Posts Tagged ‘Alliens’

حادثے سے بڑا سانحہ

تحریر : حامد الرحمٰن
(خلوت میں خیالات کی بزم سجتی ہے، فکر کا چراغ جلتا ہے ۔ بات سے بات نکلتی ہے ۔ جو ذات سے شروع ہو کر کائنات تک پھیل جاتی ہے چونکہ دل سے نکلتی ہے اس لئے دلوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ جو دور ہوتے ہیں وہ شریک محفل ہو جاتے ہیں اور جو شریک ِ محفل ہوتے ہیں وہ رونق محفل بن جاتے ہیں یہی خلوت کا حاصل ہے۔ یہی حاصل ہے بات سے بات نامی اس نئے سلسلہ کا جو ہم اپنے قارئین کے لئے لائے ہیں)
ہمارے ایک ہر دل عزیز دوست ناصر محمود نے ملک میں ایمر جنسی کے وقت کہا تھا کہ ایمرجنسی اور پی سی او کا مطلب ہے مارشل لائ…. مارشل لاءکا مفہوم ہے لاقانونیت اور جہاں لا قانونیت ہوتی ہے وہاں جنگل کا قانون رائج ہوتا ہے جس کا سیدھا سادھا مطلب ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس….لیکن مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس ملک میں اب تک لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے ، یہاں کبھی جمہویرت آئی ہی نہیں ، عوام کال انعام کو کبھی ایوب خان، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے باڑے میں باندھ دیا جاتا ہے تو کبھی جمہوریت کے طویلے میں ،قصائی کے بکرے کی طرح پاکستان عوام منمنا کر چپ ہو جاتے ہیں۔مارشل لائی اور جمہوری چھریاں چلتی ہیں اور چلتی چلی جاتی ہیں۔ہم نے تو یہی دیکھا ہے اور دیکھتے آرہے ہیں کہ اس ملک میں یا تو براہِ راست آمریت مسلط رہی ہے یا جمہوریت کے لبادے میں بھی آمریت اور مارشل لاءہی آیا ہے ۔اس ملک میں جنگل ہی کا قانون رائج ہے حکمران اور ایجنسیاں جب چاہیں شہریوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں ۔یوں لگتا ہے گزشتہ 63برسوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہو بلکہ اب تو یہ ایک بین الاقوامی کھیل بن چکا ہے جس میں امریکہ سمیت عالمی طاقتیں براہِ راست شریک ہیں ۔ اس کھیل میں پاکستان ایک کھلونا بن چکا ہے اور پوری پاکستانی قوم تماشائی ….پوری دنیا منہ میں انگلیاں دبائے حیرت سے محوِ تماشا ہے ۔ عدل و انساف اور آئین و قانون سبھی بازی گروں کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے۔
15اگست کو سیالکوٹ (ڈسکہ) میں درندگی اور سفاکیت کا جواجتماعی مظاہرہ ہوا اس کے کیمروں سے فلمائے گئے ویڈیو مناظر یقیناََ آپ نے بھی دیکھیں ہونگے اور ََ کوسوں میل دور بیٹھےآپ بھی ذہنی ہیجان کا شکار ہونگے۔ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظرنے سانحہ مشرقی تیمور کی یاد تازہ کردی ۔ درجنوں افراد کے مجمع میں 8سے 12 افراد مغیث اور منیب کو ڈنڈوں اور لوہے کی راڈوں سے بہیمانہ طریقے سے 2گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔ دونوں بھائیوں کو ریسکیو آفس کے سامنے وحشیانہ اور سفاکانہ طریقے سے قتل کردیا گیاعام حادثات میں پنجاب بھر میں کسی بھی جگہ 7منٹ میں متاثرہ مقام پر پہنچے کے دعویدار اپنے دفتر کے سامنے دو بھائیوں کی جان نہ بچا سکے اُلٹا پولیس کے ساتھ اس کھیل میں باقاعدہ شریک رہے۔عوام کا جمِ غفیر محض تماشائی بنے کھڑے رہے اور بعض وہ بھی تھے جو ان مناظر کی موبائل کیمروں سے عکس بندی کرتے رہے۔

ڈسکہمیں پیش آنے والے اس واقعے کو سفاکیت کہا جائے یا وحشت و بربریت کی زندہ مثال ۔ شاید اجتماعی بے حسی کے اس واقعے پر یہ الفاظ بھی ہیچ ثابت ہوں۔ اس واقعے نے جہاں پولیس کی کارکردگی کو ایک بار پھر عیاں کیا ہے وہیں ریسکیو 1122کی کارردگی بھی سوالیہ نشان ہے ۔ قوم کے زخموں پر مرحم رکھنے والے یہ امدادی کارکن اس وحشیانہ کھیل کا کیوں کر حصہ بن گئے ۔ اس واقعے سے قوم کی اجتماعی بے حسی کی تصویر بھی سامنے آئی ہے ۔جو قوموں کے لئے زہر ہلاہل ہے۔ ایسی ہی بے حسی پر عنایت علی خاں نے بہت پہلے کہا تھا ۔
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہو ا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
اس ملک میں ہونے والے پے در پے حادثات و سانحات نے قوم کو بے حس کر دیا ہے اور یہ بے حسی انفرادی حیثیت سے بڑھ کر اجتماعی شکل اختیار کر چکی ہے۔مارشل لائ، جامعہ حفصہ و لال مسجد، 12مئی ، 9اپریل یہ ملک سانحات کا ملک لگنے لگا ہے ہر صبح ایک نیا سانحہ جنم لیتا ہے۔ شاید ایسے ہی کسی موقع کے لئے محسن بھوپالی یا محسن نقوی کہہ گئے تھے۔
تماشا تکتی رہی دنیا ہماری موت کا محسن
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
اس پورے واقعے میں پولیس کے ذمہ داران موقعہ پر موجود رہے۔ حیرت انگیز بات جوسامنے آئی ہے وہ یہ کہ واقعہ میں ملوث افراد نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے کہا تھا کہ مارو ہم اسے پولیس مقابلہ ظاہر کردیں گے۔ آخر اس ملک سے ان مبینہ پولیس مقابلوں کی ریت کب ختم ہو گی۔  ۔اس دلدوز واقعے کی جتنی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ مجمع میں کھڑے تماشا تکنے والوں پر عائد ہوتی ہے ۔

مذکورہ واقعہ کا چیف جسٹس جناب چوہدری افتخار نے از خود نوٹس لے لیا ہے لیکن کیا مجرم پکڑے جائیں گے؟ اور کیا پولیس کے ذمہ داران کو سزا مل پائی گی۔ اسلام کی رو سے تو مارنے والے اور تماشا دیکھنے والے دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور ویسے دونوںبھائیوں کے قتل کی براہِ راست ذمہ داری ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے ۔لیکن اس ملک میں مجرموں کو سزا کب ملی ہے ماضی کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس اور بااثر افراد کے خلاف کاروائی کی توقع عبث ہے۔

مجھے میرے ایک دوست نے ایس ایم ایس کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ” پاکستانی قوم میں شعور کب آئے گا کہ وہ اپنے حق کے لئے کب بیدار ہونگے اور کبھی ایسے حکمرانوں کو سر عام سنگسار کریں گے“

Advertisements
%d bloggers like this: