Posts Tagged ‘Farhan Zafar’

کیا آپ” LUCKY “ہیں ؟

تحریر:  فرحان ظفر  

ان لوگوں کے لئے تحریر خاص جو یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کے لئے خوش قسمتی لازمی ہے! 
                                                               
”بابا جی۔۔۔میرے پاس تم سے بہتر 10 باورچی موجود ہیں جو تم سے کہیں بہتر، کہیں اچھی اور مختلف اقسام کی ڈشز بنا سکتے ہیں، برائے مہربانی میرا مزید وقت برباد نہ کرو اور یہاں سے جاﺅ“، ایک موٹے سے ریستوران مالک نے تقریبا َ چیختے ہوئے یہ بات کہی تو اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے ایک لمحے کو سر جھکایا اور پھر کرسی سے اٹھ کر تیز قدم اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ایک ایسے شخص کے لئے جو اپنی زندگی کی چھٹی دہائی گزار چکا ہو، اس طرح کا رویہ یقینا بنیادوں کو ہلا دینے والا ہوتا ہے ، لیکن اس بوڑھے آدمی کے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا تھا بلکہ اس عمل سے گزرتے گزرتے اس کو کئی مہینے ہو چکے تھے۔
ریستوران مالکان کی جانب سے اس طرح بے عزت کر کے نکالے جانے کا یہ پہلا، دوسرا، دسواں نہیں بلکہ۔۔۔۔۔یقینا آپ اس بات کو نہیں مانیں گے۔۔۔۔۔1007 واں واقعہ تھا جب اس بوڑھے کو کبھی اکیلے میں، کبھی مجمعے میں اور کبھی مخصوص لوگوں کی محفل میں کھری کھری باتیں سنا کر نکالا گیا تھا۔ لیکن اس نے ٹھان رکھی تھی کہ جب تک اپنے پاس مو جود منفرد ڈش کے آئیڈیے کو لوگوں تک نہیں پہنچا دیتا وہ اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔
اس بوڑھے نے اپنا سفر امریکی شہر کینٹکی سے شروع کیا تھا اور اس دوران ہزاروں میل کی مسافت طے کی تھی تاکہ اپنے آئیڈیا کو فروخت کر سکے ۔ یہاں تک کہ وہ 8 100ویں مرتبہ وہ اپنی ڈش کے آئیڈیے کے ساتھ ایک فاسٹ فوڈ ریستوران کے مالک کے پاس پہنچا تو اس مرتبہ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ریستوران مالک ڈیو تھامس (Dave Thomas) نے بوڑھے کی منفرد ڈش کی اہمیت کو سمجھ لیا اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے لگا۔ صرف چند سال میں اس بوڑھے کا نام پوری دنیا میں پہنچ چکا تھا اور اب وہ اس پوزیشن میں تھا لوگ اس کے پاس آتے اور وہ اپنی شرائط پر ان کے ساتھ کام کرتا۔
اس بوڑھے کا نام تھا کرنل ہار لینڈ سینڈرز (Harland Sanders) ۔۔۔اور وہ مشہور زمانہ فاسٹ فوڈ چین کے ایف سی (کینٹکی فرائیڈ چکن) کا خالق تھا جس نے1007مرتبہ اپنے آئیڈیا کو مسترد کئے جانے کے باوجود ہمت ہارنے سے انکار کر دیا اور اپنی مسلسل لگن ، محنت، اعتماد اوراستقامت کے ذریعے اپنے آئیڈیا کو دنیا کے چند بہترین اور سب سے زیادہ منافع کمانے والے ریستوران چین کی صورت ڈھال دیا ۔ آپ ایک لمحے کو سوچئے۔۔۔۔۔صرف کچھ دیر پوری یکسوئی کے ساتھ۔۔۔۔۔اگر آپ کرنل سینڈرز کی جگہ ہو تے تو کیا کرتے؟
آپ کو پہلی مرتبہ مسترد کیا جاتا تو آپ کہتے کہ ” کوئی بات نہیں، کہیں اور میرے آئیڈیے کو ضرور پزیرائی ملے گی“، لیکن دوسری ۔۔۔تیسری۔۔۔پانچویں اور دسویں بار مسترد کیا جاتا تو آپ کا رد عمل کیا ہوتا؟
آپ کہتے کہ بہت ہو گیا، اب میں کسی کے پاس نہیں جاﺅ ں گا، لگتا ہے میری قسمت ہی خراب ہے اور اس کے بعد آپ کسی اور کام تلاش میں لگ جاتے۔ لیکن کیا بات صرف اتنی ہی سادہ سی ہے ؟ کیا دنیا میں صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں جو قسمت کے سکندر یا LUCKY ہو تے ہیں؟ یہ وہ بات ہے جو ہر شخص اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور سوچتا ہے اور پھر اپنے دل کی تسلی کو یہ کہتا ہے کہ ” میں نے تو اپنی کی سی کوشش کی تھی لیکن شائد میں لکی نہیں ہوں“۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لکی ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا کامیابی کے لئے LUCKY ہونا ضروری ہے؟ ہمارے ارد گرد اور ہم سے پہلے جو کامیاب لو گ گزرے ہیں ان کی کامیابی کا تعلق بھی ان کے لکی ہونے سے تھا؟ ہاں ! وہ سب بھی لکی تھے ، لیکن ان کے LUCKY ہونے کا تعلق پانچ چیزوں سے تھا:-
Lیعنی Labour :محنت ۔۔۔۔شدید اور انتھک محنت، دنیا میں جتنے بھی کامیاب اور بڑے لوگ ہوئے ہیںان کے کام کرنے کا اوسط دورانیہ 12 سے14گھنٹے روزانہ ہوتا تھا ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر نے اس عرصے کے دوران ایک دن بھی اپنے کام سے چھٹی نہیں کی مثلاقائد اعظم، علامہ اقبال، ابراہا م لنکن، ایسے لوگ تھے جو آرام کرنا جیسے جانتے ہی نہیں تھے۔
 U یعنی Understanding :اپنے زندگی کو کسی بڑے اور اجتماعی مقصد کے لئے وقف کر دینا یااس مقصد کو سمجھ لینا جوان کی زندگی کو کار آمد بنا دے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی اقدار، خوبیوں ، خامیوںکے ساتھ پوری واقفیت حاصل کر لینا کامیاب شخصیات کا دوسرا پہلو ہے۔جیسے عبدالستار ایدھی جنہوں نے اپنی ذات کا جائزہ لینے کے بعد ایک بڑے مقصد کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
 C یعنی Commitment : اپنے مقصد کو پانے کے لئے استقامت ، لگن اور ناکامیوں سے مایوس ہونے کی بجاﺅ ان سے سبق حاصل کر نا اور اس میں سے آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرنا، جیسے کے ایف سی کے خالق کرنل ہارلینڈ سینڈرز نے کیا تھا ۔ کامیاب لوگ اپنی غلطیوں پر اڑے رہنے کی بجائے ان کو سیکھنے کے مراحل سمجھتے تھے ۔
 Kیعنی Knowledge :ایک چیز جو تمام کامیاب لوگوں میں سب سے نمایاں تھی کہ وہ چاہے رسمی تعلیم میں بہت زیادہ بہتر نہ بھی ہوں لیکن ”علم “ کی اہمیت وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے۔وہ سیکھنا شروع کرتے تھے تو پھر زندگی بھر سیکھتے چلے جاتے تھے۔ ان کے پاس غیر معمولی عمل ہوتاہے جیسے مولانا محمد علی جوہر ،ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر عبد القدیروغیرہ۔
 Y یعنی You:اس کا مطلب ہے کہ تمام کامیاب لوگ کی زندگی’ ان کی اپنی‘ نہیں رہتی بلکہ ان کو وہ سب کچھ دینا پڑا جو کچھ ان کے پاس تھا چاہے وہ ان کا وقت ہویا صلاحیتیں ، ان کی نجی زندگی کی قربانی ہو یا کسی بڑے مقصد کے لئے قربانی کا جذبہ ۔کامیاب لوگ اس میں معاملے میں بے مثال ہوتے ہیں اور ان کی ذات ایک بڑے کام کے لئے فنا ہو جاتی ہے۔
ہاں!تمام کامیاب لوگ بھی لکی تھے ، لیکن ان کے لکی ہونے کا انحصار ان پانچ چیزوں پر تھا۔۔۔۔۔ان کو کامیابی کسی اتفاقا یا پلیٹ میں پڑی ہوئی نہیں ملی تھی ، اس کے پیچھے ایک ایسی ان دیکھی داستاں تھی جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے ،لیکن پھر بھی کامیابی حاصل کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔
یارو! تمام کامیاب لوگ ”لکی “ نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے ان پانچ چیزوں کی ایک لمبی کہانی تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنی ”تقدیر “ خود لکھی ۔ ان چیزوں پر عمل کرکے آپ ، میں اور ہم سب اپنی ”تقدیر “ خود لکھ سکتے ہیں، کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔بات تو صرف بھرپور محنت، علم اور لگن سے اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کے لئے وقف کردینے کی ہے۔۔۔۔۔کیوں! آپ بھی LUCKY بننا چاہتے ہیں؟

Advertisements

پسند کا کام ۔۔۔ صرف ایک کام

پسند کا کام ۔۔۔ صرف ایک کام
(Farhan Zafar, Karachi)

اگر شاہد آفریدی کے والد اس کو کرکٹر کی بجائے ایک صحافی بننے پر مجبور کرتے اور جاوید چوہدری کے والد ان کو صحافت میں بھیجنے کی بجائے کرکٹ کھیلنے پر مجبور کرتے تو آج نہ ہمارے پاس کرکٹ کے میدان میں شاہد آفریدی جیسا مایہ ناز کھلاڑی ہوتا اور نہ صحافت کے میدان میں جاوید چوہدری جیسا کوئی کالم نگار!

لیکن ہمارے معاشرے میں اکثر و بیشتر جگہوں پر ایسا ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ کہاں تو کالج اور یونیورسٹی کی آئیڈیلزم کو فروغ دیتی اور معاشرے میں تبدیلی کے خواب دکھلاتی فضا اور کہاں عملی دنیا کے ریگزار میں قدم رکھتے ہی ان خوابوں کا ہوا میں تحلیل ہو جانا صرف اس وجہ سے کہ جو کچھ نوجوان کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں ان کے گھر والے، خاندان والے، معاشرہ، احباب اور ان کے گرد و پیش کے حالات انہیں کرنے نہیں دیتے ۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے جیسے ہی نوجوان اپنے تعلیمی ادارے سے فراغت حاصل کرتا ہے اور بعض اوقات تو دوران طالب علمی ہی وہ ایک دم جیسے بلینک (Blank) سا ہو جاتا ہے جیسے اس سے کوئی اس کی متاع عزیز چھین لی گئی ہو۔ اسے سمجھ نہیں آتا کے وہ کیا کرے؟ کس سے مشورہ کرے؟ کس طرح اس بڑے مقصد کی طرف اپنی پیش قدمی کو جاری رکھے جس کا تصور یو نیورسٹی یا اس کے تعلیمی ادارے میں اس کے ذہن میں اتر جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب وہ عمو ماَ 20-25َ کے پیٹے میں ہوتا ہے اور نوجوانوں کی زندگی کا اہم مرحلہ20-25سال کی عمر میں ہی آتا ہے جسے ٹرانزیشنل (Transitional) دور بھی کہتے ہیں۔

یہ تو اس کا ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ پڑھائی ختم ہوئی نہیں کہ ساتھ ہی ساتھ گھر والوں کا دباﺅ کہ پیسے کماﺅ کے لاﺅ، ”اب گھر کو تمہاری ضرورت ہے“، ”اب ہمارا انحصار تم پر ہی ہے،“ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کے پاس جو علم ہے آپ اس کو اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے یا اپنے پسندیدہ شعبے کے لئے استعمال نہیں کر سکتے کہ اس کی آپ کو اجازت نہیں دی جاتی اور طرح طرح رکاوٹیں آپ کے سامنے کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھئے کہ یہ ایک ایسا دو رہے جو سب پر آتا ہے چاہے کوئی اپنی آنی والی زندگی میں بہت بڑا آدمی ہی کیوں نہ بننے والا ہو۔

اس مرحلے میں دو باتیں آپ کو اپنے ذہن میں راسخ کر لینی چاہییں:
۱)پریشانی اور تناﺅ کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا کہ کہیں یہ آپ کو غلط کیرئیر یا کام کی جانب لیجانے کا سبب نہ بن جائے ۔

۲) یہ بات اہم ہے کہ یہ مرحلہ ہر کسی پر آتا ہے، یعنی یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے، آپ بھی ۳۔۲سال میں اس سے نکل جائیں گے اور ۵۲ سال بعد تو یقیناً آپ ایک ایسی اچھی جگہ پر ہوں گے کہ آپ اپنے اس Transitional Period کو یاد کر کے ہنسا کریں گے، کہ میں ایسا بھی سوچتا رہا ہوں!

بات صرف اسی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہاں سے لازمی ہے کہ آپ پوری یکسوئی کے ساتھ چند باتیںسوچیں:
﴿پوری سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ نے کیا کام کرنا ہے یا کیا کام آپ کر سکتے ہیں؟ ﴿ اگر آپ زندگی میں بہت کام کرنا چاہتے ہیں تو ایک کام کریں۔۔۔لیکن کون سا؟۔۔۔بس ایک۔۔۔صرف ایک کام۔۔۔ جیسے ایک ایک قطرہ پانی بھی اگر مستقل کسی چٹان پر بھی گرتا رہے تو اس میں سوراخ کر دیتا ہے، تو زندگی میں ایک کام اور صرف ایک کام ہی آپ کو اس دنیا میں وہ جگہ دلا سکتا ہے جو صرف بڑے آدمیوں کے لئے ہی مخصوص ہوتی ہے۔

﴿ایک اور بات جو نہایت ہی اہم ہے وہ یہ کہ جو بھی کام کریں، اپنی پسند کا کام کریں پھر آپ کو ایک دن بھی کام نہیں کرنا پڑے گا۔ اور ایسے بہت سے لوگوں سے تو آپ بھی واقف ہوں گے جو اپنی پسند کا کام نہ کرنے کے باعث زندگی بھر بے چینی کا شکار رہتے ہیں اور اپنے ناپسندیدہ کام کی تھکن کو اپنی روح میں بھی محسوس کرتے ہیں اور زندگی بھر اس شعبے میں کوئی بڑا مقام نہیں حاصل کر پاتے ۔۔۔ایک صاحب ہیں ہمارے جاننے والے،٢٧ سال بعد صحافت سے ریٹائر ہوئے اور اپنا بزنس شروع کیا، ایک دن ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا زندگی کیسے گزر رہی ہے تو کہنے لگے ”شکر ہے کہ اس مصیبت کی زندگی سے نجات ملی، ساری ساری رات ڈیسک پر بیٹھ کر خبریں بنانا اور اخبار کو فائنل کر کے جانا ایک عذاب لگتا تھا۔ ہاں اب زندگی میں لطف ہے، ایک ریلیکس زندگی گزار رہا ہوں، صبح سے شام تک کاروبار دیکھتا ہوں اور بقیہ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارتا ہوں۔“

یہ فیصلہ اگر وہ ٢٧ سال پہلے ہی کر لیتے تو کاروبار میں یقیناً ایک اچھے مقام تک پہنچ چکے ہوتے۔۔۔تو پسند کا کام ہی آپ کی زندگی کو سنوار سکتا ہے اور یہی کام اگر نہ کر سکے توآ پ کی زندگی بگاڑ بھی سکتا ہے۔

ایک اور مسئلہ جو آپ کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ جب جیب میں پیسے تک نہیں ہے، گھر والے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ پیسا کماﺅ تاکہ تمہاری شادی وغیرہ کے بارے میں سوچیں اور یہاں آپ بات کرتے ہیں ایک کام کرنے کی اور وہ بھی پسندکا کام!

اس سے ہٹ کر سوچنے میں بھی کوئی برائی نہیں اگر آپ کے پیش نظر اگر کوئی بڑا مقصد نہیں ہے، لیکن پھر یہ سوچ ایک” دہاڑی دار ملازم کی سوچ” سے بڑھ کر نہیں ہر چند کہ آپ کی آمدنی لاکھوں روپے ہو۔

اگر آپ اس دہاڑی دار سوچ سے باہر نکل کر کچھ سوچنے کی ہمت رکھتے ہیں تو پھر ایک جگہ تنہائی میں بیٹھ کر ان باتوں کا تہیہ کر لیں کہ، اب آپ اپنی زندگی کے حوالے سے بالکل سنجیدہ ہو کر یہ سوچیں گے- اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ اب آپ طالب علم نہیں اور آپ نے زندگی میں کوئی بڑا کام کرنا ہے جس سے معاشرے کو بھی فائدہ پہنچے – یہ بھی سوچیں کہ مستقبل میں مجھے کیا کرنا ہے، اور یہ سارا کام بالکل یکسو ہو کر کرنا ہے کسی مداخلت کے بغیر!

اب اپنے آپ سے پوچھیں کہ میری پسند کیا کام ہے، سائنس پسند ہے، ذہن مکینکل چیزوں کی طرف کھنچتا ہے، وکالت کا شعبہ اختیار کرنا ہے، ٹیچر بننا ہے یا پھر میڈیا کی فیلڈ جوائن کرنی ہے یا ان کے علاوہ کسی اور چیز میں دلچسپی ہے تو وہ میر ا انتخاب ہوگا، پھر ان صلاحیتوں کو List Down کر لیں جو متعلقہ شعبے کے لئے ضروری ہیں، پھر یہ دیکھیں کہ میرے اندر کون سی صلاحیتیں ہیں مثلاً سکھانے کی صلاحیت اچھی ہے تو پھر ایک استاد کے طور پر آپ کامیاب ہو سکتے ہیں، لکھنے کی صلاحیت ہو تو آپ ایک لکھاری یا صحافی بن سکتے ہیں، بولنے کی صلاحیت اچھی ہے تو پھر وکالت کا شعبہ آپ کے لئے موزوں ہے اور اس کے علاوہ ایک لمبی فہرست ہے ان شعبوں کی جو آپ کی پسند کے ہوسکتے ہیں ۔

ان لمحات میں جب آپ یہ سب سوچ رہے ہوں تو یہ خیال آپ کو بد دل نہ کرے کہ آپ کا تعلق ایک چھوٹے یا غریب گھرانے سے ہے، یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ دنیا کی تاریخ کے تمام بڑے لوگوں کا تعلق خواہ وہ رہنما ہوں یا سائنسدان، فاتح ہوں یا ادیب ان سب کا تعلق معمولی طبقے سے تھا ان میں سے کسی کا باپ غریب تھا تو کوئی کسان، کوئی بے روزگار تھا تو کوئی کلرک لیکن ان ہی لوگوں میں سے ماﺅزے تنگ، کارل مارکس اور ان جیسے دوسرے افراد اٹھے جنہوں نے اپنی قوموں کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو ایک عام غریب آدمی سے مختلف کر دیا؟ وہ تھی ان کی محنت، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنے کی ان کی حیرت انگیز قوت، ان کی نہ ختم ہونی والی توانائی اور دباﺅ میں کام کرنے کی صلاحیت!

تو آپ بھی اپنے حوصلے آزمانا چاہتے ہیں تو زندگی میں ہمالیہ پہاڑ جتنا بلند کوئی مقصد آپ کے سامنے ہونا چاہئے، لیکن جیسے ہمالیہ پہاڑ کو سر کرنے کے لئے خصوصی تیاری کرنی ہوتی ہے اسی طرح اپنے مقصد کو پانے کے لئے بھی تیاری لازمی ہے کہ اس راہ میں آپ کو برف کا سامنا بھی کرنا ہوگا، اونچائی تک پہنچنے میں مشکلات بھی آپ کے قدم روکیں گی، پھر ان مشکلات سے بچنے کے لئے آپ کو منصوبہ بندی بھی کرنی ہوگی اور پھر اس کے لئے مطلوبہ وسائل بھی بہم پہنچانے ہوں گے۔

لیکن مسئلہ میرے دوستوں یہ ہے کہ اتنے مراحل دیکھ کر آپ اپنا حوصلہ کھو دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ” چھوڑو یار کوئی چھوٹی موٹی جاب ہی کر لیتے ہیں“، جو چیز کرنے کی ہے وہ یہ کہ یہ سب دیکھ کر حوصلہ کھو نہیں دینا اور اپنے ارادوں کو ترک نہیں کر دینا بلکہ عزم، حوصلہ، آہنی ارادے اور مستقل مزاجی سے، ٹوٹ کر اور لگ کر اپنے مقصد کی طرف قدم بہ قدم، زینہ بہ زینہ بڑھتے چلے جانا ہے۔“

اس بات کو بھی محسوس کریں کہ ہر بندے میں اللہ نے کوئی نہ کوئی خصوصی پوٹینشل رکھا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا کیونکہ اللہ اتنا مہربان اور رحیم ہے کہ اس نے اپنی ہر مخلوق میں کوئی منفرد خاصیت پیدا کی ہے، آپ کو بس یہ کرنا ہے اپنے اندر موجوداس منفرد بات، خاصیت، خوبی کو ڈھونڈنا، نکھارنا اور اس کو مہارت کے درجے پر لے جانا ہے، اس کام میں آپ کے لئے ایک اور چیز فائدہ مند ہو سکتی ہے کہ عموماً انسان جس کام کو پسند کرتا ہے اور اس کو کرنے میں وہ مزا محسوس کرتا ہے اور وہی کام اس کے لئے مخصوص ہوتا ہے۔

آپ اپنی زندگی بدل سکتے ہیں، بات صرف سوچنے کی اور اس پر عمل کر گزرنے کی ہمت اور استقامت پیدا کرنے کی ہے، بس اپنے پسند کے کام میں کامل مہارت حاصل کریں اور اپنی زندگی کے لئے ایک بڑے اور واضح مقصد کا تعین کریں جو اجتماعی طور پر بھی معاشرے کے فائدہ مند ہو، پھر آپ دیکھیں گے کہ کامیابی کس طرح ہاتھ باندھے آپ کے پیچھے کھڑی ہوگی۔

%d bloggers like this: