Archive for the ‘Surrounding’ Category

چوہدری صاحب ! خدا کے لیے

تحریر:ذوالفقارعلی

جاوید چوہدری صاحب!قومیں نوحوں اور مرثیوں سے نہيں امیدوں اور خوابوں سے اٹھان پاتی ہيں۔ ان کے حوصلوں کو مہمیز دینے کے لیے تاریکی کے تذکرے نہيں واضح اہداف ، موثر منصوبہ بندی اور اس کے اوپر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کے خاکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 چوہدری صاحب ! آپ جیسے رائے ساز کالم نویسوں کے نوحے سن سن کر قوم تھک چکی ہے۔ خدا کے لیے موجودہ حالات میں سے انہيں کوئی خاکہ دیجیے کوئی رہنمائی کا واضح نقشہ پیش کیجیے خود نہیں دے سکتے تو کچھ لوگوں کو جمع کر کے ان سے بنوا کر دیجیے ۔ اگر کوئی ملک میں قوم کی مخلص قیادت کے قابل ہے تو اس کا پتہ دیجیے اور اسے سپورٹ کیجیے ، کھل کر اس کا نام لیجیے ۔نہيں ہے تو بتائیے کہ اسکریچ سے لے کر کامیابی تک کا راستہ کیا ہے ؟ تا کہ قوم میں سے کوئی امید پائے اور آگے بڑھے قوم آپ اور آپ جیسے چند دیگر قلم کاروں کو پڑھتی ہے مگر آپ کی تحریروں سے بس مایوسی،انتشار اور دکھ کشید کر کے رہ جاتی ہے۔

چوہدری صاحب بہادری اور بزدلی دونوں ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں،خدا کے لیے اس قوم میں امید اور بہادری بانٹیے ۔ چوہدری صاحب معذرت چاہتا ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے آپ اور آپ جیسے دیگر رائے ساز لوگ بغداد کے علماء معلوم ہوتے ہں وہ علماء تاتاریوں کے حملے کے وقت قوم کو کوے کی حلت و حرمت کے مسائل میں الجھائے ہوئے تھے اور آپ اس فتنے کے عہد میں "ڈوب مرنے کا مقام ہے” جیسے درس دے کر بالواسطہ مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہے ہيں۔

 چوہدری صاحب اس قوم کے نفرت اور غصے کو اس کے اصل دشمن سے انتقام کی طرف موڑ کر قوت میں بدل ڈالنے کا نسخہ بتائیے ،اس وقت سے پہلے کہ جب انقلاب فرانس کی طرح بپھرے ہوئے لوگ ہر نرم ہاتھوں والے کو موت کے گاقٹ اتار دینے کو آمادہ ہوجائيں گے اور میں اور آپ جانتے ہيں کہ بہرحال قلم کاروں کے ہاتھ نرم ہوتے ہيں ۔چوہدری صاحب لاکھوں قاری بنا لینا،ہزاروں افراد کو فیس بک پر اپنا ہمنوا بنا کر مسرت حاصل کر لینا ،ہر کالم پر بیسیوں تعریفی ایس ایم ایس اور کالز اٹینڈ کر لینا اور اپنے سرکاری دوروں کی کہانیاں بیان کر کے دیگر بیسیوں لکھاریوں کے دلوں میں چٹکیاں کاٹ لینا محض ذاتی نفسیاتی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے، قوم کے دکھوں کا مداوا نہيں ۔منہ اور قلم کی کمائی کھانے کے بجائے عمل کی کمائی کھانا زیادہ مشکل ہے۔

چوہدری صاحب قوم کو بتائیے کہ کوئی پروفیسر نجم الدین اربکان ،شیخ احمد یاسین ، ماؤزے تنگ یا لینن اور مارکس کس طرح پیدا ہوگا ؟نہيں تو کس طرح کوئی Collective Wisdom کے ادارے اس کی جگہ لے سکیں گے ؟ کیسے کامیابی کے کوئی خاکے بن سکیں گے ۔؟ کیسے کوئی راہ نجات نظر آ سکے گی؟ کوئی اسٹریٹجک پلاننگ ہوسکے گی ؟

چوہدری صاحب کچھ تو بتائیے کہ قوم کا کوئی گروہ کیسے قوم کی کردار اور ذہن سازی کر سکتا ہے ؟کیسے اصلاح معاشرہ اور اصلاح حکومت کا کام ممکن ہے؟ کیسے اس نظام خون آشام کی سیاہ رات ڈھل کر کسی امن ، آشتی اور آسودگی کی صبح بن سکتی ہے۔

 چوہدری صاحب ۔ مشرق و مغرب آپ کی عملی بیداری کو ترس رہے ہیں ، چوہدری صاحب آپ کے پاس ان کے لیے تریاق ہے اور یہ سب مارگزیدہ ، یہ اندھے اور آپ بینا ، آپ کے ہاتھوں میں چراغ ہے اور یہ اندھیروں کا شکار ۔اکر آپ جیسے لوگ علم تقویٰ اور کامیابی کا کوئی واضح منصوبہ نہيں دیں گے تو یاد رکھیں کہ پھر عزت و شرف کی ساری پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جائيں گیں۔

 چوہدری صاحب خدا کے لیے ! واضح اہداف ، مؤثر منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی سے اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ !

 کوئی امید !

 کوئی حوصلہ !

کوئی منصوبہ!

 کچھ تو دیجیے ؟

Advertisements

مشکوک پارسل اور امریکی انتخاب

امریکا میں دو نومبر کو ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخآبات سے پہلے انتیس اکتوبر کو اچانک امریکی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور اس کی وجہ لندن میں امریکا آنے والے طیارے سے مشتبہ دھماکا خیز پیکٹ کی موجودگی بتائی گئی ۔۔۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ مشتبہ پیکٹ ۔۔۔ ایسٹ مڈلینڈ ہوائی اڈے ۔۔۔ سے برآمد ہوا تھا ۔۔۔۔ دبئی پولیس نے بھی امریکا آنے والے طیارے سے مشتبہ پیکٹ برآمد کیا ۔۔۔ اور اس میں دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق کردی ۔۔۔۔ امارات ایئرلائن کے مطابق یہ پیکٹس یمن سے کارگو کئے گئے تھے ۔۔۔ اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان پر شکاگو کی یہودی عبادت خانوں کو پتا درج ہے ۔۔۔۔

اس پوری صورت حال کو امریکی اور برطانوی نشریاتی اداروں نے دکھایا ۔۔۔ اس کے ساتھ اگلے دن امریکی اور برطانوی اخبارات میں اس خبر کو شہہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا ۔۔ مغربی میڈیا کی مشترکہ سرخی یہی تھی کہ بم پھٹنے کی صورت میں طیارہ فضا میں تباہ ہوسکتا تھا ۔۔۔ اور اس کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے

امریکی صدر نے اس سازش کا الزام جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ کو قرار دیا ۔۔ اور بتایا کہ اس منصوبے کے بارے میں سعودی عرب نے امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا ۔۔۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اکتوبر میں ہی یورپی ممالک میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی اطلاع بھی سعودی انٹیلی جنس نے ہی دی تھی ۔۔۔ اس معاملے پر امریکی صدر براک اوباما نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کو ٹیلی فون کرکے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔۔۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔۔۔

مشتبہ پیکٹس کے معاملے پر یمن میں سکیورٹی کریک ڈاون شروع ہوگیا ہے اور چھبیس مشتبہ پیکٹس قبضے میں لے لئے گئے ہیں۔۔ اور ایک خاتون کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔۔۔ جبکہ فیڈیکس اور یو پی ایس نے یمن سے گارکو اٹھانا بند کر دیا ہے۔

امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس حکام اگرچہ پارسل دھماکوں کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر اور نائجیریئن شہری عبدالمطلب کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائی جیسی کوشش قرار دے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن امریکی انتخابات سے پہلے اس قسم کی کارروائیوں میں اضافے کو بعض حلقے معنی خیز تصور کرتے ہیں ۔۔ اور اسے امریکی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ جو پارسل بم برآمد ہوئے ہیں ۔۔ ان کی تصاویر تو جاری کردی گئیں ۔۔ لیکن ان پارسل پر تحریر کردہ پتے میڈیا پر کہیں نظر نہیں آئے۔۔۔۔۔

اسرائیل ان پاکستان

تحریر:شاہد عباسی

Israel in Pakistanخون کی قیمت پرمحبت کے زمزمے بہانے کی ایک نئی کوشش

”جب تک اسرائیل اور پاکستان کے درمیان معمول کے ڈپلومیٹک تعلقات پیدا نہیں ہو جاتے ۔یہ آن لائن ایمبیسی اسرائیل اورپاکستان کی اقوام کے درمیان دوستی بڑھانے کا کام کرے گی۔امید ہے کہ ہم جلد ہی پاکستان اور اسرائیل میں حقیقی سفارت خانے قائم کر لیں گے،شالوم“یہ الفاظ مستقبل میںکیا منظر تشکیل دیں دے،شاید اس کے متعلق اس وقت کوئی اندازہ لگانا قنبل ازوقت ہو،لیکن جو بات طے ہے وہ یہ کہ ان لفظوں کا خالق یا اس پس پشت سرگرم گروہ آئندہ کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی رکھتا ہے۔

زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے ہر لمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے خواہاں بھارت سے دیرینہ دشمنی کی پینگیں بڑھانا اب گویا حکمرانوں اورمخصوص طبقات کا شوق سا بن گیا ہے۔لیکن یہ معاملات کبھی بھی مصنوعیت سے آگے بڑھ کر عوامی پزیرائی حاصل نہ کر پائے تھے۔متعلقہ اداروں،تنظیموں اورافراد کی جانب سے ان فالتو کی مشقوں کا خاطر خواہ نوٹس نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب معاملہ پاک،بھارت نہیں بلکہ پاک اسرائیل دوستی تک جا پہنچا ہے۔اس کے لئے مشرف دور کی طرح حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے ایک خالصتا عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہراس گروپ کو سپورٹ کی جائے یا ان کے عشق میں مبتلا رہا جائے جو ملک کی اساس کا مخالف ہو،یہ پاکستانی عوام نے تو نہیں تا ہم حکمرانوں نے اپنا نصب العین بنائے رکھاہے۔باوجودیکہ اس پالیسی نے آج تک ملک کو کوئی فائدہ نہیں دیا،ارباب اختیار اسے ہی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔1965ءمیںعین حالت جنگ میں امریکہ کی بے وفائی سامنے ہونے کے باوجود ہر ہر قدم پر اپنے دیرینہ دوست چین کو مایوس کیا گیا،دنیا کے دوتہائی وسائل کے مالک مسلم ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے روس،فرانس وغیرہ کی صورت بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔حتی کہ ایڈہاک ازم پر مبنی ا س پالیسی نے یہ دن دکھا دئے کہ سینکڑوں میل طویل مغربی سرحدی پٹی جس پر کبھی ایک سپاہی کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کا ٹھکانہ بنا دی گئی۔


حالیہ واقعہ جو ایسے ہی اقدامات کا تسلسل ہے میں اسرائیل کو پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے انٹرنیٹ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وہ اسرائیل جس نے بلوچستان کی شورش ہویامشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دلگداز سانحہ،مقبوضہ کمشیر میں بھارت کی کھلے چھپے امداد کر کے تحریک آزادی کو سبوتاژکرنے کا معاملہ ہو یاافغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش،ہر موقع پر دامے،درمے،سخنے آگے بڑھ کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بنائے گئے صفحہ کا نام”Israel in Pakistan“رکھا گیا ہے۔اس پر کچھ شرکاءنے اعتراض بھی کیا کہ اسے تبدیل کر کے ”Israel and Pakistan“رکھا جائے تا ہم منتظمین نے ضعیفی کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔مذکورہ صفحہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے عالمی توسیع کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں وہ (خام بدہن)اپنی سرحدوں کو اس حد تک پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمان کے بھی مقدس ترین مقامات ”مکہ ومدینہ“کو بھی اپنے اندر سمو لے۔

اسی نام سے ملتے جلتے صفحات ”اسرائیل ان یورپ،امریکا،ایشیا،یو این،افریقہ“کے لئے بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر چہ ان صفحات کو بنانے والوں نے خود ”اسرائیلی سفارت خانوں“سے تعبیر کیا ہے ۔تاہم سفارت کاری ہے کیا،ایک مثال اس کی بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔مذکورہ بالا صفھات میں سے اکثر پر رجسٹرڈ ہونے کے ناطے ممکنہ طور پر ان کے منتظمین میں سے ایک یا کم از کم ان کی ایماءپر ایک اسرائیلی بل بزلی ہرزہ سرائی کرتا ہے”تم (مسلمان)ذہنی طور پر پسماندہ ہو،محمد(ﷺ،نعوذباللہ)ایک صحرائی لٹیرے تھے،جس نے نہ کبھی لکھا نہ پڑھا،(قرآن کے متعلق لکھتاہے)اس کی یہودی بیوی صفیہ بنت حیان کے لئے لکحا کرتی تحی جسے وہ ایک یہودی قبیلے سے سترہ برس کی عمر میں اغواءکر کے لے آئے تھے(اگر چہ مزکورہ بالاجملے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے تا ہم اس کے بعد کی کچھ سطریں معاذاللہ رحمت للعالمینﷺ پر انتہائی گھناﺅنے الزامات پر مشتمل ہونے کے سبب نقل کرنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔حذف کر دئے گئے جملوں کے بعدآگے کی عبارت ہے)تم مسلمان اس لئے اندھیروں میں زندہ ہو کے تم ایک ایسے ان پڑھ کی پیروی کرتے ہو جو خدا کی جانب سے اس وقت رہنمائی ملنے کا دعوی کرتاتھا جب سب سو رہے ہوتے تھے“

Israels effort to friendship with PAkistan and muslim countries .but on wich cost

پاکستان اور مسلم ممالک سے اسرائیلی تعلقات کے قیم کی کوشش مگر کس قیمت پر

راقم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ”جے ٹی اے“نامی نیوز سے وابستہ ادارہ اس امیج بلڈنگ مہم کو چلانے پر مامور کیا گیا ہے۔نیویارک کے مشہور زمانہ سیونتھ ایونیوپر واقع صدر دفتر کے ساتھ مذکورہ ادارہ واشنگٹن ڈی سی کے ورمونٹ ایونیو پر بھی اعلانیہ دفتر رکھتا ہے ،جب کہ دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹرز اورنمائندوں کے نام پر اپنا خفیہ اوراعلانیہ نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔یہودیوں کے لئے عالمی نیوزسروس کی ٹیگ لائن رکھنے والے اس ادارے کے نمائندے یروشلم،ماسکوسمیت دنیا کے درجنوں بڑے شہروں میں موجود ہیں۔دنیا بھر کے 100سے زائد نمایاں اداروں یہودی اشاعتی اداروں کو اس کی نیوزسروس مہیا کی جاتی ہے۔اگر چہ جے ٹی اے اپنے آپ کو ایک Not for Profitادارے کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم وہ اپنی آمدن کے متعلق کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ماسوائے ورلڈزوئینسٹ آرگنائزیشن اور اس جیسے کچھ خالصت ایہودی اداروں کو اپنا فنڈنگ سورس ظاہر کرنے کے تاہم یہ اکلوتا ادارہ نہیں جو اس مہم کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔

اسرائیل ان پاکستان نامی گروپ کے موثر ہونے کا اندازہ ان کے ایک پوسٹ پر دئے گئے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایڈمن ایک ممبر کے پاکستانی ہو کر اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے”چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رکھا اس لئے آپ اپنے قریبی سفارت خانے(دہلی،بھارت)سے رابطہ کریں انیں درخواست دیں وہ ویزہ جاری کر دیں گے“

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جو کام حکومتوں حتی کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں سے نہ ہو سکا وہ اب نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی یہ کوشش حسب سابق انسانی حقوق اوربرابری کے نام نہاد نعروں کے گرد رہ کر کی جا رہی ہے تا ہم ایسا کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نام نہاد”ہولوکاسٹ“کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے،بچوں کو تہہ تیغ،عورتوں کی عزت لوٹنے اورمسلم بزرگوں حتہ کہ معذوروں تک کو زندہ رہنے کا حق نہ دینے والا اسرائیل اچانک سے انسانی حقوق کا اتنا بڑا علمبردار کیسے بن گیا۔

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

مریم کی روزہ کُشائی

حامد الرحمن

 60 سال کے لگ بھگ عمر رسیدہ خاتون کمرے سے نکل کر برآمدے میں داخل ہوئیں۔ ایک بوڑھی اور مجبور ماں کے چہرے پر جدائی کے آثار نمایاں تھے لیکن ممتا کی آنکھوں میں موجود امید کی کرن دل شکستہ افراد کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔ بچے کو معمولی سی چوٹ لگ جائے تو ماں کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ اولاد کی جدائی کا غم انسان کو اندر ہی اندر گھلائے جاتا ہے۔ عمر رسیدہ خاتون صبر اور استقامت کا پہاڑ تھی۔

 نانی کے ہمراہ 10 سالہ بچی بھی موجود تھی جس کی روزہ کشائی کے لیے یہ سادہ سی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ شاید نانی کے صبر اور حوصلے نے اس معصوم سی بچی کو بھی پہاڑ جیسا حوصلہ اور عزم عطا کردیا تھا۔ روزہ کشائی کی اس سادہ سی تقریب نے ممتا کی جدائی کے زخم ایک بار پھر تازہ کردیئے۔

Maryam daughter of Dr Afia Siddiqui


 

 

 

 

 

 

 

 

 

جی ہاں! یہ وہی مریم ہے جسے 30 مارچ 2003ءکو کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے قوم کے ”محافظوں“ نے والدہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دو بھائیوں کے ہمراہ اغوا کرلیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی…. پاکستانی ضمیر پر ایک بہت بڑا سوال ہیں۔

 قوم کی عزت مآب بیٹی آج جس حال میں ہے وہ غیرت مندوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن کیا ہم غفلت کی اتنی گہری نیند سوچکے ہیں کہ بڑے سے بڑے سانحات اور حادثات بھی ہمیں بیدار نہیں کرسکتے؟ یا ذلت کی اس پستی میں پہنچ چکے ہیں جہاں غیرت اور عزت جیسے الفاظ بھی بے معنی ہوں؟ آج قوم کی بیٹی جس حال میں ہے کوئی بھی غیرت مند اپنی بیٹی اور بہن کو اس حال میں دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ آج عافیہ صدیقی ایک اور محمد بن قاسم کی منتظر ہے۔

MAryam daughter of Dr Afia siddiqui


 

 

 

 

 

 

 

 

 

مریم نے ایسے حالات میں اپنی زندگی کا پہلا روزہ رکھا ہے جب ان کی والدہ سے اسکارف اور قرآن چھین لیا گیا ہے، روزہ رکھنے اور نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، قید ِ تنہائی کے نام پر وکیل اور خاندان کے افراد سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مریم سے اس کی ماں چھین لی گئی ہے۔ مریم کی آنکھوں میں آج صرف ایک ہی سوال ہے: کیا اس کی مما واپس آئیں گی، کیا اسے ممتا کی آغوش ملے گی؟ مریم کا یہ سوال حکومت سمیت ہر پاکستانی پر قرض ہے۔

 ڈاکٹر عافیہ کے گھر سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور ابوالحسن اصفہانی روڈ موڑ کاٹتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر آگیا۔ سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں، ہر طرف رواں دواں زندگی کا شور…. آخر ہم کب بیدار ہوں گے؟ یکدم میرے ذہن میں سوال ابھرا: کیا ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ سانحات در سانحات بھی ہمیں بیدار نہیں کرسکتے؟

یونیورسٹی روڈ پر اشارے کی لال ہوتی ہوئی بتی نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا۔ کیا ہم آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں؟ میں لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم پر نظریں ڈالتے ہوئے بڑبڑایا۔ لیکن یہ لاپتا افراد کے والدین در در کی ٹھوکریں کیوں کھا رہے ہیں؟ آخر ان کے بیٹوں اور بزرگوں کو کس نے ڈالروں کے عوض بیچ ڈالا؟ شاید ہم 63 سال بعد بھی آزاد نہیں۔

  

حادثے سے بڑا سانحہ

تحریر : حامد الرحمٰن
(خلوت میں خیالات کی بزم سجتی ہے، فکر کا چراغ جلتا ہے ۔ بات سے بات نکلتی ہے ۔ جو ذات سے شروع ہو کر کائنات تک پھیل جاتی ہے چونکہ دل سے نکلتی ہے اس لئے دلوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ جو دور ہوتے ہیں وہ شریک محفل ہو جاتے ہیں اور جو شریک ِ محفل ہوتے ہیں وہ رونق محفل بن جاتے ہیں یہی خلوت کا حاصل ہے۔ یہی حاصل ہے بات سے بات نامی اس نئے سلسلہ کا جو ہم اپنے قارئین کے لئے لائے ہیں)
ہمارے ایک ہر دل عزیز دوست ناصر محمود نے ملک میں ایمر جنسی کے وقت کہا تھا کہ ایمرجنسی اور پی سی او کا مطلب ہے مارشل لائ…. مارشل لاءکا مفہوم ہے لاقانونیت اور جہاں لا قانونیت ہوتی ہے وہاں جنگل کا قانون رائج ہوتا ہے جس کا سیدھا سادھا مطلب ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس….لیکن مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس ملک میں اب تک لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے ، یہاں کبھی جمہویرت آئی ہی نہیں ، عوام کال انعام کو کبھی ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے باڑے میں باندھ دیا جاتا ہے تو کبھی جمہوریت کے طویلے میں ،قصائی کے بکرے کی طرح پاکستان عوام منمنا کر چپ ہو جاتے ہیں۔مارشل لائی اور جمہوری چھریاں چلتی ہیں اور چلتی چلی جاتی ہیں۔ہم نے تو یہی دیکھا ہے اور دیکھتے آرہے ہیں کہ اس ملک میں یا تو براہِ راست آمریت مسلط رہی ہے یا جمہوریت کے لبادے میں بھی آمریت اور مارشل لاءہی آیا ہے ۔اس ملک میں جنگل ہی کا قانون رائج ہے حکمران اور ایجنسیاں جب چاہیں شہریوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔یوں لگتا ہے گزشتہ 63برسوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہو بلکہ اب تو یہ ایک بین الاقوامی کھیل بن چکا ہے جس میں امریکہ سمیت عالمی طاقتیں براہِ راست شریک ہیں ۔ اس کھیل میں پاکستان ایک کھلونا بن چکا ہے اور پوری پاکستانی قوم تماشائی ….پوری دنیا منہ میں انگلیاں دبائے حیرت سے محوِ تماشا ہے ۔ عدل و انساف اور آئین و قانون سبھی بازی گروں کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے۔
15اگست کو سیالکوٹ (ڈسکہ) میں درندگی اور سفاکیت کا جواجتماعی مظاہرہ ہوا اس کے کیمروں سے فلمائے گئے ویڈیو مناظر یقیناََ آپ نے بھی دیکھیں ہونگے اور ََ کوسوں میل دور بیٹھےآپ بھی ذہنی ہیجان کا شکار ہونگے۔ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظرنے سانحہ مشرقی تیمور کی یاد تازہ کردی ۔ درجنوں افراد کے مجمع میں 8سے 12 افراد مغیث اور منیب کو ڈنڈوں اور لوہے کی راڈوں سے بہیمانہ طریقے سے 2گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔ دونوں بھائیوں کو ریسکیو آفس کے سامنے وحشیانہ اور سفاکانہ طریقے سے قتل کردیا گیاعام حادثات میں پنجاب بھر میں کسی بھی جگہ 7منٹ میں متاثرہ مقام پر پہنچے کے دعویدار اپنے دفتر کے سامنے دو بھائیوں کی جان نہ بچا سکے اُلٹا پولیس کے ساتھ اس کھیل میں باقاعدہ شریک رہے۔عوام کا جمِ غفیر محض تماشائی بنے کھڑے رہے اور بعض وہ بھی تھے جو ان مناظر کی موبائل کیمروں سے عکس بندی کرتے رہے۔

ڈسکہمیں پیش آنے والے اس واقعے کو سفاکیت کہا جائے یا وحشت و بربریت کی زندہ مثال ۔ شاید اجتماعی بے حسی کے اس واقعے پر یہ الفاظ بھی ہیچ ثابت ہوں۔ اس واقعے نے جہاں پولیس کی کارکردگی کو ایک بار پھر عیاں کیا ہے وہیں ریسکیو 1122کی کارردگی بھی سوالیہ نشان ہے ۔ قوم کے زخموں پر مرحم رکھنے والے یہ امدادی کارکن اس وحشیانہ کھیل کا کیوں کر حصہ بن گئے ۔ اس واقعے سے قوم کی اجتماعی بے حسی کی تصویر بھی سامنے آئی ہے ۔جو قوموں کے لئے زہر ہلاہل ہے۔ ایسی ہی بے حسی پر عنایت علی خاں نے بہت پہلے کہا تھا ۔
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہو ا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
اس ملک میں ہونے والے پے در پے حادثات و سانحات نے قوم کو بے حس کر دیا ہے اور یہ بے حسی انفرادی حیثیت سے بڑھ کر اجتماعی شکل اختیار کر چکی ہے۔مارشل لائ، جامعہ حفصہ و لال مسجد، 12مئی ، 9اپریل یہ ملک سانحات کا ملک لگنے لگا ہے ہر صبح ایک نیا سانحہ جنم لیتا ہے۔ شاید ایسے ہی کسی موقع کے لئے محسن بھوپالی یا محسن نقوی کہہ گئے تھے۔
تماشا تکتی رہی دنیا ہماری موت کا محسن
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
اس پورے واقعے میں پولیس کے ذمہ داران موقعہ پر موجود رہے۔ حیرت انگیز بات جوسامنے آئی ہے وہ یہ کہ واقعہ میں ملوث افراد نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے کہا تھا کہ مارو ہم اسے پولیس مقابلہ ظاہر کردیں گے۔ آخر اس ملک سے ان مبینہ پولیس مقابلوں کی ریت کب ختم ہو گی۔  ۔اس دلدوز واقعے کی جتنی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ مجمع میں کھڑے تماشا تکنے والوں پر عائد ہوتی ہے ۔

مذکورہ واقعہ کا چیف جسٹس جناب چوہدری افتخار نے از خود نوٹس لے لیا ہے لیکن کیا مجرم پکڑے جائیں گے؟ اور کیا پولیس کے ذمہ داران کو سزا مل پائی گی۔ اسلام کی رو سے تو مارنے والے اور تماشا دیکھنے والے دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور ویسے دونوںبھائیوں کے قتل کی براہِ راست ذمہ داری ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے ۔لیکن اس ملک میں مجرموں کو سزا کب ملی ہے ماضی کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس اور بااثر افراد کے خلاف کاروائی کی توقع عبث ہے۔

مجھے میرے ایک دوست نے ایس ایم ایس کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ” پاکستانی قوم میں شعور کب آئے گا کہ وہ اپنے حق کے لئے کب بیدار ہونگے اور کبھی ایسے حکمرانوں کو سر عام سنگسار کریں گے“

Children for Sale: Trafficking by Foreign Embassies

Report: Tariq Habib

Solid evidences have revealed that foreign embassies in Pakistan are involved in illegal child trafficking. NGOs sponsored and supported by foreign embassies are adopting new born Pakistani Muslim children and sending them abroad, whereas local welfare organizations are also involved in the crime. According to Pakistan’s law, non-Muslims cannot adopt Muslims.

However, reality speaks differently. A foreign couple employed in a foreign embassy holding Passport No. 19124346 and 19124345 adopted a 6 month old child Zara Bilquis from a renowned welfare organization. The welfare organization permitted that the child can be migrated to another country after adoption.


However, serious mismatching of facts was revealed when the documents where reviewed in detail. The documents state that the child was adopted by the couple on August 21, 2009, whereas, birth certificate of the child K00680496 was prepared a month earlier on July 27, 2009 and the name of couple was already mentioned as parents instead of original parents.

An important source relating to the case told The Eastern Tribune that in the last two decades, more than 40,000 Muslim children have been smuggled from Pakistan. The source claimed that these children are converted to Christianity and can be used against the interest of Pakistan. Several incidents of child trafficking by foreign NGOs were also reported right after the 2005 earthquake in the northern areas of Pakistan. “These NGOs take advantage of the IR-4 visa classification of the United States,” the source claimed.

The IR-4 visa classification signifies that the orphan will be adopted by the petitioner after being admitted to the United States.  In order to issue an IR-4 visa, the consular officer must be satisfied that the petitioner both intends to adopt the beneficiary in the U.S. and is legally able to do so.  The petitioner must have secured permanent legal custody of the orphan under the laws of the orphan’s home country.  That custody must be sufficient to allow the child to be taken from the country and adopted abroad.  In addition, the petitioner must have fulfilled any applicable pre-adoption requirements of their home state.

However, none of the requirements were followed when these foreign NGOs adopted new born children in Pakistan and smuggled them abroad. Sources also revealed that the Government of Pakistan does not even have correct facts and figures regarding the adopted children by foreign NGOs, leave aside the violation of Pakistani and international law.

عائشہ،ٹائم میگزین اورنئی صف بندی

تحریر:شاہد عباسی

"وہ بہت سی دیگر راتوں کی طرح ایک تاریک رات تھی ،حالات کی خرابی اور آدھی رات گزر جانے کے باعث پوراگائوں سوچکا تا  لیکن ارژگان صوبے کی اس بستی کے ایک گھر میں ابھی تک روشنی نظر آ رہی تھی۔اہلخانہ کے جذبات دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ غصے میں ہیں یا جھنجھلاہٹ کے مارے ان کی یہ حالت غیرہو رہی ہے۔یہ کیفیت خاصی دیر سےبرقرار تھی کہ اچانک دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز آئی ،جس نے سب کو مزید پریشان کر دیا مگر کوئی گنجائش نہ پاتے ہوئے اہلخانہ کی جانب سے دروازہ کھولا گیا توآنے والوںنے حکم جاری کیا "عائشہ”کے سسرالی اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر آئے ہیں۔اسے بلایا جائے،یہ اعلان نشر کر کے انتظار کرنے کے بجائے بے وقت آنے والے اس وفد کے سربراہ نے وہاں کھڑے کھڑے اپنا فیصلہ سنایاکہ "عائشہ اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر آئی ہے ،اس کا یہ اقدام قابل سزا ہے لہذااسے سامنے لایا جائے”۔یہ کہہ کر وہ گھر کے اندرداخل ہوئے ،عائشہ کو دبوچا اور اس حالت میں کہ اس کے بازو اسی کے دیور نے پکڑ رکھے تھے،منصف کی موجودگی میںاس کے شوہر نے پہلے کان اور پھر اس کی ناک کان ڈالی۔اس گھنائونی کارروائی میں ملوث افراد کے گروہ کی قیادت کرنے والے منصف کو مقامی طالبان لیڈر کے طور پر شناخت کیا گیا۔”


گزشتہ برس کی جانے والی یہ مبینہ کارروائی امریکی جریدہ ٹائم کی نو اگست کی اشاعت میں شائع ہونے والے شمارے کی کور اسٹوری ہے جس کے ساتھ [عائشہ]نامی ایک لڑکی کی تصویر بھی دی گئی ہے۔ٹائم کے رائٹر آریان بیکرکے بقول [عائشہ]اپنے شوہر کے گھر سے بھاگ کر بوجوہ اپنے والدین کے پاس آ گئی تیہ لیکن اسے وہآں بھی امن سے رہنے نہیں دیاگیا ۔اسٹوری کی ہائی لائٹس کے ساتھ ہی ٹائم کے مینیجنگ ایڈیٹررچرڈ اسٹینگلز کا قارئین کے نام یہ پیغام موجود ہے کہ ‘یہ واقعہ دس برس قبل طالبان کے دور حکومت میں پیش نہیں آیا بلکہ ایک برس قبل پیش آیا ہے’،ظلم کا شکار عائشہ ان کے بقول اس وقت کابل کے ایک خفیہ خواتین مرکز میں رہائش پزیرہے’۔

رچرڈنے اتنا لکھنے کے بعد براہ راست کرزئی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘گزشتہ مہینے ہی مصالحتی کونسل بنانے اورطالبان سے مفاہمت کے لئے نئے سرے سے تیاریاں کرنے والی کرزئی انتظامیہ کو یہ بات یاد کیوں نہیہں رہتی کہ

What Happens If We Leave Afghanistan’

اور یہی جملہ "عائشہ "نامی نوجوان لڑکی کی تصویرکے ہمراہ آئندہ ہفتے[8اگست کو]شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے سرورق کی زینت بھی بنایا گیا ہے۔” مصنف کو یہ شکایت بھی ہے کہ”اگر امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں افغانستان سے نکلنے کے لئے پلنے والے منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وہاں سے فوج کو واپس بلا لیا جاتا ہے تو افغان خواتین سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔ان میں سے بدکاری میں ملوث عورتوں کو پھر سنگسار کیاجائے گااوربغیر پردہ کے باہر نکلنے والیوں کو پردہ کی پابندی کروائی جائے گی”۔

عائشہ کے ساتھ بیتنے والا واقعہ اگر سچا ہے اور اس میں سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو جیسا کوئی پھندا موجود نہیں تو یقینا یہ ایک گھنائونا کام ہے،خواہ سے انجام دینے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو۔لیکن ٹائم جیسے میگزین کی جانب سے جسے مشہور زمانہ صیہونی ملکیتی ادارے سی این این کی پشت پناہی بھی حاصل ہےموجود وقت میں یہ اسٹوری سامنے لانا اور اس انداز میں واضح پیغام دینا کچھ اور ہی جتلا رہا ہے۔

مغربی میڈیا باالخصوص بلاگز اور ویب سائٹس پربرملا یہ تبصرے کئے جا رہے ہیں کہ ٹائم نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے منصوبے اور طالبان سے مفاہمت کے متعلق جاری بحث کو منطقی انجام تک پنچا دیا ہے۔جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ کو طالبان سے مذاکرات اور افغانستان سے فوج نکالنے کی "حماقت”کرنے کے بجائے پہلے سے ذیادہ سنگین قدم اٹھانا چاہئے۔

معاملہ محض ٹائم کی اسٹوری تک رہتا تو شایداتنا گھمبیر نہ ہوتا مگرچند روز قبل وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے خفیہ کاغذات،دو روز قبل پوسٹ کی گئی پراسرار انشورنس فائل اور اس تمام واقعے میں پاکستان اور خاص طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو مشکوک بنا کر پیش کرنا اس امر کی نا ندہی کرتا ہے کہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں جسے عورتوں کے حقوق کی حفاظت قرار دے کر ہضم کر لیا جائے[اگر یہ حقیقت میں عورت کے حق کی حفاظت ہوتی تو بھی گورا ہو سکتا تھا،لیکن یہ ہاتھی دانت دکھ رہے ہیں،جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں]۔

برطانیہ کی جانب سے حال ہی میںمسئلہ کشمیر کو اپنا پیدا کردہ مسئلہ تسلیم کرنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے بھارت کی زبان بولتے ہوئے افغان حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا،دہشت گردی کو ہماری ریاستی پالیسی قرار دے کر امورٹ بند کرنے کا مشورہ،چند ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور خصوصی ایلچی رچرڈ ہارلبروک کی موجودگی میں بھارت کو تجارتی راہداری مہیا کرنے کا ہنگامی معاہدہ کروانا،امریکہ کی جانب سے بھارت کو نیو کلئیر ٹیکنالوجی کی فراہمی کے چھ معاہدے ایک ہی روز طے پانا،تمام تر احتجاج کے باوجود آئی ایس آئی کے اعلی سطحی وفد کی جانب سےڈیوڈکیمرون کے روئے پر برطانیہ جانے سے انکارمگر صدرمملکت کی جانب سے اقرار،جولائی کے مہینے میں افغانستان میںبڑھتی مزاحمت کے نتیجے میں66امریکی فوجیوں کی ہلاکت،شمالی علاقوں میں اچانک بڑھ جانے والے ڈرون حملوں ،اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے متعلق امریکی حکام کے بیانات،بلوچستان کی شورش میں اضافے،قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں سے پیدا ہونے والے ردعمل کو پاکستان کی ایٹمی قوت عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی دھمکی قرار دینے،اوباما کی جانب سے الیکشن میں افغان جنگ ختم کرنے کے وعدے سے لے کر سترہ ہزار اور بائیس ہزار مزید فوجی یہاں بھیجنے کے اعلان کے بعد اس جنگ کو اوباما کی جنگ قرار دینے کی قلابازی،کینیڈا کے افغانستان میں سابق سفیر اور اقوام متدرہ مشن کے ڈپٹی کرس الیگزینڈر کی جانب سے جنرل کیانی کی سربراہی میں پاکتاینی فوج کو بلوچستان کی شورش پر قابو پانے،انڈیا کو افغانستان سے نکالنے اور قبائیلیوں کو رام کرنے کے لئے گوریلا جنگجوئوں کی حمایت اورانہیں اسپانسر کرنے کے پرانے دعوے کے ازسرنو دہرائے جانے،فروری میں ملابرادر وغیرہ کی گرفتاری کو ان کے امریکہ کی جانب جھکائو اور پاکستانی فوج کے اثر سے آذاد ہو جانے سے تعبیر کرنے،بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امریکی ایماء پر آپریشن سے پاکستان فوج کے انکارکو امارت اسلامی افغانستان کا بچائو قرار دینے،اور ان تمام واقعات کے نتیجے کے طور پر اتحادیوں کی جانب سے "سنجیدہ کارروائی”کا مطالبہ اپنے اندر اتنی کچھ معنویت ضرور رکھتا ہے جو سرسری نظر ڈالنے والے کو بھی بہت کچھ سمجھا جائے۔


ٹائم میگزین کی جانب سے اٹھارہ سالہ عائشہ کو اپنے سرورق کی زینت بنانا اور اس پر بیتنے والے المیہ لمحات کا ذکر افسوسناک ہی نہیں اپنے اندر بہت سارے سوال بھی رکھتا ہے۔جن کا جواب آج نہیں تو کل ان سب کو دینا ہو گا جو اپنے اپنے مفاد کے لئے ایک کام کو جائزیانارروا قرار دیتے ہیں مگر جب اس سے ان کے کسی مخالف کو فائدہ پہنچے تو اسے یکلخت حرام یاپھرقابل قبول قرار دے ڈالتے ہیں۔اور اس سارے مرحلے میں دلچسپ ترین بات یہ ہوتی ہے کہ ہر لمحہ دو انتہائوں پررہنے والے انتہاپسندی کاالزام بھی اپنے مخالفین یعنی مسلمانوں پر لگاتے ہیں

عورت ہی نہیںدنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والی کوئی بھی ذی روح مخلوق یقینا اس لائق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے،ادب واحترام روا رکھا جائے،جسمانی تشدد دور کی بات اس کے متعلق نازیبا کلمات تک کہنے سے قبل ہی اپنی زبانوں اور سوچوں پر پہرے بٹھالئے جائیں۔ خرابی پید اہو جانے کے بعد مرض کی روک تھام کے نام پر خرابہ پیدا کرنے کے بجائے تعلقات پہلے ہی فطری حدوں میں رکھے جائیں۔لیکن نہ جانے کیوں یہاں آ کر ذہن امریکی پالیسی سازوں کی منطق پر حیران ہوتا ہے جو میڈیا کے زور پر مہم چلا کر "عائشہ”کے نام پر افغانستان میں جاری بونا اپارٹازم[سفاکیت کے لئے استعمال ہونے والی مغربی اصطلاح} کو تو جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر اسی کی ہم مذہب”عافیہ”کے ساتھ خود اس سے بھی ذیادہ "سلوک” روا رکھتے ہیں۔ افغانستان میں مبینہ طالبان کی جانب سے کئے گئے”کارنامے”کی نشاندہی تو ٹائم نے کردی،جس کی تردید یا تائید میںفریق مخالف کی کوئی رائے موجو دہی نہیں جو ان پر فرد جرم عائد کر سکے۔مگر سب کے سامنے کئے گئے اس کارنامے کے متعلق کیا کہاجائے جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ سے اغواء کے بعد،بگرام ائیر بیس،قندھار جیل،امریکی عدالت اورزنداںنمانفسیاتی مرکز میں عافیہ پر روا رکھا گیا،وہ جرم پس پردہ سہی مگر یہ تو سردیوارہوا ہے ۔

اس پر کیا ٹائم اپنے آقائوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ جب تک امریکی عدالتوں سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی،عام امریکی نفسیاتی امراض سے جان نہیں چھڑاتا،ملک پر عائد قرض،لاقانونیت،ہر بارہویں منٹ میں ہونے والی ڈکیتی،ہر نصف گھنٹے  میں لٹنے والی کسی عورت کی عزت،بغیر شادی کے ماں بننے والی18برس سے کم عمر لڑکیو ں کا تناسب کم نہیں ہو جاتا ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔یقینا ایسا ہونا مشکل ہے تا ہم پھر بھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سب کو نظر آنے والی وہ تصویر جس میں امریکا خود مجرم نظر آتا ہے جب تک دھندلاہٹ سے پاک نہیں کر لی جاتی اس تصویر کے کسی ایک رنگ کی موجودگی پر دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

بعید نہیں کہ عالمی اداروں اور امریکی تھنک ٹینکس کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق امریکی معاشرے میں پنپنے والے قبیح جرائم پر جس روز وہاں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دنیا کے تمام ممالک کی عوام اپنے لئے انصاف ڈھونڈنے کو خود ہی اٹھ کھڑے ہوں۔

یا پھراسے روسی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار اورماسکو کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ماہر کی پیشنگوئی کے مطابق آئندہ برس امریکے کے ٹکڑے ہونے سے تعبیر کر کے خاموشی سے دیکھا جاتا رہے۔

معاملہ جس کروٹ بھی بیٹھےکے یہ طے ہے کہ فیصلہ کرنا ہی ہو گا ،ورنہ آج اگر اسے ٹالا گیا تو کل شاید یہ زبردستی کرنا پڑے ،مگر اس وقت اختیار نہیں مجبوری سے کیا جائے گا۔فیصلہ اب ان کے ہاتھوں میں ہے،اختیار یا مجبوری۔۔۔۔؟؟؟

%d bloggers like this: