Archive for the ‘News’ Category

Children for Sale: Trafficking by Foreign Embassies

Report: Tariq Habib

Solid evidences have revealed that foreign embassies in Pakistan are involved in illegal child trafficking. NGOs sponsored and supported by foreign embassies are adopting new born Pakistani Muslim children and sending them abroad, whereas local welfare organizations are also involved in the crime. According to Pakistan’s law, non-Muslims cannot adopt Muslims.

However, reality speaks differently. A foreign couple employed in a foreign embassy holding Passport No. 19124346 and 19124345 adopted a 6 month old child Zara Bilquis from a renowned welfare organization. The welfare organization permitted that the child can be migrated to another country after adoption.


However, serious mismatching of facts was revealed when the documents where reviewed in detail. The documents state that the child was adopted by the couple on August 21, 2009, whereas, birth certificate of the child K00680496 was prepared a month earlier on July 27, 2009 and the name of couple was already mentioned as parents instead of original parents.

An important source relating to the case told The Eastern Tribune that in the last two decades, more than 40,000 Muslim children have been smuggled from Pakistan. The source claimed that these children are converted to Christianity and can be used against the interest of Pakistan. Several incidents of child trafficking by foreign NGOs were also reported right after the 2005 earthquake in the northern areas of Pakistan. “These NGOs take advantage of the IR-4 visa classification of the United States,” the source claimed.

The IR-4 visa classification signifies that the orphan will be adopted by the petitioner after being admitted to the United States.  In order to issue an IR-4 visa, the consular officer must be satisfied that the petitioner both intends to adopt the beneficiary in the U.S. and is legally able to do so.  The petitioner must have secured permanent legal custody of the orphan under the laws of the orphan’s home country.  That custody must be sufficient to allow the child to be taken from the country and adopted abroad.  In addition, the petitioner must have fulfilled any applicable pre-adoption requirements of their home state.

However, none of the requirements were followed when these foreign NGOs adopted new born children in Pakistan and smuggled them abroad. Sources also revealed that the Government of Pakistan does not even have correct facts and figures regarding the adopted children by foreign NGOs, leave aside the violation of Pakistani and international law.

Advertisements

عائشہ،ٹائم میگزین اورنئی صف بندی

تحریر:شاہد عباسی

"وہ بہت سی دیگر راتوں کی طرح ایک تاریک رات تھی ،حالات کی خرابی اور آدھی رات گزر جانے کے باعث پوراگائوں سوچکا تا  لیکن ارژگان صوبے کی اس بستی کے ایک گھر میں ابھی تک روشنی نظر آ رہی تھی۔اہلخانہ کے جذبات دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ غصے میں ہیں یا جھنجھلاہٹ کے مارے ان کی یہ حالت غیرہو رہی ہے۔یہ کیفیت خاصی دیر سےبرقرار تھی کہ اچانک دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز آئی ،جس نے سب کو مزید پریشان کر دیا مگر کوئی گنجائش نہ پاتے ہوئے اہلخانہ کی جانب سے دروازہ کھولا گیا توآنے والوںنے حکم جاری کیا "عائشہ”کے سسرالی اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر آئے ہیں۔اسے بلایا جائے،یہ اعلان نشر کر کے انتظار کرنے کے بجائے بے وقت آنے والے اس وفد کے سربراہ نے وہاں کھڑے کھڑے اپنا فیصلہ سنایاکہ "عائشہ اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر آئی ہے ،اس کا یہ اقدام قابل سزا ہے لہذااسے سامنے لایا جائے”۔یہ کہہ کر وہ گھر کے اندرداخل ہوئے ،عائشہ کو دبوچا اور اس حالت میں کہ اس کے بازو اسی کے دیور نے پکڑ رکھے تھے،منصف کی موجودگی میںاس کے شوہر نے پہلے کان اور پھر اس کی ناک کان ڈالی۔اس گھنائونی کارروائی میں ملوث افراد کے گروہ کی قیادت کرنے والے منصف کو مقامی طالبان لیڈر کے طور پر شناخت کیا گیا۔”


گزشتہ برس کی جانے والی یہ مبینہ کارروائی امریکی جریدہ ٹائم کی نو اگست کی اشاعت میں شائع ہونے والے شمارے کی کور اسٹوری ہے جس کے ساتھ [عائشہ]نامی ایک لڑکی کی تصویر بھی دی گئی ہے۔ٹائم کے رائٹر آریان بیکرکے بقول [عائشہ]اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر بوجوہ اپنے والدین کے پاس آ گئی تیہ لیکن اسے وہآں بھی امن سے رہنے نہیں دیاگیا ۔اسٹوری کی ہائی لائٹس کے ساتھ ہی ٹائم کے مینیجنگ ایڈیٹررچرڈ اسٹینگلز کا قارئین کے نام یہ پیغام موجود ہے کہ ‘یہ واقعہ دس برس قبل طالبان کے دور حکومت میں پیش نہیں آیا بلکہ ایک برس قبل پیش آیا ہے’،ظلم کا شکار عائشہ ان کے بقول اس وقت کابل کے ایک خفیہ خواتین مرکز میں رہائش پزیرہے’۔

رچرڈنے اتنا لکھنے کے بعد براہ راست کرزئی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘گزشتہ مہینے ہی مصالحتی کونسل بنانے اورطالبان سے مفاہمت کے لئے نئے سرے سے تیاریاں کرنے والی کرزئی انتظامیہ کو یہ بات یاد کیوں نہیہں رہتی کہ

What Happens If We Leave Afghanistan’

اور یہی جملہ "عائشہ "نامی نوجوان لڑکی کی تصویرکے ہمراہ آئندہ ہفتے[8اگست کو]شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے سرورق کی زینت بھی بنایا گیا ہے۔” مصنف کو یہ شکایت بھی ہے کہ”اگر امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں افغانستان سے نکلنے کے لئے پلنے والے منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہاں سے فوج کو واپس بلا لیا جاتا ہے تو افغان خواتین سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔ان میں سے بدکاری میں ملوث عورتوں کو پھر سنگسار کیاجائے گااوربغیر پردہ کے باہر نکلنے والیوں کو پردہ کی پابندی کروائی جائے گی”۔

عائشہ کے ساتھ بیتنے والا واقعہ اگر سچا ہے اور اس میں سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو جیسا کوئی پھندا موجود نہیں تو یقینا یہ ایک گھنائونا کام ہے،خواہ سے انجام دینے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو۔لیکن ٹائم جیسے میگزین کی جانب سے جسے مشہور زمانہ صیہونی ملکیتی ادارے سی این این کی پشت پناہی بھی حاصل ہےموجود وقت میں یہ اسٹوری سامنے لانا اور اس انداز میں واضح پیغام دینا کچھ اور ہی جتلا رہا ہے۔

مغربی میڈیا باالخصوص بلاگز اور ویب سائٹس پربرملا یہ تبصرے کئے جا رہے ہیں کہ ٹائم نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے منصوبے اور طالبان سے مفاہمت کے متعلق جاری بحث کو منطقی انجام تک پنچا دیا ہے۔جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ کو طالبان سے مذاکرات اور افغانستان سے فوج نکالنے کی "حماقت”کرنے کے بجائے پہلے سے ذیادہ سنگین قدم اٹھانا چاہئے۔

معاملہ محض ٹائم کی اسٹوری تک رہتا تو شایداتنا گھمبیر نہ ہوتا مگرچند روز قبل وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے خفیہ کاغذات،دو روز قبل پوسٹ کی گئی پراسرار انشورنس فائل اور اس تمام واقعے میں پاکستان اور خاص طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کرنا اس امر کی نا ندہی کرتا ہے کہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں جسے عورتوں کے حقوق کی حفاظت قرار دے کر ہضم کر لیا جائے[اگر یہ حقیقت میں عورت کے حق کی حفاظت ہوتی تو بھی گورا ہو سکتا تھا،لیکن یہ ہاتھی دانت دکھ رہے ہیں،جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں]۔

برطانیہ کی جانب سے حال ہی میںمسئلہ کشمیر کو اپنا پیدا کردہ مسئلہ تسلیم کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے بھارت کی زبان بولتے ہوئے افغان حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا،دہشت گردی کو ہماری ریاستی پالیسی قرار دے کر امورٹ بند کرنے کا مشورہ،چند ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور خصوصی ایلچی رچرڈ ہارلبروک کی موجودگی میں بھارت کو تجارتی راہداری مہیا کرنے کا ہنگامی معاہدہ کروانا،امریکہ کی جانب سے بھارت کو نیو کلئیر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے چھ معاہدے ایک ہی روز طے پانا،تمام تر احتجاج کے باوجود آئی ایس آئی کے اعلی سطحی وفد کی جانب سےڈیوڈکیمرون کے روئے پر برطانیہ جانے سے انکارمگر صدرمملکت کی جانب سے اقرار،جولائی کے مہینے میں افغانستان میںبڑھتی مزاحمت کے نتیجے میں66امریکی فوجیوں کی ہلاکت،شمالی علاقوں میں اچانک بڑھ جانے والے ڈرون حملوں ،اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے متعلق امریکی حکام کے بیانات،بلوچستان کی شورش میں اضافے،قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے پیدا ہونے والے ردعمل کو پاکستان کی ایٹمی قوت عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی دھمکی قرار دینے،اوباما کی جانب سے الیکشن میں افغان جنگ ختم کرنے کے وعدے سے لے کر سترہ ہزار اور بائیس ہزار مزید فوجی یہاں بھیجنے کے اعلان کے بعد اس جنگ کو اوباما کی جنگ قرار دینے کی قلابازی،کینیڈا کے افغانستان میں سابق سفیر اور اقوام متدرہ مشن کے ڈپٹی کرس الیگزینڈر کی جانب سے جنرل کیانی کی سربراہی میں پاکتاینی فوج کو بلوچستان کی شورش پر قابو پانے،انڈیا کو افغانستان سے نکالنے اور قبائیلیوں کو رام کرنے کے لئے گوریلا جنگجوئوں کی حمایت اورانہیں اسپانسر کرنے کے پرانے دعوے کے ازسرنو دہرائے جانے،فروری میں ملابرادر وغیرہ کی گرفتاری کو ان کے امریکہ کی جانب جھکائو اور پاکستانی فوج کے اثر سے آذاد ہو جانے سے تعبیر کرنے،بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی ایماء پر آپریشن سے پاکستان فوج کے انکارکو امارت اسلامی افغانستان کا بچائو قرار دینے،اور ان تمام واقعات کے نتیجے کے طور پر اتحادیوں کی جانب سے "سنجیدہ کارروائی”کا مطالبہ اپنے اندر اتنی کچھ معنویت ضرور رکھتا ہے جو سرسری نظر ڈالنے والے کو بھی بہت کچھ سمجھا جائے۔


ٹائم میگزین کی جانب سے اٹھارہ سالہ عائشہ کو اپنے سرورق کی زینت بنانا اور اس پر بیتنے والے المیہ لمحات کا ذکر افسوسناک ہی نہیں اپنے اندر بہت سارے سوال بھی رکھتا ہے۔جن کا جواب آج نہیں تو کل ان سب کو دینا ہو گا جو اپنے اپنے مفاد کے لئے ایک کام کو جائزیانارروا قرار دیتے ہیں مگر جب اس سے ان کے کسی مخالف کو فائدہ پہنچے تو اسے یکلخت حرام یاپھرقابل قبول قرار دے ڈالتے ہیں۔اور اس سارے مرحلے میں دلچسپ ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ہر لمحہ دو انتہائوں پررہنے والے انتہاپسندی کاالزام بھی اپنے مخالفین یعنی مسلمانوں پر لگاتے ہیں

عورت ہی نہیںدنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والی کوئی بھی ذی روح مخلوق یقینا اس لائق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے،ادب واحترام روا رکھا جائے،جسمانی تشدد دور کی بات اس کے متعلق نازیبا کلمات تک کہنے سے قبل ہی اپنی زبانوں اور سوچوں پر پہرے بٹھالئے جائیں۔ خرابی پید اہو جانے کے بعد مرض کی روک تھام کے نام پر خرابہ پیدا کرنے کے بجائے تعلقات پہلے ہی فطری حدوں میں رکھے جائیں۔لیکن نہ جانے کیوں یہاں آ کر ذہن امریکی پالیسی سازوں کی منطق پر حیران ہوتا ہے جو میڈیا کے زور پر مہم چلا کر "عائشہ”کے نام پر افغانستان میں جاری بونا اپارٹازم[سفاکیت کے لئے استعمال ہونے والی مغربی اصطلاح} کو تو جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر اسی کی ہم مذہب”عافیہ”کے ساتھ خود اس سے بھی ذیادہ "سلوک” روا رکھتے ہیں۔ افغانستان میں مبینہ طالبان کی جانب سے کئے گئے”کارنامے”کی نشاندہی تو ٹائم نے کردی،جس کی تردید یا تائید میںفریق مخالف کی کوئی رائے موجو دہی نہیں جو ان پر فرد جرم عائد کر سکے۔مگر سب کے سامنے کئے گئے اس کارنامے کے متعلق کیا کہاجائے جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ سے اغواء کے بعد،بگرام ائیر بیس،قندھار جیل،امریکی عدالت اورزنداںنمانفسیاتی مرکز میں عافیہ پر روا رکھا گیا،وہ جرم پس پردہ سہی مگر یہ تو سردیوارہوا ہے ۔

اس پر کیا ٹائم اپنے آقائوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ جب تک امریکی عدالتوں سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی،عام امریکی نفسیاتی امراض سے جان نہیں چھڑاتا،ملک پر عائد قرض،لاقانونیت،ہر بارہویں منٹ میں ہونے والی ڈکیتی،ہر نصف گھنٹے  میں لٹنے والی کسی عورت کی عزت،بغیر شادی کے ماں بننے والی18برس سے کم عمر لڑکیو ں کا تناسب کم نہیں ہو جاتا ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔یقینا ایسا ہونا مشکل ہے تا ہم پھر بھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سب کو نظر آنے والی وہ تصویر جس میں امریکا خود مجرم نظر آتا ہے جب تک دھندلاہٹ سے پاک نہیں کر لی جاتی اس تصویر کے کسی ایک رنگ کی موجودگی پر دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بعید نہیں کہ عالمی اداروں اور امریکی تھنک ٹینکس کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق امریکی معاشرے میں پنپنے والے قبیح جرائم پر جس روز وہاں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دنیا کے تمام ممالک کی عوام اپنے لئے انصاف ڈھونڈنے کو خود ہی اٹھ کھڑے ہوں۔

یا پھراسے روسی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار اورماسکو کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ماہر کی پیشنگوئی کے مطابق آئندہ برس امریکے کے ٹکڑے ہونے سے تعبیر کر کے خاموشی سے دیکھا جاتا رہے۔

معاملہ جس کروٹ بھی بیٹھےکے یہ طے ہے کہ فیصلہ کرنا ہی ہو گا ،ورنہ آج اگر اسے ٹالا گیا تو کل شاید یہ زبردستی کرنا پڑے ،مگر اس وقت اختیار نہیں مجبوری سے کیا جائے گا۔فیصلہ اب ان کے ہاتھوں میں ہے،اختیار یا مجبوری۔۔۔۔؟؟؟

کراچی پھر جل اٹھا،ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کے قتل کے بعد شدید ہنگامہ آرائی

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی رضاحیدر کو ان کے گن مین سمیت قتل کئے جانے کے بعد ہنگامہ آرائی میں15سے زائد افراد قتل اور 35زخمی ہو گئے۔دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ رضا حیدر اپنے گن مین خالد خان کے ساتھ اپنی ایک عزیزہ کے جنازے میں شرکت کے لیے ناظم آباد نمبر دو میں واقع جامع مسجد پہنچے تھے ،جہاں نماز جنازہ سے قبل وہ وضو کے لیے مسجد کے وضو خانے میں گئے اور اسی دوران حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی ۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے رضا حیدر مسجد میں اندر کی جانب بھاگے لیکن حملہ آوروں نے انہیں مہلت نہیں دی اور ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق اس سے قبل ان کے گن مین کو مسجد کے دروازے پر ہی فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا تھا۔رضا حیدر موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ گن مین خالد خان نے اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ دیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم وہ ایک سفید کار اور ایک موٹرسائیکل پر فرار ہوئے ہیں ۔ پولیس کو موقع سے کلاشنکوف کے چار خول ملے ہیں ۔واقعے کے بعد شہر بھر میں کشیدگی پھیل گئی دکانیں اور کاروبار بند ہوگیا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رضا حیدر کی میت پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی اسپتال سے امام بارگاہ باب العلم منتقل کردی گئی واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ویسٹ سلطان خواجہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے۔میدیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کو قتل کئے جانے کی اطلاع پھیلتے ہی شہر میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔رات دیر گئے تک سہراب گوٹھ،بنارس،پیر آباد،قصبہ کالونی،پاک کالونی و دیگر علاقوں سے 15افراد کے قتل اور35سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔علاوہ ازیں شہر بھر میں جاری پرتشدد ہنگاموں کے دوران مسلح افراد کی جانب سے دو درجن سے زائد گاڑیوں کو بھی مختلف مقامات پر نظر آتش کیا گیاتھا۔ایم کیو ایم نے واقعے کا الزام ایک بار پھر اے این پی پر لگا تے ہوئے اسے ظلم قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوائے۔

پانی کی قلت کا عالمی مسئلہ اور سنگین خدشات

تحریر:محمد ہارون عباس قمر

ہوا اور پانی قدرت کے ایسے عطیات ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ آج بیسویں صدی کا انسان جو ستاروں پر کمندیں پھینک رہا ہے ان دو عطیات سے محروم ہونے کے خدشے سے دو چار ہے۔ یہ نہیں کہ کرہ ارض پر سے ہوا اور پانی ناپید ہوتے جا رہے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر سائنس اور صنعت کی ترقی کی یہی رفتار رہی جو آج ہے تو مستقبل قریب میں انسان کو نہ تو خالص ہوا ملے گی اور نہ خالص پانی۔ ہوا میں ملاوٹ کا مسئلہ ابھی اتنا سنگین نہہں ہوا کہ انسان کو پریشان کر دے۔ لہکن خالص اور مصفا پانی کی قلت نے مفکرین اور ماہرین سائنس دانوں کی راتوں کی نیند حرام کی دی ہے۔ پانی کی قلت کا مسئلہ نیا نہیں لاکھوں برس پرانا ہے۔ اس مسئلہ کی تاریخ انسانی تہذیب کی تاریخ سے بھی پرانی ہے۔ ڈارون کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کی معدنیات نے نباتات کی شکل اختیار کی، پودوں میں سے کیڑوں مکوڑوں نے جنم لیا۔ کیڑوں مکوڑوں نے مختلف شکلیں اور مختلف حجم اختیار کیے ۔ اس طرح پیدا ہونے والے جانوروں میں سے ایک نسل بندروں کی تھی انہی بندروں یا بن مانسوں کی اولاد انسان ہے۔ حال ہی یورپ کے محققین نے اس سلسلے مےں ایک اور کڑی کا اضافہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آج سے لاکھوں برس قبل کرہ ارض زبردست خشک سالی کا شکار ہوئی تھی۔ جوں جوں پانی کم ہوتا گیا جانور اس کی تلاش میں ندی نالوں کے ساتھ ساتھ چلتے زیریں علاقوں کی طرف بڑھتے چلے گئے اور بالآخر سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ پیٹ کے دوزخ نے یہاں بندروں کو سمندر میں اترنے پر مجبور کیا اور وہ مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ اس طرح اےک نئی نسل ”سی ایپ“ (Sea ape) یا سمندری بندر کا وجود ظاہر ہوا۔ بندر کی کھال اور دُم اسی دور میں پانی میں رہتے ہوئے غائب ہوئی اور بعد ازاں وہ انسان کی موجودہ شکل میں سمندر سے باہر نکلا۔ مختلف مذاہب میں پیدائش آدم کے جو تذکرے ہیں ان سے اس تھیوری کے ٹکراﺅ سے قطع نظر اگر ارتقا کے ان سلسلوں کو درست مان لیا جائے تو موجودہ انسان کی پیدائش بھی دراصل پانی کی قلت کی مرہون منت ہے۔ پانی کے مسئلے پر لڑائی جھگڑے ہزاروں برس پہلے بھی اسی طرح ہوتے تھے جس طرح آج۔ ماضی میں پانی کے سوال پر کئی جنگیں لڑی گئیں اور آج بھی اردن اور اسرائیل کے دستے پانی کی تقسیم کے سوال پر ایک دوسرے پر گولیاں برساتے ہیں۔ انگریزی زبان میں حریف یا دشمن کے لئے رائیول(Rival) کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ لفظ دراصل رومن لفظ راﺅس سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ندی یا نالہ ہے۔ گویا رائیول وہ ہیں جو کسی ندی یا نالے کی ملکیت میں شریک ہوں اور پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر ان میں چپقلش ہو۔ رومن پاشندوں کی طرح آج بھی انسان پانی کے مسئلے پر خون بہانے سے دریغ نہیں کرتا۔ آج بھی شہروں میں بلدیات کے نلکوں پر ایک بالٹی ایک گھڑا بھرنے پر سر پھٹتے ہیں اور دیہات میں کھیت کو پانی لگانے کے سوال پر گردنیں کٹتی ہےں۔ پاکستان ان علاقوں میں شامل نہےں جو شدید خشک سالی کا شکار ہیں تاہم نہروں کے عظیم سلسلے کے باوجود اس کے وسیع رقبے پر کاشت کا دارو مدار بارانِ رحمت پر ہے۔ دنیا میں جو علاقے خشک سالی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ان میں افریقہ کے صحرائے اعظم اور مشرقِ وسطیٰ کے ریگستانی علاقوں کے علاوہ کوریا، بچوانا لینڈ، آسٹریلیااور امریکہ کے شمالی حصے شامل ہیں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ بیس سال میں پانی کی عالمی مانگ دُگنی ہو جائے گی۔ انسان یہ پانی کہاں سے حاصل کرے گا؟ کرہ ارض کا ستر فی صد رقبہ زیر آب ہے اور زمین پر ۲۳ کروڑ ۰۶ لاکھ ۱۷ ہزار تین سو مکعب میل پانی کے ذخائر موجود ہیں۔ ایک مکعب میل میں ۰۰۰۳۴۱۷۱۱۱۰۱۱ گیلن پانی ہوتا ہے۔ ان اعداد کی روشنی میں پانی کی کمی کا خدشہ مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی کی متذکرہ مقدار مین سے ۲۱. ۹۷فی صد سمندروں میں ہے۔ سمندر کا پانی نہ تو پینے کے قابل ہوتا ہے۔ اور نہ اس سے آب پاشی ممکن ہے۔ دو فی صد برف کی شکل میں منجمد ہے اور باقی ماندہ صرف ۸۱ فی صد دنیا والوں کے استعمال کے قابل ہے۔ لیکن انسان اس قلیل سی مقدار کے صحیح استعمال پر قادر نہیں۔ اور سیوریج اور صنعتی ضیاع کے باعث اس کے بڑے حصے کو ناقابل استعمال بناتا جا رہا ہے۔ روزانہ ۰۸۲ مکعب میل پانی کے بادل بنتے میں ان میں سے ۰۳۲ مکعب میل پانی خشکی سے بخارات میں تبدےل ہوتا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو ۰۱۲ مکعب میل پانی پھر سمندر میں جا گرتا ہے اور ستر مکعب میل بارش اولوں یا برف کی شکل میں زمین کے خشک حصوں پر گرتا ہے۔ اس میں سے ۰۲ مکعب میل دریاﺅں کے راستے دوبارہ سمندر میں شامل ہو جاتا ہے باقی ماندہ میں سے کچھ جذب ہو کر زیر زمین ذخائر میں شامل ہو جاتا ہے جو کنوﺅں وغیرہ کے باعث پھر سطح زمین پر لایا جاتا ہے۔ کچھ بادل بن کر اُڑ جاتا ہے اور کچھ پودوں کے عمل کی بدولت بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ (مثال کے طور پر مکئی کا ایک ایکڑ کا کھیت ہر روز چار ہزار گیلن پانی کو بخارات میں تبدیل کرتا ہے)۔ یہ چکر اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ اور پانی کی مقدار میں لاکھوں کروڑوں برس سے کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ تاہم پانی کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے نہ صرف یہ کہ دنیا کی آبادی بے تحاشا بڑھ گئی ہے بلکہ انسان نے رہن سہن کے طریقے بھی بدل لیے ہیں۔ اب گھر گھر میں باتھ ٹب، فلشڈش واشر اور واشنگ مشینیں اپنی جگہ پیدا کر رہی ہیں۔ پھر چونکہ پانی کے حصول میں ہر فرد کو محنت نہیں کرنا پڑتی اس لیے اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ نہیں رہا۔ آج کی ایک ماں اپنے بچے کی دودھ کی بوتل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جتنا پانی استعمال کرتی ہے دو سو سال قبل کی کوئی خاتون جو کوس بھر دور کنوئیں سے پانی بھر کر لاتی تھی اتنی مقدار پورے ہفتے میں بھی صرف نہیں کرتی تھی۔ان تمام تر فضول خرچیوں کے باوجود گھریلو استعمال میں آنے والے پانی کی مقدار کل کا صرف دس فی صد ہے پچاس فی صد زراعت پر خرچ ہوتا ہے اور چالیس فی صد صنعت پر۔ عام شہریوں کو غالباً علم نہیں کہ پٹرول کے ایک ڈرم کی تیار ی میں۰۷۷ گیلن ایک ٹن فولاد کی پیداوار میں ۵۶ ہزار گیلن اور ایک ٹن مصنوعی ربڑ تیار کرنے پر ۶ لاکھ گیلن پانی صرف ہوتا ہے۔ جوں جوں نئے صنعتی ادارے قائم ہوتے جا رہے ہیں پانی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے ۔

ہم کل پانی کا نصف حصہ زراعت پر خرچ کرتے ہیں لیکن اس میں سے بہت سی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ ایک تو اس لیے کہ ہماری نہریں اور ”کھالے“ وغیرہ کچے ہیں اور بہت سا پانی زمین میں جذب ہوتا رہتا ہے۔ پھر ہم بہت سی فصلوں کو ضرورت سے زیادہ پانی دیتے ہیں پانی کھیتوں میں کھڑا رہتا ہے، کچھ زیر زمین چلا جاتا ہے کچھ بخارات بن کر اڑ جاتا ہے، اور بہت کم پودوں کو ملتا ہے۔ تجربات شاہد ہیں کہ کھیت میں جتنا زیادہ پانی کھڑا رہے گا فصل کی نشوونما اتنی ہی سست ہو گی۔ لیکن چونکہ پانی کی ”باری“ عموماً ہفتے میں ایک یا دو بار ہی آتی ہے۔ اس لیے کاشت کار کھیتوں کو بہت سا پانی دیتے ہیں تاکہ اگلی باری آنے تک مٹی میں نمی رہے ۔ نمی تو واقعی برقرار رہتی ہے لیکن ایک تو فصل کی نشوونما سست پڑ جاتی ہے اور دوسرے بہت سا قیمتی پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس خرابی کا بہترین طریقہ فصلوں پر پانی کا چھڑکاﺅ ہے۔ یہ طریقہ اتنا مہنگا ہے کہ فی الحال عام کسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بعض ممالک نے پانی کی نالیوں میں پٹروکیمیکلز کی تہ چڑھانے کا تجربہ کیا ہے۔ اس کی بدولت پانی کی وافر مقدار زمین میں جذب ہو کر ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ بسا اوقات پانی کی زیادتی بھی پانی کے ضیاع کا باعث بنتی ہے، اس کی مثال عام طور پر ان علاقوں میں ملتی ہے۔ جہاں نہروں کے جال بچھا دئیے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی رہتی ہے۔ یہ پانی اپنے ساتھ زمین کی نمکیات کو اوپر لے آتا ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ اس علاقے کا پانی پینے یا آبپاشی کے قابل نہیں رہتا بلکہ وسیع رقبہ بھی سیم اور تھور کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف نئی نہریں کھود کر بنجر علاقوں کو زیر کاشت لایا جا رہا ہے۔ وہیں پاکستان کے دشمن نمبر ایک یعنی سیم اور تھور کے خلاف بھی جہاد جاری ہے۔ برسات کے دنوں میں جب کہ فصلوں کو پانی کی ضرورت نہیں ہوتی بارش کا بہت سا پانی دریاﺅں کے راستے سمندر میں جا گرتا ہے اگر اس پانی کو بند باندھ کر جمع کر لیا جائے تو یہی پانی خشک سالی کے دنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے تمام تر زرعی ممالک آج سیلابوں پر قابو پانے میں کوشاں ہیں۔ پانی کی قلت اب کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری دنیا اور انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی آج پانی کی قلت سے اتنا ہی پریشان ہے جتنا مشرق وسطیٰ کا کوئی پسماندہ ملک۔ اس وقت انسان کو جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ ان میں پانی کے ضیاع کو روکنا بھی شامل ہے کیونکہ اگر صاف پانی کی موجودہ رسد کو آئندہ بیس برس میں دُگنا نہ کیا گیا تو انسان خالص پانی کو ترستا پھرے گا۔ پانی قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے اور اس تحفے کو انسان کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی ہر کوشش میں تمام انسانوں کا تعاون و اشتراک ضروری ہے۔

قبائلی پھر جیت گئے۔۔۔۔جعلی ڈگری پر منتخب رکن اسمبلی کے باجوڑ آنے پر پابندی

باجوڑ ایجنسی کے سلارزئی قبائل کے عمائدین اور زعماء نے جعلی ڈگری پر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی سید اخونزادہ چٹان کو سالارزئی قوم کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے باجوڑ ایجنسی آنے پر مکمل پابندی عائد کرنے ،مکان نذرآتش کرنے سمیت انکے خلاف بھر پور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان سالارزئی قبائل کے عمائدین زعماء اور سالارزئی قومی لشکر کے رہنماؤں ملک محبوب جان سالارزئی ، ملک مناسب خان، ملک محمد یونس، ملک عبد السلام ملک محمد ابرابر، انورزیب خان، ملک حفیظ الرحمان ، حاجی زیارت گل، ملک خانزادہ ، ملک محمد یارکسئی اور ملک عبد الناصر نے ہفتہ کو یہاں تحصیل سالارزئی کے علاقہ راغگاں میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان سیاست چمکانے اور ایجنسی کے پر امن حالات خراب کرنے کیلئے افغان حکومت کا سہارا لیکر اپنی جعلی ڈگری کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں افغان حکومت نے نہ تو کوئی سروے شروع کیا ہے اور نہ ہی سالارزئی کے غیور قبائلی عوام کسی بیرونی ملک سے امداد لینے کا تصور کر سکتے ہیں جبکہ باجوڑ ایجنسی میں ہونے والی بارشوں سے جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ،ان میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو پولیٹیکل انتظامیہ نے تین تین لاکھ روپے شدید زخمی ہونے والوں کو ایک ایک لاکھ اور معمولی زخمی کو پچاس پچاس ہزار روپے فی کس امداد دی ہے جبکہ پولیٹیکل انتظامیہ نے ایجنسی میں بارشوں سے تباہ ہونے والے مکانات کا سروے بھی شروع کیا ہے ۔ سالارزئی کے قبائلی عمائدین نے کہا کہ سید اخونزادہ چٹان نے مقامی لوگوں میں حکومت اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے اور ایجنسی کے پر امن حالات کو خراب کرنے کیلئے بھر پور مہم کا آغاز کیا جس کی وجہ سے باجوڑ ایجنسی کے عوام میں ان کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

بھارت اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے متعلق چھ مزید معاہدے

امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری پرسیسنگ کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ گذشتہ روز واشنگٹن میں امریکہ کے جوہری کمیشن کے وائس چیئرمین گراس ڈیلے اور امریکہ میں متعین بھارتی سفیر میراشنکر نے جوہری پروسیسنگ کے 6 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ جوہری معاہدہ استعمال شدہ جوہری ایندھن کے دوبارہ استعمال سے متعلق ہے اس سے پہلے بھارت استعمال شدہ جوہری ایندھن چوری سے استعمال کرتا تھا، اب باقاعدہ امریکی حکام نے بھارت امریکہ نیوکلیئر معاہدے کے تحت ایک اور جوہری معاہدے کی روشنی میں استعمال شدہ جوہری ایندھن کو دوبارہ استعمال کا جائز طریقہ طے ہوگیاہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ بھارت کو مزید جوہری مواد بھی فراہم کرنے کے راستے تلاش کررہاہے لیکن بھارتی اپوزیشن کی وجہ سے امریکہ خاموش ہے امریکی حکام بھارتی اپوزیشن کے ساتھ بھارت امریکہ نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے بات چیت میں لگے ہوئے ہیں۔ بھارت امریکہ نیوکلیئرمعاہدے میں بھارتی کمیونسٹ گروپس حائل ہیں جبکہ بی جے پی 50 فیصد رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

ڈیو ڈکیمرون کے پاکستان مخالف بیانات اور جناب صدر کا رویہ

ایک ایسے وقت میں جب ملک سیلاب کا سامنا کر رہا ہے،برطانوی وزیر اعظم بحارت کی ایماء پر پاکستان کے خلاف گھنائونے الزام لگا چکے ہیں صدر کو دورہ منسوخ کر دینا چاہئے،عوام کی آراء

پاکستانی عوام کی جانب سےبرطانوی وزیر اعظم کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد صدر مملکت سے دورہ برطانیہ کی منسوخی کا مطالبہ رائیگاں،برطانیہ میں رہائش پزیرپاکستانیوں کی اکثریت نے بھی صدر کے دورہ کی مخالفت کر دی۔دوسری جانب صدر آصف علی زداری کے 3 تا7 اگست برطانیہ کے سرکاری دورہ پر بھاری اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دورہ کی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے ان توہین آمیز الزامات کے باوجود کہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے صدر اُن سے ملاقات کریں گے جو چند منٹ کی ہوگی۔صدر اور اُن کے ساتھ جانے والا وفد فائیو سٹار لگژری ہوٹل حیات ریجنسی چرچل میں قیام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ہوٹل کی 9ویں منزل کو ایجنسی کلب لیول کہا جاتا ہے اس کے 18 سویٹ اور 10 ایکسکلوسیو ٹائپ لگژری کمرے بک کرائے گئے ہیں اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اس میں عام آدمی کا داخلہ ممنوع ہے۔ان میں سے تقریباً نصف تعداد میں کمرے استعمال میں ہی نہیں آئیں گے کیونکہ وفد میں شامل بعض افراد دیگر سستے کمروں میں رہائش پذیر ہوں گے، مگر ان کے نام ان کمروں میں بھی رکھے گئے ہیں جن کا کرایہ پورا ادا کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق صدر آصف زرداری رائل سویٹ کے کمروں میں سے کسی ایک میں قیام کریں گے۔ ان انتہائی مہنگے کمروں میں ایک کمرے کاایک رات کاکرایہ 7000 پونڈ کے لگ بھگ ہے۔ مہنگے ہوٹل میں قیام کے حوالے سے وہ سابق صدر پرویز مشرف سے چند قدم ہی پیچھے ہیں جو اپنے پسندیدہ ڈورچسٹر ہوٹل میں مقیم رہے جو چرچل ہوٹل سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔ ہوٹل میں سروسز اور کھانا پینا اس میں شامل نہیں ہے۔ ان دورہ میں کھانے پینے کا آرڈر ایک ایشیائی ریسٹورنٹ کو دیا گیا ہے جہاں سے فی پارسل پیک کی قیمت 18 پونڈ ادا کی جائے گی جو وفد میں شامل ارکان کے علاوہ ہائی کمیشن کے اہلکار کھائیں گے۔مگر صدر زرداری اور وفد میں شامل چند دیگر افراد کیلئے کھانے کا خصوصی انتظام ہوٹل کی طرف سے کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 10 سے 12 لگژری کاریں بھی 400 پونڈ فی کار کے حساب سے کرائے پر لی گئی ہیں۔ یہ کاریں صدر کے پورے دورے کیلئے لی گئی ہیں۔ جب صدر زرداری برمنگھم میں ریلی سے خطاب کیلئے جائیں گے تو یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ وہ برمنگھم چارٹر طیارے کے ذریعے جائیں گے۔ قبل ازیں جب انہوں نے ایڈنبرا میں اپنی بیٹیوں سے ملاقات کیلئے فارن پرو سے طیارہ چارٹر کرایا تھا تو پاکستانی قوم کے 16 ہزار پونڈ اس پر خرچ ہوئے تھے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زرداری بذریعہ سڑک برمنگھم نہیں جائیں گے حالانکہ یہ لندن سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری برمنگھم میں انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں خطاب کریں گے اس کنونشن سنٹر کے کانفرنس ہال کے کرائے کی مد میں 40 ہزار پونڈ سے کم اخراجات نہیں آئیں گے۔ صدر کے دورہ میں اہم شخصیات جن میں قمر زمان کائرہ‘ صدر کی اسسٹنٹ پولیٹیکل سیکرٹری فوزیہ حبیب‘ صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور شامل ہیں‘دورہ کے انتظامات کے سلسلے میں برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں۔ بھاری بھر کم اخراجات سے متعلق موقف جاننے کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کو درج ذیل سوالات بھیجے تھے۔ چرچل ہوٹل میں پُرتعیش کمرہ بک کرنے کی ادائیگی کون کر رہا ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جس کمرے میں صدر ٹھہریں گے اس کا ایک رات کا کرایہ7000 ہے۔ ریلی میں لوگوں کو لانے کیلئے بک کی گئی بسوں اور کوچوں کیلئے ادائیگی کون کررہا ہے کیا پاکستانی ہائی کمیشن کسی منتخب اخبارات کو اشتہارات کی قیمت دے رہا ہے۔ دورے پر بھاری اخراجات کے حوالے سے ہائی کمیشن کا کیا موقف ہے کیونکہ یہ پیسے طیارہ حادثے یا سیلاب کے متاثرین پر خرچ ہوسکتے تھے۔ صدر نے دورہ کیوں منسوخ نہیں کیا۔ دورہ کرنے والے وفد کیلئے کتنی کاریں یا گاڑیاں کرائے پر لی گئی ہیں کیا اس مکمل دورے کے اخراجات ہائی کمیشن حکومت پاکستان یا دونوں مل کر کر رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب میں ہائی کمیشن کے ترجمان نے کسی تفصیل میں جائے بغیر ایک سطری جواب دیا کہ یہ ایک سرکاری دورہ ہے اور سرکاری دوروں کے طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ عوامی ریلی کے اخراجات ہائی کمیشن اور حکومت پاکستان مل کر برداشت کررہے ہیں اور تمام بڑے شہروں سے کوچیں پہلے ہی بک کرلی گئی ہیں کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی7ہزار افراد کو جمع کرنے کا ہدف عبور کرنا چاہتی ہے جتنے حال ہی میں بیرسٹر سلطان محمود کے خطاب کو سننے کیلئے جمع ہوئے تھے۔

برنانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی رائے یہ ہے کہ صدر کو اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے۔صدر کے دورے کے حوالے سے لارڈ نذیر احمد نے کہا ہے کہ اب چونکہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے بھی صدر مملکت کے ساتھ یہ دورہ کرنے سے معذرت کر لی ہے صدر کو اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے کیونکہ یہی پاکستان کا وقار اور عزت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے اس لئے صدر کو اب ان سے ملنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت سیلاب نے تباہی پھیلا دی ہے سیکڑوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔ صدر کو پاکستان کے عوام کی فکر کرتے ہوئے یہ مشکل وقت پاکستان کے عوام کے ساتھ گزارنا چاہئے۔ برطانیہ کے پہلے مسلمان کیوسی بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے کہا ہے کہ کمیونٹی اس بات پر خوشی تھی کہ صدر مملکت پہلی مرتبہ برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملنے آ رہے ہیں تاہم وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے بعد یہ دورہ مناسب نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کو اس بیان پر احتجاج کرنا چاہئے اور اپنا دورہ منسوخ کر دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ویسے بھی ملک میں سیلاب کی وجہ سے ان کا یہ دورہ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہو گا۔ پاکستان کمیونٹی سنٹر ولزڈن گرین کے چیئرمین طارق ڈار نے کہا کہ صدر زرداری کو احتجاجاً اس ملک میں نہیں آنا چاہئے۔ یہ احتجاج باقاعدہ طور پر ریکارڈ کرایا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون شاید ماضی قریب کی تاریخ کو بھی بھول گئے ہیں جب ٹونی بلیئر اور جارج بش نے عراق جنگ کو جائز قرار دیا تھا اب یہ دونوں اسے غلطی تصور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔ پیپلز پارٹی سندھ کی فیڈرل کونسل کے رکن حبیب جان نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں ڈیوڈ کیمرون کے ریمارکس کے بعد صدر مملکت کا برطانیہ آنا پاکستان کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صدر کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ پاکستان میں ہی رہیں۔ پیپلز پارٹی ساؤتھ ویسٹ کے صدر منظور ملک نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کو ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان کے خلاف نمبر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ پر احتجاجی مظاہرے کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کمیونٹی کے جذبات بہت بھڑکے ہوئے ہیں اس لئے صدر کو یہاں کا دورہ نہیں کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے لیڈر چوہدری تاج رچیال نے کہا کہ صدر زرداری کے لئے یہی بہتر ہو گا کہ وہ دورہ منسوخ کر دیں، ان کے دورے سے کمیونٹی مزید تقسیم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے نوجوانوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے جبکہ ڈیوڈ کیمرون نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اس لئے صدر کو فوری طور پر یہ دورخ منسوخ کر دینا چاہئے۔ بیم لیبر کے چیئرمین احمد شہزاد او بی ای نے دورے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 1971ء میں امریکہ نے پاکستان کو دھوکہ دیا اور اس کا چھٹا بحری بیڑہ کبھی پاکستان کی مدد کو نہیں پہنچا، اب برطانوی وزیراعظم نے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو برابھلا کہا اور بھارت کو خوش کیا ہے اس لئے پاکستان کو ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری اس بیان کے خلاف احتجاجاً اور پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے اس دورے کو منسوخ کر دیں۔

%d bloggers like this: