Posts Tagged ‘pakistani youth’

احساس اور عمل کا فرق

تحریر:زبیر نسیم
  ”پتا نہیں، کیوں ناکامی میرا مقدر بن گئی ہے ۔ جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں، وہ کام ہی بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ کتنی ہی دفعہ سونا میرے ہاتھ مےں آکر مٹی بن چکا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اگر میں نے کفن کی دکان کھولی تو لوگ مرنا ہی چھوڑ دےں گے۔“
 آپ غلط سمجھے! یہ الفاظ میں نے دل برداشتہ ہو کر اپنے بارے میں نہیں لکھے بلکہ یہ وہ خیالات ہیں جو ہر فرد کے ذہن میں اکثر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ بات بے بات پریشان ہوتے رہتے ہیں جس کا بنیادی سبب یہی خیالات ہیں۔ ےہ خیالات کیوں پےدا ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے کیا عوامل ہیں کہ جو افراد کے ذہنوں کو بری طرح الجھائے رکھتے ہیں جس کے سبب اکثر لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔
 آپ غور کیجئیے، جب بھی آپ کو کبھی ذہنی دباﺅ اور پریشانی درپیش ہوگی تو یا وہ ماضی میں کسی کام کے غلط ہونے کا غم ہوگا یا پھر مستقبل میں کسی کام کے غلط ہونے کا خوف ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں آپ کے ساتھ جو بھی واقعہ پیش آیا ہوگا، وہ یا تو خوشی کا واقعہ ہوگا یا غم کا۔ ماضی میں خوشی کا واقعہ مستقبل میں خوشی کے حصول کی امیدپیدا کرتا ہے جب کہ ماضی میں پیش آنے والا غم گین واقعہ مستقبل میں پھر غم کے لاحق ہونے کا خوف دلاتا ہے، یعنی ہماری زندگی میں ماضی کی خوشی یا غم اور مستقبل کی امید و خوف کا بنیادی کردار ہے، جن کی بنیاد ماضی میں ہونے والا واقعہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک آدمی آگ سے بہت ڈرتا ہے تو دراصل اس کے پیچھے اس واقعے کا غم ہوگا جو اسے ماضی میں آگ سے جلنے پر لاحق ہوا تھا۔ اس کا یہی ماضی کا غم اسے مستقبل میں دوبارہ آگ سے جلنے کا خوف دلا کر ہاتھ پیچھے کھینچ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اردو میں اسی لئے تو کہتے ہیں، دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔
 اسی طرح اگر کسی بچے کو اس کی خالہ کے ہاں جانے پر ٹافیاں اور دیگر پسندیدہ کھانوں سے خوشی میسر آتی ہے تو وہ دوبارہ اسی خوشی کی امید پر خالہ کے ہاں جانا چاہتا ہے۔ اور بچوں پر ہی کیا موقوف، اگر آپ کو کسی جگہ پر بہت عزت ملے تو آپ بھی اسی خوشی کے دوبارہ حصول کی امید پر اس جگہ بار بار جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
 جس طرح اپنے ساتھ پیش آنے والا غم یا خوشی کا واقعہ مستقبل مےں خوف یا امید پیدا کرتا ہے، اسی طرح کسی دوسرے کے ساتھ پیش آنے والا غم یا خوشی کا معاملہ بھی آپ کو مستقبل میں خوف یا امید کا احساس دلاتا ہے۔ اگر آپ کسی موٹر سائیکل والے کا حادثہ دیکھتے ہیں تو موٹر سائیکل والے کو پےش آنے والے غم کو پےشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے ساتھ حادثہ ہوجانے کے خوف سے اپنی گاڑی آہستہ چلانا شروع کردیتے ہیں۔ بچے جب کرکٹرز کو دی جانے والی عزت افزائی کے ذریعے انھیں ملنے والی خوشی کا اندازہ کرتے ہیں تو خود بھی اسی عزت افزائی کی امید پر کرکٹر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ واقعہ تو مشہور ہی ہے کہ جب علامہ قفال شاشی (جو خود بہت ماہر لوہار تھے) نے بادشاہ کے دربار مےں ایک عالم کی عزت افزائی اپنے سے زیادہ ہوتی دےکھی تو علم کی راہ میں جت گئے اور بالآخر بڑی محنت کے بعد دنیا نے ان کے علم کا بھی لوہا مان ہی لیا۔
 ماضی کے غم یا خوشی کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی تیسری وجہ لوگوں یا بڑوں کے ریمارکس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک بچہ کتے سے ڈرتا ہے لےکن اسے نہ تو ماضی میں کتے نے کاٹا ہے اور نہ اس نے کسی کو کتے کے ذریعے نقصان پہنچتے دےکھا ہے۔ اس بچے کا خوف دراصل بڑوں کی طرف سے بچے کو کتے سے ڈرائے جانے کی وجہ سے ہے۔
 گویا ہمارے مستقبل کے بارے میں خوف یا امید کا تعلق ماضی کے غم یا خوشی سے ہے۔ اور یہ معاملہ صرف میرےیا آپ کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ہر انسان اسی بنیاد پر خوف زدہ یا پُرامید ہوتا ہے اور یہ چاروں کیفیات ےعنی خوشی، غم، امید اور خوف ہر انسانی زندگی کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر کوئی چاہے تو بھی ان کیفیات میں سے کسی ایک سے بھی بہ ہوش و حواس پےچھا نہیں چھڑا سکتا۔
 لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کیفیات کو مثبت طور پر استعمال کرکے آپ بالکل مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں جب کہ انھی کیفیات کو منفی طور پر استعمال کرکے اپنے آپ کو پریشان اور غیر مطمئن رکھنا بھی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ماضی میں حاصل ہونے والی خوشی ہی آپ کو مستقبل میں پُرامید کرتی ہے۔ اگر آپ ماضی کی خوشی پر شکر ادا کریں گے اور مستقبل میں پھر یہی خوشی حاصل ہونے کی امید رکھتے ہوئے مزید محنت کریں گے اور ماضی کے غم پر صبر کرتے ہوئے مستقبل میں خوف کو مسلسل محنت کی صورت دے دیں گے تو آپ کا حال نہایت اطمینان بخش ہوگا۔ لیکن اگر آپ نے خوشی ملنے پر ناشکری اور غرور کا رویہ اپناےا اور اس خوشی کے بل بوتے پر غفلت ِ عمل کا شکار ہوگئے اور غم پر ملال کرتے ہوئے مستقبل میں پھر ناکامی کے خوف سے مایوس ہو کر بیٹھ گئے تو پھر پریشان حالی آپ کا مقدر بن جائے گی۔
 مثال کے طور پر، ایک بچہ فرسٹ آئے اور اس خوشی پر شکر ادا کرتے ہوئے مستقبل میں پھر یہ خوشی ملنے کی امید پر مزید محنت کرے تو کامیابی تو اسی کی منتظر رہے گی جب کہ یہی بچہ اگر فرسٹ آنے کی خوشی پر غرور، ناشکری کرتے ہوئے مستقبل میں پھر ےہی امید لگائے، لیکن محنت کی طرف سے غافل ہوجائے تو ناکامی اس سےزیادہ دور نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی کو کاروبار میں نقصان کا غم لاحق ہوجائے، مگر وہ اس پر صبر کرتے ہوئے مستقبل میں پھر ےہی غم لاحق ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر مسلسل محنت میں جت جائے تو ایک نہ ایک دن نقصان کا نفع میں بدل جانا اس کا مقدرٹھہرے گا جب کہ یہی آدمی اگر کارباری نقصان پر غم کرتے ہوئے ملال کرتا رہ جائے اور مستقبل میں پھر اسی نقصان کے خوف سے مایوس ہو کر بےٹھا رہ جائے تو وہ قیامت تک اپنے نقصان کو نفع میں نہیں تبدیل کرسکتا۔
 دراصل ماضی میں پہنچنے والے غم پر ملال اسی وقت پےدا ہوتا ہے جب ماضی کی خوشی کو بہ طور شکر یاد نہ رکھا جائے، ماضی کے غم پر ملال کرنے والا دراصل خوشی پر ناشکری کا اظہار کررہا ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے تو بس غم ہی غم ملا ہے، خوشی تو اسے کبھی میسر ہی نہیں آئی ہے۔ چنانچہ وہ مستقبل میں پھر ناکامیوں کے ملنے سے خوف زدہ ہو کر مایوس ہوجاتا ہے اور پھر ہاتھ پیر چھوڑ بیٹھنے کے باعث پریشانیوں اور تفکرات اس کے حال کو برباد کردیتے ہیں۔ اسی طرح خوشی پر ناشکری کرنے والا مستقبل کے بارے میں اتنا زےادہ پُرامےد ہوجاتا ہے کہ محنت سے غافل ہو جاتا ہے اور پھر اس کے عروج کا ستارہ زوال پذیر ہو کر اسے بھی لے ڈوبتا ہے اور پریشان زندگی اس کی پہچان بن جاتی ہے۔
 اس کے برعکس، اگر کوئی ماضی کے غم کو مثبت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اس پر صبر کرتا ہے تو دراصل وہ خوشی کے میسر آجانے کا شکر بھی ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اسی مثبت روئے کی بہ دولت وہ مستقبل میں پُرامید تو ہوتا ہے، مگر مزید محنت کی روش اسے آگے ہی آگے لے جاتی ہے۔ ماضی کا غم اسے مستقبل کے لئے خوف زدہ تو کرتا ہے، مگر وہ ماضی کے غم پر صبر کرتے ہوئے مسلسل محنت کے ذریعے اس خوف کو شکست دے ہی دیتا ہے اور پھر مطمئن زندگی اسے خوش آمدید کہتی ہے۔
 آگے ایک چارٹ دیا جائے گیا ہے۔ آپ اس چارٹ کو خوب صورت انداز میں نمایاں لکھ کر اپنے آئینے کے پاس چسپاں کرلیجیے اور جب کبھی ماضی پر ملال ہو یا مستقبل کے خوف سے مایوس ہوں تو اس چارٹ کو دیکھئے اس سلسلے میں آپ اپنی زندگی کی بڑی خوشیوں پر مشتمل فہرست بنا کر رکھیئے۔ یہ فہرست مایوسی اور ملال کے وقت آپ کے لِے شافی دوا ثابت ہوگی۔ مایوسی اور ملال کے وقت جب بھی آپ اس فہرست کو دیکھیں گے اور شکر ادا کریں گے تو مستقبل کی امید آپ کو کام کرنے کا نیا ولولہ عطا کرے گی۔
درج بالا بحث کا خلاصہ
 ٭ ہر انسان میں چار کیفیات (خوشی، امید، غم اور خوف) پائی جاتی ہیں۔ انسان کا زمانہ حال انھی چار کیفیات کا آئینہ دارہے۔
٭ ہر فرد ان کیفیات پر مثبت طرزِ عمل ظاہر کرکے مطمئن رہ سکتا ہے۔ (مثبت طرزِ عمل یعنی خوشی پر شکر، امید پر مزید محنت، غم پر صبر اور خوف پر مسلسل محنت کا رویہ ظاہر کرنا)
٭ ”ماضی کے غم پر ملال“ کا علاج ماضی کی خوشی کو یاد کرکے شکر ادا کرنا ہے۔
٭ ”مستقبل کے خوف سے مایوسی“ کا علاج بھی ماضی کی خوشی کو یاد کرتے ہوئے مسلسل محنت کرنا ہے۔
چارٹس برائے تذکیر
1۔زمانہ حال:

خوشی      امید
ماضی   حال   مستقبل
غم      خوف
2۔مثبت طرز عمل:

شکر     مزید محنت
  مطمئن فرد
صبر     مسلسل محنت
3۔منفی طرزِ عمل:

ناشکری/غرور   غفلت
  پریشان فرد
ملال     مایوسی
٭ اظہار حقیقت: اس مضمون کا مرکزی خیال محترم منیر احمد راشد کے لیکچر سے لیا گیا ہے جس کے لئے میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

Advertisements
%d bloggers like this: