوئی ہے۔انتظامیہ کے موقف کے برعکس ذرائع کے مطابق رفیقی شہید روڈ پر واقع قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) جوکہ خود مختار اور وفاقی وزارت صحت کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ ہے ۔1963ءمیںامراض قلب کے علاج،بڑھتے ہوئے مریضوں پر قابو پانے اور مرض کا شکار افراد کو بہتر طبی سہولیات کی غرض سے قائم کیا گیا تھا۔پاکستان ہی نہیں جنوبی ایشیاءمیں اپنی نوعیت کے پہلے ادارے کا اعزاز رکھنے والا یہ ادارہ اگرچہ سالانہ بنیادوں پر حکومت سے گرانٹ حاصل کرتا ہے لیکن اس کے ناکافی ہونے کی وجہ سے یہ اپنے اخراجات موصول ہونے والے عطیات،انڈومنٹ فنڈ اورمریضوں کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم کے ذریعے پورا کرتا ہے۔امراض قلب سے وابستہ ہونے اور یہاں موجود انفراسٹرکچر کے پیش نظریومیہ بنیادوں پر صرف او پی ڈی میں 15 سو سے 2000مریض رپورٹ ہوتے ہیں اگرچہ یہاں آنے والے مریضوں کو کم خرچ میں قابل ڈاکٹرز اور فوری طور پر معیاری طبی امداد مہیا کی جاتی ہے جو مریضوں کا اعتماد سمیٹنے کے ساتھ انہیں سہولیات مہیا کرنے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم اس میں کرپشن کے متعلق کی گئی نشاندہی اب شاید اس اعتماد کو مجروح کر دے۔ مالی سال 2007ءاور 2008ءکی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ادارے میں 78 کروڑ روپے سے زائد وصول کی جانے والی فیس میں تین کروڑ 76لاکھ روپے سے زائد کی خورد برد ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ رقم وصول تو کی گئی ہے تا ہم بینک میں جمع ہی نہیں کروائی گئی۔

<img src=”https://saherenoo.files.wordpress.com/2010/07/scan-2-001.jpg?w=217″ alt=”” title=”آڈٹ رپورٹ کا اسکین” width=”217″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-170″ /></a>

دوسری جانب اسپتال کی انتظامیہ نے ادارے کے قریب واقع نیشنل بینک کارڈیو برانچ میں ایل سی کھول کر میسرز اسحاق کارپوریشن کے ذریعے مختلف مشینری اور آلات درآمد کئے جن پر 9کروڑ53لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی ظاہر کی گئی ہے لیکن اس کے لئے وفاقی وزارت صحت اور وفاقی وزارت فنانس سے فارن ایکسچینج کی منظوری نہیں لی گئی اور نہ ہی اس خریداری کے حوالے سے متعلقہ دستاویزات موجود ہیں۔ ان دو معاملات کے ساتھ ہسپتال کے موجود انفراسٹرکچر کے حوالے سے یہ بات بھی آڈٹ رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے نیشنل بینک کو 42 ہزار روپے ماہانہ پر برانچ کھولنے کی جگہ کرائے پر دی جو مارکیٹ ریٹ سے بہت کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق کینٹین ٹھیکوں میں مخصوص افراد کو نوازا گیا۔ کیفے ٹیریا میسرز سلیم کارپوریشن کا ماہانہ 42ہزار روپے کرائے پر دیا گیا لیکن ٹھیکیدار سے بجلی اور گیس کے بلز وصول نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ادارے کو 9لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔

اسپتال کے لئے ضرورت سے قبل ہی 7کروڑ روپے سے زائد کی مشینری اور آلات کی خریداری بھی کی گئی۔ضرورت سے قبل کے لفظ کے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وہ مشینری ہے جس کے استعمال کی نوبت بھی نہیں آئی اور جن اداروں سے وہ خڑیدی گئی ہے ان کی جانب سے دی گئی وارنٹی مذکور آلات کے استعمال سے قبل ہی پوری ہوگئی ہے۔

ادارے سے وابستہ ذرائع کے مطابق این آئی سی وی ڈی کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 500 سو سے 700سو مریض روزانہ آتے ہیں جن میں سے 80سے 90 مریضوں کو روزانہ داخل کیا جاتاہے۔یہ اعدادوشمار انتطامیہ کی جانب سے تسلیم بھی کئے جاتے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق دوران آڈٹ متعلقہ افراد کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اسپتال نے مریضوں کو علاج کی مد میں جمع کرائی گئی رقم میں سے ایک کروڑ روپے سے زائد واپس کردیئے جس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی جبکہ رقم واپس لینے والے مریضوں کی فہرست کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہواکہ اس میں متعدد مریضوں کے نام کئی بار لکھے ہوئے ہیں۔ نیشنل بینک میںقومی ادارہ امراض قلب کے اکاﺅنٹ میں انتظامیہ نے عطیہ کے طور پر ملنے والے 27لاکھ روپے قانونی طور پرجمع رکھے ہوئے ہیںتاہم رقم کو فنانشل ایڈوائزر اور بجٹ تخمینے میں بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔


رپورٹ کے مطابق میسرز زیم سکیورٹی کو سکیورٹی گارڈز فراہم کرنے کی مد میں 7لاکھ روپے سے زائد ادا کئے گئے۔ جب کہ اسپتال ریکارڈ کے مطابق این آئی سی وی ڈی کے پاس اپنے 47سکیورٹی گارڈ ز اور ایک سیکورٹی آفیسر ملازم ہے ان ملازمین کی تنخواہوں اور الاﺅنسز پر ہر سال 36لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔

انتظامیہ نے افسران ،ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کو کارڈیو کے اندر رہائشی سہولت دے رکھی ہے لیکن آڈٹ کے دوران پتہ چلاکہ ایسے افسران ،ڈاکٹرز اور ملازمین کی اکثریٹ ہاﺅس رینٹ الاﺅنسز بھی لے رہے ہیں۔اسپتال میں رہائش پذیر بیشتر افسران ،ڈاکٹرز اور ملازمین نے بجلی کے بلز بھی ادا نہیں کئے ۔مختلف کمپنیوں سے ای سی جی اور آلات جراحی کی خریداری کی گئی جس کے لئے ایک کروڑ 41لاکھ روپے سے زائد ادا کئے گئے لیکن اس خریداری کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

<img src=”https://saherenoo.files.wordpress.com/2010/07/scan-9-001.jpg?w=217″ alt=”” title=”Scan 9 001″ width=”217″ height=”300″ class=”alignright size-medium wp-image-177″ />

فنانس ڈویژن کے مطابق لاءچارجز کی ادائیگی کے لئے وزارت قانون سے پیشگی منظوری ضروری ہے لیکن منظوری کے بغیر مختلف وکلاءکو لیگل چارجز کی مد میں 6لاکھ روپے سے زائد ادا کئے گئے آڈٹ رپورٹ کے مطابق گزٹ آف پاکستان کے مطابق پروفیسر کا عہدہ 20گریڈ کاہے سیلری شیٹ سے پتہ چلاکہ اس وقت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گریڈ 22میں تھے۔اس گریڈ کی کوئی پوسٹ نہ ہونے کے باوجود وہ کام کرتے رہے۔قانون کے مطابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو گریڈ 17تک تقرریوں کا اختیار ہے لیکن انہوںنے قانون کے برخلاف گریڈ18میں ایک خاتون ڈاکٹر کو بھرتی کیا اور بعد میں انہیں اگلے گریڈ میں ترقی بھی دے دی گئی۔مختلف گریڈ کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو پیشہ وارانہ فیس کے نام پر غیر قانونی طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کی گی۔ مالی سال 2007ءاور 2008ءکی آڈٹ رپورٹ تقریبا6ماہ قبل وزارت صحت کے متعلقہ حکام کو بھیجی جاچکی ہے لیکن ذرائع کے مطابق اب تک اس خورد برد کے ذمہ داران کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی نہیں کی گئی جوکہ افسوس ناک عمل ہے۔

این آئی سی وی ڈی کی اہمیت کے حا مل ادارے کی آڈٹ رپورٹ میں کی گئی نشاندہی کے باوجود کوئی تادیبی کارروائی نہ ہونا اور متعلقہ ذمہ داران کو کھلی چھوٹ دئے رکھنے کے متعلق ذرائع کا کہناہے کہ جب تک وفاقی محکمہ صحت کی ملی بھگت نہ ہواتنی گھناﺅنی کرپشن کے ذمہ داران کا بچے رہنا ممکن ہی نہیں ہے۔واضح رہے کہ حالیہ بجٹ میں شعبہ صحت کے لئے مختص کی گئی رقم کے ناکافی ہو نے پر یہ جواب دیا گیا تھاکہ حکومت طبی اداروں کو بتدریج بہتر کرنے کے لئے لانگ ٹرم منصوبے پر عملدرآمد کی خواہاں ہے اس وقتی خامی پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔لیکن ایک خودمختار طبی ادارے کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سب محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کو تھا ورنہ حکومت اور محکمہ صحت اپنی سابقہ روش کو ہی برقرار رکھنے پر مصر ہیں۔

حکومتی سطح پر کی جانے والی کرپشن اور اس کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ بدنام زمانہ کیری لوگر بل میں امریکہ کی جانب سے شعبہ صحت کی بہتری کے لئے دی جانے والی امداد بھی یہ کہہ کر روک لی گئی تھی کہ محکمہ میں کرپشن کے باعث امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم خوردبرد کی نظر ہو جانے کا خدشہ ہے۔لہذا یہ محکمہ صحت کے حکام کو منتقل کرنے کے بجائے ان کی جانب سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لے کر امریکی نگرانی میں امدادی اداروں کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔

این آئی سی وی ڈی میں کرپشن،آڈٹ رپورٹ میں اس کی نشاندہی پرموقف جاننے کے لئے اسپتال کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خان شاہ زمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کرپشن ناممکن ہے۔

NICVDکیا ہے؟

قومی ادارہ امرض قلب 360بیڈڈاسپتال ہے جہاں400سے زائد بستر مریضوں کے لئے دستیاب ہیں۔تین میڈیکل،ایک سرجیکل،ایک پیڈیاٹرک،تین کارنری کئیر ،ایک سرجیکل آئی سی یواور28بستروں پر مشتمل شعبہ حادثات کے ساتھ ملک بھر سے لائے جانے والے مریضوں کو خدمات مہیا کرتا ہے۔اگر چہ راولپنڈی میں فوج کے زیر اہتمام قائم کاردیک سینٹر کے قیام کے بعد سے اندرون ملک اورکراچی میں ایک اور کارڈیک سینٹر کے قیام سے مقامی مریضوں کا دباﺅ کسی حد تک کم ہوا ہے لیکن بڑی تعداد اب بھی یہیں آتی ہے۔جس کا ثبوت ادارے کی جانب سے سالانہ ۳ہزار انجیوگرافیز اور۵سو سے زائد کارنیو انجیوپلاسٹیز ہیں۔

Advertisements

ہیپاٹائٹس پروگرام یا ناکامی کی شرمناک داستان

رپورٹ:شاہدعباسی
وزیر اعظم کا خصوصی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس اہداف حاصل کرنے میں ناکام ،طے کئے گئے ہدف کے مطابق 2010ءتک ہیپاٹائٹس کے وائر س کے پھیلاﺅ کو پچاس فیصد روکا جانا تھا، تاہم 5برس گزرنے کے باوجودحکومتی اعلان پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا،طبی ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری نوعیت کے اقدامات نہ کئے گئے تواندرون سندھ اور زیریں پنجاب کے علاقوں میں مریضوں کی تعداد کل آبادی کا ستر سے 80فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔ملک میں ہیپاٹائٹس کے 90فیصد پھیلاﺅکا سبب آلودہ پانی کی فراہمی تسلیم کرنے والی حکومت کی جانب سے بھاری رقوم خرچ ہونے کے باوجود نتائج کے حصول میں ناکامی پرتاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے نا ہی کسی سطح پرمعاملے کی چھان بین کی کوشش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے خصوصی پروگرام برائے ہیپاٹائٹس کا2005ءمیں اعلان کیا گیا تھا جس کے لئے اس وقت2ارب60کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی تھی۔معاشرے سے مرض کے خاتمے اور اس کی روک تھام کے عنوان سے شروع کئے گئے پروگرام کے تحت مریضوں کی اسکریننگ،علاج اور معاشرتی آگاہی جیسے متعدد اقدامات کئے جانے تھے۔

طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ30لاکھ لوگوں کی موت کا سبب بننے والا ہیپاٹائٹس پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو متاثر کر چکا ہے۔عام آدمی کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا دعوی رکھنے والی حکومت اس پروگرام سے کتنی مخلص رہی ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہ اکلوتی مثال کافی ہے کہ پروگرام کو اعلان ہوئے چند ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ وفاقی محکمہ خزانہ نے یہ کہہ کر فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ چونکہ یہ مقامی سطح پر شروع کیا جانے والا پروگرام ہے اس لئے اس میں کام کرنے والے افرا د کو عالمی امداد سے چلائے جانے والے پروگرامات کی طرز پربھاری معاوضہ اور الاﺅنسز نہیں دئے جا سکتے۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے زیریں علاقوں سمیت بالائی سندھ میں مرض کی صورت حال سب سے ذیادہ خطرناک ہے جہاں کی پچاس فیصد آبادی اس کا شکار ہے،مقابلتا ملک کے دیگر علاقوں میں مرض کی موجودگی کا تناسب 10تا15فیصد کا ہے۔وفاقی محکمہ صحت سے وابستہ ذرائع کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کو تناسب 4تا5 اور ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کا6تا7فیصد ہے۔تا ہم آفیشل طور پر اس کی موجودگی کا تناسب 3تا4اورہیپاٹائٹس سی کا5تا6تسلیم کیا جاتا ہے۔
ہیپاٹائٹس اے،بی،سی،ڈی اور ای کی پانچ قسمیں رکھنے والا یہ مرض ملک میں ہر گزرتے روز ذیادہ خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس بی اور سی عموما غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی،بغیر اسٹلائز کئے استعمال کئے جانے والے سرجیکل اورحجاموں کےآلات،استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے پھیلتا ہے جب کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی اور مضرصحت کھانوں کے استعمال سے پھیلتا ہے۔ اول الذکر بچوں کو جب کہ ای ٹائپ بڑوں کو متاثر کرتا ہے ان دونوں اقسام کو ویکسین کے استعمال سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی کا وائرس ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس سے 100 فیصد ذیادہ خطرناک قرار دیا جاتا ہے جو خون میں موجودگی کی صورت جسمانی رطوبتوں کے ذریعے بآسانی دوسرے فرد کو اپنا شکار بنا سکتا ہے۔دوسری جانب خاموش قاتل قرار دیا جانے والا ہیپاٹائٹس سی کا وائرس کئی دہائیوں تک بغیر کوئی علامت ظاہر کئے جسم میں موجود رہ کر بتدریج جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ذیادہ دیر تک اس وائرس کی جسم میں موجودگی جگر کے کینسر وغِیرہ جیسے امراض کا سبب بن کر وجہ موت بن جاتی ہے۔عالمی سطح پر اس کے علاج میں مثبت پیش رفت ہونے کے باوجود پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو فی الوقت علاج کے لئے درکار سہولیات مہیانہیں کی جا سکی ہیں۔حالانکہ پاکستان میں پائی جانے والی ہیپاٹائٹس سی کی قسم جدید تحقیقی کے بعد90فیصد قابل علاج قرار دی جا چکی ہے بس شرط صرف بروقت اور مناسب علاج مہیا کرنا ہے جس کے لئے فی الوقت کوئی ٹھوس میکنزم تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔

طبی ماہرین نے محض پانی کی آلودگی ہی کواس کے پھیلاﺅ کو مرض کا سبب قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاندان میں ہونے والی شادیاں،گنجان آباد رہائشی کالونیاں اور صحت کی فراہمی کا ناقص نظام ذیادہ بنیادی اور اہم اسباب ہیں۔
محکمہ صحت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی غیر تسلی بخش کاکردگی کے علاوہ ملک بھر میں ہیپاٹالوجسٹس کی کمی بھی مرض کے پھیلاﺅ اور علاج نہ ہونے کا اپم سبب ہے،اس وقت ملک بھر میںماہرین امراض جگر کی تعداد100سے بھی کم ہے۔حکومتی سطح پرہیپاٹائٹس سے بچاﺅ کے لئے تین انجکشنوں پر مشتمل ویکسینیشن کورس کو ای پی آئی پروگرا میں شامل رکھا گیا ہے،حاملہ خواتین کی ہیپاٹائٹس بی کے حوالے سے اسکریننگ،تا کہ ماں میں مرض کی موجودگی کی صورت بچے کوپیدائش کے موقع پر انفیکٹ ہونے سے بچاﺅ کے لئے ایمونوگلوبین دی جا سکے،علاوہ ازیں مرض کی موجودگی کی صورت علاج مہیا کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ چھ ماہ سے ایک سال تک ہوتا ہے۔جب کہ علاج کی تکمیل کے بعد بھی کئی برسوں تک مریض کا جائزہ لیا جانا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

ملک میں ہیپاٹائٹس کے تیزی سے ہوتے پھیلاﺅ کوروکنے اوربہتر طریقے سے مرض پر قابو پانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں 2ارب60کروڑ روپے کی لاگت سے انسدادی پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا۔جس کا ہدف2010میں وائرس کے پھیلاءو کو 50فیصد تک کم کرنا تھا جس کا اقرار اس وقت کے وفاقی وزیر صحت نصیر خان نے بھی کیا تھا۔پروگرام کے تحت اس وقت سالانہ 13ہزار مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی گئی تھی جب کہ 60نئے طبی مراکز قائم کئے گئے تھے جن کا مقصد مرض پر قابو پانے کے حکومتی اعلان کو پایا تکمیل تک پہنچانا تھا۔

سرکاری سطح پر کی جانے والی کوششوں کو ناکام قرار دے کر انہیں مزید مربوط بنانے پر زور دیتے ہوئے طبی ماہرین کا تسلیم کرناہے کہ سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات میں لائے جانے والے مریضوں کی 5فیصد تعداد ہیپاٹائٹس کا شکار ہوتی ہے۔جب کہ سرکاری اسپتالوں میں ملک کی کل آبادی کامحض 1فیصد حصہ ہی علاج کی نیت سے لایا جاتا ہے۔لیکن انہیں بھی خاطر خواہ سہولیات مہیا نہیں کی جا سکتیں۔
پاکستان اسٹیٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز کے شعبہ میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رضوان قاضی کے مطابق ہیپاٹائٹس کے علاج کا مشکل پہلو یہ ہے کہ معالجین کی جانب سے دوا تجویز کرتے وقت ان دواﺅں کا استعمال نہ کروایا جائے جو جگر کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔ایسا مریض جو کسی بھی درجے میںہیپاٹائٹس کا شکار رہا ہواگر اسے مذکورہ دوائیں استعمال کروائی جائیں تو کلینیکل تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مزید پیچیدگیوں کا سبب بنیں گی۔اس خامی پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر فرد سالانہ بنیادوں پر اپنے خون کی اسکریننگ کروائے تا کہ اسے مرض کی موجودگی سے بروقت آگاہی پا کر علاج کی مہلت مل سکے۔

ہیپاٹائٹس کے معاملے میں احتیاط کو علاج سے بہتر قرار دیتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے خصوصی پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ ملک کی تمام آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جا سکے،سالانہ 5ہزار سے زائد مریضوں کو علان کی سہولت مہیا کی جائے،انتقال خون کے لئے صحت مند خون کی موجودگی،انجکشن میں استعمال ہونے والی سرنج کے دوبارہ استعمال کو روکنے ، غیر معیاری سرنجز پر پابندی،ہائی رسک گروپس کی ویکسینیشن کی جائے گی۔تاہم پانچ برس گزرنے کے بعد بھی مذکورہ پروگرام کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں۔جب کہ عالمی سطھ پر اس وقت تائیوان ہیپاٹائٹس پر قابو پانے اور اس کی موجودگی کا تناسب کم کرنے کی عمدہ مثال رکھتا ہے۔جہاںہیپاٹائٹس بی کی موجودگی کا تناسب 20فیصد تھا لیکن موثر ویکسینیشن مہمات کے ذریعے پندرہ برسوں میںاسے ایک فیصد سے بھی کم دیا گیا ہے۔اسی حکمت عملی کو اپنا کر پاکستان میں بھی مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس کے لئے ضرورت صرف ذاتی و گروہی مفادات سے بالاتر رہتے ہوئے مرض کے خاتمے کی سنجیدہ کوششوں کی ہے۔ایسا کب تک ہو پاتا ہے ،ہم بھی دیکھتے ہیں،آپ بھی دیکھیں لیکن تبدیلی کے لئے کوشش شرط ہے۔تبھی مستقبل کے پاکستان کو صحت مند ،خوشحال اور بیماریوں سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔

Study: Psychopaths’ Brains Wired To Seek Rewards

Scientists have long known what psychopaths lack: emotions like empathy,fear and remorse. Now, a new study focuses on what they may have — a brain abnormality that may lead them to seek rewards like money, sex or fame at any cost.

Vanderbilt University graduate student Josh Buckholtz tells NPR’s Guy Raz that psychopaths have a hyperactive reward system in their brains — the same reward system that drives drug addicts to seek another dose. But first, what exactly is a psychopath?

"We can think of psychopathy as a personality disorder,” Buckholtz says. "It’s a collection of related traits.” Psychopaths are considered superficial, lacking fear, regret or empathy, he says, plus they also exhibit profoundly deviant social behavior.

"What prior research has shown is that psychopaths have changes in their brain … that are involved in generating emotional experiences,” he continues. "We think that these changes in the brain’s reward system might promote a focus on reward — on obtaining a reward.”

Buckholtz and his team used brain scans to monitor the levels of dopamine — a chemical related to motivation and pleasure — in volunteers’ brains during a variety of tests. He found that subjects who’d scored higher in psychopathic traits had correspondingly higher levels of dopamine and greater activity in areas of the brain related to seeking and enjoying rewards.

The correlation might account for the anti-social and aggressive behavior seen in psychopaths. Psychopaths may be so intent on the reward that other concerns — like causing harm or the possibility of punishment — fall by the wayside.

The study used community volunteers who took a test that measured psychopathic traits. "The people in our study might be your Machiavellian mother-in-law, your bullying boss and your conniving co-worker, but none of these people were out there committing violent crimes,” Buckholtz says. The results, however, still have relevance for diagnosed psychopaths. Turns out, there may be a little psychopath in all of us.

"Currently, it’s thought that psychopathic traits operate along a continuum,” Buckholtz says. That means you can measure a range of psychopathic traits in volunteers with no diagnosable psychiatric disorders.

And Buckholtz says that’s important, because targeting and treating psychopathic behavior can help reduce crime. "Crime is extremely expensive,” he says, "and psychopaths commit more crime than anybody else.” And unfortunately, scientists know very little about how to treat psychopathy.

"This might lead the way for future studies that target this system as a way of reducing aggression and anti-social behavior,” he says.

%d bloggers like this: