Posts Tagged ‘facebook’

اسرائیل ان پاکستان

تحریر:شاہد عباسی

Israel in Pakistanخون کی قیمت پرمحبت کے زمزمے بہانے کی ایک نئی کوشش

”جب تک اسرائیل اور پاکستان کے درمیان معمول کے ڈپلومیٹک تعلقات پیدا نہیں ہو جاتے ۔یہ آن لائن ایمبیسی اسرائیل اورپاکستان کی اقوام کے درمیان دوستی بڑھانے کا کام کرے گی۔امید ہے کہ ہم جلد ہی پاکستان اور اسرائیل میں حقیقی سفارت خانے قائم کر لیں گے،شالوم“یہ الفاظ مستقبل میںکیا منظر تشکیل دیں دے،شاید اس کے متعلق اس وقت کوئی اندازہ لگانا قنبل ازوقت ہو،لیکن جو بات طے ہے وہ یہ کہ ان لفظوں کا خالق یا اس پس پشت سرگرم گروہ آئندہ کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی رکھتا ہے۔

زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے ہر لمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے خواہاں بھارت سے دیرینہ دشمنی کی پینگیں بڑھانا اب گویا حکمرانوں اورمخصوص طبقات کا شوق سا بن گیا ہے۔لیکن یہ معاملات کبھی بھی مصنوعیت سے آگے بڑھ کر عوامی پزیرائی حاصل نہ کر پائے تھے۔متعلقہ اداروں،تنظیموں اورافراد کی جانب سے ان فالتو کی مشقوں کا خاطر خواہ نوٹس نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب معاملہ پاک،بھارت نہیں بلکہ پاک اسرائیل دوستی تک جا پہنچا ہے۔اس کے لئے مشرف دور کی طرح حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے ایک خالصتا عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہراس گروپ کو سپورٹ کی جائے یا ان کے عشق میں مبتلا رہا جائے جو ملک کی اساس کا مخالف ہو،یہ پاکستانی عوام نے تو نہیں تا ہم حکمرانوں نے اپنا نصب العین بنائے رکھاہے۔باوجودیکہ اس پالیسی نے آج تک ملک کو کوئی فائدہ نہیں دیا،ارباب اختیار اسے ہی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔1965ءمیںعین حالت جنگ میں امریکہ کی بے وفائی سامنے ہونے کے باوجود ہر ہر قدم پر اپنے دیرینہ دوست چین کو مایوس کیا گیا،دنیا کے دوتہائی وسائل کے مالک مسلم ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے روس،فرانس وغیرہ کی صورت بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔حتی کہ ایڈہاک ازم پر مبنی ا س پالیسی نے یہ دن دکھا دئے کہ سینکڑوں میل طویل مغربی سرحدی پٹی جس پر کبھی ایک سپاہی کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کا ٹھکانہ بنا دی گئی۔


حالیہ واقعہ جو ایسے ہی اقدامات کا تسلسل ہے میں اسرائیل کو پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے انٹرنیٹ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وہ اسرائیل جس نے بلوچستان کی شورش ہویامشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دلگداز سانحہ،مقبوضہ کمشیر میں بھارت کی کھلے چھپے امداد کر کے تحریک آزادی کو سبوتاژکرنے کا معاملہ ہو یاافغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش،ہر موقع پر دامے،درمے،سخنے آگے بڑھ کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بنائے گئے صفحہ کا نام”Israel in Pakistan“رکھا گیا ہے۔اس پر کچھ شرکاءنے اعتراض بھی کیا کہ اسے تبدیل کر کے ”Israel and Pakistan“رکھا جائے تا ہم منتظمین نے ضعیفی کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔مذکورہ صفحہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے عالمی توسیع کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں وہ (خام بدہن)اپنی سرحدوں کو اس حد تک پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمان کے بھی مقدس ترین مقامات ”مکہ ومدینہ“کو بھی اپنے اندر سمو لے۔

اسی نام سے ملتے جلتے صفحات ”اسرائیل ان یورپ،امریکا،ایشیا،یو این،افریقہ“کے لئے بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر چہ ان صفحات کو بنانے والوں نے خود ”اسرائیلی سفارت خانوں“سے تعبیر کیا ہے ۔تاہم سفارت کاری ہے کیا،ایک مثال اس کی بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔مذکورہ بالا صفھات میں سے اکثر پر رجسٹرڈ ہونے کے ناطے ممکنہ طور پر ان کے منتظمین میں سے ایک یا کم از کم ان کی ایماءپر ایک اسرائیلی بل بزلی ہرزہ سرائی کرتا ہے”تم (مسلمان)ذہنی طور پر پسماندہ ہو،محمد(ﷺ،نعوذباللہ)ایک صحرائی لٹیرے تھے،جس نے نہ کبھی لکھا نہ پڑھا،(قرآن کے متعلق لکھتاہے)اس کی یہودی بیوی صفیہ بنت حیان کے لئے لکحا کرتی تحی جسے وہ ایک یہودی قبیلے سے سترہ برس کی عمر میں اغواءکر کے لے آئے تھے(اگر چہ مزکورہ بالاجملے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے تا ہم اس کے بعد کی کچھ سطریں معاذاللہ رحمت للعالمینﷺ پر انتہائی گھناﺅنے الزامات پر مشتمل ہونے کے سبب نقل کرنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔حذف کر دئے گئے جملوں کے بعدآگے کی عبارت ہے)تم مسلمان اس لئے اندھیروں میں زندہ ہو کے تم ایک ایسے ان پڑھ کی پیروی کرتے ہو جو خدا کی جانب سے اس وقت رہنمائی ملنے کا دعوی کرتاتھا جب سب سو رہے ہوتے تھے“

Israels effort to friendship with PAkistan and muslim countries .but on wich cost

پاکستان اور مسلم ممالک سے اسرائیلی تعلقات کے قیم کی کوشش مگر کس قیمت پر

راقم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ”جے ٹی اے“نامی نیوز سے وابستہ ادارہ اس امیج بلڈنگ مہم کو چلانے پر مامور کیا گیا ہے۔نیویارک کے مشہور زمانہ سیونتھ ایونیوپر واقع صدر دفتر کے ساتھ مذکورہ ادارہ واشنگٹن ڈی سی کے ورمونٹ ایونیو پر بھی اعلانیہ دفتر رکھتا ہے ،جب کہ دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹرز اورنمائندوں کے نام پر اپنا خفیہ اوراعلانیہ نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔یہودیوں کے لئے عالمی نیوزسروس کی ٹیگ لائن رکھنے والے اس ادارے کے نمائندے یروشلم،ماسکوسمیت دنیا کے درجنوں بڑے شہروں میں موجود ہیں۔دنیا بھر کے 100سے زائد نمایاں اداروں یہودی اشاعتی اداروں کو اس کی نیوزسروس مہیا کی جاتی ہے۔اگر چہ جے ٹی اے اپنے آپ کو ایک Not for Profitادارے کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم وہ اپنی آمدن کے متعلق کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ماسوائے ورلڈزوئینسٹ آرگنائزیشن اور اس جیسے کچھ خالصت ایہودی اداروں کو اپنا فنڈنگ سورس ظاہر کرنے کے تاہم یہ اکلوتا ادارہ نہیں جو اس مہم کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔

اسرائیل ان پاکستان نامی گروپ کے موثر ہونے کا اندازہ ان کے ایک پوسٹ پر دئے گئے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایڈمن ایک ممبر کے پاکستانی ہو کر اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے”چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رکھا اس لئے آپ اپنے قریبی سفارت خانے(دہلی،بھارت)سے رابطہ کریں انیں درخواست دیں وہ ویزہ جاری کر دیں گے“

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جو کام حکومتوں حتی کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں سے نہ ہو سکا وہ اب نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی یہ کوشش حسب سابق انسانی حقوق اوربرابری کے نام نہاد نعروں کے گرد رہ کر کی جا رہی ہے تا ہم ایسا کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نام نہاد”ہولوکاسٹ“کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے،بچوں کو تہہ تیغ،عورتوں کی عزت لوٹنے اورمسلم بزرگوں حتہ کہ معذوروں تک کو زندہ رہنے کا حق نہ دینے والا اسرائیل اچانک سے انسانی حقوق کا اتنا بڑا علمبردار کیسے بن گیا۔

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

نبی مہربان ﷺکی تصاویر کے بعد "قرآن جلانے” کا اعلان

تحریر:شاہد عباسی

آج کی دنیا کو اپنے مہذب ہونے پر فخر ہے جس کا ثبوت وہ سب کے لئے برابری،برداشت اور حقوق کی فراہمی کو قرار دیتی ہے۔اس دعوے پر عمل میں اہل دنیا اتنے آگے بڑھ گئے کہ مغربی ممالک نے اپنے ہاں کتوں ،بلیوں سمیت پالتو وغیر پالتو جانوروں تک کے حقوق کی حفاظت اوران کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد تنظیمیں قائم کر لیں،زمین پر کٹنے والا ہر درخت انہیں کرہ ارض کی تباہی لگتا ہے،عورتوں کی آزادی خواہ وہ اخلاقیات سے عاری کیوں نہ ہو،مزدوروں کے حقوق خواہ وہ آجر کی جیب پر ڈاکہ کیوں نہ ہوں،آزادی اظہار اوراطلاعات تک رسائی کا حق خواہ وہ کسی کی جان جانے کا سبب ہی کیوں نہ بنے،یہ اور اس جیسے بے شمار ”حقوق و فرائض“ ہیں جن کے حصول کی خاطر مغرب اور اہل مغرب ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔وہ اس بات کا اتنا ڈھول پیٹتے ہیں کہ ناواقفان حال انہیں فرشتہ صفت سمجھنا شروع کر دیں،لیکن یہ شرافت، دیانت،قانون پر عملدرآمد،مہذب پن،حقوق کی طلب ، فرائض کی ادائیگی،برداشت،تعلیم دوستی،انسانی ترقی کا جنون وغیرہ اس وقت کہاں کھو جاتے ہیں جب معاملہ اسلام اورمسلمانوں کا آ جائے۔

اس مرحلے پر پہنچتے ہی ان کے منہ میں موجود دانت گویاکسی خون آشام درندے اورزبانیں کسی گنوار جاہل اوروحشی کی مانند ہو جاتی ہیں جبھی وہ ہر کس و ناکس کا نرخرہ چبانے اور خون چاٹنے کو تیار رہتے ہیں۔

بدکاری میں ملوث مردوعورتوں کو بیماریوں سے بچاﺅ اورمزدور حقوق کے نام پر کروڑوں ڈالر کے فنڈ مہیا کرنے والا مغرب سویٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کا اعلان کر دیتا ہے،عورتوں کی آزادی کو ہر سانس سے بھی ذیادہ جپنے والا معاشرہ فرانس میں حجاب جیسے فرض پر پابندی کا قانون منظور کر لیتا ہے، پاکستان، ایران یا کسی بھی مسلم ملک کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش پر آسمان سر پر اٹھا لینے اوروجود ہی نہ رکھنے والے ہتھیاروں کے بہانے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا نظام جرمنی کی بھری عدالت میں حجاب کرنے پر مسلم خاتون کو خنجر گھونپ کر شہید کر وادیتا ہے،افغانستان کے دوردراز علاقے میں مرتد ہونے والے”عبدالرحمن“کو راتوں رات خصوصی جہاز سے زندگی محفوظ بنانے کی آڑ میں یورپ منتقل کرنے والے انسانی حقوق کے چیمپئن دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی پر کیچر اچھالنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔اپنی قوم کے افراد کے ہاتھوں لکھی گئی آئینہ دکھاتی کتابوں، بنائی گئی فلموں پر پابندی لگانے والا مغرب مسلمانوں کی جان سے بھی ذیادہ عزیزترین کتاب قرآن مقدس کی کھلے عام ”نعوزباللہ“تذلیل کرتا اور کرواتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اسے کوئی حق یا حقوق یاد نہیں آتے۔

اس طویل تمہید کا سبب در اصل وہ پس منظر واضح کرنا تھا جس کی عدم موجودگی میں آگے بیان کی جانے والی بات یا اس کی سنگینی کا اندازہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

دوماہ قبل ہی توہین رسالت کی کوشش کے سبب لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پاکستان میں بند کی جانے والی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”فیس بک“پر ایک بار پھر مسلمانوں کو نیا چرکہ لگانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔حالیہ سانحے میں سترہ ستمبر کو مذکورہ ویب سائٹ پر Everybody Burn Quraan Day کے نام سے دن منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ مہینے بھر سے فیس بک کے گروپ پیجز میں موجود یہ صفحہ مذکورہ گروپ کی اکلوتی گستاخی نہیں بلکہ مذکورہ مردوخواتین جہاد،حجاب اور دیگر اسلامی شعائروفرائض کے بارے میں بھی گستاخ آمیز پیجز بنا کر اپنا کریہیہ منصوبہ سرانجام دے رہے ہیں۔مذکورہ گروپ کی جانب سے کی گئی گستاخی کے ساتھ ہی اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ (نعوذ باللہ)اس وقت تک قرآن مقدس جلایا جاتا رہے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو تے ۔اور یہ وہی مطالبات ہیں جن کی آڑ میں صلیبیءاوفاج افغانستان میں آتش و آہن کی بارش کر رہی ہیں،عراق کو تاراج کر رہی ہیں اور اب خاکم بدہن پاکستان پر نظریں گاڑنے کے بعد اپنے پیادوں کو حرکت میں لا چکی ہیں۔

Everybody Burn Quraan Dayکا ایونٹ منعقد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ”اسلام کو امن اورآزادی کا دین قرار دینا ایک غلط فہمی ہے جب تک اس کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا ہر فرد کو چاہئے کہ وہ گروپ جوائین کرے اور (نعوذباللہ)قرآن کو اس وقت تک جلاتارہے جب تک یہ ہیپوکریسی واپس نہیں لے لی جاتی“۔مذکورہ گروپ کی جانب سے اس پیج پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سینکڑوں گستاخ آمیز تصاویر بھی اپ لوڈ کی گئی ہیں۔

اس دوران فیس بک استعمال کرنے والے متعدد مسلم یوزرز کی جانب سے ویب سائٹ کی انتظامیہ کو شکایتی ای میلز کی گئیں جن میں ان گروپس کی اطلاع دے کر انہیں بلاک کر نے کا بھی کہا گیا تا ہم اس پر کوئی عمل نہیں ہو سکا۔وہ تو غیر ہیں انہیں شاید قرآن،جہاد اورحجاب کے متعلق مسلمانوں کے جذبات و عقائد کا اندازہ نہ ہو یا پھر مادیت کو اہی اول و آخر سمجھنے والا مغرب ان امورکی اہمیت کو سمجھنے کا اہل ہی نہ ہو ،افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کیمونیکیشن کی نگرانی اور اس سے وابستہ دیگر امور کا ذمہ دار ادارہ پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی باوجود رابطے اورنشاندہی کے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہا ہے۔حالانکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اسی ادارے کی جانب سے فیس بک پر لگائی جانے والی پابندی نے ویب سائٹ کی انتظامیہ کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ کارروائی کے دوروز کے اندراندر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش پر معافی مانگے ۔حالیہ مقابلے کی اطلاع دینے اور ویب کی انتظامیہ پر اپنی حیثیت استعمال کرتے ہوئے اس مذموم کوشش کو روکے جانے کے لئے کردار ادا کرنے کے بجائے جب میڈیا کی جانب سے رابطہ کر کے ان سے وضاحت چاہی گئی تو سربراہ ادارہ کی میٹنگ میں مصروفیت کا جواز پیش کرنے والوں نے محض رابطہ کرنے والے صحافیوں کوتحریر ی شکایت کرنے کی تجویز دینے کو کافی سمجھا۔

واضح رہے کہ فیس بک کے استعمال کنندگان کی تعداد ۰۵لاکھ سے ذیادہ ہے،مذکورہ ویب سائٹ پر۵لاکھ سے زائد ایپلیکیشنز موجود ہیں،۰۲لاکھ سے زائد ممبرز اسے روزانہ استعمال کرتے ہیں،رواں برس کے ابتدائی تین ماہ میں ایک ارب سے زائد اشتہارات اپ لوڈ کئے گئے،اس وقت ایک ویب سائٹ ہونے کے باوجود اس کی مالیت ساڑھے نو ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔مختلف اوقات میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئے اے اور دیگر امریکی تحقیقاتی ادارے مذکورہ ویب کے ذریعے میسر آنے والی معلومات کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں،جب کہ امریکی پالیسی ساز ویب صارفین کے نفسیاتی تجزئے کے نتیجے میں ملنے والی معلومات کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا اعدادوشمار کے تناظر میں یہ بات زیادہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا پلیٹ فارم جسے چین وبھارت کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک کی آبادی سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں،اس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے اور دوسروں کی جانب سے دی جانے والی رائے ےا کی جانے والی سرگرمی کا اثر قبول کرتے ہوں۔یکے بعد دیگرے مسلم مخالف اقدامات کے لئے استعمال کرنا ،اللہ رب العزت کی جانب سے قیامت تک کے انسانوں کے لئے قابل تقلیدقرار دی جانے والی محترم ترین ہستی محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی اور اب جہاد جیسے فرض کی توہین اور قرآن مقدس جیسے الوہی کتاب کو جلانے کا دن منانے کی مذموم کوشش یہ ثابت کرتی ہے کہ میدان جنگ میں ناکامی کا مزہ چکھنے کے بعد چھیڑی گئی اعصابی جنگ میں کامیابی کے حصول کا خواہاں مغرب اب اوچھی ترین حرکتوں کے زریعے کسی بھی قیمت پر میدان مارنا چاہتا ہے۔اوراس پوری کارروائی میں اسے شاہ سے ذیادہ شاہ کے وفادار ان افراد و اداروں کی مدد میسر ہے جو اپنی سادہ لوحی،لاعلمی یا سطحیت کی وجہ سے چاروناچار اس کے چمکیلے نعروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس کا ثبوت مئی میں فیس بک پر لگائی جانے والی پابندی کے دوران نام نہاد بلاگرز اور انسانی حقوق کے چیمپئنز کی جانب سے پابندی کی مخالفت میں دئے گئے بے بنیاد دلائل تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے مسلمان رمضان جیسے بابرکت مہینے کا اختتام کر کے عید کی خوشیاں منا رہے ہوں گے ،عین اسی وقت ان کی خوشیوں کو گہنانے کے لئے نعوذباللہ قرآن کو جلانے کا دن منانے کا اعلان کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ رہا ہے ،وہ سوئے ہوئے کو جاگنے،جاگتے ہوﺅں کو کچھ کر گزرنے اور کچھ کرنے والوں کو اپنی رفتار پہلے سے تیز کرنے کا پیغام دے رہاہے،کوئی ہے جو اس پکار پر لبیک کہہ کر اس روز سرخرو ہو سکے جس روز سبھی اس سرخروئی کے منتظر ہوں گے۔کسی کو اس کی جاہ و حشمت،قوت و اختیار کام نہ آسکیں گے ماسوائے ان کے جو رب عظیم کے عرش کے سائے میں ہوں گے اور جنہیں ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دئے جائیں گے۔یہ سرخروئی حاصل کرنے کے لئے کسی میدان جنگ میں اترنے کو کمر کسنے کی ضرورت نہیں نہ ہی تلوار اٹھا کر صفیں الٹنا مقصود ہے ،ضرورت ہے تو صرف اس امر کی کہ تدبیر کے مقابل تدبیر اپنائی جائے،طعن وتشنیع کے مقابل کردار پیش کئے جائیں،پرفریب چمکیلے نعروں کے مقابل عمل کی قوت لائی جائے۔کامیابی یقینا راہ تک رہی ہے ہر اس فرداورقوم کے لئے جو اس منزل تک رسائی کے طبعی قوانین پورا کرنے کو تیار ہو۔

فیس بک سے دوری تین دن بھی صحیح۔۔۔لیکن عشق کے تقاضے تو کچھ اور ہیں!

فرحان ظفر
اس ٹرکش نوجوان کا سوچ کر میری آنکھیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں جس نے فیس بک کو ہیک کرنے کی کوشش کی!

انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی کے اس طلباء گروپ کاخیال میرےذہن کوان کی محبت سے بھر دیتاہے جنہوں نے ایسا سوفٹ وئیر تخلیق کر کے ای میلز کے ذریعے پھیلایا جو ایک کلک پر فیس بک کے سرور پر20,000 مرتبہ ای میل بھیج کر اسے بھاری کر دیتا ہے!

ان خواتین کی ہمت اور اپنے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی کیفیت میرے دل کو ان کے حق میں دعا پرمجبور کر دیتی ہے جو چلچلاتی دھوپ اور جھلسا دینے والی گرم ہوائوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں !

یہ سب لوگ فیس بک پر ملعون اور ذہنی طورپر پسماندہ لوگوں کے اس گھٹیا اور نیچ کام کے خلا ف احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں جو شائد کسی بھی مسلمان کو۔۔۔ جو واقعی دل و جان سے مسلمان ہے اور کسی فائدے کے چکر میں تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر لڑھکتا رہتا ہے۔۔۔ قبول نہیں۔ وہ نیچ اور گھٹیا کام 20 مئی کو ۔۔۔میرے منہ میں خاک۔۔۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے شبیہات (Sketches) بنانے کا مقابلہ تھا جسے فیس بک کی انتظامیہ نے اپنے واضح قانون کہ کسی مذہبی اور نسلی نفرت پھیلانے والی ایکٹی ویٹی کی بالکل اجازت نہیں دی جائے گی کو خود ہی نظر انداز کر دیا بلکہ متعلقہ پیج ختم یا ڈیلیٹ کرنے کی مقرر ہ تعداد پوری ہونے کے باوجوداس غلا ظت کوکو ختم نہیں کیا۔

لیکن اس تمام صورتحال میں میرا کردار کیا رہا؟ جب میں یہ سوچتا ہوں تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

میں نے فیس بک کا بائیکاٹ کر دیا۔۔۔لیکن صرف تین دن کے لئے۔۔۔۔اور اب اس انتظار ہوںکہ کب یہ کھولے اور کب میں اپنے اکائونٹ پر موجود ڈیٹا بیس، ویڈیوز، لنکس سے استفادہ کر سکوں اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے چیٹ(Chat) کر سکوں۔
"بس میں نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے ، اب جیسے ہی فیس بک دوبارہ کھولےگا تو ہمیں اس کو استعمال کرنا چاہیے۔۔۔اس کو چھوڑ دینا تو میرے خیال میں صحیح نہیں ہو گا۔ میں اپنے دو ہزار ، پانچ ہزار کنکشن کو کیسے کھو دوں”

یہ خیالات مسلسل میرے ذہن پر یلغار کیے ہوئے ہیں ۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ اس تین دن کے بائیکاٹ، فیس بک ہیک کرنے کی کوشش، سوفٹ وئیر کی مدد سے اس کے سرور کو متاثر کرنا اور سڑکوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کا فائدہ کیا ہوا؟
یہ تمام چیزیں بہت اہم ہیں۔۔۔اس سے ہم نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے تعلق کا اظہار کیا اور فیس بک کو ، جیسا کہ کچھ اعداد و شمار گردش میں ہیں، ان تین دنوں کے بائیکاٹ کے ذریعے 2 بلین یورو کا نقصا ن پہنچا یا۔ یقینا اس کا اثر بھی زبرد ست ہو ا۔
لیکن آگے کیا؟
لیکن صرف احتجاج کرنے ، ردعمل ظاہر کرنےاور کچھ عارضی تراکیب اختیار کرنے کا اثر بھی کیا عارضی نہیں ہو گا؟
فیس بک کو 2 ارب یورو کا نقصان شائد ایسا ہی ہے جیسے ایک بہت بھرے ہوئے جگ میں سےچند قطرے نکال لئے جائیں۔۔۔وہ اپنا یہ نقصان اگلے کچھ دنوں میں پورا کر لیں گے بلکہ کوئی بھی مارکیٹنگ مہم چلا کر اس سے دگنا منافع ہماری جیبوں سے نکلوا لیں گے۔
پھر کیا کیا جائے؟
ایک تو یہ مستقل طور پر فیس بک بائیکاٹ کیا جائے۔۔۔وہ یہ کچھ مشکل کام ہے۔۔۔ٹھیک ہے پھر آ پ کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔پھر اپنے دل کو سمجھا بجھا کر پھر سے فیس بک سے دل بہلانے میں مصروف ہوجائیں۔
دوسرا یہ حل ہے کہ اس کے متبادل ایک سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کھڑی کی جائے، جو ان لوگو ں کو جن کے لئے اس طرح کے نیٹ ورک کو چھوڑنا مسئلہ ہے ایک متبادل راستہ پیش کرے ۔ اس کےبعد ایک مہم چلا کر ان تمام لوگوں کوجنہوں نے اپنے عشق رسول صلی اللہ علیہ وصلم کا ثبوت دیتے ہوئے عارضی بائیکاٹ کیا تھا کو اس نئی سوشل نیٹ ورکنگ کی طرف لایا جائے۔ اس کے لئے کیا کیا جائے؟
اب ضرورت ہمیں کچھ ایسے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ماہرین کی ہے جو نہ صرف یہ کہ اس طرح کی ویب سائٹ قائم کرنے اور چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ کچھ ایسے مخیر اور اہل دل حضرات درکار ہیں جو اس کے لئے ضروری مالی معاونت فراہم کر سکیں ۔ یہ تمام کا م صرف کیا نہ جائے بلکہ اس کو مستقل طور پر چلانے کے لئے نظام بھی قائم کیا جائے۔
احتجاج بھی ضرور ی ہے ۔۔۔لیکن۔۔۔ہمیں لوگوں کو متبادل پیش کرکے بھی اس طرف مائل کرنا ہے کہ جوشخص یا گروپ ہماری محبوب ترین شخصیت کے بارے میں کوئی ہلکا سا بھی میل اپنے دل میں رکھتا ہے اس کی بنائی اور چلائی جانے والی کوئی چیزہمارے لئے قابل قبول نہیں۔۔۔تو ہے کوئی جو اس بھاری پتھر کو اٹھا ئے اوراس شخصیت سے اپنے خلوص اور محبت کا اظہار کرے جسے کے بارے میں رب تعالی نے فرما دیا ہے کہ ” ہم نے تمہارے لئے تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا ہے”

%d bloggers like this: