Posts Tagged ‘حکومت پاکستان، ای پی آئی، ہیپاٹائٹس، وزیر اعظم’

ہیپاٹائٹس پروگرام یا ناکامی کی شرمناک داستان

رپورٹ:شاہدعباسی
وزیر اعظم کا خصوصی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس اہداف حاصل کرنے میں ناکام ،طے کئے گئے ہدف کے مطابق 2010ءتک ہیپاٹائٹس کے وائر س کے پھیلاﺅ کو پچاس فیصد روکا جانا تھا، تاہم 5برس گزرنے کے باوجودحکومتی اعلان پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا،طبی ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری نوعیت کے اقدامات نہ کئے گئے تواندرون سندھ اور زیریں پنجاب کے علاقوں میں مریضوں کی تعداد کل آبادی کا ستر سے 80فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔ملک میں ہیپاٹائٹس کے 90فیصد پھیلاﺅکا سبب آلودہ پانی کی فراہمی تسلیم کرنے والی حکومت کی جانب سے بھاری رقوم خرچ ہونے کے باوجود نتائج کے حصول میں ناکامی پرتاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے نا ہی کسی سطح پرمعاملے کی چھان بین کی کوشش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے خصوصی پروگرام برائے ہیپاٹائٹس کا2005ءمیں اعلان کیا گیا تھا جس کے لئے اس وقت2ارب60کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی تھی۔معاشرے سے مرض کے خاتمے اور اس کی روک تھام کے عنوان سے شروع کئے گئے پروگرام کے تحت مریضوں کی اسکریننگ،علاج اور معاشرتی آگاہی جیسے متعدد اقدامات کئے جانے تھے۔

طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ30لاکھ لوگوں کی موت کا سبب بننے والا ہیپاٹائٹس پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو متاثر کر چکا ہے۔عام آدمی کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا دعوی رکھنے والی حکومت اس پروگرام سے کتنی مخلص رہی ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہ اکلوتی مثال کافی ہے کہ پروگرام کو اعلان ہوئے چند ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ وفاقی محکمہ خزانہ نے یہ کہہ کر فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ چونکہ یہ مقامی سطح پر شروع کیا جانے والا پروگرام ہے اس لئے اس میں کام کرنے والے افرا د کو عالمی امداد سے چلائے جانے والے پروگرامات کی طرز پربھاری معاوضہ اور الاﺅنسز نہیں دئے جا سکتے۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے زیریں علاقوں سمیت بالائی سندھ میں مرض کی صورت حال سب سے ذیادہ خطرناک ہے جہاں کی پچاس فیصد آبادی اس کا شکار ہے،مقابلتا ملک کے دیگر علاقوں میں مرض کی موجودگی کا تناسب 10تا15فیصد کا ہے۔وفاقی محکمہ صحت سے وابستہ ذرائع کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کو تناسب 4تا5 اور ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کا6تا7فیصد ہے۔تا ہم آفیشل طور پر اس کی موجودگی کا تناسب 3تا4اورہیپاٹائٹس سی کا5تا6تسلیم کیا جاتا ہے۔
ہیپاٹائٹس اے،بی،سی،ڈی اور ای کی پانچ قسمیں رکھنے والا یہ مرض ملک میں ہر گزرتے روز ذیادہ خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس بی اور سی عموما غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی،بغیر اسٹلائز کئے استعمال کئے جانے والے سرجیکل اورحجاموں کےآلات،استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے پھیلتا ہے جب کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی اور مضرصحت کھانوں کے استعمال سے پھیلتا ہے۔ اول الذکر بچوں کو جب کہ ای ٹائپ بڑوں کو متاثر کرتا ہے ان دونوں اقسام کو ویکسین کے استعمال سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی کا وائرس ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس سے 100 فیصد ذیادہ خطرناک قرار دیا جاتا ہے جو خون میں موجودگی کی صورت جسمانی رطوبتوں کے ذریعے بآسانی دوسرے فرد کو اپنا شکار بنا سکتا ہے۔دوسری جانب خاموش قاتل قرار دیا جانے والا ہیپاٹائٹس سی کا وائرس کئی دہائیوں تک بغیر کوئی علامت ظاہر کئے جسم میں موجود رہ کر بتدریج جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ذیادہ دیر تک اس وائرس کی جسم میں موجودگی جگر کے کینسر وغِیرہ جیسے امراض کا سبب بن کر وجہ موت بن جاتی ہے۔عالمی سطح پر اس کے علاج میں مثبت پیش رفت ہونے کے باوجود پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو فی الوقت علاج کے لئے درکار سہولیات مہیانہیں کی جا سکی ہیں۔حالانکہ پاکستان میں پائی جانے والی ہیپاٹائٹس سی کی قسم جدید تحقیقی کے بعد90فیصد قابل علاج قرار دی جا چکی ہے بس شرط صرف بروقت اور مناسب علاج مہیا کرنا ہے جس کے لئے فی الوقت کوئی ٹھوس میکنزم تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔

طبی ماہرین نے محض پانی کی آلودگی ہی کواس کے پھیلاﺅ کو مرض کا سبب قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاندان میں ہونے والی شادیاں،گنجان آباد رہائشی کالونیاں اور صحت کی فراہمی کا ناقص نظام ذیادہ بنیادی اور اہم اسباب ہیں۔
محکمہ صحت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی غیر تسلی بخش کاکردگی کے علاوہ ملک بھر میں ہیپاٹالوجسٹس کی کمی بھی مرض کے پھیلاﺅ اور علاج نہ ہونے کا اپم سبب ہے،اس وقت ملک بھر میںماہرین امراض جگر کی تعداد100سے بھی کم ہے۔حکومتی سطح پرہیپاٹائٹس سے بچاﺅ کے لئے تین انجکشنوں پر مشتمل ویکسینیشن کورس کو ای پی آئی پروگرا میں شامل رکھا گیا ہے،حاملہ خواتین کی ہیپاٹائٹس بی کے حوالے سے اسکریننگ،تا کہ ماں میں مرض کی موجودگی کی صورت بچے کوپیدائش کے موقع پر انفیکٹ ہونے سے بچاﺅ کے لئے ایمونوگلوبین دی جا سکے،علاوہ ازیں مرض کی موجودگی کی صورت علاج مہیا کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ چھ ماہ سے ایک سال تک ہوتا ہے۔جب کہ علاج کی تکمیل کے بعد بھی کئی برسوں تک مریض کا جائزہ لیا جانا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

ملک میں ہیپاٹائٹس کے تیزی سے ہوتے پھیلاﺅ کوروکنے اوربہتر طریقے سے مرض پر قابو پانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں 2ارب60کروڑ روپے کی لاگت سے انسدادی پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا۔جس کا ہدف2010میں وائرس کے پھیلاءو کو 50فیصد تک کم کرنا تھا جس کا اقرار اس وقت کے وفاقی وزیر صحت نصیر خان نے بھی کیا تھا۔پروگرام کے تحت اس وقت سالانہ 13ہزار مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی گئی تھی جب کہ 60نئے طبی مراکز قائم کئے گئے تھے جن کا مقصد مرض پر قابو پانے کے حکومتی اعلان کو پایا تکمیل تک پہنچانا تھا۔

سرکاری سطح پر کی جانے والی کوششوں کو ناکام قرار دے کر انہیں مزید مربوط بنانے پر زور دیتے ہوئے طبی ماہرین کا تسلیم کرناہے کہ سرکاری اسپتالوں کے شعبہ حادثات میں لائے جانے والے مریضوں کی 5فیصد تعداد ہیپاٹائٹس کا شکار ہوتی ہے۔جب کہ سرکاری اسپتالوں میں ملک کی کل آبادی کامحض 1فیصد حصہ ہی علاج کی نیت سے لایا جاتا ہے۔لیکن انہیں بھی خاطر خواہ سہولیات مہیا نہیں کی جا سکتیں۔
پاکستان اسٹیٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز کے شعبہ میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رضوان قاضی کے مطابق ہیپاٹائٹس کے علاج کا مشکل پہلو یہ ہے کہ معالجین کی جانب سے دوا تجویز کرتے وقت ان دواﺅں کا استعمال نہ کروایا جائے جو جگر کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔ایسا مریض جو کسی بھی درجے میںہیپاٹائٹس کا شکار رہا ہواگر اسے مذکورہ دوائیں استعمال کروائی جائیں تو کلینیکل تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مزید پیچیدگیوں کا سبب بنیں گی۔اس خامی پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر فرد سالانہ بنیادوں پر اپنے خون کی اسکریننگ کروائے تا کہ اسے مرض کی موجودگی سے بروقت آگاہی پا کر علاج کی مہلت مل سکے۔

ہیپاٹائٹس کے معاملے میں احتیاط کو علاج سے بہتر قرار دیتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے خصوصی پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ ملک کی تمام آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جا سکے،سالانہ 5ہزار سے زائد مریضوں کو علان کی سہولت مہیا کی جائے،انتقال خون کے لئے صحت مند خون کی موجودگی،انجکشن میں استعمال ہونے والی سرنج کے دوبارہ استعمال کو روکنے ، غیر معیاری سرنجز پر پابندی،ہائی رسک گروپس کی ویکسینیشن کی جائے گی۔تاہم پانچ برس گزرنے کے بعد بھی مذکورہ پروگرام کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں۔جب کہ عالمی سطھ پر اس وقت تائیوان ہیپاٹائٹس پر قابو پانے اور اس کی موجودگی کا تناسب کم کرنے کی عمدہ مثال رکھتا ہے۔جہاںہیپاٹائٹس بی کی موجودگی کا تناسب 20فیصد تھا لیکن موثر ویکسینیشن مہمات کے ذریعے پندرہ برسوں میںاسے ایک فیصد سے بھی کم دیا گیا ہے۔اسی حکمت عملی کو اپنا کر پاکستان میں بھی مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس کے لئے ضرورت صرف ذاتی و گروہی مفادات سے بالاتر رہتے ہوئے مرض کے خاتمے کی سنجیدہ کوششوں کی ہے۔ایسا کب تک ہو پاتا ہے ،ہم بھی دیکھتے ہیں،آپ بھی دیکھیں لیکن تبدیلی کے لئے کوشش شرط ہے۔تبھی مستقبل کے پاکستان کو صحت مند ،خوشحال اور بیماریوں سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔

Advertisements
%d bloggers like this: