Archive for the ‘Investigative Reports’ Category

خودکشی یا حکمرانوں کے ہاتھوں قتل

….حامد الرحمن….
”دنیا میں بہت دکھ ہیں۔ یہاں کوئی بھی اپنا نہیں بنتا۔ بچوں کی بہت ساری خواہشات ہیں جنہیں پورا کرنا مشکل ہے اور مہنگائی کے اس دور میں جب ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہو تو خواہشات کیسے پوری کی جائیں! میرے پاس ان کے معصوم سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ بس ایک ہی راستہ ہے جس پر چل کر تمام مشکلات سے چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے، خدا کے لیے مجھے معاف کردیا جائے۔“
یہ ایک ماں کی آخری تحریر ہے جس نے انتہائی غربت کے سبب اپنے معصوم بچوں سمیت ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی تھی۔

یہ اپریل 2008ءکا واقعہ ہے۔ لاہور کی پسماندہ بستی ملکہ کالونی کی بشریٰ نے اپنے دو بچوں چار سالہ صائمہ اور پانچ سالہ زبیر کے ہمراہ ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔
بشریٰ اپنے محنت کش شوہر کے ہمراہ ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں رہتی تھیں۔ اس کا شوہر ویلڈنگ کی دکان پر ملازم تھا۔ روزانہ 100 روپے اجرت میں وہ 8 افراد پر مشتمل کنبہ کی کفالت کررہا تھا۔ لیکن کم آمدنی اور غربت کے باعث ان کی روزمرہ کی ضروریات بمشکل پوری ہوتی تھیں۔ جبکہ بعض اوقات بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی نہیں ہوپاتا تھا۔ بشریٰ کے شوہر کے تین بہن بھائی بہنیں ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واقعہ کے بعد متاثرہ خاندان کے لیے 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا اورساتھ ہی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے دور میں غربت کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔ انہوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں گے کہ لوگ غربت کی وجہ سے خودکشی پر مجبور نہ ہوں۔

اس واقعہ کے 6 ماہ بعد ہی نومبر 2008ءمیں کراچی میں غربت اور بدحالی سے تنگ آکر3 خواتین نے اپنے 8 لخت ِجگر ایدھی سینٹر کے حوالے کردیے۔ لیکن کیا وزیراعظم اپنا وعدہ بھول گئے؟ کیا غربت کے باعث خودکشیوں میں کمی واقع ہوئی۔ ہمیں وزیراعظم کے غربت مکاﺅ منصوبے کا تو نہیں معلوم، البتہ غریب مکاﺅ منصوبے کا ضرور معلوم ہے، کیونکہ موجودہ حکومت کے 2 سالہ اقتدار کے دوران مہنگائی میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 7ہزار سے زائد افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔ ٹھہریئے آپ کو دو تازہ واقعات بھی بتاتا چلوں جن کی خبریں یقینا آپ کی نظر سے گزری ہوں گی۔

17ستمبر 2010ءکو کراچی کے علاقہ لانڈھی مجید کالونی کے رہائشی محمد آصف نے اپنی بیوی اور 3 کم سن معصوم بچوں کا گلا دبا کر انہیں ہلاک کردیا۔ بعد ازاں خود پھندا لگاکر خودکشی کرلی۔ محمد آصف اپنی بیوہ ماں، دو بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں 7 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر ملازمت کرتا تھا۔ محمد آصف نے خودکشی سے قبل اپنے بچے کی ڈائری میں ماں کے نام خط لکھا تھا کہ وہ مہنگائی سے تنگ آکر بیوی اور بچوں سمیت خودکشی کررہا ہے۔

جام پور ضلع روجھان کے رہائشی محمد اکرم نے غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر ملتان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر خودسوزی کرلی۔ حکمرانوں کے سبب محمد آصف نے خودکشی کرکے حرام موت کی راہ اختیار کی، لیکن محمد اکرم کے اہل خانہ کے لیے وزیراعظم نے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہمارے چاروں طرف اداسی ہے۔ دکھ، درد، بھوک اور افلاس ہے۔ تنگ دستی، فاقہ کشی اور نفسانفسی ہے۔ جہاں غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ غربت و افلاس کے باعث مائیں اپنے لخت جگر بیچنے کو تیار ہیں۔ والدین بچوں سمیت اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہمارے حکمران اور دو فیصد امراءطبقہ ہے، عیش و طرب ہے، رنگینی اور خوبصورت مہنگے ملبوسات ہیں۔ پیزا، امریکی برگر اور بروسٹ کے علاوہ اور بہت کچھ کھا پی کر ناچتے ہیں۔ بوفے کلچر کے نام پر ہزاروں روپے ایک وقت کے کھانے پر صرف کردیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آدھی آبادی کو دن بھر میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔ جبکہ 2008ءمیں جاری ہونے والی عالمی فوڈ پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران مہنگائی کے باعث پاکستان کے مزید 2 کروڑ افراد خوراک کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہوئے اور 16 کروڑ کی آبادی کے ملک میں خوراک کی کمی کا شکار ان افراد کی تعداد 7 کروڑ 70 لاکھ ہے، جو گزشتہ 2 سال میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافے کے بعد 10کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور سلیم خان کے بقول: حیرت ہے ہم لوگ زندہ کیسے ہیں! کیونکہ جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں مہنگائی میں اضافہ ہی ہوا ہے، اور موجودہ حکومت تو غریب کو ختم کرکے ہی مہنگائی ختم کرے گی۔ سلیم نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتا ہے ملک ہمارے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ یہ تو شروع سے ہی چودھریوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے لیے ہے۔ چور اور لٹیرے حکمران ہیں۔ بیچارے عوام کا کیا ہے، خودکش حملوں سے بچ بھی گئے تو مہنگائی سے نہیں بچ سکتے۔

آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا
کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہوگا

مہنگائی میں اضافہ پاکستان کی روایت رہی ہے جو بے حس حکمرانوں کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث مستقل شکل اختیار کرچکی ہے۔ پہلے تو بجٹ اور رمضان کے موقع پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا جاتا تھا، لیکن اب ان دو مواقع کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ بدترین مہنگائی کے باعث عوام کے لیے روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور زندگی ان کے لیے ایک بوجھ اور عذاب بن چکی ہے۔ مہنگائی کا عفریت سب کچھ نگلنے کو تیار کھڑا ہے۔ ایسے میں عام آدمی جائے تو کہاں جائے! روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کا نعرہ لگانے والی حکومت اس وعدے کی تکمیل میں ناکام نظر آتی ہے اور حکومت کی ناقص اقتصادی کارکردگی کے باعث غریب عوام بچوں سمیت خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ”فافن“ نے ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھ سے سات افراد کے کنبے پر مشتمل خاندان انتہائی بنیادی ضروریات پر اوسطاً ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ خرچ کررہا ہے۔ آدھا خرچ صرف نو بنیادی اشیاءآٹا، چاول، آلو، پیاز، دودھ، چائے، چینی، گھی یا خوردنی تیل پر ہورہا ہے۔ جبکہ پچاس فیصد اخراجات مصالحوں، گوشت، مکان کے کرائے، صابن اور علاج معالجے پر ہوجاتے ہیں۔ اس فہرست میں کپڑے، ٹرانسپورٹ، گیس، بجلی، پانی کے بل اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آدھے کنبوں کی ماہانہ اوسط آمدنی پانچ ہزار روپے یا اس سے کم ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مزدور کی تنخواہ کم از کم چھ ہزار روپے سے بڑھا کر سات ہزار روپے کرنے کا اعلان تو کیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوسکا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں اوسطاً ماہانہ بنیادی اخراجات ساڑھے نو ہزار روپے ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔ بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں ایک کنبے کو بنیادی ضروریات پر اوسطاً ماہانہ نو ہزار تین سو روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ سندھ میں چھ سے سات افراد کے خاندان کا بنیادی ماہانہ خرچہ آٹھ ہزار روپے اور پنجاب میں سات ہزار نو سو پچاس روپے ہے۔ اس رپورٹ کے اعدادو شمار سے واضح ہے کہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت نے غریب کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔

کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرے اور انہیں عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے چند گز کپڑا میسر آسکے۔ ایسے افراد بھی ہیں جو تنگ دستی اور معاشی بدحالی کے باعث سردی ہو یا گرمی ایک ہی کرتے میں دو دو، تین تین سال گزار دیتے ہیں کیونکہ انہیں تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا تو کجا دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ایک طرف غربت کے مارے عوام کی درد ناک کہانیاں ہیں تو دوسری طرف عیش و طرب میں بدمست حکمران طبقہ…. پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے غریب ملک کے امیر نمائندوں کے اثاثوں کی مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے نمائندوں کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں اور غربت اور مہنگائی 30 گنا بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا غریب ترین رکن بھی کروڑپتی ہے۔ پلڈاٹ نے رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ وہ اثاثے ہیں جو ارکان اسمبلی نے خود الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے ہیں اور اس میں قیاس آرائی کا شائبہ نہیں ہے۔

ارکان اسمبلی کی اس فہرست میں پسماندہ علاقے کوہستان سے پیپلزپارٹی کے رکن محبوب اللہ جان امیر ترین شخص ہیں جو 3 ارب 28 کروڑ 80 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، دوسرے نمبر پر ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن شاہد خاقان عباسی ہیں جن کے پاس ایک ارب 62 کروڑ 70 لاکھ روپے ہیں، تیسرے نمبر پر مسلم لیگ فنکشنل کے جہانگیر ترین ہیں جو ایک ارب 95 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ سے ہٹ کر تو صدر آصف علی زرداری سرفہرست ہوں گے۔ وہ بیرون ملک محلات کے مالک ہیں اور نہ جانے ابھی ایسے کتنے محلات ظاہر ہونا باقی ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ صدر صاحب رکن اسمبلی نہیں ہیں۔خواتین میں مسلم لیگ (ن) کی نزہت صادق سرفہرست ہیں جو ایک ارب 51 کروڑ 40 لاکھ روپے کے اثاثوں کی مالکہ ہیں۔ ان کے بعد پشاور سے تعلق رکھنے والی پیپلزپارٹی کی رکن عاصمہ ارباب جہانگیر پانچ سو پندرہ اعشاریہ دو پانچ (515.25) ملین روپے اور بیگم بیلم حسین 298.50 ملین روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔امراءکی اس فہرست میں سب سے ”غریب رکن“ پیپلزپارٹی کے سعید اقبال چودھری بمشکل 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک رکن اسمبلی کے اثاثے ایک سال میں 42 گنا بڑھ گئے ہیں۔

پلڈاٹ کی رپورٹ اور مہنگائی، بے روزگاری کے اعداد و شمار سے ناواقف 55 سالہ عمر خان اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے محنت مزدوری کرتا ہے۔ عمر خان کراچی کی پسماندہ بستی قیوم آباد کا رہائشی ہے جو اپنی بیوی اور 9 بچوں کے ہمراہ 3 ہزار روپے ماہانہ پر 2 کمروں پر مشتمل کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ عمر خان کا کہنا ہے: ”میں کرائے پر رکشہ چلاتا ہوں جس سے روزانہ 400 سے 600 روپے کما لیتا ہوں، جس میں سے 50 فیصد رقم مالک کو دینی ہوتی ہے۔“ جب کہ عمر خان کا بڑا بیٹا 14 سال کا ہے جو ہوٹل میں محنت مزدوری کرکے روزانہ 50 سے 100 روپے کما لیتا ہے۔ عمر خان نے بتایا کہ ہمارے لیے تو آٹا اس طرح ناپید ہورہا ہے جیسے کربلا کے میدان میں پانی بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ غریب کے لیے ایک روٹی ہی تو ہے جسے کھا کر وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، لیکن اب یوں لگتا ہے ہمیں اس روٹی سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن دنوں کراچی میں ہنگامے ہوتے ہیں وہ دن ان کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، وہ قرض لے کر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور اکثر چٹنی کے ساتھ روٹی کھاکر ایک وقت کا فاقہ کرتے ہیں۔ اب پیاز اور ٹماٹر بھی 40 روپے فی کلو ہوگئے ہیں اور اب تو چٹنی کے ساتھ روٹی کھانا بھی ہماری استعداد سے باہر ہوتا جارہا ہے۔

شاہراہ فیصل کے سگنل پر چند لمحے کھڑی ہونے والی گاڑیوں کی ونڈ اسکرین پر دوڑتے بھاگتے کپڑا مارتے سمیر اور عدنان دونوں بھائی ہیں، ان کی عمریں سات سے دس سال کے درمیان ہوں گی۔ ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے جب کہ والدہ لوگوں کے کپڑے سیتی ہیں۔ یہ اپنی والدہ کے ساتھ کورنگی میں ایک کمرہ کے کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان دونوں نے بتایا کہ وہ خصوصی دنوں اور عید کے تہوار پر گوشت یا اچھا کھانا کھا لیتے ہیں، کبھی کبھار محلے والے ان کے گھر کھانا بھیج دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید پر نئے کپڑے اور نئے جوتے خریدنا ان کا بھی شوق ہے لیکن گھر کے حالات کے باعث وہ عید پر بھی نئے کپڑوں اور جوتوں سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اس ملک سے غریب ختم نہ ہوجائیں۔
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواﺅں سے تو بارود کی بو آتی ہے
ان فضاﺅں میں تو مر جائیں گے سارے بچے

ملک میں جاری دہشت گردی سے خوف زدہ بچ جانے والے عوام مہنگائی کے ہاتھوں مرجائیں گے۔اگر حکومت وسیلہحق اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کرکے یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ وسیلہ حق اور بے نظیر انکم سپوٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنا تو دور کی بات، ان کو ایک سطح پر روکنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔

وزارت ِشماریات کے جاری کردہ پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برس کے دوران ہوشربا مہنگائی کے نتیجے میں ہر شہری کی زندگی 50 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی۔ ایوریج پرائس انڈیکس کے مطابق چینی 26 روپے سے بڑھ کر 80 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے‘ آٹا ساڑھے 16 روپے سے بڑھ کر 32 روپے ہوگیا ہے‘ چائے کی پتی کا 250 گرام کا پیکٹ 65 روپے سے بڑھ کر 124 روپے کا ہوگیا ہے‘ مرغی کا گوشت 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے ہوگیا ہے‘ وغیرہ ۔ روزمرہ کے استعمال کی ہر چیز سبزیاں‘ پھل‘ بجلی اور قدرتی گیس کے نرخ‘ پٹرولیم مصنوعات یعنی ہر چیز مہنگی سے مہنگی ترین ہوگئی ہے۔ غریب، جو ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرتے ہیں‘ کے لیے بجلی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ فروری 2008ءکے 2.65 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 3.91 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔ 100یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے نرخوں میں عام صارف کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ گھریلو صارفین جو 101 سے 300 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 4.96 روپے فی یونٹ (علاوہ ٹیکس) ہے‘ جو 301 سے 700 یونٹ استعمال کرتے ہیں ان کے لیے نرخ 8.03 روپے فی یونٹ ہے، جب کہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کے لیے نرخ 10 روپے فی یونٹ (ٹیکس کے بغیر) ہے۔ کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ فروری 2008ءمیں 9.53 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) ہوا کرتے تھے، جب کہ اب یہ قیمت 14.93 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) تک جا پہنچی ہے۔ کم سے کم صارفین کے لیے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ایل پی جی کی قیمتیں 817 روپے فی سلینڈر سے بڑھ کر 1092 روپے فی سلینڈر ہوگئیں‘ یعنی قیمت میں 270 روپے فی سلینڈر اضافہ ہوا۔ پٹرول کی قیمتیں 53.83 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر موجودہ 67 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہیں۔ ڈیزل 37.86 روپے سے 69.27 فی لیٹر اور مٹی کا تیل 42 سے 85 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ وہ غریب جو ایل پی جی نہیں خرید سکتے‘ جن کے پاس قدرتی گیس نہیں ہے اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے لکڑی کی قیمت 230 روپے فی 40 کلو گرام سے بڑھ کر 302 روپے ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ گندم کی قیمت 18 روپے سے 27 روپے فی کلو ہوگئی‘ آٹے کی قیمت 16.50روپے سے 23 روپے فی کلو‘ باسمتی چاول 36 سے 100روپے فی کلو‘ ایری 26 سے 37روپے، دال مسور دھلی ہوئی 71 روپے سے 128روپے‘ دال مونگ دھلی ہوئی 51 سے 147روپے‘ دال مونگ 42 سے 137روپے‘ گائے کا گوشت 122 سے 350 روپے‘ بکرے کا گوشت 234 سے 650 روپے فی کلو‘ انڈے 62 سے 80 روپے فی درجن‘ درمیانے سائز کی ڈبل روٹی 19 سے 29 روپے‘ چینی 26 سے 80 روپے‘ گڑ 31 سے 73روپے‘ لال مرچ پاﺅڈر 133 سے 167روپے‘ تازہ دودھ 30 سے 56روپے‘ ویجیٹیبل گھی 115 روپے فی کلو‘ لہسن 44 سے 200 روپے فی کلو‘ پکانے کے تیل کا ڈھائی کلو کا ڈبہ 318 سے 375 روپے‘ آلو 11 سے 25 روپے فی کلو‘ ٹماٹر 38 روپے فی کلو سے 56 روپے فی کلو‘ پیاز 12 سے 45 روپے فی کلو‘ کیلے فی درجن 32 سے 38 روپے‘ چائے کا ایک کپ 7 روپے سے 15 روپے‘ بڑے گوشت کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 33 سے 60 روپے‘ دال کی ایک پلیٹ (پکی ہوئی) 20 سے 35 روپے ہوگئی ہے۔ جبکہ فارم کی مرغی کا نرخ 71 روپے سے بڑھ کر 220 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گیا ہے۔ 2007-08ءمیں اقتصادی ترقی کی شرح 4.1 فیصد تھی جو گرکر 3.4 فیصد (نظرثانی شدہ اندازے) ہوگئی ہے۔

یہ اعداد و شمار تو چند جھلکیاں ہیں ورنہ پرویزمشرف سے لے کر موجودہ حکومت تک کسی نے بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ محض اپنے خزانے بھرے ہیں۔پاکستان کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بقول خودکشیاں اللہ کی مرضی ہیں، اور وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ مشورہ دیتے ہیں کہ جو غریب اپنے بچوں کو پال نہیں سکتے وہ ان بچوں کو دیکھ بھال کے لیے فلاحی اداروں کو دے دیں، جب کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والی سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ شہلا رضا کا فرمانا بجا ہے، مہنگائی ختم کرنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ اگر جادو کی چھڑی نہیں ہے تو ممبران اسمبلی کے پاس وہ کون سا نسخہ آگیا ہے کہ ان کے اثاثے 6 سال میں تین گنا بڑھ گئے ہیں؟

کمر توڑمہنگائی…. سیاست دان کیا کہتے ہیں؟

مہنگائی کے ذمہ دار حکمران
لیاقت بلوچ
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے گھر کے باہر خودسوزی اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات میں شرعی پہلو تو یہ ہے کہ یہ حرام ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ خودکشی نہ کریں۔ لیکن حکمرانوں کی معاشی اور استحصالی پالیسیوں کے باعث غریب آدمی کے لیے اس دور میں زندہ رہنا انتہائی مشکل اور کٹھن ہے۔ غریب آدمی کے لیے گھر چلانا ناممکن ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام اجتماعی خودکشی پر مجبور ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہارے ملک کا پورا معاشی نظام ابتری اور افراتفری کا شکار ہے جس میں امیر‘ امیر تر اور غریب‘ غریب تر ہورہا ہے۔ عام آدمی کے لیے ہر مرحلے پر مشکلات پیدا کردی گئی ہیں اور ایک خاص طبقے کو نوازا جارہا ہے اور انہیں حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

حکمران اور معاشرہ دونوں ذمہ دار
صدیق الفاروق
مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ن)
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ خودکشی کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی اس حرام موت کا ذمہ دار ہے کیوں کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر 40 گھر پر دائیں بائیں پڑوس ہے۔ موجودہ حکومت نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ غریب آدمی کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ حکومت کی ابتر معاشی پالیسیوں کے باعث معاشی صورت ِحال انتہائی خراب ہوچکی ہے اور اچھے بھلے لوگ بھی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔
موجودہ حکومت غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے باعث صنعت کار اور سرمایہ دار بھاگ رہے ہیں۔ صنعتیں بند ہیں اور لوگوں کو روزگار میسر نہیں ہے۔ نفسانفسی ہے۔ حکومت کو عوام کی قطعاً کوئی فکر نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ کو سیاست دانوں کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی سامنے رکھ کر رپورٹ مرتب کرنی چاہیے۔

غربت پوری دنیا میں ہے
میڈیا خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے
شہلا رضا
رہنما پیپلز پارٹی /ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی
ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا کا کہنا ہے کہ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی نہیں کررہے بلکہ میڈیا ان خودکشیوں کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتی ہوں ملک میں غربت اور بے روزگاری ہے، لیکن غربت تو پوری دنیا میں ہے اور یہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے۔ امریکا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے‘ آپ یہ بھی تو دیکھیں پاکستان کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک دم سے تو غربت ختم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حکومت کی پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے۔

ماہر نفسیات کیا کہتے ہیں

مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی نے قوم کو ڈپریشن میں مبتلا کردیا
ڈاکٹر حیدر عباس رضوی
ماہر نفسیات, جامعہ کراچی
ماہر نفسیات ڈاکٹر حیدر عباس رضوی کہتے ہیں کہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی اور مالی بدحالی نے قوم کو ڈپریشن اور فرسٹریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن دو صورت میں ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے اپنے اندر اتار لیتے ہیں اور کسی سے شیئر نہیں کرتے، جب کہ کچھ لوگ اسے غصہ کی صورت میں باہر نکال دیتے ہیں تو ایگریشن ظاہر کرتے ہیں۔ اداسی اور غصہ دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اداس لوگ دوسروں کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں اورکچھ لوگ خود اذیت پسند ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو نہیں مار سکتے بلکہ اپنے آپ کو مار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تکلیفیں مشترک ہوتی ہیں، کوئی انہیں سہہ لیتا ہے تو کوئی برداشت نہیں کرپاتا۔ وہ کسی نے کہا تھا کہ:
دکھ سب کے مشترک ہیں مگر حوصلے جدا
کوئی بکھر گیا تو کوئی مسکرا دیا
ہم نے نوجوانوں سے مثبت سرگرمیاں چھین لی ہیں۔ ہم نے بیس سال قبل جو بویا آج اُسے کاٹ رہے ہیں۔ ہم آج بھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے اپنی اقدار و روایات کو کھو دیا ہے۔ میں نے پہلے بھی تجویز دی تھی اور اب بھی آپ کے اس میگزین کے توسط سے حکومت‘ موبائل کمپنیوں اور اہلِ ثروت افراد سے درخواست ہے کہ ایک ہیلپ لائن سروس شروع کی جائے جہاں سائیکالوجسٹ لوگوں کو مفت رہنمائی فراہم کریں، کیوں کہ ڈاکٹر کی فیس 600 سے 800 روپے ہے اور ادویات مہنگی ہیں۔

مہنگائی اور خودکشی…. علمائے دین کی رائے
غربت کے باعث خودکشی کرنے کا وبال حکمرانوں پر بھی آئے گا
مفتی منیب الرحمن
صدر تنظیم المدارس پاکستان /مرکزی چیئرمین رویت ہلال کمیٹی
خودکشی حرام موت ہے اور اپنے ساتھ 4 دیگر افراد کو قتل کردینا ایک سنگین جرم بھی ہے۔ لیکن میڈیا ایسے واقعات اس طرح پیش کرتا ہے جیسے یہ بہادری کا کام ہو۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ لوگوں میں شعور بیدار ہو۔کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کا اہتمام کرے۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکام ہے اور بھوک کی وجہ سے خودکشیوں اور بچوں کو فروخت کرنے کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں تو یہ حکمرانوں کے لیے بھی وبال ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ خودکشی کرلینا کم ہمتی اور بزدلی کی علامت ہے۔ اگر آپ حالات کی ابتری کا شکار ہیں تو اس کا علاج خودکشی نہیں ہے۔ مہنگائی کا عفریت لوگوں کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی کشید کرنا چاہتا ہے، ایسے میں پسے ہوئے طبقات اور مہنگائی کے ستائے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ناصرف ایسے حالات کا بلند عزائم کے ساتھ مقابلہ کریں بلکہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ عوام کی خودکشیوں سے نظام نہیں بدلے گا۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں تو انہیں اس ظالمانہ نظام کے خلاف میدان عمل میں آنا ہوگا اور متحد و منظم ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔

گردوپیش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی ان خودکشیوں کا ذمہ دار ہے اور اس کی بازپرس ریاست اور پڑوسی دونوں سے ہوگی۔ اگر ریاست عوام کو تحفظ دینے اور جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوجائے تو حکومت کا آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ وہ قائم رہے۔

ریاست اور معاشرہ دونوں ذمہ دار ہیں
مفتی محمد نعیم
مہتمم جامعہ عالمیہ بنوریہ
خودکشی کے ان واقعات کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور کسی حد تک پڑوسی بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں اور ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے روزگاری اور قتل و غارت گری عام ہے۔ لیکن حکمران اپنی عیاشیوں میں بدمست ہیں اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ مزید اقتدار میں رہے۔ اسلامی ریاست کے حکمرانوں کے لیے حضرت عمرؓ مثال ہیں۔

خودکشی حرام ہے…. ذمہ داری اسباب پیدا کرنے والی ریاست پر عائد ہوتی ہے
مولانا عطاءاللہ
ریسرچ اسکالر، عالم دین
خودکشی حرام موت ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عام ضرورت کی اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر اور دالیں آپ بازار سے خریدیں، اندازہ ہوجائے گا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ غریب چٹنی پیاز سے روٹی کھا لے گا، لیکن اب تو پیاز سے روٹی کھانا بھی ممکن نہیں، بلکہ آٹا مہنگا ہونے کے باعث روٹی ہی میسر نہیں۔ حضرت عمرؓ ایک بار مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تو دیکھا وہاں صحرا میں ایک بوڑھی عورت اپنی بکریوں کے ہمراہ موجود ہے اور کھانے کے لیے کچھ نہیں، تو حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ تُو نے خلیفہ وقت تک اپنے حالات پہنچائے؟ بوڑھی عورت بولی: یہ میری ذمہ داری نہیں، اگر خلیفہ وقت کو اپنی رعایا کے حالات کا علم نہیں تو اسے کوئی ضرورت نہیں کہ وہ خلیفہ رہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم ٹھیک کہتی ہو۔ اور اس بوڑھی عورت کو بیت المال سے امداد پہنچائی جس پر اس بدو بوڑھی عورت نے دعا دی کہ اللہ تجھے خلیفہ بنادے۔ اس مثال میں ہمارے حکمرانوں کے لیے سبق پوشیدہ ہے، لیکن بدقسمتی سے حکمران تو امریکا کی طرف دیکھتے ہیں اور وہیں ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

مہنگائی…. ماہرین معاشیات کیا کہتے ہیں
موجودہ حکومت کے ڈھائی برس بدترین معاشی دور ہے
آئی ایم ایف نے زرداری سے مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار
ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا، اس میں یہ درج تھا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں گی جن سے مہنگائی میں کمی ہو۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آتے ہی پہلے بجٹ میں جنرل سیلزٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 16 فیصد کردیا۔ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے براہِ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ 2 سال میں بجلی کی قیمت میں 64 فیصد اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 100 فیصد اضافہ کیا جبکہ روپے کی قدر میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ان ڈھائی برسوں میں قرضوں کا بوجھ 3 ہزار 200 ارب بڑھ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے صدارت کے 17 دن بعد یعنی 26 ستمبر 2008ءکو فرینڈز آف پاکستان سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اُس وقت برطانوی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ نہیں بلکہ سودا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں امریکا ہمارا تکنیکی پارٹنر ہوگا اور اس کے بدلے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان توڑنے کی سازش ہے اور ہم اس میں امریکا کی مدد کررہے ہیں۔

شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ ڈھائی برس کے دوران معیشت کو 26 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پرویزمشرف کے 7 سالہ اقتدار کے دوران معیشت کو 23 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، اور اس طرح 10 سال کے دوران معیشت کو 49 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ موجودہ حکومت کے ڈھائی سالہ اقتدار کے دوران 26 ارب ڈالر سے معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے 13.3 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی جس میں سے 8.7 ارب ڈالر حکومت کو مل گئے ہیں۔ اب آپ یہ دیکھیے کہ 1947ءسے لے کر 2008 تک 61 برس بنتے ہیں اور اس دوران امریکا نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر قرض دیا، جب کہ ان 2 سال میں 8.7 ارب ڈالر ملے۔ قرض کی شرائط میں لکھا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر شرح سود بڑھائیں، روپے کی قدر گرائیں اور مہنگائی میں اضافہ کریں۔ ایسی شرائط کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو سست ہوئی اور اس طرح امریکا نے آئی ایم ایف کے تعاون سے زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کردیا جس کی وجہ سے اشیاءصرف کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ایک کروڑ مزید افراد غذائی قلت کا شکار ہوگئے ہیں، یعنی 9 کروڑ افراد ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوتی، اور اب پاکستان کو غریب کے بجائے بھوکا ملک قرار دیا جارہا ہے۔ اس عرصہ کے دوران ملک میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور پاکستان میں 13 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی اجازت ہے جب کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث سرمایہ کاری کا حجم گر گیا اور قرضوں کا حجم بڑھ گیا ہے جس کی شرائط پر صنعت کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ صنعتیں بند اور سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے بتایا کہ 30 جون 2010ءکو ختم ہونے والے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولی ملکی پیداوار کے تناسب سے 42 سال میں سب سے کم رہی ہے۔ جب کہ 2 برسوں میں معیشت کی سرح اوسطاً سالانہ 2.6 فیصد رہی ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومت کے یہ ڈھائی برس معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے بدترین دور ہے جس میں سب سے زیادہ کم آمدنی والے افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اور اب حکومت نے سیلاب کی آڑ میں جو نئے ٹیکس لگائے ہیں اس سے مہنگائی کا ایک اور طوفان امڈ آیا ہے۔ معیشت کی شرح نمو مزید سست ہوگئی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اگر حکومت پر دباﺅ نہ ڈالا گیا تو ظلم، ناانصافی، استحصالی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی ہوگی اور عام سڑکوں پر آئیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک بار پھر ناکام مملکت قرار دیا جائے گا۔

موجودہ حکومت کے دور میں بھی طاقتور اور مالدار طبقوں کے بینکوں سے قرض معاف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ، اور قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اور اپنے قرض معاف کرائے ہیں۔ اب اگر قومی اسمبلی کی 2 مقتدر شخصیات بھی قرض معاف کرائیں گی تو اس ملک میں دوسرے طاقتور لوگ جنہوں نے قرض معاف کرائے ہیں ان سے کیونکر کہا جائے گا کہ قرض واپس کریں! پچھلے دو برس میں 200 ارب روپے سے زائد کا قرض معاف کیا گیا، اور قرضوں کا ایک بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر29 پندرہ اکتوبر 2002ءکے تحت معاف کیا گیا جو ڈاکٹر عشرت حسین کے دور میں جاری کیے گئے تھے۔ یہ سرکلر دستور پاکستان اور پارٹنرشپ ایکٹ کے منافی ہے اور اسٹیٹ بینک کو یہ سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ اسے غیر قانونی قرار دینے کے لیے میں نے فیڈرل شریعت کورٹ میں 2008ءمیں ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔ وہ اس سرکلر کو جانچیں گے کہ یہ دستور پاکستان کے خلاف ہے یا نہیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سرکلر کے بارے میں کہا تھا کہ اس سے زیادہ غیر اخلاقی حرکت کوئی نہیں۔

Advertisements

اسرائیل ان پاکستان

تحریر:شاہد عباسی

Israel in Pakistanخون کی قیمت پرمحبت کے زمزمے بہانے کی ایک نئی کوشش

”جب تک اسرائیل اور پاکستان کے درمیان معمول کے ڈپلومیٹک تعلقات پیدا نہیں ہو جاتے ۔یہ آن لائن ایمبیسی اسرائیل اورپاکستان کی اقوام کے درمیان دوستی بڑھانے کا کام کرے گی۔امید ہے کہ ہم جلد ہی پاکستان اور اسرائیل میں حقیقی سفارت خانے قائم کر لیں گے،شالوم“یہ الفاظ مستقبل میںکیا منظر تشکیل دیں دے،شاید اس کے متعلق اس وقت کوئی اندازہ لگانا قنبل ازوقت ہو،لیکن جو بات طے ہے وہ یہ کہ ان لفظوں کا خالق یا اس پس پشت سرگرم گروہ آئندہ کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی رکھتا ہے۔

زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے ہر لمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے خواہاں بھارت سے دیرینہ دشمنی کی پینگیں بڑھانا اب گویا حکمرانوں اورمخصوص طبقات کا شوق سا بن گیا ہے۔لیکن یہ معاملات کبھی بھی مصنوعیت سے آگے بڑھ کر عوامی پزیرائی حاصل نہ کر پائے تھے۔متعلقہ اداروں،تنظیموں اورافراد کی جانب سے ان فالتو کی مشقوں کا خاطر خواہ نوٹس نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب معاملہ پاک،بھارت نہیں بلکہ پاک اسرائیل دوستی تک جا پہنچا ہے۔اس کے لئے مشرف دور کی طرح حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے ایک خالصتا عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہراس گروپ کو سپورٹ کی جائے یا ان کے عشق میں مبتلا رہا جائے جو ملک کی اساس کا مخالف ہو،یہ پاکستانی عوام نے تو نہیں تا ہم حکمرانوں نے اپنا نصب العین بنائے رکھاہے۔باوجودیکہ اس پالیسی نے آج تک ملک کو کوئی فائدہ نہیں دیا،ارباب اختیار اسے ہی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔1965ءمیںعین حالت جنگ میں امریکہ کی بے وفائی سامنے ہونے کے باوجود ہر ہر قدم پر اپنے دیرینہ دوست چین کو مایوس کیا گیا،دنیا کے دوتہائی وسائل کے مالک مسلم ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے روس،فرانس وغیرہ کی صورت بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔حتی کہ ایڈہاک ازم پر مبنی ا س پالیسی نے یہ دن دکھا دئے کہ سینکڑوں میل طویل مغربی سرحدی پٹی جس پر کبھی ایک سپاہی کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کا ٹھکانہ بنا دی گئی۔


حالیہ واقعہ جو ایسے ہی اقدامات کا تسلسل ہے میں اسرائیل کو پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے انٹرنیٹ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وہ اسرائیل جس نے بلوچستان کی شورش ہویامشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دلگداز سانحہ،مقبوضہ کمشیر میں بھارت کی کھلے چھپے امداد کر کے تحریک آزادی کو سبوتاژکرنے کا معاملہ ہو یاافغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش،ہر موقع پر دامے،درمے،سخنے آگے بڑھ کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بنائے گئے صفحہ کا نام”Israel in Pakistan“رکھا گیا ہے۔اس پر کچھ شرکاءنے اعتراض بھی کیا کہ اسے تبدیل کر کے ”Israel and Pakistan“رکھا جائے تا ہم منتظمین نے ضعیفی کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔مذکورہ صفحہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے عالمی توسیع کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں وہ (خام بدہن)اپنی سرحدوں کو اس حد تک پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمان کے بھی مقدس ترین مقامات ”مکہ ومدینہ“کو بھی اپنے اندر سمو لے۔

اسی نام سے ملتے جلتے صفحات ”اسرائیل ان یورپ،امریکا،ایشیا،یو این،افریقہ“کے لئے بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر چہ ان صفحات کو بنانے والوں نے خود ”اسرائیلی سفارت خانوں“سے تعبیر کیا ہے ۔تاہم سفارت کاری ہے کیا،ایک مثال اس کی بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔مذکورہ بالا صفھات میں سے اکثر پر رجسٹرڈ ہونے کے ناطے ممکنہ طور پر ان کے منتظمین میں سے ایک یا کم از کم ان کی ایماءپر ایک اسرائیلی بل بزلی ہرزہ سرائی کرتا ہے”تم (مسلمان)ذہنی طور پر پسماندہ ہو،محمد(ﷺ،نعوذباللہ)ایک صحرائی لٹیرے تھے،جس نے نہ کبھی لکھا نہ پڑھا،(قرآن کے متعلق لکھتاہے)اس کی یہودی بیوی صفیہ بنت حیان کے لئے لکحا کرتی تحی جسے وہ ایک یہودی قبیلے سے سترہ برس کی عمر میں اغواءکر کے لے آئے تھے(اگر چہ مزکورہ بالاجملے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے تا ہم اس کے بعد کی کچھ سطریں معاذاللہ رحمت للعالمینﷺ پر انتہائی گھناﺅنے الزامات پر مشتمل ہونے کے سبب نقل کرنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔حذف کر دئے گئے جملوں کے بعدآگے کی عبارت ہے)تم مسلمان اس لئے اندھیروں میں زندہ ہو کے تم ایک ایسے ان پڑھ کی پیروی کرتے ہو جو خدا کی جانب سے اس وقت رہنمائی ملنے کا دعوی کرتاتھا جب سب سو رہے ہوتے تھے“

Israels effort to friendship with PAkistan and muslim countries .but on wich cost

پاکستان اور مسلم ممالک سے اسرائیلی تعلقات کے قیم کی کوشش مگر کس قیمت پر

راقم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ”جے ٹی اے“نامی نیوز سے وابستہ ادارہ اس امیج بلڈنگ مہم کو چلانے پر مامور کیا گیا ہے۔نیویارک کے مشہور زمانہ سیونتھ ایونیوپر واقع صدر دفتر کے ساتھ مذکورہ ادارہ واشنگٹن ڈی سی کے ورمونٹ ایونیو پر بھی اعلانیہ دفتر رکھتا ہے ،جب کہ دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹرز اورنمائندوں کے نام پر اپنا خفیہ اوراعلانیہ نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔یہودیوں کے لئے عالمی نیوزسروس کی ٹیگ لائن رکھنے والے اس ادارے کے نمائندے یروشلم،ماسکوسمیت دنیا کے درجنوں بڑے شہروں میں موجود ہیں۔دنیا بھر کے 100سے زائد نمایاں اداروں یہودی اشاعتی اداروں کو اس کی نیوزسروس مہیا کی جاتی ہے۔اگر چہ جے ٹی اے اپنے آپ کو ایک Not for Profitادارے کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم وہ اپنی آمدن کے متعلق کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ماسوائے ورلڈزوئینسٹ آرگنائزیشن اور اس جیسے کچھ خالصت ایہودی اداروں کو اپنا فنڈنگ سورس ظاہر کرنے کے تاہم یہ اکلوتا ادارہ نہیں جو اس مہم کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔

اسرائیل ان پاکستان نامی گروپ کے موثر ہونے کا اندازہ ان کے ایک پوسٹ پر دئے گئے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایڈمن ایک ممبر کے پاکستانی ہو کر اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے”چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رکھا اس لئے آپ اپنے قریبی سفارت خانے(دہلی،بھارت)سے رابطہ کریں انیں درخواست دیں وہ ویزہ جاری کر دیں گے“

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جو کام حکومتوں حتی کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں سے نہ ہو سکا وہ اب نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی یہ کوشش حسب سابق انسانی حقوق اوربرابری کے نام نہاد نعروں کے گرد رہ کر کی جا رہی ہے تا ہم ایسا کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نام نہاد”ہولوکاسٹ“کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے،بچوں کو تہہ تیغ،عورتوں کی عزت لوٹنے اورمسلم بزرگوں حتہ کہ معذوروں تک کو زندہ رہنے کا حق نہ دینے والا اسرائیل اچانک سے انسانی حقوق کا اتنا بڑا علمبردار کیسے بن گیا۔

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

Children for Sale: Trafficking by Foreign Embassies

Report: Tariq Habib

Solid evidences have revealed that foreign embassies in Pakistan are involved in illegal child trafficking. NGOs sponsored and supported by foreign embassies are adopting new born Pakistani Muslim children and sending them abroad, whereas local welfare organizations are also involved in the crime. According to Pakistan’s law, non-Muslims cannot adopt Muslims.

However, reality speaks differently. A foreign couple employed in a foreign embassy holding Passport No. 19124346 and 19124345 adopted a 6 month old child Zara Bilquis from a renowned welfare organization. The welfare organization permitted that the child can be migrated to another country after adoption.


However, serious mismatching of facts was revealed when the documents where reviewed in detail. The documents state that the child was adopted by the couple on August 21, 2009, whereas, birth certificate of the child K00680496 was prepared a month earlier on July 27, 2009 and the name of couple was already mentioned as parents instead of original parents.

An important source relating to the case told The Eastern Tribune that in the last two decades, more than 40,000 Muslim children have been smuggled from Pakistan. The source claimed that these children are converted to Christianity and can be used against the interest of Pakistan. Several incidents of child trafficking by foreign NGOs were also reported right after the 2005 earthquake in the northern areas of Pakistan. “These NGOs take advantage of the IR-4 visa classification of the United States,” the source claimed.

The IR-4 visa classification signifies that the orphan will be adopted by the petitioner after being admitted to the United States.  In order to issue an IR-4 visa, the consular officer must be satisfied that the petitioner both intends to adopt the beneficiary in the U.S. and is legally able to do so.  The petitioner must have secured permanent legal custody of the orphan under the laws of the orphan’s home country.  That custody must be sufficient to allow the child to be taken from the country and adopted abroad.  In addition, the petitioner must have fulfilled any applicable pre-adoption requirements of their home state.

However, none of the requirements were followed when these foreign NGOs adopted new born children in Pakistan and smuggled them abroad. Sources also revealed that the Government of Pakistan does not even have correct facts and figures regarding the adopted children by foreign NGOs, leave aside the violation of Pakistani and international law.

عائشہ،ٹائم میگزین اورنئی صف بندی

تحریر:شاہد عباسی

"وہ بہت سی دیگر راتوں کی طرح ایک تاریک رات تھی ،حالات کی خرابی اور آدھی رات گزر جانے کے باعث پوراگائوں سوچکا تا  لیکن ارژگان صوبے کی اس بستی کے ایک گھر میں ابھی تک روشنی نظر آ رہی تھی۔اہلخانہ کے جذبات دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ غصے میں ہیں یا جھنجھلاہٹ کے مارے ان کی یہ حالت غیرہو رہی ہے۔یہ کیفیت خاصی دیر سےبرقرار تھی کہ اچانک دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز آئی ،جس نے سب کو مزید پریشان کر دیا مگر کوئی گنجائش نہ پاتے ہوئے اہلخانہ کی جانب سے دروازہ کھولا گیا توآنے والوںنے حکم جاری کیا "عائشہ”کے سسرالی اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر آئے ہیں۔اسے بلایا جائے،یہ اعلان نشر کر کے انتظار کرنے کے بجائے بے وقت آنے والے اس وفد کے سربراہ نے وہاں کھڑے کھڑے اپنا فیصلہ سنایاکہ "عائشہ اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر آئی ہے ،اس کا یہ اقدام قابل سزا ہے لہذااسے سامنے لایا جائے”۔یہ کہہ کر وہ گھر کے اندرداخل ہوئے ،عائشہ کو دبوچا اور اس حالت میں کہ اس کے بازو اسی کے دیور نے پکڑ رکھے تھے،منصف کی موجودگی میںاس کے شوہر نے پہلے کان اور پھر اس کی ناک کان ڈالی۔اس گھنائونی کارروائی میں ملوث افراد کے گروہ کی قیادت کرنے والے منصف کو مقامی طالبان لیڈر کے طور پر شناخت کیا گیا۔”


گزشتہ برس کی جانے والی یہ مبینہ کارروائی امریکی جریدہ ٹائم کی نو اگست کی اشاعت میں شائع ہونے والے شمارے کی کور اسٹوری ہے جس کے ساتھ [عائشہ]نامی ایک لڑکی کی تصویر بھی دی گئی ہے۔ٹائم کے رائٹر آریان بیکرکے بقول [عائشہ]اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر بوجوہ اپنے والدین کے پاس آ گئی تیہ لیکن اسے وہآں بھی امن سے رہنے نہیں دیاگیا ۔اسٹوری کی ہائی لائٹس کے ساتھ ہی ٹائم کے مینیجنگ ایڈیٹررچرڈ اسٹینگلز کا قارئین کے نام یہ پیغام موجود ہے کہ ‘یہ واقعہ دس برس قبل طالبان کے دور حکومت میں پیش نہیں آیا بلکہ ایک برس قبل پیش آیا ہے’،ظلم کا شکار عائشہ ان کے بقول اس وقت کابل کے ایک خفیہ خواتین مرکز میں رہائش پزیرہے’۔

رچرڈنے اتنا لکھنے کے بعد براہ راست کرزئی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘گزشتہ مہینے ہی مصالحتی کونسل بنانے اورطالبان سے مفاہمت کے لئے نئے سرے سے تیاریاں کرنے والی کرزئی انتظامیہ کو یہ بات یاد کیوں نہیہں رہتی کہ

What Happens If We Leave Afghanistan’

اور یہی جملہ "عائشہ "نامی نوجوان لڑکی کی تصویرکے ہمراہ آئندہ ہفتے[8اگست کو]شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے سرورق کی زینت بھی بنایا گیا ہے۔” مصنف کو یہ شکایت بھی ہے کہ”اگر امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں افغانستان سے نکلنے کے لئے پلنے والے منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہاں سے فوج کو واپس بلا لیا جاتا ہے تو افغان خواتین سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔ان میں سے بدکاری میں ملوث عورتوں کو پھر سنگسار کیاجائے گااوربغیر پردہ کے باہر نکلنے والیوں کو پردہ کی پابندی کروائی جائے گی”۔

عائشہ کے ساتھ بیتنے والا واقعہ اگر سچا ہے اور اس میں سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو جیسا کوئی پھندا موجود نہیں تو یقینا یہ ایک گھنائونا کام ہے،خواہ سے انجام دینے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو۔لیکن ٹائم جیسے میگزین کی جانب سے جسے مشہور زمانہ صیہونی ملکیتی ادارے سی این این کی پشت پناہی بھی حاصل ہےموجود وقت میں یہ اسٹوری سامنے لانا اور اس انداز میں واضح پیغام دینا کچھ اور ہی جتلا رہا ہے۔

مغربی میڈیا باالخصوص بلاگز اور ویب سائٹس پربرملا یہ تبصرے کئے جا رہے ہیں کہ ٹائم نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے منصوبے اور طالبان سے مفاہمت کے متعلق جاری بحث کو منطقی انجام تک پنچا دیا ہے۔جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ کو طالبان سے مذاکرات اور افغانستان سے فوج نکالنے کی "حماقت”کرنے کے بجائے پہلے سے ذیادہ سنگین قدم اٹھانا چاہئے۔

معاملہ محض ٹائم کی اسٹوری تک رہتا تو شایداتنا گھمبیر نہ ہوتا مگرچند روز قبل وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے خفیہ کاغذات،دو روز قبل پوسٹ کی گئی پراسرار انشورنس فائل اور اس تمام واقعے میں پاکستان اور خاص طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کرنا اس امر کی نا ندہی کرتا ہے کہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں جسے عورتوں کے حقوق کی حفاظت قرار دے کر ہضم کر لیا جائے[اگر یہ حقیقت میں عورت کے حق کی حفاظت ہوتی تو بھی گورا ہو سکتا تھا،لیکن یہ ہاتھی دانت دکھ رہے ہیں،جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں]۔

برطانیہ کی جانب سے حال ہی میںمسئلہ کشمیر کو اپنا پیدا کردہ مسئلہ تسلیم کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے بھارت کی زبان بولتے ہوئے افغان حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا،دہشت گردی کو ہماری ریاستی پالیسی قرار دے کر امورٹ بند کرنے کا مشورہ،چند ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور خصوصی ایلچی رچرڈ ہارلبروک کی موجودگی میں بھارت کو تجارتی راہداری مہیا کرنے کا ہنگامی معاہدہ کروانا،امریکہ کی جانب سے بھارت کو نیو کلئیر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے چھ معاہدے ایک ہی روز طے پانا،تمام تر احتجاج کے باوجود آئی ایس آئی کے اعلی سطحی وفد کی جانب سےڈیوڈکیمرون کے روئے پر برطانیہ جانے سے انکارمگر صدرمملکت کی جانب سے اقرار،جولائی کے مہینے میں افغانستان میںبڑھتی مزاحمت کے نتیجے میں66امریکی فوجیوں کی ہلاکت،شمالی علاقوں میں اچانک بڑھ جانے والے ڈرون حملوں ،اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے متعلق امریکی حکام کے بیانات،بلوچستان کی شورش میں اضافے،قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے پیدا ہونے والے ردعمل کو پاکستان کی ایٹمی قوت عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی دھمکی قرار دینے،اوباما کی جانب سے الیکشن میں افغان جنگ ختم کرنے کے وعدے سے لے کر سترہ ہزار اور بائیس ہزار مزید فوجی یہاں بھیجنے کے اعلان کے بعد اس جنگ کو اوباما کی جنگ قرار دینے کی قلابازی،کینیڈا کے افغانستان میں سابق سفیر اور اقوام متدرہ مشن کے ڈپٹی کرس الیگزینڈر کی جانب سے جنرل کیانی کی سربراہی میں پاکتاینی فوج کو بلوچستان کی شورش پر قابو پانے،انڈیا کو افغانستان سے نکالنے اور قبائیلیوں کو رام کرنے کے لئے گوریلا جنگجوئوں کی حمایت اورانہیں اسپانسر کرنے کے پرانے دعوے کے ازسرنو دہرائے جانے،فروری میں ملابرادر وغیرہ کی گرفتاری کو ان کے امریکہ کی جانب جھکائو اور پاکستانی فوج کے اثر سے آذاد ہو جانے سے تعبیر کرنے،بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی ایماء پر آپریشن سے پاکستان فوج کے انکارکو امارت اسلامی افغانستان کا بچائو قرار دینے،اور ان تمام واقعات کے نتیجے کے طور پر اتحادیوں کی جانب سے "سنجیدہ کارروائی”کا مطالبہ اپنے اندر اتنی کچھ معنویت ضرور رکھتا ہے جو سرسری نظر ڈالنے والے کو بھی بہت کچھ سمجھا جائے۔


ٹائم میگزین کی جانب سے اٹھارہ سالہ عائشہ کو اپنے سرورق کی زینت بنانا اور اس پر بیتنے والے المیہ لمحات کا ذکر افسوسناک ہی نہیں اپنے اندر بہت سارے سوال بھی رکھتا ہے۔جن کا جواب آج نہیں تو کل ان سب کو دینا ہو گا جو اپنے اپنے مفاد کے لئے ایک کام کو جائزیانارروا قرار دیتے ہیں مگر جب اس سے ان کے کسی مخالف کو فائدہ پہنچے تو اسے یکلخت حرام یاپھرقابل قبول قرار دے ڈالتے ہیں۔اور اس سارے مرحلے میں دلچسپ ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ہر لمحہ دو انتہائوں پررہنے والے انتہاپسندی کاالزام بھی اپنے مخالفین یعنی مسلمانوں پر لگاتے ہیں

عورت ہی نہیںدنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والی کوئی بھی ذی روح مخلوق یقینا اس لائق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے،ادب واحترام روا رکھا جائے،جسمانی تشدد دور کی بات اس کے متعلق نازیبا کلمات تک کہنے سے قبل ہی اپنی زبانوں اور سوچوں پر پہرے بٹھالئے جائیں۔ خرابی پید اہو جانے کے بعد مرض کی روک تھام کے نام پر خرابہ پیدا کرنے کے بجائے تعلقات پہلے ہی فطری حدوں میں رکھے جائیں۔لیکن نہ جانے کیوں یہاں آ کر ذہن امریکی پالیسی سازوں کی منطق پر حیران ہوتا ہے جو میڈیا کے زور پر مہم چلا کر "عائشہ”کے نام پر افغانستان میں جاری بونا اپارٹازم[سفاکیت کے لئے استعمال ہونے والی مغربی اصطلاح} کو تو جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر اسی کی ہم مذہب”عافیہ”کے ساتھ خود اس سے بھی ذیادہ "سلوک” روا رکھتے ہیں۔ افغانستان میں مبینہ طالبان کی جانب سے کئے گئے”کارنامے”کی نشاندہی تو ٹائم نے کردی،جس کی تردید یا تائید میںفریق مخالف کی کوئی رائے موجو دہی نہیں جو ان پر فرد جرم عائد کر سکے۔مگر سب کے سامنے کئے گئے اس کارنامے کے متعلق کیا کہاجائے جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ سے اغواء کے بعد،بگرام ائیر بیس،قندھار جیل،امریکی عدالت اورزنداںنمانفسیاتی مرکز میں عافیہ پر روا رکھا گیا،وہ جرم پس پردہ سہی مگر یہ تو سردیوارہوا ہے ۔

اس پر کیا ٹائم اپنے آقائوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ جب تک امریکی عدالتوں سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی،عام امریکی نفسیاتی امراض سے جان نہیں چھڑاتا،ملک پر عائد قرض،لاقانونیت،ہر بارہویں منٹ میں ہونے والی ڈکیتی،ہر نصف گھنٹے  میں لٹنے والی کسی عورت کی عزت،بغیر شادی کے ماں بننے والی18برس سے کم عمر لڑکیو ں کا تناسب کم نہیں ہو جاتا ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔یقینا ایسا ہونا مشکل ہے تا ہم پھر بھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سب کو نظر آنے والی وہ تصویر جس میں امریکا خود مجرم نظر آتا ہے جب تک دھندلاہٹ سے پاک نہیں کر لی جاتی اس تصویر کے کسی ایک رنگ کی موجودگی پر دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بعید نہیں کہ عالمی اداروں اور امریکی تھنک ٹینکس کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق امریکی معاشرے میں پنپنے والے قبیح جرائم پر جس روز وہاں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دنیا کے تمام ممالک کی عوام اپنے لئے انصاف ڈھونڈنے کو خود ہی اٹھ کھڑے ہوں۔

یا پھراسے روسی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار اورماسکو کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ماہر کی پیشنگوئی کے مطابق آئندہ برس امریکے کے ٹکڑے ہونے سے تعبیر کر کے خاموشی سے دیکھا جاتا رہے۔

معاملہ جس کروٹ بھی بیٹھےکے یہ طے ہے کہ فیصلہ کرنا ہی ہو گا ،ورنہ آج اگر اسے ٹالا گیا تو کل شاید یہ زبردستی کرنا پڑے ،مگر اس وقت اختیار نہیں مجبوری سے کیا جائے گا۔فیصلہ اب ان کے ہاتھوں میں ہے،اختیار یا مجبوری۔۔۔۔؟؟؟

افغانستان اور امریکہ۔۔۔۔۔۔۔اب بھی کچھ باقی ہے۔۔۔؟؟؟

معروف جریدے ٹائم نے اپنی حالیہ اشاعت میں سرورق پر ایک نوجوان لڑکی کی تصویر دی ہے جس کی ناک کٹی ہوئی دکھائی گئی ہے ۔اس تصویر کے ساتھ موجود کوراسٹوری کی سرخی میں یہ جملہ درج ہے

What Happens If We Leave Afghanistan

گویا ٹائم ،امریکی حکومت کی زبان بولتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر امریکی اور ان کی قیادت میں موجود چالیس ممالک کی فوج وہاں سے چلی گئی تو ایس اہی دوبارہ ہو گا۔

Title of Time Magazine

کور اسٹوری کے مندرجات بھی انہی خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔یقینا  پیشہ وارانہ لحاظ سے ایسی تصویر دینا جو موضوع کی صحیح صحیح ترجمانی کرے لائق تحسین اقدام ہے،مگر اس وقت تک جب یہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنے کے بجائے سچ کے اظہار کا سبب بنے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی سربراہی میں گزشتہ دس برسوں سے افغانستان میں موجود افواج نے جس بڑے پیمانے پر شہری ودیہی آبادی کا قتل عام کیا ہے اس نے ہلاکو اور چنگیز خان کی روحوں تک کو شرما دیا ہے۔یودیوں نے ہٹلر سے جتنا ظلم منسوب کر رکھا ہے وہ بھی مات کھا گیا ہو گا۔جولائی کے مہینے میں66سے زائد امریکی فوجیوں کی افغانستان میں ہلاکت اس بات کی نشاندہی ہے کہ تمام تر جاہ و جلال ،قوت کے استعمال،تشددمدھوکہ دہی کے باوجود اگر ردعمل اتنا شدید ہے  تو اس کے پس پردہ کوئی عمل تو کارفرما ہو گا۔

ان حقائق کے تناظر میں جریدہ ٹائم کے تخلیق کاروں سے تھوڑی سی معذرت کے ساتھ ، تصویر کے ساتھ اصل کیپشن یوں ہونا چاہئے

What Still Happened Despite 10 Years of Occupying Afghanistan

اس تبدیل شدہ کیپشن کے ساتھ یہ تصویر منظر کی کچھ صحیح عکاسی کرتی محسوس ہوتی ہے۔ملاحظہ فرمائیں

کراچی پھر جل اٹھا،ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کے قتل کے بعد شدید ہنگامہ آرائی

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی رضاحیدر کو ان کے گن مین سمیت قتل کئے جانے کے بعد ہنگامہ آرائی میں15سے زائد افراد قتل اور 35زخمی ہو گئے۔دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ رضا حیدر اپنے گن مین خالد خان کے ساتھ اپنی ایک عزیزہ کے جنازے میں شرکت کے لیے ناظم آباد نمبر دو میں واقع جامع مسجد پہنچے تھے ،جہاں نماز جنازہ سے قبل وہ وضو کے لیے مسجد کے وضو خانے میں گئے اور اسی دوران حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی ۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے رضا حیدر مسجد میں اندر کی جانب بھاگے لیکن حملہ آوروں نے انہیں مہلت نہیں دی اور ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق اس سے قبل ان کے گن مین کو مسجد کے دروازے پر ہی فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا تھا۔رضا حیدر موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ گن مین خالد خان نے اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ دیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم وہ ایک سفید کار اور ایک موٹرسائیکل پر فرار ہوئے ہیں ۔ پولیس کو موقع سے کلاشنکوف کے چار خول ملے ہیں ۔واقعے کے بعد شہر بھر میں کشیدگی پھیل گئی دکانیں اور کاروبار بند ہوگیا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رضا حیدر کی میت پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی اسپتال سے امام بارگاہ باب العلم منتقل کردی گئی واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ویسٹ سلطان خواجہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے۔میدیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کو قتل کئے جانے کی اطلاع پھیلتے ہی شہر میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔رات دیر گئے تک سہراب گوٹھ،بنارس،پیر آباد،قصبہ کالونی،پاک کالونی و دیگر علاقوں سے 15افراد کے قتل اور35سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔علاوہ ازیں شہر بھر میں جاری پرتشدد ہنگاموں کے دوران مسلح افراد کی جانب سے دو درجن سے زائد گاڑیوں کو بھی مختلف مقامات پر نظر آتش کیا گیاتھا۔ایم کیو ایم نے واقعے کا الزام ایک بار پھر اے این پی پر لگا تے ہوئے اسے ظلم قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوائے۔

ڈیو ڈکیمرون کے پاکستان مخالف بیانات اور جناب صدر کا رویہ

ایک ایسے وقت میں جب ملک سیلاب کا سامنا کر رہا ہے،برطانوی وزیر اعظم بحارت کی ایماء پر پاکستان کے خلاف گھنائونے الزام لگا چکے ہیں صدر کو دورہ منسوخ کر دینا چاہئے،عوام کی آراء

پاکستانی عوام کی جانب سےبرطانوی وزیر اعظم کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد صدر مملکت سے دورہ برطانیہ کی منسوخی کا مطالبہ رائیگاں،برطانیہ میں رہائش پزیرپاکستانیوں کی اکثریت نے بھی صدر کے دورہ کی مخالفت کر دی۔دوسری جانب صدر آصف علی زداری کے 3 تا7 اگست برطانیہ کے سرکاری دورہ پر بھاری اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دورہ کی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے ان توہین آمیز الزامات کے باوجود کہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے صدر اُن سے ملاقات کریں گے جو چند منٹ کی ہوگی۔صدر اور اُن کے ساتھ جانے والا وفد فائیو سٹار لگژری ہوٹل حیات ریجنسی چرچل میں قیام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ہوٹل کی 9ویں منزل کو ایجنسی کلب لیول کہا جاتا ہے اس کے 18 سویٹ اور 10 ایکسکلوسیو ٹائپ لگژری کمرے بک کرائے گئے ہیں اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اس میں عام آدمی کا داخلہ ممنوع ہے۔ان میں سے تقریباً نصف تعداد میں کمرے استعمال میں ہی نہیں آئیں گے کیونکہ وفد میں شامل بعض افراد دیگر سستے کمروں میں رہائش پذیر ہوں گے، مگر ان کے نام ان کمروں میں بھی رکھے گئے ہیں جن کا کرایہ پورا ادا کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق صدر آصف زرداری رائل سویٹ کے کمروں میں سے کسی ایک میں قیام کریں گے۔ ان انتہائی مہنگے کمروں میں ایک کمرے کاایک رات کاکرایہ 7000 پونڈ کے لگ بھگ ہے۔ مہنگے ہوٹل میں قیام کے حوالے سے وہ سابق صدر پرویز مشرف سے چند قدم ہی پیچھے ہیں جو اپنے پسندیدہ ڈورچسٹر ہوٹل میں مقیم رہے جو چرچل ہوٹل سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔ ہوٹل میں سروسز اور کھانا پینا اس میں شامل نہیں ہے۔ ان دورہ میں کھانے پینے کا آرڈر ایک ایشیائی ریسٹورنٹ کو دیا گیا ہے جہاں سے فی پارسل پیک کی قیمت 18 پونڈ ادا کی جائے گی جو وفد میں شامل ارکان کے علاوہ ہائی کمیشن کے اہلکار کھائیں گے۔مگر صدر زرداری اور وفد میں شامل چند دیگر افراد کیلئے کھانے کا خصوصی انتظام ہوٹل کی طرف سے کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 10 سے 12 لگژری کاریں بھی 400 پونڈ فی کار کے حساب سے کرائے پر لی گئی ہیں۔ یہ کاریں صدر کے پورے دورے کیلئے لی گئی ہیں۔ جب صدر زرداری برمنگھم میں ریلی سے خطاب کیلئے جائیں گے تو یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ وہ برمنگھم چارٹر طیارے کے ذریعے جائیں گے۔ قبل ازیں جب انہوں نے ایڈنبرا میں اپنی بیٹیوں سے ملاقات کیلئے فارن پرو سے طیارہ چارٹر کرایا تھا تو پاکستانی قوم کے 16 ہزار پونڈ اس پر خرچ ہوئے تھے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زرداری بذریعہ سڑک برمنگھم نہیں جائیں گے حالانکہ یہ لندن سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری برمنگھم میں انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں خطاب کریں گے اس کنونشن سنٹر کے کانفرنس ہال کے کرائے کی مد میں 40 ہزار پونڈ سے کم اخراجات نہیں آئیں گے۔ صدر کے دورہ میں اہم شخصیات جن میں قمر زمان کائرہ‘ صدر کی اسسٹنٹ پولیٹیکل سیکرٹری فوزیہ حبیب‘ صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور شامل ہیں‘دورہ کے انتظامات کے سلسلے میں برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں۔ بھاری بھر کم اخراجات سے متعلق موقف جاننے کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کو درج ذیل سوالات بھیجے تھے۔ چرچل ہوٹل میں پُرتعیش کمرہ بک کرنے کی ادائیگی کون کر رہا ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جس کمرے میں صدر ٹھہریں گے اس کا ایک رات کا کرایہ7000 ہے۔ ریلی میں لوگوں کو لانے کیلئے بک کی گئی بسوں اور کوچوں کیلئے ادائیگی کون کررہا ہے کیا پاکستانی ہائی کمیشن کسی منتخب اخبارات کو اشتہارات کی قیمت دے رہا ہے۔ دورے پر بھاری اخراجات کے حوالے سے ہائی کمیشن کا کیا موقف ہے کیونکہ یہ پیسے طیارہ حادثے یا سیلاب کے متاثرین پر خرچ ہوسکتے تھے۔ صدر نے دورہ کیوں منسوخ نہیں کیا۔ دورہ کرنے والے وفد کیلئے کتنی کاریں یا گاڑیاں کرائے پر لی گئی ہیں کیا اس مکمل دورے کے اخراجات ہائی کمیشن حکومت پاکستان یا دونوں مل کر کر رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب میں ہائی کمیشن کے ترجمان نے کسی تفصیل میں جائے بغیر ایک سطری جواب دیا کہ یہ ایک سرکاری دورہ ہے اور سرکاری دوروں کے طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ عوامی ریلی کے اخراجات ہائی کمیشن اور حکومت پاکستان مل کر برداشت کررہے ہیں اور تمام بڑے شہروں سے کوچیں پہلے ہی بک کرلی گئی ہیں کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی7ہزار افراد کو جمع کرنے کا ہدف عبور کرنا چاہتی ہے جتنے حال ہی میں بیرسٹر سلطان محمود کے خطاب کو سننے کیلئے جمع ہوئے تھے۔

برنانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی رائے یہ ہے کہ صدر کو اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے۔صدر کے دورے کے حوالے سے لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ اب چونکہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے بھی صدر مملکت کے ساتھ یہ دورہ کرنے سے معذرت کر لی ہے صدر کو اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے کیونکہ یہی پاکستان کا وقار اور عزت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے اس لئے صدر کو اب ان سے ملنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت سیلاب نے تباہی پھیلا دی ہے سیکڑوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔ صدر کو پاکستان کے عوام کی فکر کرتے ہوئے یہ مشکل وقت پاکستان کے عوام کے ساتھ گزارنا چاہئے۔ برطانیہ کے پہلے مسلمان کیوسی بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے کہا ہے کہ کمیونٹی اس بات پر خوشی تھی کہ صدر مملکت پہلی مرتبہ برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملنے آ رہے ہیں تاہم وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے بعد یہ دورہ مناسب نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کو اس بیان پر احتجاج کرنا چاہئے اور اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ویسے بھی ملک میں سیلاب کی وجہ سے ان کا یہ دورہ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہو گا۔ پاکستان کمیونٹی سنٹر ولزڈن گرین کے چیئرمین طارق ڈار نے کہا کہ صدر زرداری کو احتجاجاً اس ملک میں نہیں آنا چاہئے۔ یہ احتجاج باقاعدہ طور پر ریکارڈ کرایا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون شاید ماضی قریب کی تاریخ کو بھی بھول گئے ہیں جب ٹونی بلیئر اور جارج بش نے عراق جنگ کو جائز قرار دیا تھا اب یہ دونوں اسے غلطی تصور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔ پیپلز پارٹی سندھ کی فیڈرل کونسل کے رکن حبیب جان نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں ڈیوڈ کیمرون کے ریمارکس کے بعد صدر مملکت کا برطانیہ آنا پاکستان کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صدر کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ پاکستان میں ہی رہیں۔ پیپلز پارٹی ساؤتھ ویسٹ کے صدر منظور ملک نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کو ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان کے خلاف نمبر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر احتجاجی مظاہرے کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کمیونٹی کے جذبات بہت بھڑکے ہوئے ہیں اس لئے صدر کو یہاں کا دورہ نہیں کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے لیڈر چوہدری تاج رچیال نے کہا کہ صدر زرداری کے لئے یہی بہتر ہو گا کہ وہ دورہ منسوخ کر دیں، ان کے دورے سے کمیونٹی مزید تقسیم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے نوجوانوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے جبکہ ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اس لئے صدر کو فوری طور پر یہ دورخ منسوخ کر دینا چاہئے۔ بیم لیبر کے چیئرمین احمد شہزاد او بی ای نے دورے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 1971ء میں امریکہ نے پاکستان کو دھوکہ دیا اور اس کا چھٹا بحری بیڑہ کبھی پاکستان کی مدد کو نہیں پہنچا، اب برطانوی وزیراعظم نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو برابھلا کہا اور بھارت کو خوش کیا ہے اس لئے پاکستان کو ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری اس بیان کے خلاف احتجاجاً اور پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے اس دورے کو منسوخ کر دیں۔

%d bloggers like this: