Posts Tagged ‘Pakistan’

اسرائیل ان پاکستان

تحریر:شاہد عباسی

Israel in Pakistanخون کی قیمت پرمحبت کے زمزمے بہانے کی ایک نئی کوشش

”جب تک اسرائیل اور پاکستان کے درمیان معمول کے ڈپلومیٹک تعلقات پیدا نہیں ہو جاتے ۔یہ آن لائن ایمبیسی اسرائیل اورپاکستان کی اقوام کے درمیان دوستی بڑھانے کا کام کرے گی۔امید ہے کہ ہم جلد ہی پاکستان اور اسرائیل میں حقیقی سفارت خانے قائم کر لیں گے،شالوم“یہ الفاظ مستقبل میںکیا منظر تشکیل دیں دے،شاید اس کے متعلق اس وقت کوئی اندازہ لگانا قنبل ازوقت ہو،لیکن جو بات طے ہے وہ یہ کہ ان لفظوں کا خالق یا اس پس پشت سرگرم گروہ آئندہ کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی رکھتا ہے۔

زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے ہر لمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے خواہاں بھارت سے دیرینہ دشمنی کی پینگیں بڑھانا اب گویا حکمرانوں اورمخصوص طبقات کا شوق سا بن گیا ہے۔لیکن یہ معاملات کبھی بھی مصنوعیت سے آگے بڑھ کر عوامی پزیرائی حاصل نہ کر پائے تھے۔متعلقہ اداروں،تنظیموں اورافراد کی جانب سے ان فالتو کی مشقوں کا خاطر خواہ نوٹس نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب معاملہ پاک،بھارت نہیں بلکہ پاک اسرائیل دوستی تک جا پہنچا ہے۔اس کے لئے مشرف دور کی طرح حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کے بجائے ایک خالصتا عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا ہے۔

ہراس گروپ کو سپورٹ کی جائے یا ان کے عشق میں مبتلا رہا جائے جو ملک کی اساس کا مخالف ہو،یہ پاکستانی عوام نے تو نہیں تا ہم حکمرانوں نے اپنا نصب العین بنائے رکھاہے۔باوجودیکہ اس پالیسی نے آج تک ملک کو کوئی فائدہ نہیں دیا،ارباب اختیار اسے ہی جاری رکھنے پر مصر ہیں۔1965ءمیںعین حالت جنگ میں امریکہ کی بے وفائی سامنے ہونے کے باوجود ہر ہر قدم پر اپنے دیرینہ دوست چین کو مایوس کیا گیا،دنیا کے دوتہائی وسائل کے مالک مسلم ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے روس،فرانس وغیرہ کی صورت بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔حتی کہ ایڈہاک ازم پر مبنی ا س پالیسی نے یہ دن دکھا دئے کہ سینکڑوں میل طویل مغربی سرحدی پٹی جس پر کبھی ایک سپاہی کھڑا کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کا ٹھکانہ بنا دی گئی۔


حالیہ واقعہ جو ایسے ہی اقدامات کا تسلسل ہے میں اسرائیل کو پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول بنانے کی غرض سے انٹرنیٹ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وہ اسرائیل جس نے بلوچستان کی شورش ہویامشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دلگداز سانحہ،مقبوضہ کمشیر میں بھارت کی کھلے چھپے امداد کر کے تحریک آزادی کو سبوتاژکرنے کا معاملہ ہو یاافغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش،ہر موقع پر دامے،درمے،سخنے آگے بڑھ کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بنائے گئے صفحہ کا نام”Israel in Pakistan“رکھا گیا ہے۔اس پر کچھ شرکاءنے اعتراض بھی کیا کہ اسے تبدیل کر کے ”Israel and Pakistan“رکھا جائے تا ہم منتظمین نے ضعیفی کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔مذکورہ صفحہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے عالمی توسیع کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں وہ (خام بدہن)اپنی سرحدوں کو اس حد تک پھیلانا چاہتا ہے کہ مسلمان کے بھی مقدس ترین مقامات ”مکہ ومدینہ“کو بھی اپنے اندر سمو لے۔

اسی نام سے ملتے جلتے صفحات ”اسرائیل ان یورپ،امریکا،ایشیا،یو این،افریقہ“کے لئے بھی بنائے گئے ہیں۔

اگر چہ ان صفحات کو بنانے والوں نے خود ”اسرائیلی سفارت خانوں“سے تعبیر کیا ہے ۔تاہم سفارت کاری ہے کیا،ایک مثال اس کی بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔مذکورہ بالا صفھات میں سے اکثر پر رجسٹرڈ ہونے کے ناطے ممکنہ طور پر ان کے منتظمین میں سے ایک یا کم از کم ان کی ایماءپر ایک اسرائیلی بل بزلی ہرزہ سرائی کرتا ہے”تم (مسلمان)ذہنی طور پر پسماندہ ہو،محمد(ﷺ،نعوذباللہ)ایک صحرائی لٹیرے تھے،جس نے نہ کبھی لکھا نہ پڑھا،(قرآن کے متعلق لکھتاہے)اس کی یہودی بیوی صفیہ بنت حیان کے لئے لکحا کرتی تحی جسے وہ ایک یہودی قبیلے سے سترہ برس کی عمر میں اغواءکر کے لے آئے تھے(اگر چہ مزکورہ بالاجملے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتا ہے تا ہم اس کے بعد کی کچھ سطریں معاذاللہ رحمت للعالمینﷺ پر انتہائی گھناﺅنے الزامات پر مشتمل ہونے کے سبب نقل کرنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔حذف کر دئے گئے جملوں کے بعدآگے کی عبارت ہے)تم مسلمان اس لئے اندھیروں میں زندہ ہو کے تم ایک ایسے ان پڑھ کی پیروی کرتے ہو جو خدا کی جانب سے اس وقت رہنمائی ملنے کا دعوی کرتاتھا جب سب سو رہے ہوتے تھے“

Israels effort to friendship with PAkistan and muslim countries .but on wich cost

پاکستان اور مسلم ممالک سے اسرائیلی تعلقات کے قیم کی کوشش مگر کس قیمت پر

راقم کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ”جے ٹی اے“نامی نیوز سے وابستہ ادارہ اس امیج بلڈنگ مہم کو چلانے پر مامور کیا گیا ہے۔نیویارک کے مشہور زمانہ سیونتھ ایونیوپر واقع صدر دفتر کے ساتھ مذکورہ ادارہ واشنگٹن ڈی سی کے ورمونٹ ایونیو پر بھی اعلانیہ دفتر رکھتا ہے ،جب کہ دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹرز اورنمائندوں کے نام پر اپنا خفیہ اوراعلانیہ نیٹ ورک اس کے علاوہ ہے۔یہودیوں کے لئے عالمی نیوزسروس کی ٹیگ لائن رکھنے والے اس ادارے کے نمائندے یروشلم،ماسکوسمیت دنیا کے درجنوں بڑے شہروں میں موجود ہیں۔دنیا بھر کے 100سے زائد نمایاں اداروں یہودی اشاعتی اداروں کو اس کی نیوزسروس مہیا کی جاتی ہے۔اگر چہ جے ٹی اے اپنے آپ کو ایک Not for Profitادارے کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم وہ اپنی آمدن کے متعلق کوئی تسلی بخش ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ماسوائے ورلڈزوئینسٹ آرگنائزیشن اور اس جیسے کچھ خالصت ایہودی اداروں کو اپنا فنڈنگ سورس ظاہر کرنے کے تاہم یہ اکلوتا ادارہ نہیں جو اس مہم کے پس پردہ کام کر رہا ہے۔

اسرائیل ان پاکستان نامی گروپ کے موثر ہونے کا اندازہ ان کے ایک پوسٹ پر دئے گئے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایڈمن ایک ممبر کے پاکستانی ہو کر اسرائیلی ویزہ حاصل کرنے کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے”چونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رکھا اس لئے آپ اپنے قریبی سفارت خانے(دہلی،بھارت)سے رابطہ کریں انیں درخواست دیں وہ ویزہ جاری کر دیں گے“

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جو کام حکومتوں حتی کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹروں سے نہ ہو سکا وہ اب نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی عوام کے دلوں میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی یہ کوشش حسب سابق انسانی حقوق اوربرابری کے نام نہاد نعروں کے گرد رہ کر کی جا رہی ہے تا ہم ایسا کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نام نہاد”ہولوکاسٹ“کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے،بچوں کو تہہ تیغ،عورتوں کی عزت لوٹنے اورمسلم بزرگوں حتہ کہ معذوروں تک کو زندہ رہنے کا حق نہ دینے والا اسرائیل اچانک سے انسانی حقوق کا اتنا بڑا علمبردار کیسے بن گیا۔

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

اسرائیل سے تعلقات بننے کے بعد فلسطین کا ہر لمحہ سکڑتا نقشہ

ایڈجسٹ؟

                                                               تحریر:عاقب علی عاقب

 

میں کالم رائیٹنگ کے موضوع پر ہونے والی ایک کلاس میں شریک تھا ،ہال شرکائے کورس سے بھرا ہوا تھا۔اس دوران میرے موبائل کی بیل بجی،کلاس کے دوران بیل بجنے پر شرمندہ سا ہو کرنمبر دیکھنے کے بعدمیں نے کال منقطع کر دی،موبائل کو سائیلنٹ کرنے سے قبل ہی دوبارہ بیل بج اٹھے،میں نے ایک با رپھر شرمندگی کے ساتھ ےہی عمل دوبارہ دوہرایا۔تا ہم جلد ہی کلاس کے ماحول ،موضوع اور ٹیچر کے دلکش انداز نے میری خجالت غائب کر دی ، باقی شرکاءبھی ٹرینر ہی کی جانب متوجہ تھے۔کلاس ایک بوجھ نہیںپکنک پوائنٹ لگ رہی تھی۔اس طرح کا ماحول کلاس میں میسر آنا"قابل حیرت "تھا کہ ساڑھے تین گھنٹے میں کوئی بھی بور نہیں ہو ۔۔ ! ایمز انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ کی جانب سے "کالم کیسے لکھیں؟… "کے موضوع پر ہونے والی اس ورکشاپ میں ہی میرا تعارف جلال صاحب سے ہواجو پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ہیں۔مگراپنے اندر موجود صحافی کم کالم نگار کو دبا نہ سکنے کی وجہ سے وہ دن بھر کی تھکا دینے والی ذہنی و جسمانی مصروفیت کے باوجود طویل سفرکر کے بھی یہاں موجود تھے، کلاس میں آنے والی کال پر میں تھوڑا پریشان تھا۔ کال سرمد کی تھی جو ےونیورسٹی کے دور سے میرے دوستوں میں شامل ہے۔اتنا مجھے علم تھا کہ وہ صبح ایک جاب کیلئے انٹر ویو دینے گےا تھا۔یقینا اس کی کال کا سبب یہی ہو گا کہ وہ جلد از جلد مجھے انٹرویو کی روداد سناسکے،سرمد فنانس میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکا تھا۔ 

میں نے باہر نکلتے ہی اسے کال کی ، ملاقات کی جگہ لیاقت آباد کا ایک ہوٹل طے پاےا۔میں کلاس سے نکلنے کے بعدسیدھا بس اسٹاپ پہنچا، جلال صاحب جووہاں پہلے سے موجود تھے میری طرف بڑھے اور حیرانی سے پوچھا” ابھی آپ ہی کلاس میں موجود تھے ؟ میںنے اثبات میں سر ہلاکر جواب دیا۔انھوں نے فورا پوچھا تم نے ایم بی اے کہاں سے کیا ہے ؟اور آج کل کیا کر رہے ہو ؟میں نے اپنے تعلیمی سفر اور موجودہ سرگرمیوں کی مختصر سی کہانی بتائی جسے وہ بڑی تو جہ سے سنتے اور تائیدی انداز میں اسکا اظہار بھی کرتے رہے ابھی بات جاری تھی کے کہ میرے روٹ کی بس آگئی۔میں اس میں سوار ہو گیا اتفاق سے جلال صاحب بھی اسی بس میں سوار ہوئے مگر کیونکہ سیٹس الگ الگ ملیں اس لئے دوبارہ بات نہ ہوسکی۔کالم نگاری سے ان کی دلچسپی اورموتیوں کے سے طرز گفتگوکو دیکھ کر میں یہ سوچنے پرمجبور ہوا کہ مستقبل کا کالم نویس خود کو اکاونٹس کی کرسی پر کےسے ایڈجسٹ کر یگا؟ 

میں بس میں سوار ہونے کے بعد جگہ خالی دیکھ کر ایک سیٹ پر بیٹھا،دو افراد کی گنجائش والی اس سیٹ پر پہلے سے ہی ایک نوجوان موجود تھا۔گاڑی چلنے پر سفر کاٹنے کی نیت سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے میں نے اپنا تعارف کروایااور ساتھ ہی بھی بتادیا کہ میں کراچی میں نیا ہوں،اگر ٓپ کو برا نہ لگے تو بس جہاں جہاں سے گزرے مجھے جگہوں کے بارے میں بتاتے رہنا،میں ہر تھوڑی دیر بعد اس سے علاقے ،جگہ، اسٹاپ اور بس کے روٹ پر بات کرتا رہا وہ انتہائی صبرکے ساتھ ہر جگہ کی بارے میں تھوڑی تھوڑی معلومات بڑی دل چسپی سے بتارہا تھا۔اپنے متعلق اس نے یہی بتایا کہ وہ بنگلورٹاﺅن کے پاس کسی دفتر میں کام کر تا ہے۔مجھے اس کی باتو ں اور انداز سے محسوس ہواکہ وہ ایک اچھاٹورسٹ گائیڈ بن سکتا ہے۔معلوم نہیں وہ اپنی اس صلاحیت سے آگاہ تھا یا نہیں ،یاکب تک اسے یہ آگاہی ہو پائے گی ؟اس قدرتی اور اہم صلاحیت کے باوجود وہ کیسے ایک اجنبی کام کرتے ہوئے خود کو کب تک دفتر میں ایڈجسٹ رکھ سکے گا؟ 

اس دوران گاڑی لیاقت آباد دس نمبر کے اسٹاپ پر پہنچ گئی اس نوجوان نے شاید آگے جانا تھا ،میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نیچے اتر گیا۔میرا دوست سرمد پہلے سے یہاںموجود تھا گفتگو میں انٹرویو کے دو ران ہونے والی باتوں کو وہ جس طرح بتا رہا تھا اس سے یہ واضح تھا کہ وہ مارکیٹننگ کی جاب کے لئے تےار ۔تھا میں نے مذاقا پوچھا ، تم نے ایم بی اے فنانس میں کیوں کیا تھا؟اس کا جواب تھا کہ” عاقب میں نے جن سے بھی مشورہ لیا انھوں نے ےہی کہا کہ فنانس اچھا ہے مگر اب مجھے ےہ محسوس ہو رہا ہے کہ میں سوشل انسان ہوں ایک جگہ بیٹھ کر کام میرے بس کا نہیں ہے“ ۔اس کی جانب سے دئے گئے جواب کو سننے کے بعد ایک ہفتہ گزرچکامگرمیں اب بھی میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ فنانس کا ماہر فرد خود کو کسی دوسری فیلڈ میں کس طرح اٰیڈجسٹ کر سکے گا؟ 

درحقیقت یہ ہمارا المیہ ہے! ہمیں وکیل ،سیاست دان،صحافی،بزنس مین،کھلاڑی ،ڈاکٹر،انجیئینر غرض ہر شعبے میںایسے افراد سے سابقہ پڑتا ہے جوبننا کچھ چاہتے تھے مگر بن کچھ اور گئے،یقینا ہمیں ان شعبوںسمیت زندگی کے ہر شعبے میں تربیت ےافتہ افراد کی ضرورت ہے ۔ایسے افراد کی تیاری میںوالدین،معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے خاص طور پراساتذہ کی زمہ داری بڑھ جاتی ہے لیکن کیا استاد کو دی جانے والی تنخواہ اور تربیت اس قابل ہے کہ وہ خود کو اس محاذ پر ایڈجسٹ کر سکے ؟کہ ایک ہی وقت میں وہ اپنے طالب علم کو نصاب پڑھانے کے ساتھ اسے کیرئیر کے متعلق رہنمائی بھی مہیا کر رہا ہو،والدین اور معاشرے کے دیگر طبقات اپنی موجودہ صلاحیتوںمیںاس ذمہ داری کوپورا کر سکیںگے؟ہمیں پورے شعور کے ساتھ غور کر تے ہوئے ایک لائحہ عمل پیش کرنا اور اسے طے کر کے سب کو عمل میں لانا ہوگا۔اپنے بچوں کو ان کے پسندیدہ شعبہ جات میں تعلیم کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنا ہونگے ورنہ! ہمیںہرمرحلے پر جلال صاحب،سرمد اوربس والے اس نوجوان کی طرح ایڈجسٹ ہی کرنا ہو گا۔۔سوری موبائل پھر بج رہا ہے۔۔

ترکی ،ایک معاملہ سمجھنے اور سمجھانے کا

تحریر:شاہد عباسی
خلافت عثمانیہ ختم ہوئے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔لارنس آف عربیہ[شریف مکہ] کی جانب سے اپنے سرپرستوں کی ایماءپرعرب کے روایتی جذبے کو ابھارکر ان میں نسلی تعصب پیدا کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی تھیں۔تبدیلی کا خواہاں ترکی بھی نئے رنگ اپنا تے ہوئے سرخ جھنڈا زیب تن کر چکا تھا،بلکہ وہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کراذان پر پابندی،نماز میں عربی آیات کی تلاوت پر قدغن،تقریبات کا آغاز بسم اللہ سے کرنا قانونا ممنوع،اسکارف اور ساتر لباس حتی کہ رسم الخط تک تبدیل چکا تھا۔
1917ءسے قبل دنیا بھر کے مسلمانوں کی واحدمرکزیت کی یہ تبدیلی جتنی حیران کن تھی اتنی ہی اچانک بھی تھی۔تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ترک نسل پرستی انیسیوں صدی کے آغاز سے قبل بھی موجود تھی۔مقابلتا مقدس مسلم مقامات کا حامل عرب خطہ اپنی عصبیت کو امریکی و برطانوی ایماءپرشریف مکہ کی زیر قیادت مستحکم کر رہا تھا۔عیسائی دنیا اس دوران مذہب بیزاری کی تحریک سے گزر چکی تھی جس کا بنیادی سبب آفاقی تعلیمات میں انسانی خواہشات کو مدنظر رکھ کرکئے گئے ترمیم و اضافے تھے۔ایسا ہی کچھ معاملہ دیگر مذاہب عالم کے ساتھ ہو چکا یا ہونے کو تھا۔
اخلاقی حدودوقیود سے نالاں اور حیوانی جبلتوں کی تسکین کا خواہاں طبقہ اپنے لئے لبرل کی اصطلاح کو نئے معانی پہنانے میں مصروف تھاجو دنیا کے لئے قابل قبول ہو۔اتفاقا اس قبیلے کی سربراہی ان لوگوں کے ہاتھ آ گئی جو علوم جدیدہ سائنس وغیرہ کے ماہرین شمار کئے جاتے تھے۔یا محرکین نے اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے کے لئے قصدا نہیں آگے بڑھا دیاتھا،کلیسا کی جانب سے سائنس مخالف اقدامات نے ان کی قیادت کو جواز بھی عطا کر دیا۔یوں یہ گروہ ایک قدم آگے بڑھ کر خود کو ماڈرن بھی کہلانے کا خواہاں ہوا۔
اس تناظر میں ترکی کی شکست وریخت کے بعد سامنے آنے والی جغرافیائی درجہ بندی نے اسے یورپی و ایشیائی خصوصیات کا حامل ایک ایسا خطہ بنا دیا جو ایک جانب تو اپنی قومیت پر نازاں اور دوسری جانب ایسے نئے اقدامات کو خوش آمدید کہنے کو تیار تھا جو اسے عالمی بساط پر کھویا ہوا مقام دلا سکیں۔اس کا لبرل اور ماڈرن مقام اسے مذہب کی قائم کردہ اخلاقی قدروں سے دور لے گیا لیکن فطری طور پر اس میں موجود وہ جذبہ جس نے اب تک اس سے بڑے بڑے کام کروائے تھے بجھنے کے بجائے وقتی طور پر سستانے لگاتھا۔اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اتاترک نے قوم پرستی کا بھرپور استعمال کیا اور پوری قوم کو نئے سرخ جھندے کی محبت میں سر تا پا ڈبو دیا۔چاروناچار سبھی طبقات نے اسے تسلیم کر لیا اوربتدریج ترکوں کی شناخت ہی یہ بن گئی کہ وہ اپنے جھنڈے اوراس کے رنگ سے شدید محبت کرنے والی قوم بن گئے۔ان کے اسی محرک کو استعمال کرتے ہوئے ترکش فوج نے استحکام حاصل کیا،اسی کو استعمال کرتے ہوئے وہاں کی مصنوعات نے اپنے آپ کو سرخی میں بسایا۔اس دوران چونکہ نیا رسم الخط رائج کرنے کے لئے قوت کا استعمال بھی کیا جا چکا تھا اس لئے معاشرتی سطح پر پیدا ہونے والی چند خرابیوں کے ساتھ جو خوبی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ ترکی میں ایک ہی جیسا نظام تعلیم رائج ہو گیاجس نے انہیں طبقوں میں تقسیم ہونے سے بچائے رکھا۔آگے چل کر یہی ان کے اندرسمجھنے اورتجزیہ کرنے کی مشترکہ حس کو جنم دینے کا سبب بنا۔
یورپ اس دوران تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا تھا،جغرافیائی طور پرایشیاءکے ساتھ وہاں کا بھی حصہ ہونے کے سبب ترکی اس سے ذیادہ متاثر بھی تھا یہ جذبہ آگے چل کر یورپی یونین کا رکن بننے کی خواہش کا محرک بھی بنا۔
اس منظرنامے میں فریڈم فلوٹیلا کے واقعے کو دیکھا جائے تو بخوبی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جس فوج نے چند برس قبل اسلام پسند حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،جو عدلیہ ان کے راستے میں مزاحم ہوئی تھی وہ آج کیسے اسی گروہ کے ایک حصے کی معاون بن گئی؟جس معاشرے میں مذہب کو ایک ناقابل توجہ شے بنا دیا گیا تھا وہ کیسے اپنی اصل کی جانب پلٹ پڑا ؟وہ ملک جس نے یورپی یونین کا رکن بننے کے لئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کئے مسلم ممالک اور ان کے موقف سے دور رہا،اسرائیل سے تجارت شروع کر دی جس کا سالانہ حجم تین ارب ڈالر ہے،عسکری رابطے پیدا ہوگئے،معاہدوں کے نتیجے میں ٹیکنالوجی اور آلات کے حصول کو یقینی بنایا،کچھ ہی عرصے میں اسرائیل سے ڈرون طیارے حاصل ہونے والے تھے۔عراق پر حملے کے لئے ہوائی اڈے فراہم کئے،ایساف فورسز کا حصہ بنا کر اپنی فوج افغانستان بھیجنے پر بھی رضامندی ظاہر کردی تھی مگر پارلیمان آڑے آئی اور وہ ایسا نہ کر سکے۔بقول شخصے اگر یہاں پاکستان ہوتا تو شاید یہ فیصلہ کرنے والی پارلیمان ہی باقی نہ رہنے دی جاتی یہ الگ بات ہے کہ پارلیمان میں ایسے لوگوں کو بھیجا جا چکا ہے جو سڑکوں سے محلات تک آقاﺅں کے مفادات کے محافظ کا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیںاگر ایسا نہ کریں تو ان کے بھاری بھر کم اخراجات کیونکر پورے ہوں گے؟جملہ معترضہ پر معذرت کے ساتھ ترکی میںاسکارف پر پابندی اب بھی برقرار رہے کوئی مسلم عورت اس کی موجودگی میں سرکاری ملازمت حاصل نہیں کرسکتی،تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم ترکی کی اپنی زبان ہی ہے،فوج اور عدلیہ سیکولر ترکی کے امیج کے بڑے محافظ ہیں یہ الگ بات کہ اب وہ ذرا کم موثر واقع ہو رہے ہیں۔
ان مشکلات حالات میں جب راستہ کہیں بھی نہ تھا استنبول کے عوام کو پینے کا میٹھا پانی اور ڈبل روٹی فراہم کرکے ان کے دل جیتنے اوربعد ازاں26شہروںمیں بلدیاتی حکومت بنانے والوں نے آسانیوں سے منزل کے راستے پوچھنے کے بجائے راستوں کے پتھر تلاش کرنا شروع کر دئے اور وہ بالآخر یہ راز پا گئے کہ جو کچھ کرنا ہے اسی سرخ جھنڈے میں لپیٹ کر کرنا ہو گا۔فریڈم فلوٹیلا کے لئے منصوبہ بندی کرتے وقت بھی یہی حکمت عملی مدنظر رہی اوردنیا سے جہاں جہاں ممکن ہو پایا انسانیت کا درد رکھنے والے امدادی کارکنوں،سیاستدانوں،مصنفین، ادبی شخصیات،نوبل انعام یافتگان،مسلم غیر مسلم ،مردوخواتین کو جمع کیا گیا۔قافلے کی روانگی سے قبل دو مغربی اداروں سے جہازوں کی چھان بین کروا کے یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کئے گئے کہ ان میں کوئی ہتھیار نہیں ہے۔اس کے بعد یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا کہ غزہ کے محاصرے کو دنیا کے سامنے بطور ظلم پیش کرنے اور اسرائیل کو نفرت کا استعارہ بنانے کے لئے لازم ہے کہ منزل پر مقصد جتنا شایان شان استقبال کیا جائے۔اسی لئے غزہ میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد انسانوں کے ذریعے قافلے کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ جاننے کے باوجود کہ مسلم ممالک اپنی خودمختاری کو سنجیدہ نہیں لیتے مگر اپنے قبضے کو اس سے ذیادہ سنجیدہ لینے والا اسرائیل یہ نہ کرنے دے گااور اس کا حمایتی عالمی میڈیا یہودی ملکیت میں ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے واقعے کا بلیک آﺅٹ بھی کرے گا،س بات کا اہتمام کیا گیاکہ دنیا کہ34ممالک کے70سے زائد صحافی وہاں موجود ہوں۔ جنہیں صبح وشام بریفنگ دی جاتی رہی جو مذکورہ نمائندو ں کے ذریعے ان ممالک میں دن کے مختلف اوقات میں نشر ہوتی اور یوں دنیا کے ہر اس فرد کو آگاہ رکھنے کا انتظام کیا گیا جو آنے والے دنوں میں کہیں بھی اپنی رائے کو اہم ثابت کر سکتا تھا۔
اس سب کچھ کے بعد فریڈم فلوٹیلا بپا ہوا جس نے یہ ثابت کر دیا کہ آج کے دور میں دشمن کو شکست دینے کے لئے قوت ہی کافی نہیں بلکہ تدبیر لازم ہے۔اور وہ تدبیر عام فرد کی ذہنی سطح اس کے محرکات،مروج عادات اورفہم کو مدنظر رکھ کر اختیار کی گئی ہو۔
فریڈم فلوٹیلا نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ غزہ کے محاصرے کو ظلم ثابت کرنے،اسرائیل کو عدم تحفظ کا شکار دہشت گرد کے طور پر شہرت دینے،نقابل شکست ہونے کے متعلق اس کا قائم کردہ جھوٹا بھرم ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اطلاعات تک رسائی کے محاذ پرکئے گئے صیہونی محاصرے کو بھی توڑا جا سکتا ہے۔
فریڈم فلوٹیلاکے واقعے کے بعدیہ بھی کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے پس پردہ مذہب اور نظریات کارفرما نہیں تھے بلکہ یہ عالمی بساط پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی ایسی کوشش ہے جس کا مقصد محض برتری کا حصول ہے۔اس برتری کے لئے یہ لازم ہے کہ پہلے ترکی کو اس امت کی قیادت دلائی جائے جس سے وہ متعلق ہے اور اس کی قیمت کہ طور پر اگر یورپی یونین کی رکنیت،چند ارب ڈالر کی تجارت چھوڑنا پڑے تو وہ مہنگا سودا نہیں ہو گا۔تا ہم یہ کہنے والے ایک بہت اہم بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جب کبھی انسانی عقل عاجز آجاتی اور بظاہر راستے مسدو دہویا کردئے جاتے ہیں تو پھر”کن“وقوع پزیر ہوتا ہے۔اور ”سب کچھ ہو“جاتا ہے۔

کیا آپ” LUCKY “ہیں ؟

تحریر:  فرحان ظفر  

ان لوگوں کے لئے تحریر خاص جو یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کے لئے خوش قسمتی لازمی ہے! 
                                                               
”بابا جی۔۔۔میرے پاس تم سے بہتر 10 باورچی موجود ہیں جو تم سے کہیں بہتر، کہیں اچھی اور مختلف اقسام کی ڈشز بنا سکتے ہیں، برائے مہربانی میرا مزید وقت برباد نہ کرو اور یہاں سے جاﺅ“، ایک موٹے سے ریستوران مالک نے تقریبا َ چیختے ہوئے یہ بات کہی تو اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے ایک لمحے کو سر جھکایا اور پھر کرسی سے اٹھ کر تیز قدم اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ایک ایسے شخص کے لئے جو اپنی زندگی کی چھٹی دہائی گزار چکا ہو، اس طرح کا رویہ یقینا بنیادوں کو ہلا دینے والا ہوتا ہے ، لیکن اس بوڑھے آدمی کے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا تھا بلکہ اس عمل سے گزرتے گزرتے اس کو کئی مہینے ہو چکے تھے۔
ریستوران مالکان کی جانب سے اس طرح بے عزت کر کے نکالے جانے کا یہ پہلا، دوسرا، دسواں نہیں بلکہ۔۔۔۔۔یقینا آپ اس بات کو نہیں مانیں گے۔۔۔۔۔1007 واں واقعہ تھا جب اس بوڑھے کو کبھی اکیلے میں، کبھی مجمعے میں اور کبھی مخصوص لوگوں کی محفل میں کھری کھری باتیں سنا کر نکالا گیا تھا۔ لیکن اس نے ٹھان رکھی تھی کہ جب تک اپنے پاس مو جود منفرد ڈش کے آئیڈیے کو لوگوں تک نہیں پہنچا دیتا وہ اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔
اس بوڑھے نے اپنا سفر امریکی شہر کینٹکی سے شروع کیا تھا اور اس دوران ہزاروں میل کی مسافت طے کی تھی تاکہ اپنے آئیڈیا کو فروخت کر سکے ۔ یہاں تک کہ وہ 8 100ویں مرتبہ وہ اپنی ڈش کے آئیڈیے کے ساتھ ایک فاسٹ فوڈ ریستوران کے مالک کے پاس پہنچا تو اس مرتبہ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ریستوران مالک ڈیو تھامس (Dave Thomas) نے بوڑھے کی منفرد ڈش کی اہمیت کو سمجھ لیا اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے لگا۔ صرف چند سال میں اس بوڑھے کا نام پوری دنیا میں پہنچ چکا تھا اور اب وہ اس پوزیشن میں تھا لوگ اس کے پاس آتے اور وہ اپنی شرائط پر ان کے ساتھ کام کرتا۔
اس بوڑھے کا نام تھا کرنل ہار لینڈ سینڈرز (Harland Sanders) ۔۔۔اور وہ مشہور زمانہ فاسٹ فوڈ چین کے ایف سی (کینٹکی فرائیڈ چکن) کا خالق تھا جس نے1007مرتبہ اپنے آئیڈیا کو مسترد کئے جانے کے باوجود ہمت ہارنے سے انکار کر دیا اور اپنی مسلسل لگن ، محنت، اعتماد اوراستقامت کے ذریعے اپنے آئیڈیا کو دنیا کے چند بہترین اور سب سے زیادہ منافع کمانے والے ریستوران چین کی صورت ڈھال دیا ۔ آپ ایک لمحے کو سوچئے۔۔۔۔۔صرف کچھ دیر پوری یکسوئی کے ساتھ۔۔۔۔۔اگر آپ کرنل سینڈرز کی جگہ ہو تے تو کیا کرتے؟
آپ کو پہلی مرتبہ مسترد کیا جاتا تو آپ کہتے کہ ” کوئی بات نہیں، کہیں اور میرے آئیڈیے کو ضرور پزیرائی ملے گی“، لیکن دوسری ۔۔۔تیسری۔۔۔پانچویں اور دسویں بار مسترد کیا جاتا تو آپ کا رد عمل کیا ہوتا؟
آپ کہتے کہ بہت ہو گیا، اب میں کسی کے پاس نہیں جاﺅ ں گا، لگتا ہے میری قسمت ہی خراب ہے اور اس کے بعد آپ کسی اور کام تلاش میں لگ جاتے۔ لیکن کیا بات صرف اتنی ہی سادہ سی ہے ؟ کیا دنیا میں صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں جو قسمت کے سکندر یا LUCKY ہو تے ہیں؟ یہ وہ بات ہے جو ہر شخص اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور سوچتا ہے اور پھر اپنے دل کی تسلی کو یہ کہتا ہے کہ ” میں نے تو اپنی کی سی کوشش کی تھی لیکن شائد میں لکی نہیں ہوں“۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لکی ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا کامیابی کے لئے LUCKY ہونا ضروری ہے؟ ہمارے ارد گرد اور ہم سے پہلے جو کامیاب لو گ گزرے ہیں ان کی کامیابی کا تعلق بھی ان کے لکی ہونے سے تھا؟ ہاں ! وہ سب بھی لکی تھے ، لیکن ان کے LUCKY ہونے کا تعلق پانچ چیزوں سے تھا:-
Lیعنی Labour :محنت ۔۔۔۔شدید اور انتھک محنت، دنیا میں جتنے بھی کامیاب اور بڑے لوگ ہوئے ہیںان کے کام کرنے کا اوسط دورانیہ 12 سے14گھنٹے روزانہ ہوتا تھا ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر نے اس عرصے کے دوران ایک دن بھی اپنے کام سے چھٹی نہیں کی مثلاقائد اعظم، علامہ اقبال، ابراہا م لنکن، ایسے لوگ تھے جو آرام کرنا جیسے جانتے ہی نہیں تھے۔
 U یعنی Understanding :اپنے زندگی کو کسی بڑے اور اجتماعی مقصد کے لئے وقف کر دینا یااس مقصد کو سمجھ لینا جوان کی زندگی کو کار آمد بنا دے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی اقدار، خوبیوں ، خامیوںکے ساتھ پوری واقفیت حاصل کر لینا کامیاب شخصیات کا دوسرا پہلو ہے۔جیسے عبدالستار ایدھی جنہوں نے اپنی ذات کا جائزہ لینے کے بعد ایک بڑے مقصد کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
 C یعنی Commitment : اپنے مقصد کو پانے کے لئے استقامت ، لگن اور ناکامیوں سے مایوس ہونے کی بجاﺅ ان سے سبق حاصل کر نا اور اس میں سے آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرنا، جیسے کے ایف سی کے خالق کرنل ہارلینڈ سینڈرز نے کیا تھا ۔ کامیاب لوگ اپنی غلطیوں پر اڑے رہنے کی بجائے ان کو سیکھنے کے مراحل سمجھتے تھے ۔
 Kیعنی Knowledge :ایک چیز جو تمام کامیاب لوگوں میں سب سے نمایاں تھی کہ وہ چاہے رسمی تعلیم میں بہت زیادہ بہتر نہ بھی ہوں لیکن ”علم “ کی اہمیت وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے۔وہ سیکھنا شروع کرتے تھے تو پھر زندگی بھر سیکھتے چلے جاتے تھے۔ ان کے پاس غیر معمولی عمل ہوتاہے جیسے مولانا محمد علی جوہر ،ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر عبد القدیروغیرہ۔
 Y یعنی You:اس کا مطلب ہے کہ تمام کامیاب لوگ کی زندگی’ ان کی اپنی‘ نہیں رہتی بلکہ ان کو وہ سب کچھ دینا پڑا جو کچھ ان کے پاس تھا چاہے وہ ان کا وقت ہویا صلاحیتیں ، ان کی نجی زندگی کی قربانی ہو یا کسی بڑے مقصد کے لئے قربانی کا جذبہ ۔کامیاب لوگ اس میں معاملے میں بے مثال ہوتے ہیں اور ان کی ذات ایک بڑے کام کے لئے فنا ہو جاتی ہے۔
ہاں!تمام کامیاب لوگ بھی لکی تھے ، لیکن ان کے لکی ہونے کا انحصار ان پانچ چیزوں پر تھا۔۔۔۔۔ان کو کامیابی کسی اتفاقا یا پلیٹ میں پڑی ہوئی نہیں ملی تھی ، اس کے پیچھے ایک ایسی ان دیکھی داستاں تھی جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے ،لیکن پھر بھی کامیابی حاصل کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔
یارو! تمام کامیاب لوگ ”لکی “ نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے ان پانچ چیزوں کی ایک لمبی کہانی تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنی ”تقدیر “ خود لکھی ۔ ان چیزوں پر عمل کرکے آپ ، میں اور ہم سب اپنی ”تقدیر “ خود لکھ سکتے ہیں، کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔بات تو صرف بھرپور محنت، علم اور لگن سے اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کے لئے وقف کردینے کی ہے۔۔۔۔۔کیوں! آپ بھی LUCKY بننا چاہتے ہیں؟

%d bloggers like this: