Posts Tagged ‘Freedom Flutilla’

ترکی ،ایک معاملہ سمجھنے اور سمجھانے کا

تحریر:شاہد عباسی
خلافت عثمانیہ ختم ہوئے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔لارنس آف عربیہ[شریف مکہ] کی جانب سے اپنے سرپرستوں کی ایماءپرعرب کے روایتی جذبے کو ابھارکر ان میں نسلی تعصب پیدا کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی تھیں۔تبدیلی کا خواہاں ترکی بھی نئے رنگ اپنا تے ہوئے سرخ جھنڈا زیب تن کر چکا تھا،بلکہ وہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کراذان پر پابندی،نماز میں عربی آیات کی تلاوت پر قدغن،تقریبات کا آغاز بسم اللہ سے کرنا قانونا ممنوع،اسکارف اور ساتر لباس حتی کہ رسم الخط تک تبدیل چکا تھا۔
1917ءسے قبل دنیا بھر کے مسلمانوں کی واحدمرکزیت کی یہ تبدیلی جتنی حیران کن تھی اتنی ہی اچانک بھی تھی۔تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ترک نسل پرستی انیسیوں صدی کے آغاز سے قبل بھی موجود تھی۔مقابلتا مقدس مسلم مقامات کا حامل عرب خطہ اپنی عصبیت کو امریکی و برطانوی ایماءپرشریف مکہ کی زیر قیادت مستحکم کر رہا تھا۔عیسائی دنیا اس دوران مذہب بیزاری کی تحریک سے گزر چکی تھی جس کا بنیادی سبب آفاقی تعلیمات میں انسانی خواہشات کو مدنظر رکھ کرکئے گئے ترمیم و اضافے تھے۔ایسا ہی کچھ معاملہ دیگر مذاہب عالم کے ساتھ ہو چکا یا ہونے کو تھا۔
اخلاقی حدودوقیود سے نالاں اور حیوانی جبلتوں کی تسکین کا خواہاں طبقہ اپنے لئے لبرل کی اصطلاح کو نئے معانی پہنانے میں مصروف تھاجو دنیا کے لئے قابل قبول ہو۔اتفاقا اس قبیلے کی سربراہی ان لوگوں کے ہاتھ آ گئی جو علوم جدیدہ سائنس وغیرہ کے ماہرین شمار کئے جاتے تھے۔یا محرکین نے اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے کے لئے قصدا نہیں آگے بڑھا دیاتھا،کلیسا کی جانب سے سائنس مخالف اقدامات نے ان کی قیادت کو جواز بھی عطا کر دیا۔یوں یہ گروہ ایک قدم آگے بڑھ کر خود کو ماڈرن بھی کہلانے کا خواہاں ہوا۔
اس تناظر میں ترکی کی شکست وریخت کے بعد سامنے آنے والی جغرافیائی درجہ بندی نے اسے یورپی و ایشیائی خصوصیات کا حامل ایک ایسا خطہ بنا دیا جو ایک جانب تو اپنی قومیت پر نازاں اور دوسری جانب ایسے نئے اقدامات کو خوش آمدید کہنے کو تیار تھا جو اسے عالمی بساط پر کھویا ہوا مقام دلا سکیں۔اس کا لبرل اور ماڈرن مقام اسے مذہب کی قائم کردہ اخلاقی قدروں سے دور لے گیا لیکن فطری طور پر اس میں موجود وہ جذبہ جس نے اب تک اس سے بڑے بڑے کام کروائے تھے بجھنے کے بجائے وقتی طور پر سستانے لگاتھا۔اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اتاترک نے قوم پرستی کا بھرپور استعمال کیا اور پوری قوم کو نئے سرخ جھندے کی محبت میں سر تا پا ڈبو دیا۔چاروناچار سبھی طبقات نے اسے تسلیم کر لیا اوربتدریج ترکوں کی شناخت ہی یہ بن گئی کہ وہ اپنے جھنڈے اوراس کے رنگ سے شدید محبت کرنے والی قوم بن گئے۔ان کے اسی محرک کو استعمال کرتے ہوئے ترکش فوج نے استحکام حاصل کیا،اسی کو استعمال کرتے ہوئے وہاں کی مصنوعات نے اپنے آپ کو سرخی میں بسایا۔اس دوران چونکہ نیا رسم الخط رائج کرنے کے لئے قوت کا استعمال بھی کیا جا چکا تھا اس لئے معاشرتی سطح پر پیدا ہونے والی چند خرابیوں کے ساتھ جو خوبی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ ترکی میں ایک ہی جیسا نظام تعلیم رائج ہو گیاجس نے انہیں طبقوں میں تقسیم ہونے سے بچائے رکھا۔آگے چل کر یہی ان کے اندرسمجھنے اورتجزیہ کرنے کی مشترکہ حس کو جنم دینے کا سبب بنا۔
یورپ اس دوران تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا تھا،جغرافیائی طور پرایشیاءکے ساتھ وہاں کا بھی حصہ ہونے کے سبب ترکی اس سے ذیادہ متاثر بھی تھا یہ جذبہ آگے چل کر یورپی یونین کا رکن بننے کی خواہش کا محرک بھی بنا۔
اس منظرنامے میں فریڈم فلوٹیلا کے واقعے کو دیکھا جائے تو بخوبی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جس فوج نے چند برس قبل اسلام پسند حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،جو عدلیہ ان کے راستے میں مزاحم ہوئی تھی وہ آج کیسے اسی گروہ کے ایک حصے کی معاون بن گئی؟جس معاشرے میں مذہب کو ایک ناقابل توجہ شے بنا دیا گیا تھا وہ کیسے اپنی اصل کی جانب پلٹ پڑا ؟وہ ملک جس نے یورپی یونین کا رکن بننے کے لئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کئے مسلم ممالک اور ان کے موقف سے دور رہا،اسرائیل سے تجارت شروع کر دی جس کا سالانہ حجم تین ارب ڈالر ہے،عسکری رابطے پیدا ہوگئے،معاہدوں کے نتیجے میں ٹیکنالوجی اور آلات کے حصول کو یقینی بنایا،کچھ ہی عرصے میں اسرائیل سے ڈرون طیارے حاصل ہونے والے تھے۔عراق پر حملے کے لئے ہوائی اڈے فراہم کئے،ایساف فورسز کا حصہ بنا کر اپنی فوج افغانستان بھیجنے پر بھی رضامندی ظاہر کردی تھی مگر پارلیمان آڑے آئی اور وہ ایسا نہ کر سکے۔بقول شخصے اگر یہاں پاکستان ہوتا تو شاید یہ فیصلہ کرنے والی پارلیمان ہی باقی نہ رہنے دی جاتی یہ الگ بات ہے کہ پارلیمان میں ایسے لوگوں کو بھیجا جا چکا ہے جو سڑکوں سے محلات تک آقاﺅں کے مفادات کے محافظ کا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیںاگر ایسا نہ کریں تو ان کے بھاری بھر کم اخراجات کیونکر پورے ہوں گے؟جملہ معترضہ پر معذرت کے ساتھ ترکی میںاسکارف پر پابندی اب بھی برقرار رہے کوئی مسلم عورت اس کی موجودگی میں سرکاری ملازمت حاصل نہیں کرسکتی،تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم ترکی کی اپنی زبان ہی ہے،فوج اور عدلیہ سیکولر ترکی کے امیج کے بڑے محافظ ہیں یہ الگ بات کہ اب وہ ذرا کم موثر واقع ہو رہے ہیں۔
ان مشکلات حالات میں جب راستہ کہیں بھی نہ تھا استنبول کے عوام کو پینے کا میٹھا پانی اور ڈبل روٹی فراہم کرکے ان کے دل جیتنے اوربعد ازاں26شہروںمیں بلدیاتی حکومت بنانے والوں نے آسانیوں سے منزل کے راستے پوچھنے کے بجائے راستوں کے پتھر تلاش کرنا شروع کر دئے اور وہ بالآخر یہ راز پا گئے کہ جو کچھ کرنا ہے اسی سرخ جھنڈے میں لپیٹ کر کرنا ہو گا۔فریڈم فلوٹیلا کے لئے منصوبہ بندی کرتے وقت بھی یہی حکمت عملی مدنظر رہی اوردنیا سے جہاں جہاں ممکن ہو پایا انسانیت کا درد رکھنے والے امدادی کارکنوں،سیاستدانوں،مصنفین، ادبی شخصیات،نوبل انعام یافتگان،مسلم غیر مسلم ،مردوخواتین کو جمع کیا گیا۔قافلے کی روانگی سے قبل دو مغربی اداروں سے جہازوں کی چھان بین کروا کے یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کئے گئے کہ ان میں کوئی ہتھیار نہیں ہے۔اس کے بعد یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا کہ غزہ کے محاصرے کو دنیا کے سامنے بطور ظلم پیش کرنے اور اسرائیل کو نفرت کا استعارہ بنانے کے لئے لازم ہے کہ منزل پر مقصد جتنا شایان شان استقبال کیا جائے۔اسی لئے غزہ میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد انسانوں کے ذریعے قافلے کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ جاننے کے باوجود کہ مسلم ممالک اپنی خودمختاری کو سنجیدہ نہیں لیتے مگر اپنے قبضے کو اس سے ذیادہ سنجیدہ لینے والا اسرائیل یہ نہ کرنے دے گااور اس کا حمایتی عالمی میڈیا یہودی ملکیت میں ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے واقعے کا بلیک آﺅٹ بھی کرے گا،س بات کا اہتمام کیا گیاکہ دنیا کہ34ممالک کے70سے زائد صحافی وہاں موجود ہوں۔ جنہیں صبح وشام بریفنگ دی جاتی رہی جو مذکورہ نمائندو ں کے ذریعے ان ممالک میں دن کے مختلف اوقات میں نشر ہوتی اور یوں دنیا کے ہر اس فرد کو آگاہ رکھنے کا انتظام کیا گیا جو آنے والے دنوں میں کہیں بھی اپنی رائے کو اہم ثابت کر سکتا تھا۔
اس سب کچھ کے بعد فریڈم فلوٹیلا بپا ہوا جس نے یہ ثابت کر دیا کہ آج کے دور میں دشمن کو شکست دینے کے لئے قوت ہی کافی نہیں بلکہ تدبیر لازم ہے۔اور وہ تدبیر عام فرد کی ذہنی سطح اس کے محرکات،مروج عادات اورفہم کو مدنظر رکھ کر اختیار کی گئی ہو۔
فریڈم فلوٹیلا نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ غزہ کے محاصرے کو ظلم ثابت کرنے،اسرائیل کو عدم تحفظ کا شکار دہشت گرد کے طور پر شہرت دینے،نقابل شکست ہونے کے متعلق اس کا قائم کردہ جھوٹا بھرم ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اطلاعات تک رسائی کے محاذ پرکئے گئے صیہونی محاصرے کو بھی توڑا جا سکتا ہے۔
فریڈم فلوٹیلاکے واقعے کے بعدیہ بھی کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے پس پردہ مذہب اور نظریات کارفرما نہیں تھے بلکہ یہ عالمی بساط پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی ایسی کوشش ہے جس کا مقصد محض برتری کا حصول ہے۔اس برتری کے لئے یہ لازم ہے کہ پہلے ترکی کو اس امت کی قیادت دلائی جائے جس سے وہ متعلق ہے اور اس کی قیمت کہ طور پر اگر یورپی یونین کی رکنیت،چند ارب ڈالر کی تجارت چھوڑنا پڑے تو وہ مہنگا سودا نہیں ہو گا۔تا ہم یہ کہنے والے ایک بہت اہم بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جب کبھی انسانی عقل عاجز آجاتی اور بظاہر راستے مسدو دہویا کردئے جاتے ہیں تو پھر”کن“وقوع پزیر ہوتا ہے۔اور ”سب کچھ ہو“جاتا ہے۔

Advertisements
%d bloggers like this: